Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • اسلامی نظام کو اپنا کر تو دیکھو!
    عبید اللہ الکافی أکرم

    متعلم: جامعہ القصیم، مملکت سعودی عرب

    بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ جوامع الکلم پر مبنی ہیں، اور اس بات کا انکار کوئی صاحب علم و بصیرت نہیں کر سکتا ہے، چنانچہ اس جامعیت کی ایک اعلیٰ اور واضح مثال اس حدیث میں دیکھی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:’’لعن اللّٰہ الراشی والمرتشی‘‘’’رشوت لینے والے اور دینے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو‘‘[سنن أبی داؤد :۳۵۸۰،صحیح]
    کہنے کو تو یہ چند الفاظ پر مبنی ایک جملہ ہے، لیکن اس جملے کے اثرات کو معاشرے بلکہ موجودہ زمانے کے تناظر میں دیکھیں تو پتہ چلے گا کتنے عظیم اور دور رس احکامات و تعلیمات اس جملہ میں پنہاں ہیں، آج معاشرے کے کسی بھی شعبے میں چلے جائیں اس حدیث کی اہمیت خوب سمجھ آئے گی، بلکہ نعمت اسلام کا اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا، ملک ومعاشرہ میں نظر دوڑانے سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی ملک ومعاشرے کے نظام کو برباد ونیست ونابود کرنے میں جتنا ہاتھ کرپشن، بدعنوانی، یا رشوت کا ہے شاید کسی دوسرے کا نہیں، کام چھوٹا ہو یا بڑا ،جائز ہو ناجائز ہر حال میں اگر کسی کو اپنا مقصد حاصل کرنا ہو تو اس کے لئے سب سے اہم اور آسان ذریعہ رشوت بن چکی ہے، سرکاری یا غیر سرکاری، ہر دفتر ہر شعبے میں کھلے عام رشوت لی و دی جا رہی ہے، کبھی پیسوں کی شکل میں تو کبھی ہدیے وتحفے کی شکل میں، اور آج کے ڈیجیٹل زمانے میںتو اس کی سینکڑوں صورتیں دیکھی جا سکتی ہیں، مثلاً :الکٹرانک بونڈ، فلائٹ کا ٹکٹ، کپڑے لتے، گاڑی گھوڑا وغیرہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
    رشوت کسے کہتے ہیں؟
    رشوۃ’’ رشا‘‘ سے ماخوذ ہے ، جس کے معنی اس ’’رسّی ‘‘کے ہیں جس کے ذریعہ پانی تک پہنچا جائے، چونکہ رشوت کے ذریعہ بھی اسی طرح ایک مقصد تک پہنچا جاتا ہے، اس لیے اسے’’ رشوت‘‘ کہتے ہیں۔
    لفظ رِشوت اور رُشوت،دونوں صحیح ہے، رشوت دینے والے کو’’ راشی‘‘، لینے والے کو’’ مرتشی ‘‘اور دنوں کے مابین واسطہ بننے والے کو’’راش‘‘ کہتے ہیں۔[النہایۃ لابن اثیر:۲؍۲۶۲]
    فقہ کی اصطلاح میں ’’رشوت‘‘ اس مال کو کہتے ہیں، جو کسی کے حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے یا کسی باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے دیا جائے’’مایعطی لإبطال حق وإحقاق باطل‘‘[التعریفات:۱۲۵]
    رشوت کے تعلق سے اسلام کا موقف:
    دینِ اسلام، دینِ حق ، دینِ عدل اور دینِ قویم و دینِ رحمت ہے، اسی لئے اس نے عبادات کی طرح معاملات کو بھی صاف و واضح طور پر بیان کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے تمام احکامات میں انسانی فلاح وبہبودی پنہا ںہے، اور اسی فلاح وبہبودی کی خاطر اس نے رشوت کی جملہ صورتوں کو ناجائز اور حرام قرار دیا ہے، اس کے مرتکب اور اس پر معاون کو سخت عذاب کی دھمکی دی ہے، اور ایسے شخص کو ملعون اور اپنے در سے دھتکارا ہوا بتلایا ہے:
    { وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَي الحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}’’اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھا یا کرو ، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا لیا کرو ، حالانکہ تم جانتے ہو ‘‘ [البقرۃ:۱۸۸]
    اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا: {وَتَرَيٰ كَثِيرًا مِّنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }’ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں‘‘ [ المائدۃ:۶۲]
    اور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے: ’’لعن اللّٰہ الراشی والمرتشی ‘‘ ’’رشوت لینے اوردینے والے پراللہ کی لعنت برستی ہے‘‘ [سنن أبی داؤد :۳۵۸۰،صحیح]
    علماء کرام کبیرہ گناہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
    ’’ما كان فِيهِ حد فِي الدُّنْيَا، أَو جَاء َ فِيهِ وَعِيد فِي الْآخِرَة؛ بالعَذَاب، أَو الغضب، أَو كان فيه تهديدٌ ، أَو لعنٌ لفَاعلِه‘‘
    ’’ہر وہ گناہ جس پر دنیا میں کوئی حد موجود ہو، یا آخرت میں کوئی وعید آئی ہوئی ہو، یا جس کے کرنے والے پر غضب یا لعنت وارد ہوئی ہو اسے گناہ کبیرہ کہتے ہیں‘‘
    اس تعریف کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ رشوت ایک کبیرہ گناہ ہے، اور اللہ رب العزت کبیرہ گناہ کو اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک کرنے والا توبہ نہ کرے۔
    رشوت اور ہمارا معاشرہ:
    اسلام کے آفاقی درس کے برعکس ہمارے معاشرہ میں رشوت کا ناسور پوری طرح اپنے پنجے گاڑ چکا ہے، اور ہم اس کو نہ چاہتے ہوئے قبول بھی کرچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج معاشرتی ابتری حد سے تجاوز کرچکی ہے، رشوت کے ناسور نے ہمارے طرز زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، اپنے جائز کام نکلوانے کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے، اس کلچر نے ہمار ے ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے، عوام عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہورہے ہیں، اس سماجی برائی میں جہاں سرکاری مشینری ذمہ دار ہے، وہاں عام آدمی بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں، کیونکہ اسلام رشوت لینے اور دینے والے دونوں کو اس گناہ میں یکساں ذمہ دار ٹھہراتا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے طرز عمل کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ اس لعنت سے محفوظ رہ کر اسلامی اقدار کو فروغ دیا جاسکے، یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ رشوت معاشرے میں نا انصافی کا پیش خیمہ ہے، عام طور سے پوری دنیا اور خاص طور پر ہمارا ملک بھارت آج اقتصادی بحران کے دور سے گزر رہا ہے، دن بدن گرتی جی ڈی پی کی خبریں ہماری نظروں کے سامنے ہے، نوّے فیصد لوگ غریبی ریکھا سے نیچے اپنی زندگی گزر بسر کررہے ہیں، بھوک مری وفاقہ کشی اپنے عروج پر ہے، آخر ان سب کی وجہ کیا ہے، کبھی کسی نے غور کیا ہے کہ امیر دن بدن امیر کیوں بنتے جا رہے ہیں اور غریب مزید غریب کیوں؟
    ذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ملک کا کوئی ایسا دفتر نہیں جہاں بدعنوانی نہیں ہے، گرام پنچایت کی آفس سے شروع ہو کر ملک کے اعلیٰ دفتر تک کوئی بھی کرپشن سے پاک نہیں، کرپشن ویکیپیڈیا کی مانیں تو ہندوستان میں سن 2005 میں62 فیصد لوگ کرپشن میں ملوث تھے، جبکہ سن2008 میں50 فیصد لوگ کرپشن میں ملوث تھے، اسی طرح سن2019 کے اعداد وشمار کے مطابق180 ملکوں میں ہندوستان کرپشن کے معاملے میں80 نمبر پر براجمان ہے، ایشیاء میں ہر 4میں سے ایک شخص کو پبلک سروس کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے، اسکول، ہیلتھ ورکر، ہسپتال، سرکاری حکام اور عوام کو ہر سطح پر کرپشن کا سامنا ہے، دو نمبر سامان بنانے والے سے لے کر دو نمبر نوٹ چھاپنے تک کا سارا کھیل رشوت کا ہے، کسی کو کیا مجال کہ بغیر منہ بند کئے کوئی بدعنوانیوں کا سوچے بھی!
    لیکن کاش لین دین، خرید وفروخت، اور معاملات میں اسلامی نقطۂ نظر کو اپنایا جاتا،تو آج پوری دنیا کی یہ حالت نہ ہوتی، پوری دنیا کے اقتصادی حالات اس قدر چرمرایے نہ ہوتے!
    ایسے مشکل وقت میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
    ایسے وقت میںواقعی ہمیں انسانی فلاح وبہبودی کی خاطر اپنا فریضہ انجام دینا ہوگا، دنیا اور دنیا داروں کے سامنے مذہب اسلام کے جو اعلیٰ مقاصد و بنیادی تعلیمات ہیں انہیں اجاگر کرنا ہوگا، مذہب اسلام نے معاملات کے معاملے میں جو واضح اور بہترین نسخے بتایا ہے انہیں عام کرنا ہوگا، اور یہیں ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی بلکہ خود عملی طور پر کر کے دکھانا ہوگا، اپنے عمل، کردار اور اخلاق سے ثابت کرنا پڑے گا، تبھی جاکر ایک صالح معاشرے کا قیام ممکن ہوگا، اور اس بات پر ہم قادر ہوں گے کہ لوگوں کو کھلے عام دعوت سکیں’’اسلامی نظام کو اپنا کر تو دیکھو‘‘!
    رب العالمین ہمیں دنیا کے سامنے اسلامی نظام حیات کو باور کرانے، اور اس کے مطابق مکمّل طور پر ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، آمین یا رب العالمین۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings