Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • بعثت سے پہلے آپ ﷺ کی اخلاقی زندگی

    انسانی طرززندگی اور طبیعت اس بات کی عادی ہے کہ معاشرہ میں معزز ،محترم اور اعلیٰ اقدار و اعلیٰ نسل و نسب والے کی باتوں کوزیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے ، چونکہ تمام انبیاء کرام اللہ کی طرف سے مبعوث فرمائے گئے لہٰذا انسانی فطرت کے مطابق اللہ نے تمام انبیاء کو ان کی قوم کے اعلیٰ نسل و نسب میں منتخب فرمایا ۔[صحیح البخاری:کتاب بدء الوحی:۷]
    اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین محمد ﷺ کو بھی ایسے خاندان میں پیدا فرمایا جو اپنے دور میں سب سے افضل و اعلیٰ تھا ۔
    [صحیح البخاری: کتاب المناقب :۳۵۵۷]
    نبی کریم ﷺ کی ولادت سے بعثت کے دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت سے قبل کی زندگی ایک اعلیٰ مثال اور نمونہ ہے جو کفر و الحاد ،بت پرستی ،جاہلی رسوم و اعتقاد ،اخلاقی برائیوں اور غیر اللہ کی پرستش سے مبرّا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل معجزہ و کرشمہ سے کم نہیں ہے ۔زیر نظر مقالہ میں ان تمام پہلوؤں پر مختصر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
    آپ ﷺ کا حسب و نسب اعلیٰ تھا : آپ ﷺ دیگر انبیاء کی طرح حسب و نسب کے اعتبار سے اعلیٰ تھے ، آپﷺنے فرمایا :’’اللہ نے اولاد ابراہیم میں اسماعیل کو چن لیا ، اولاداسماعیل میں کنانہ کو چن لیا ،اولاد کنانہ میں سے قریش کو چنا اور قریش میں سے اولاد ہاشم کو چنا ،اور اولاد ہاشم میں سے مجھے چن لیا ‘‘۔
    [صحیح مسلم :باب فضل نسب النبی ﷺ:۲۷۷۶]
    اسی طرح جب ہرقل نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ تمہارے درمیان نسب کے اعتبار سے کیسا ہے ؟ تو کہا : وہ ہمارے درمیان اچھے نسب والا ہے ۔تو ہرقل نے کہا ،اسی طرح انبیاء ہمیشہ اپنی قوم کے سب سے اچھے نسب والوں میں بھیجے گئے ۔
    [صحیح البخاری:کتاب بدء الوحی:۷]
    اسی طرح آپ ﷺ کے والد شریف الطبع اور دیگر بھائیوں میں سب سے خوبصورت اور آپ ﷺ کی والدہ آمنہ مکہ کی افضل ترین عورتوں میں سے تھیں، ان کے والد وہب بنو زہرہ کے سردا ر اور اشرافِ قریش میں سے تھے۔
    آپ ﷺ کی ولادت ،نام کی تجویز: ابن سعد روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی والدہ نے کہا : میرا بیٹا جب پیدا ہوا تو میرے جسم سے ایک نور نکلا جس نے شام کے محلوں کو روشن کردیا۔
    [ابن سعد:۱؍۶۳،مختصر سیرت رسول:ص:۱۳، الرحیق المختوم]
    بعض روایتوں میں ہے کہ بعض واقعات نبوت کے پیش خیمے کے طور پر ظہور پذیر ہوئے ۔ یعنی ایوان کسریٰ کے چودہ کنگورے گرگئے اور مجوس کا آتش کندہ ٹھنڈا ہوگیا ۔(الرحیق المختوم)
    ولادت کے بعد آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب کو خبر بھیجی گئی کہ پوتا پیدا ہوا ہے ، عبد المطلب خوشی خوشی تشریف لائے، آپ ﷺ کو خانۂ کعبہ لے جا کر دعا کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔شرک و الحاد اور بت پرستی کے اس دور میں جہاں بچوں کا نام عبد الدار،عبد الکعبہ جیسے شرکیہ نام رکھے جاتے تھے ایسے دور میں آپ ﷺ کانام محمد تجویز کیا ،جو ایک معجزہ سے کم نہیں ہے ،پھر عرب کے دستور کے مطابق ساتویں دن ختنہ کیا ۔
    [ابن ہشام:۱؍۱۵۹]
    رضاعت کے دوران برکت کے مناظر: عربوں کے دستور کے مطابق شہری امراض سے دور رکھنے کے لیے اور خالص ٹھوس زبان سیکھنے کے لیے آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب نے نبی ﷺ کو حضرت حلیمہ کے حوالے کردیا ۔ دوران رضاعت حلیمہ نے ایسے مناظر دیکھے کہ حیران رہ گئیں ۔ ان کا بیان ہے کہ بنی سعد کی دیگر عورتوں کے ساتھ بچہ کی تلاش میں مکہ آئیں، ان کے پاس ایک بہت لاغر گدھی تھی جس نے اپنی سست رفتاری سے قافلہ کے لوگوں کو تنگ کررکھا تھا اور ایک بوڑھی اونٹنی تھی جو ایک قطرہ دودھ نہیں دیتی تھی ، جب ہم مکہ پہنچے تو ہم میں سے ہر ایک نے آپ ﷺ کو دیکھا اور ناپسند کیا، چونکہ آپ ﷺ یتیم تھے ،عورتوں کا خیال تھا کہ اس بچے کی ماں یا اس کے دادا یا چچا ہمیں کیا دے سکتے ہیں ۔بالآخر حلیمہ کو جب کوئی بچہ نہ ملا تو مجبوراً آپ کو لے لیا ، حلیمہ کہتی ہیں کہ جو ںہی بچے کو لے کر اپنے خیمے میں داخل ہوئی میری دونوں چھاتیاں دودھ سے بھر گئیں ۔ان کے شوہر اونٹنی کے پاس گئے تو دیکھا کہ اس کا تھن دودھ سے بھرا ہوا ہے ۔ صبح جب اپنے علاقہ کی طرف روانہ ہوئے تو وہی لاغر گدھی تمام عورتوں سے آگے بڑھ گئی ، ہر روز اللہ تعالیٰ ہمارے لیے خیر میں اضافہ کرنے لگا، پورا علاقہ قحط زدہ تھا ،لوگوں کی بکریاں بھوکی رہتیں لیکن میری بکریاں آسودہ ہوکر دودھ سے بھری آتیں، آپ ﷺ اتنی تیزی سے نشونما پارہے تھے کہ اس معاملہ میں دوسرے بچے آپ ﷺ کے مشابہ نہیں تھے ، انہی خیر وبرکات کے مدنظر حلیمہ اور ان کے شوہر نے دوسال مکمل ہونے کے بعد مزید اجازت لے کر آپ ﷺ کو اپنے پاس رکھا ۔
    واقعۂ شقِّ صدر: اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہوں گے ،اسی مشیتِ الٰہی نے آپ ﷺ کو اس بارگراں کے اٹھانے کا اہل بناناچاہا اور آپ کے دل سے شیطان کے حصے کو نکال کر باہر کیا ،تاکہ آپ کی نشونما اس طرح ہوکہ آپ شیطان کے وسوسوں ،شبہوں اور دیگر آلائشوں سے پاک و صاف رہیں۔
    آپ ﷺ کچھ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ حضرت جبرئیل آپ کے پاس آکر زمین پر لٹا کر آپ کے سینے کو چاک کیا اور دل نکالا، پھر اس کے اندر سے ایک ٹکڑا نکالا، پھر دل کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھو کر اسے اس کی جگہ واپس لوٹادیا۔
    [صحیح مسلم:کتاب الایمان:باب الاسراء:۲۶۱]
