Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • عرشِ الٰہی کے سائے میں کون ہوں گے؟ (قسط ثانی)

    ۶۔ حدیث سے مستنبط مسائل:
    ۱۔ عادل حکمراں کی فضیلت
    ۲۔ ایسے نوجوان کی فضیلت جس نے جوانی کے ایام عبادت الٰہی میں گزارا ہو۔
    ۳۔ دنیاوی امور کے بجائے مسجد سے وابستگی اور اس سے محبت کرنے والے کی فضیلت
    ۴۔ خود غرضی اور دنیاوی مفاد کے بجائے اللہ کے لیے محبت اور اللہ ہی کے لیے کسی سے نفرت کرنے والے کی فضیلت
    ۵۔ تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے رونے والے کی فضیلت
    ۶۔ نسوانی حسن و جمال اور اس کی دعوت گناہ کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کی فضیلت
    ۷۔ خفیہ طریقے سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کی فضیلت
    ۸۔ وقوع قیامت برحق ہے۔
    ۹۔ قیامت کے روز عرشِ الٰہی کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔
    ۱۰۔ عرش الٰہی کا ثبوت
    ۷۔ مذکورہ تعداد حصر کے لیے یابغیر حصر کے لیے؟
    حدیث میں موجود عدد حصر کے لیے نہیں ہے۔جیسا کہ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    ’’ثم تتبعت بعد ذٰلک الاحادیث الواردۃ فی مثل ذٰلک فزادت علٰی عشر خصال‘‘۔
    ’’میں نے اس باب میںوارد احادیث تلاش کیںتو دس ایسی صفات کا ذکرکتب احادیث ملا جن صفات کو اپنانے والوںکو عرش الٰہی کے سایہ کی بشارت دی گئی ہے‘‘۔
    [فتح الباری لابن حجر:۲؍۱۴۴]
    ان میںسے بعض احادیث کا ذکر یہاںپر کیا جارہا ہے۔
    عَنْ اَبِي قَتَادَةَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ اَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔
    ترجمہ : ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ :’’جس نے کسی قرض دار کو مہلت دیا یا پھر اسے معاف کردیا تو وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا‘‘۔
    [صحیح الجامع: ۶۵۷۶]
    قال رسول اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ:’’مَنْ اَنْظَرَ مُعْسِرًا اَوْ وَضَعَ عَنْهُ، اَظَلَّهُ اللّٰهُ فِي ظِلِّهِ‘‘۔
    ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اسے معاف کردیا تو قیامت کے دن اللہ اسے اپنے عرش کا سایہ دے گا‘‘۔
    [صحیح مسلم:ح:۳۰۰۶]
    اس کے علاوہ بھی اور لوگ ہیں جنہیں اللہ اپنے عرش کا سایہ دے گا،جن کے ذکر کے لیے علماء نے مستقل رسالہ تالیف کیا ہے۔اور ان رسالوںکا ذکر مضمون کے اخیر میںکیا گیا ہے۔ دیکھیں:(اس موضوع سے متعلق لکھی گئی کتابوں کے نام ،یہ عنوان مضمون کے اخیر میںہے)۔
    ۸۔ سایہ سے مراد عرش کا سایہ ہے یا اللہ کا ؟
    لفظ ’’ظل‘‘کی بابت علماء کے درمیان کئی طرح کے اقوال پائے جاتے ہیں ۔ لیکن ان میں مشہور دو ہیں ۔ انہی کا ذکر یہاں پر دلائل کی روشنی میں کرتا ہوں۔
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ’’ ظل‘‘ سے مراد اللہ کا سایہ ہے ۔اور بعض لوگ کہتے ہیں’’ ظل‘‘ سے مراد عرش کا سایہ ہے۔
    ’’ظل‘‘ سے مراد عرش کا سایہ کہنے والے علماء کرام ۔
    ابن مندہ [کتاب التوحیدلابن مندۃ :۳؍۱۹۰]
    ابن الملقن [التوضیح لشرح الجامع الصحیح لابن الملقن :۶؍۴۴۵]
    امام طحاوی [مشکل الآثارللطحاوی:۱۵؍۷۳]
    ابن رجب حنبلی [فتح الباری:۶؍۵۱]
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ [فتح الباری:۲؍۱۴۴]
    قاضی عیاض رحمہ اللہ [فتح المنعم شرح صحیح مسلم :۴؍۳۵۴]
    امام بغوی [شرح السنۃ :۲؍۳۵۵]
    امام بیہقی [الاسماء والصفات:۲؍۲۲۶]
    علامہ ابن القیم [طریق الہجرتین:۱؍۲۹۳]
    ابو سلیمان الدمشقی [زاد المسیر فی علم التفسیر:۴؍۲۲۰،لابن الجوزی ]
    علامہ عبد الرحما ن مبارکپوری [تحفۃ الاحوذی:۴؍۴۴۵]
    عبد الرحمان بن ناصر السعدی [تفسیرہ :۱؍۴۰۷]
    علامہ محمد ناصرالدین الالبانی [مختصر العلو :ص:۱۰۵]ارواء الغلیل میں تو انہوں نے یہاں تک کہا ہے ۔ [وقد ورد فی ظل العرش احادیث تبلغ التواتر(الإرواء:۳؍۳۹۵) صحیح الترغیب والترہیب للالبانی:۱؍۲۵۰،ح:۳۲۶]
    اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والإفتاء بالسعودیۃ کابھی یہی فتویٰ ہے۔ دیکھیں :فتویٰ نمبر:۱۹۹۳۹
    ایسے ہی امام سیوطی نے کتاب کا جو نام رکھا ہے اس کا بھی اشارہ عرش ہی کی جانب ہے۔
    ان کے بعض دلائل :
    ۱۔ ’’الْمُتَحَابُّونَ فِي اللّٰهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ۔
    ترجمہ: ’’اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے کل عرش کے سایہ میں ہوں گے جس دن عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا‘‘۔
    [صحیح الترغیب :۳۰۱۹،حتی قال الذہبی فی :۱؍۸۴(بلغ فی ظل العرش احادیث تبلغ التواتر)، والحدیث صححہ جمع من اہل العلم]۔
    ۲۔ عن اَبِی قَتَادَۃَ قَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ:’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِیمِہِ اَوْ مَحَا عَنْہُ کَانَ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘۔
    ترجمہ: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ:’’جس نے کسی قرض دار کو مہلت دیا یا پھر اسے معاف کردیا تو وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہوگا‘‘۔
    [صحیح الجامع: ۶۵۷۶]
    ۳۔ عن ابي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:’’ من انظر معسرا او وضع له اظله اللّٰه يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل إلا ظله‘‘۔
    ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اسے معاف کردیا تو قیامت کے دن اللہ اسے اپنے عرش کا سایہ دے گا‘‘۔
    [صحیح سنن الترمذی:۱۳۰۶]
    اب آئیے ان احادیث کو دیکھتے ہیں جن میں سایہ کی اضافت اللہ کی جانب ہے۔
    ۱۔ حديث ابي هريرة رضي اللّٰه عنه، قال قال رسول الله ﷺ:’’سبعة يظلهم اللّٰه فى ظله يوم لا ظل إلا ظله‘‘۔
    ترجمہ: ’’سات قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں اللہ اپنا سایہ اس دن دے جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا‘‘۔
    [صحیح البخاری :۶۶۰]
    ۲۔ حديث ابي هريرة رضي اللّٰه عنه:’’اين المتحابون بجلالي؟ اليوم اظلهم فى ظلي يوم لا ظل إلا ظلي‘‘۔
    ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :’’کہ اللہ قیامت کے دن پکارے گا کہ میری خاطر محبت کرنے والے کہاں ہیں ؟آج کے دن میں انہیں اپنا سایہ دوںگا جس دن میرے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا‘‘۔
    [صحیح مسلم : ۲۵۶۶]
    ۳۔ حديث ابي اليسر رضي اللّٰه عنه:’’من انظر معسراً او وضع عنه، اظله اللّٰه فى ظله‘‘۔
    ترجمہ: ابویسر رضی اللہ عنہ کی ایک مرفوع روایت ہے:’’کہ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دیا یا اسے معاف کیا تو اللہ اسے اپنا سایہ نصیب کرے گا‘‘۔
    [ صحیح مسلم :۳۰۰۶]
    راجح قول: سلف کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو سایہ سے مراد عرش کا سایہ لے رہی ہے ۔بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے یہاںتک کہاہے کہ عرش کے سایہ سے متعلق احادیث تواتر کی حدتک پہنچتی ہے۔اورجن احادیث میںعرش کی تخصیص نہیںہے وہ مطلق ہیںاور جن میںعرش کی تخصیص ہے وہ مقید ہیں، اصول کے اعتبار سے مطلق کو مقید کرکے یہی بات کہی جائے گی کہ سایہ سے مراد عرش کا سایہ ہے ۔
    سعودی لجنہ دائمہ کا بھی یہی فتویٰ ہے ۔
    ’’وقد سئلت اللجنة الدائمة ما المراد بالظل المذكور فى حديث النبى ﷺ:’’سبعة يظلهم اللّٰه فى ظله يوم لا ظل إلا ظله‘‘؟ الحديث۔
    فاجابت:’’المراد بالظل فى الحديث،هو ظل عرش الرحمٰن تبارك وتعالٰي، كما جاء مفسرا فى حديث سلمان رضي اللّٰه عنه في’’سنن سعيد بن منصور‘‘، وفيه:(سبعة يظلهم اللّٰه فى ظل عرشه) الحديث۔حسن إسناده الحافظ ابن حجر رحمه اللّٰه تعالٰي فى (الفتح:۲؍۱۴۴)…، وباللّٰه التوفيق ، وصلي اللّٰه علٰي نبينا محمد وآله وصحبه وسلم ۔ انتهي من فتاوي اللجنة الدائمة للإفتاء۔
    دیکھیں:[ المجموعۃ الثانیۃ:۲؍۴۸۷]
    ترجمہ: سعودی افتاء کمیٹی سے حدیث میںمذکور لفظ ’’ظل ‘‘سے متعلق سوال کیا گیاجس کا جواب انہوںنے یہی دیا کہ اس سے مرادرحمان کے عرش کا سایہ ہے ،جیسا کہ سنن سعید بن منصور میں سلمان رضی اللہ عنہ کی روایت سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں۔(سبعۃ یظلہم اللّٰہ فی ظل عرشہ)اس کی سندکو ابن حجر رحمہ اللہ حسن قرار دیا ہے۔
    [الفتح:۲؍۱۴۴]
    ۹۔ اس موضوع سے متعلق لکھی گئی کتابیں۔
    اس موضوع سے متعلق لکھی گئی کتابوں کے نام :
    ۱۔ تمهيد الفرش فى الخصال الموجبة لظل العرش للإمام جلال الدين السيوطي حققه الشيخ مشهور حسن
    ۲۔ بزوغ الهلال فى الخصال الموجبه للظلال جلال الدين السيوطي
    ۳۔ معرفة الخصال الموصلة إلى الظلال (فتح الباري:۲؍۱۴۳۔۱۴۴)
    ۴۔ الاحتفال بجمع اولي الظلال للسخاوي
    ۵۔ اللمعة فى اوصاف السبعة كما وذكر شيخ الإسلام ابن تيمية فى مجموع الفتاوي (۲۳؍۱۴۴) مولفاً لم ينسبه لاحد او انها سقطت نسبته اسمه وكذالك ذكر فى كتابه ’’سجود التلاوة معانيه واحكامه‘‘ الصفحة:۳۲
    ۶۔ ولمحمد مصطفي ماء العينين ابن محمد فاضل كتاب اسمه: “منيل البشّ فيمن يظلهم اللّٰه فى ظل العرش
    ۷۔ ترطيب الافواه بذكر من يظلهم اللّٰه للدكتور سيد عفاني
    ۸۔ فى ظلال عرش الرحمان عطية محمد سالم
    ٭٭٭
    ٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings