Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ (قسط :۱۹)

    “منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية”کاتعارف پیش خدمت ہے۔
    کتاب کا تعارف :
    منہاج السنہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم، مشہور، ضخیم اور قیمتی تصنیفات میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب شیعیت کے رد میں لکھی گئی ہے اور اصل میں شیعہ کے معروف عالم ابن المطہر الحلی کی کتاب ’’منھاج الکرامہ فی معرفۃ الامامہ‘‘کا تفصیلی جواب ہے۔ یہاں ’’امامت‘‘ سے مراد وہ امامت ہے جسے شیعہ اپنے دین کے بنیادی اور اہم اصولوں میں سے ایک مانتے ہیں۔
    اس کتاب میں ابن تیمیہ نے شیعہ کے تمام شبہات کا رد کیا ہے، ان کے مذہب کے بطلان کو واضح کیا ہے۔ اس میں احادیث کی تحقیق، تاریخی واقعات کی جانچ پڑتال، فقہی مسائل کی بڑی گہرائی اور باریک بینی سے تحقیق کی گئی ہے ۔ نیز ہر اس مسئلے میں گہری اور اصیل بحثیں پیش کی گئی ہیں جن کا ذکر ابن المطہر الحلی نے اپنی کتاب کے اندر ذکر کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کیا تھا ۔
    یہ کتاب اتنی عظیم ہے کہ مخالفین نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔ اس میں ایک انتہائی مشکل اور دقیق مسئلہ ’’قدم العالم‘‘ (عالم کی ازلیت) اور تسلسل حوادث کا مفصل اور طویل رد موجود ہے۔
    ابن تیمیہ نے ابن المطہر کے ساتھ جن اہم مسائل پر بحث کی، ان میں سے چند یہ ہیں۔
    (۱) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام، نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان کے مواقف، اور ابن المطہر کے طعن و تشنیع اور افتراپرادزی کا ازالہ ۔
    (۲) امامت اور عصمت (معصومیت) کا مسئلہ۔
    (۳) اہل سنت کا منہج صفات باری الٰہی اور قدر کے بارے میں، اسے رافضہ اور ان کے معتزلہ اساتذہ کے منہج سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے جھوٹ افتراء پردازیو ں کا پردہ چاک کیاہے۔
    یہ کتاب ابن تیمیہ کے بعد آنے والے ہر شخص کے لیے مرجع رہی ہے اور شیعہ کے رد میں ایک جامع کتاب ہے ۔ کتاب وسنت اور آثار سلف پر اعتماد کرکے یہ کتاب ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھی ہے۔
    یہ کتاب شیعہ کے تمام دعووں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں مسترد کرتی ہے اور اہل سنت والجماعت کے عقائد کی پختگی اور حقانیت کو واضح کرتی ہے۔
    منہاج السنہ کی تالیف کا سبب :
    منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے’’المنھاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘۔(یہ پوری عبارت منہاج السنہ اردو مترجم شفیق پیر زادہ کی کتاب جلد اول سے لی گئی ہے ۔ عربی کتابوں میں بھی یہی تفصیل ملے گی)۔
    طباعت :  یہ کتاب سب سے پہلے مطبع بولاق مصر سے ۱۳۲۱ھ میں چار جلدوں میں شائع ہوئی ۔
    سب سے بہترین طباعت : سب سے بہترین نسخہ وہ ہے جو دکتور محمد رشاد سالم کی تحقیق سے جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے ۹جلدوں میں فہارس علمیہ کے ساتھ میں مطبوع ہے۔
    علماء کی نظر میں منہاج السنہ کا مقام:
    قال محمد كُرد علي في: “كنوز الأجداد. ص:۳۴۹۔ “ولو لم يكن له إلَّا: “‌منهاج السنة” لكفاه على الأَيام فخرًا لا يبلى، ففيه مثال من علمه وقوة حجته ومعرفته بالملل والنحل، وإذا قلنا: إنّه لم يؤلف نظيره في الرد على المخالفين لأهل السنة؛ لَصدَّقَنا كل منصف من أهل القبلة. وكتاب: “‌‌منهاج السنة” من أصح الشهادات على علو كعبه في معرفة الشرع وما تقلب عليه، وما حاول بعض أهل الأهواء من العبث به، وفيما أورده الموافقون والمخالفون من صحيح الآراء وبهرجها، وكان عنوان مداركه الواسعة بتاريخ الإِسلام وتاريخ الملل والنحل، ولو ادَّعينا أنه لم يأتِ عالم يعرف ما طرأ على الدين ومذاهب أهله فيه ساعة ساعة ويومًا يومًا ما قدر أحد على رد دعوانا” انتهى۔
    (المداخل إلى آثار شيخ الإسلام ابن تيمية» (ص:۵۷)۔
    اگر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی صرف ایک کتاب ”منہاج السنہ“ ہی ہوتی تو بھی ان کے لیے کافی تھا کہ زمانہ اس پر فخر کرتا اور مرور زمانہ کے سبب اس کی شان میں کمی نہ آتی۔اس کتاب میں شیخ الاسلام کے علمی مقام ومرتبہ ، قوت استنباط ، ادیان و فرق کے سلسلہ میں گہری معرفت وغیرہ کی جھلک بہت نمایاں طور پر ایک قاری کو دکھائی دے گی۔
    اور اگر ہم یہ کہیں کہ اہلِ سنت کے مخالفین کے رد میں اپنے آپ میں یہ ایک بے نظیر کتاب ہے ، تو اہلِ قبلہ کا ہر منصف شخص ہماری اس باب کی تصدیق کرے گا۔
    کتاب ”منہاج السنہ“ ابن تیمیہ کے شریعت کے باب میں علو مرتبت اور اُس کے احاطۂ علم پر سب سے صحیح شہادت ہے۔ اُس میں اُس نے ہوائے نفس والوں کے ہر قسم کے عبث و بے ہودہ کلام کا ذکر کیا، موافقین اور مخالفین کی طرف سے پیش کیے گئے درست اور غلط آراء و نظریات کو یکجا کیا۔
    ان کے علم ومعرفت کا ایک روشن عنوان ہی اسلام کی تاریخ اورادیان و فرق کی تاریخ کا ہے۔ اگر دعویٰ کے ساتھ یہ بات کہی جائے کہ اب تک تاریخ اسلام میں کوئی عالم ابن تیمیہ کی طرح ایسا نہیں گزرا جس نے دین کےنام پر مرور زمانہ کے ساتھ ملاو ٹ اور دین میں کی جانے والی مختلف تبدیلیوںسے واقفیت حاصل کی ہواور اسے واشگاف کرکےاس کی اصلاح کی ہو ، تو کوئی شخص ہمارے اس دعوے کو رد نہیں کر سکے گا۔
    لجنہ دائمہ کی طرف سے تعریف :
    س: ما رأيكم في كتابي شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله: [منهاج السنة] و [شرح حديث النزول] ؟
    ج: هذان الكتابان من خير الكتب علما واستدلالا وحسن بيان وقوة في رد الباطل ونصرة الحق وسلامة في العقيدة، ولا يوجد كتاب في الرد على ‌الرافضة -فيما نعلم- مثل كتاب [منهاج السنة] ولا كتاب في شرح حديث النزول أكمل من كتابه في [شرح حديث النزول] فيما نعلم.»اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاءعضو…عضو…نائب رئيس اللجنة… الرئيس عبد الله بن قعود…عبد الله بن غديان…عبد الرزاق عفيفي…عبد العزيز بن عبد الله بن باز۔
    سعودی عرب کی لجنہ دائمہ سے شیخ الاسلام کی د وکتابوں منہاج السنہ اور شرح حدیث النزول کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ اس کمیٹی کا جواب تھا کہ روافض کے رد میں اس طرح کی کوئی اور کتاب نہیں ہے اور شرح حدیث النزل پر سب سے اکمل یہی ابن تیمیہ کی کتاب ہے۔
    [فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الأولى:۲؍۲۵۶]
    منہاج السنہ کی عصری معنویت و حیثیت :
    امام ابن تیمیہ کی ’’منہاج السنہ‘‘ الحادی حملوں کا بہترین جواب ہے۔
    ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہیں کہ آج کے دور میں امام ابن تیمیہ کی تصانیف اور افکار کا مطالعہ کیوں کر مفید ہو سکتا ہے تو اس بارے میں ہم ایک زندہ گواہی پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے:
    کہ فکری اعتبار سے بھی عصر حاضر میں الحادی حملوں اور گمراہ کن نظریات سے بچانے میں شیخ الاسلام کی تصنیفات کس قدر مفید ہیں۔
    ماضی قریب میں صوفی نذیر احمد کشمیری کے نام سے ایک بڑی متحرک اور علمی شخصیت گزری ہے۔
    وہ کئی ایک کتابوں کے مصنف بھی تھے اور آزادی وطن کے لیے بھی انہوں نے ہندوستان بھر کے زعماء کے شانہ بہ شانہ بڑی طویل جد وجہد کی تھی۔
    وہ اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ مجھ پر ایک وقت ایسا آیا جب میں بڑے ہی گمراہ کن خیالات کا اسیر ہو گیا جن سے رہائی کی کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔
    اسی دوران میں راول پنڈی کے ایک عالم دین نے مجھے نصیحت کی کہ آپ امام ابن تیمیہ کی کتابمنھاج السنۃ‘‘ اور’’الجواب الصحیح‘‘ کا مطالعہ کریں۔
    صوفی صاحب فرماتے ہیں کہ جب میں نے ان کتابوں کو پڑھا تو میری آنکھیں کھل گئیں اور میں سمجھ گیا کہ کیا حق اور کیا باطل ہے، اور یہ کہ میں کس قسم کی غلطی میں مبتلا تھا۔
    پھر اللہ کے فضل سے میں اس دنیا سے نکل آیا اور رشد وہدایت کی دنیا میں واپس آ گیا۔
    صوفی صاحب ان دونوں کتابوں کے بہت زیادہ مداح تھے اور کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی آدمی شبہات میں مبتلا ہے اور حق وہدایت کا طالب ہے تو وہ ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کرے، اس کی تشفی ہو جائے گی۔ دنیا میں جتنی گمراہیاں پھیلائی گئی ہیں ان سب کا ردّ ان کتابوں میں موجود ہے۔ (قافلہ حدیث ،مؤلف اسحاق بھٹی : ص:۲۱۰)
    فوائد علمیہ :
    (۱) شیطان نے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی وجہ سے، لوگوں کے لیے دو بدعتیں ایجاد کیں۔
    ایک عاشوراء کے دن حزن والم کی بدعت، جس میں گال پیٹنا، چیخنا پکارنا، رو نا، پیاسہ رہنا، مرثیہ خوانی کرنا، اور اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ سلف صالحین پر لعن طعن اور انہیں گالی دینا، بے گناہوں کو گنہگاروں کے ساتھ ملا کر انہیں بھی موردِ الزام ٹھہرانا، حتیٰ کہ سابقون اولین (یعنی ابتدائی مہاجرین و انصار) تک کو گالیاں دی جاتی ہیں، اور حضرت حسین کے قتل کی وہ روایات پڑھی جاتی ہیں جن میں سے اکثر من گھڑت ہیں ۔
    اور جس نے بھی یہ دروازہ کھولا ہے اس کا مقصد امت کے درمیان فتنہ اور تفرقہ کے سوا کجھ بھی نہیں تھا ، تمام مسلمانوں کے اتفا ق کے ساتھ ماضی میں اسلاف امت مابین رونما ہونے والے حادثات کو بیان کرنا نہ تو واجب ہے اور نہ ہی مستحب ہے ،بلکہ پرانے وقوع پذیر حوادث اور واقعات کو بیان کرنا بہت بڑا جر م ہے ۔
    اور دوسری بدعتِ سرور و فرح (خوشی اور مسرت کی)۔ اور یہ ناصبیت کا گروہ ہے، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد سے بغض رکھتے ہیں۔
    (۲) امہات الفضائل یہ ہیں ،علم ، دین ، بہادری اور سخاوت ۔
    (۳)صدیق اکبر کا بڑا اونچا مقام ہے۔اس مقام کا انکار منافق ہی کرسکتا ہے۔تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺکےسب سے زیادہ قریبی اور خاص اور نبی کی محفلوں میں سب سے زیادہ شریک رہنے والےابو بکر رضی اللہ عنہ تھے یعنی یہ مقام کسی دوسرےصحابی کو نہیں ملا ۔
    (۴) وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى. مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى. اللہ رب العزت نے اپنے رسول کو ضلا ل اور غی سے پاک و صاف رکھا ہے، گمراہی عد م علم کی بنیاد پرہوتی ہے، اور غی نفسانی خواہشات کی پیروی کی بنیاد پر ۔
    (۵)دل کی سب سےبڑی خباثت یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں بغض و حسد اور نفرت ان لوگوں کے تعلق سے رکھے جو انبیاء کے بعد صف اول کے مؤمنین میں شمار کئے جا تے ہیں ۔
    (۶)شیعہ کی حماقتیں کئی ایک ہیں ، انہیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس نہر سے پانی نہیں پیتے ہیں جسے یزید بن معاویہ نے کھدوایا ہے ،حالانکہ نبی ﷺاور صحابہ نے ایسے نہر اور کنوؤں سے پانی پیا ہے جسے کھودوانے والے کفار تھے ۔
    (۷)تمام اہل علم کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ سب سے جھوٹی جماعت روافض کی ہے اور یہ جھوٹ ان کے یہاں بہت قدیم ہے۔
    (۸)تمام محققین علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ الیاس اور خضر دونوں وفات پاچکے ہیں۔
    (۹) قبرستان کی زیارت کرنے والے عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں۔
    پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو اہل توحید ہیں خالص کتاب و سنت پر عمل کرنے والے ہیں ۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اہل بدعت ہیں ۔
    اہل توحید قبرستان کی زیارت اس مقصد سے کرتے ہیں تاکہ وہ میت کے لیے دعا کریں،جبکہ اہل بدعت کا مقصد ہوتاہے کہ وہ وہاں جاکرکے ان سے فریادیں طلب کریں ،اوروہ یہ گمان رکھتے ہیں کہ یہاں پر اللہ سے کچھ مانگنا قبولیت کا زیادہ امکان رکھتاہے۔حالانکہ یہ سب بدعت ہے۔
    (۱۰) ’’سد الذرائع‘‘کے تحت قبرستان میں نماز کی ادائیگی سےمنع کیا گیاہے،جیسے ’’ سد الذرائع‘‘ کے تحت طلوع آفتا ب کے وقت نماز کی ادائیگی سے منع کیا گیا ہے۔
    (۱۱) قبر نبوی کی زیارت سے متعلق جتنی بھی احایث ہیں وہ ساری کی ساری ضعیف یا تو موضوع ہیں ۔
    (۱۲)روافض کی جو بھی کتابیں پڑھے گا اور ان کی تقریریں سنے گا اسے معلو م ہوجائے گا کہ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا گروہ یہی ہے۔
    تحقيقات،شروحات ،مختصرات وحواشی :
    1- منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية : تحقيق محمد رشاد سالم. عدد الأجزاء9: الصفحات: 5346
    2- مخُتْصَرُ مِنْهَاجِ السُّنَّة. اختصره الشيخ عبد الله الغنيمان
    3- القواعد والفوائد الحديثية من منهاج السنة النبوية لشيخ الإسلام ابن تيمية
    المؤلف: علي بن محمدالعمران. الناشر: دارالحضارة۔۔ بلد النشر: الرياض، السعودية۔ عدد الأجزاء: 1۔ الصفحات: 197۔
    4-النقد التاريخي عند ابن تيمية من خلاله كتابه منهاج السنة النبوية۔ المؤلف: منيرة فيشوش إبتسامكروم۔المحقق: عبدالعزيزشاكي۔ بلد النشر: المسيلة، الجزائر عدد الأجزاء:1 الصفحات: 66
    5- المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال، جو مختصراً المنتقى من منھاج الاعتدال کے نام سے معروف ہے۔امام ذہبی نے اختصار کیا ہے۔ حققه و على حواشيه :محب الدين الخطيب۔
    علامہ ابن تیمیہ کی یہ کتاب چونکہ بڑی ضخیم تھی اس سے استفادہ قدرے مشکل محسوس ہوتا تھا ، تو اس میں آسانی پیدا کرنےکےلیے شیخ الاسلام کے شاگرد رشید مشہور و معروف محدث امام ابو عبد اللہ محمد بن عثمان ذہبی نے اس کتاب کا خلاصہ المنتقی کے نام سے تیار کیا۔
    سرزمین شام کے مشہور ومعروف سلفی عالم دین علامہ محب الدین الخطیب رحمہ اللہ نے المنتقی کے قلمی نسخہ کی منہاج السنہ مطبوعہ بولاق سےتقابل کرکے تصحیح کا اہتمام کیا ۔
    المنتقی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا رہا کہ یہ مفقود ہے ، پہلی مرتبہ حجاز کے نامور سلفی المشرب فاضل شیخ محمد نصیف رحمہ اللہ کو دیار شام کی سیاحت کے دوران ’’المنتقی‘‘ کا ایک مخطوطہ حلب کے مکتبہ عثمانیہ میں ملا ، یوسف شافعی کا تحریر کردہ یہ ایک قدیم نسخہ تھا ، کاتب رقمطراز ہے کہ وہ اس کی کتابت سے جمادی الاولیٰ ۸۲۴ھ میں یعنی امام ذہبی کی وفات کے بعد ۷۶ سال بعد فارغ ہوا ۔(منہاج السنہ، غلام احمد حریری :ص:۶)
    6- تهذيب منهاج السنة النبوية ردود ابن تيمية على الحلي: المؤلف: محسن عبدالحميد: عدد الأجزاء: 1: الصفحات: 265
    7- منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة والقدرية- العلمية: المحقق: عبد الله محمود محمدعمر: الصفحات: 1662: عدد الأجزاء: 4
    8- فوائد مختارة من كتاب منهاج السنة النبوية لشيخ الإسلام ابن تيمية: المؤلف: سليمان بن محمداللهيميد
    9- مباحث أصول الفقه الواردة في كتاب منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية، لشيخ الإسلام ابن تيمية۔ المؤلف: أحمدبن صالح الكناني الزهراني: المحقق: علي بن عبد العزيزالعمريني۔
    10- مثل جمع تلميذه ابن عبد الهادي للأحاديث الضعيفة التي في: “‌منهاج السنة”، وجمع محمد بن قاسم لمناقب أبي بكر وعمر رضي الله عنهما كذلك.
    11-ملخص منهاج السنة لابن تيمية ، تلخيص الشيخ العلامة عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوهاب .
    12- التقريب لمنهاج السنة النبوية۔
    13- إعانة المحتاج من كتاب المنهاج شرف الراجحي
    14- (أبو بكر الصديق بحث لَخَصه ورتبه الشيخ محمد بن عبدالرحمن بن قاسم – رحمه الله – من منھاج السنۃ۔
    15-آل رسول الله وأولياؤه،موقف أهل السنة والشيعة من عقائدهم وفضائلهم، وفقههم، وفقهائهم، أصول فقه الشيعة وفقههم للشيخ محمد بن قاسم رحمه اللہ۔
    16- أصول وقواعد منهجية قراءة في منهاج السنة النبوية، الصويان، أحمد۔
    17-عصمة الأئمة بين أهل السنة والشيعة من خلال (منهاج السنة النبوية) الصويان، أحمد بن عبد الرحمٰن۔
    18-المنهج الدعوي في الرد على المخالف دراسة نظرية تطبيقية على كتاب منهاج السنة النبوية لشيخ الإسلام ابن تيمية الجوير، نورة بنت محمد۔
    19- الردود العقلية على الإمامية الإثني عشرية من كتاب منهاج السنة النبوية لابن تيمية جمع ودراسة۔ الشايع، عبد الله بن سليمان۔
    20- منهاج السنة النبوية ودعوى الانفتاح الفكري۔ الحميدي، عبد العزيز بن أحمد۔
    21- شيخ الإسلام في ضوء كتابه منهاج السنة النبوية۔ طاهري، عبد الرشيد۔
    22-رؤية ابن تيمية لمكانة الزهراء “عليها السلام”: دراسة كتابه منهاج السنة. شريف، إيسان كاظم۔
    23- منهج ابن تيمية في الرد على الرافضة من خلال كتابه منهاج السنة. المطيري، فهد رشدان۔
    24- منهج شيخ الإسلام ابن تيمية – رحمه الله – في الرد على عقائد المخالفين من خلال كتابه: منهاج السنة۔
    25- موقف شیخ الاسلام ابن تیمیۃ من الرافضۃ فی منھاج السنۃ۔ د؍ عبد اللہ بن ابراھیم بن عبد اللہ۔
    اردو ترجمہ:
    (۱)منہاج السنہ ،غلام احمد حریری۔
    (۲) ’’ منہاج السنۃ النبویہ‘‘پیر زادہ شفیق الرحمٰن شاہ الدراوی (فاضل مدینہ یونیورسٹی )
    منہاج السنہ کے رد میں لکھی گئیں کتابیں :
    1- منهاج السنة المحمدية في الرد على منهاج ابن نيمية عبد الرحمن العقيلي-
    2- افترءات و مغالطات ابن تيمية في منهاج السنة النبوية علي التميمي-
    جاری ……..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings