-
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے واقعۂ طلاق سے متعلق ایک جھوٹی روایت امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۸۵) نے کہا: سوید بن غفلہ کہتے ہیں :’’کہ عائشہ خثعمیہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں ، تو جب علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی تو ان کی اس بیوی نے کہا: امیر المؤمنین آپ کو خلافت مبارک ہو، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر توخوشی کا اظہار کرتی ہے ، یہاں سے نکل جا تجھے تین طلاق ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کی بیوی نے کپڑوں سے خود کو ڈھانک لیا اور گھر میں بیٹھ گئی اورجب عدت ختم ہوگئی تو حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس دس ہزار زائد اور بقایا مہر بھجوایا، تو ان سے اس نے کہا: بچھڑے محبوب کے مقابلہ میں یہ مال ومتاع کچھ نہیں ہے ، حسن رضی اللہ عنہ تک جب اس کی یہ بات پہنچی تو وہ روپڑے اورکہا: اگرمیں نے اپنے نانا سے یہ نہ سناہوتا اور مجھ سے میرے والد نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ انہوں نے میرے نانا سے سنا ہے کہ جو شخص بھی اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے دے یا الگ الگ تین طہر میں تین طلاق دے ڈالے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے تو میں اس سے رجوع کرلیتا‘‘ [سنن الدارقطنی، ت الارنؤوط:۵؍۵۵ ، وأخرجہ الطبرانی فی معجبہ:۳؍۹۱ من طریق علی بن سعید ،والبیہقی فی سننہ:۷؍۴۱۹ ،من طریق محمد بن إبراہیم بن زیاد الطیالسی، کلہم (إبراہیم بن محمد وعلی بن سعید ومحمد بن إبراہیم) من طریق محمد بن حمیدبہ۔وأخرجہ أیضا الدارقطنی فی سننہ، رقم:۵؍۵۶ فقال : نا أحمد بن محمد بن سعید , نا یحیی بن إسماعیل الجریری , نا حسین بن إسماعیل الجریری , نا یونس بن بکیر , نا عمرو بن شمر , عن عمران بن مسلم , وإبراہیم بن عبد الأعلی , عن سوید بن غفلۃبہ]
٭ یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے ۔ سند میں محمدبن حمیدرازی موجود ہے جو کذاب تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی۲۵۶)نے کہا:’’فِیہِ نَظَرٌ ‘‘ ’’اس میں نظر ہے ‘‘[التاریخ الکبیر للبخاری:۱؍۶۹]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:’’حافظ ضعیف‘‘، ’’یہ حافظ اور ضعیف ہے ‘‘[تقریب التہذیب لابن حجر: رقم:۵۸۳۴]
٭ دارقطنی کی دوسری سند میں ’’عمروبن شمر ‘‘ہے ۔ یہ بھی کذاب اور جھوٹا ہے۔ امام جوزجانی رحمہ اللہ (المتوفی : ۲۵۹) نے کہا :’’کذاب‘‘ ’’یہ بہت بڑا جھوٹا ہے‘‘[احوال الرجال للجوزجانی:ت، البستوی:ص۷۳]
اس کے علاوہ اس سند میں یحییٰ بن اسماعیل الجریری اور حسین بن اسماعیل الجریری غیر معروف ہے ، نیز احمد بن محمد بن سعید پر بھی کافی کلام ہے۔
خلاصہ یہ کہ یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے۔