    دادا کے دل میں آپﷺ کی محبت پلاد ی گئی تھی : آپﷺ ۶ سال کی عمر تک والدہ کی آغوش میں رہے ،بہر حال مقدر نے کروٹ بدلا اور والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ، اب بوڑھے داداجان کا دل یتیم پوتے کی محبت و شفقت کے جذبات سے تپ رہا تھا، ماں اور باپ دونوں جانب سے آپ کی یتیمی کے سبب آپ کو اپنے بیٹوں پر ترجیح دیتے تھے اور غایت درجہ ان کا خیال رکھتے تھے اور آپ کی حرکات وسکنات کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے، چنانچہ کعبہ کے سایہ میں عبد المطلب کے لیے چادر بچھائی جاتی تھی ان کے احترام میں کوئی بیٹا اس چادر پر نہیں بیٹھتا تھا لیکن آپ آتے اور اس چادر پر بیٹھ جاتے ، آپ کے چچا حضرات آپ کو اٹھانا چاہتے لیکن عبد المطلب کہتے کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دو اللہ کی قسم یہ بڑی شان والا ہے ۔ پھر آپ کو بٹھا لیتے ۔ پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے اور آپ کی حرکت وادا سے خوش ہوتے ۔
    [سیرۃ ابن ہشام :۱؍۱۶۸،الرحیق المختوم]
    خاتم النبیین کا تذکرہ گزشتہ آسمانی کتابوں میں : آپ بارہ سال کے تھے کہ ایک مرتبہ ابو طالب آپ کو تجارت کی غرض سے ملک شام کے سفر پر لے کر نکلے ،بصریٰ پہنچ کر ایک وادی پر پڑاؤڈالا جس کے قریب بحیرا نامی راہب کا گرجا تھا ،وہ اپنے گرجے سے نکل کر قافلے میں آیا ،اس نے آپ کو بعض اوصاف کی بنا پر پہچان لیا اور کہا یہ سید العالمین ہیں ،انہیں اللہ رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گا ،ابوطالب نے کہا :تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا تم لوگ جب گھاٹی کے اس طرف ظاہر ہوئے تو تمام شجرو حجر سجدہ کے لیے جھک گئے اور پھر میں انہیں مہر نبوت سے جانتا ہوں جوکندھے کے نیچے نرم ہڈی کے پاس سیب کی طرح ہے ۔ ہم انہیں اپنی کتابوں میں بھی پاتے ہیں ، اس کے بعد بحیرا نے کہا: انہیں واپس کردو کیونکہ یہود سے خطرہ ہے ۔
    بچپن ہی سے اخلاق حسنہ کے پیکر تھے:
    (۱) حلف الفضول: کم عمری ہی سے آپ مظلوموں کے غم کسار ،بے کسوں کے سہارا، بے بسوںکے ملجا ،راست ، گو،امین وصادق ،دیانت دار،اخلاق حسنہ کے پیکر ،معاشرتی برائیوں سے کوسوں دور اور اخلاقی غلاظتوں سے مبرا تھے۔ ابھی آپ تیس سال کے تھے کہ حلف الفضول نامی ایک معاہدہ ہوا جس میں بنوہاشم ،زہرہ، امیہ ، مخزوم اور دیگر قبائل عبد اللہ بن جدعان کے گھر اکٹھا ہوئے اور یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر ظلم کے خلاف مظلوم کی مدد کریں گے اور اس کا حق دلایا جائے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ اور فرمایا کہ اگر مجھے عہد اسلام میں بھی ایسے عہد نامے کی دعوت د ی جاتی تو اسے فوراً قبول کرلیتا۔
    [مختصر تاریخ ابن کثیر:ص:۳۱۔۳۲]
    (۲) صدق و دیانت داری : آپ کی صدق گوئی ،امانت داری اوردیانت داری ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت خدیجہ نے آپ کو اپنا مال دے کر تجارت کی غرض سے ملک شام جانے کی پیش کش کی ۔ چنانچہ جب واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہ نے ایسی امانت و برکت دیکھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اور حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ نے آپ کے اخلاق حسنہ ،بلند پایہ کردار، امانت داری، دیانتداری ، راست گوئی اور شیریں اخلاق کے متعلق اپنے مشاہدات کہے تو حضرت خدیجہ گرویدہ ہوگئیں اور ایسا لگا جیسے انہیں اپنا کھویا ہوا گوہر دستیاب ہوگیا ہو اور فوراً انہوں نے شادی کا پیغام دے دیا ۔
    (۳) آپ ﷺ امین و صادق تھے : کعبہ کی عمارت خستگی کا شکار ہوچکی تھی ، دیواریں پھٹ گئی تھیں، خانۂ کعبہ کسی بھی لمحہ ڈھ سکتا تھا ۔لہٰذاقبائل نے متفقہ فیصلہ کیا کہ اس کی تعمیر کی جائے ۔ بہر حال تعمیر کے دوران حجر اسود کے نصب کرنے کا مرحلہ آیا اور کافی طویل جھگڑا ہوا کہ حجر اسود کو اس کی جگہ رکھنے کا شرف کس کو حاصل ہو،بہر حال ابو امیہ مخزومی نے ایک صورت تجویز کی کہ مسجد حرام کے دروازے سے دوسرے دن جو سب سے پہلے داخل ہو اسے حَکَم مان لیں ،سب نے تجویز منظور کرلی اور اللہ کی مشیئت سب سے پہلے آپ ﷺ تشریف لائے ،لوگ دیکھ کر چیخ پڑے کہ ’’ھذاالامین رضیناہ ھذا محمد‘‘ ’’یہ امین ہیں ہم ان سے راضی ہیں‘‘۔ چنانچہ آپ نے بڑے معقول طریقے سے فیصلہ کرکے جھگڑے کو ختم کردیا ۔
    قارئین کرام ! آپ ﷺنے قریش کے لچر پوچ عقائد اور ان تمام خرافات سے سخت بیزاری محسوس کی جس میں وہ لوگ ملوث تھے ۔ آپ نے کبھی بھی کسی بت کو ہاتھ نہ لگایا ۔ آپ اصابتِ فکر، دوربینی اور حق پسندی کے بلند مینار تھے۔ آپ نے شراب کو کبھی منہ نہ لگایا ، آستانوں کا ذبیحہ نہ کھایا، بتوں کی مناسبت سے منائے جانے والے میلوں میں کبھی شرکت نہیں کی ،حتیٰ کہ لات وعزیٰ کی قسم سننا بھی آپ کو گوارہ نہ تھا، چھوٹی عمر ہی سے آپ ﷺ ’’الامین ‘‘ کے لقب سے مشہور تھے۔
    جب اہل قریش نے آپ کے بارے میں ایک رائے پر متفق ہوناچاہا تو ابوجہل نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے بلکہ اس بات کو جھٹلاتے ہیں جسے لے کر تم آئے ہو۔نضر بن حارث نے کہا :’’محمد تم میں سے سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے ،سب سے زیادہ امانت دار ہے اور اب جب اس نے اپنا دعوۂ نبوت پیش کیا تو تم اسے جادوگر کہتے ہو، نہیں ! اللہ کی قسم وہ جادوگر نہیں ہے ۔
    زمانہ ٔ جاہلیت میں آپ ﷺ کو جاننے والے ہر فرد نے بچپن سے آپ کو الصادق الامین کے نام سے ملقب کیا ،جو نبوت جیسی عظیم بارگراں کا تقاضاتھا۔ ہرقل نے ابوسفیان کی بات کا جواب دیتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوںکے بارے میں جھوٹ بولنا گوارہ نہ کرے اور اللہ کے بارے میں جھوٹ بولے ۔ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کی سچائی اور امانت کی گواہی دی ہے ۔
    {وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاَقَاوِيْل۔لَأخَذْنَامِنْهُ بِالْيَمِيْن۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنْ}
    ’’اگر میرے نبی بعض باتیں گھڑ کر میری طرف منسوب کردیتے تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ،پھر ہم ان کی شہ رک کاٹ دیتے‘‘۔
    [الحاقۃ:۴۴۔۴۶]
    اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کی سیرت مطہرہ پڑھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے۔آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings