Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • عبادت میں سستی : اسباب اور شرعی علاج قسط :(اول )

    عبادت بندے اور رب کے درمیان تعلق کی بنیاد ہے اور اسی میں انسان کی اصل عزت، سکون اور فلاح چھپی ہوئی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ دل کی سختی، دنیا کی مشغولیات اور نفس کی کمزوری انسان کو عبادت سے غافل کر دیتی ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل بھاری، بدن سست اور روح بےچین ہو جاتی ہے۔
    یہ سستی محض بدنی کمزوری نہیں، بلکہ ایک روحانی بیماری ہے، جس کا ادراک اور علاج نہایت ضروری ہے۔
    اس مضمون میں ہم عبادت میں سستی کے اسباب کا جائزہ لیں گے، اور کتاب و سنت اور اقوال سلف صالحین کی روشنی میں اس کا موثر علاج پیش کریں گے ان شاء اللہ، لیکن اس سے پہلے ہم عبادت کی جامع تعریف پیش کرتے ہیں :
    عبادت کی لغوی تعریف :
    امام ابن سیدہ فرماتے ہیں : عبادت کا اصل معنیٰ زبانِ عرب میں ’’نرمی اور عاجزی کے ساتھ تابع بنانا‘‘ہے۔
    عرب کہا کرتے تھے: ’’طریقٌ مُعَبَّد‘‘ یعنی ’’ایسا راستہ جو ہموار اور زیر کیا گیا ہو‘‘۔
    اسی سے’’عبد‘‘ کا لفظ لیا گیا ہے، کیونکہ بندہ اپنے آقا کے سامنے عاجز اور تابع ہوتا ہے، عبادت، خضوع، تذلل اور استعانت یہ سب معنوی لحاظ سے ایک دوسرے کے ہم قریب الفاظ ہیں، لیکن ’’عبادت‘‘ ایک خاص قسم کا خضوع ہے، جو صرف اسی ہستی کے لیے مناسب ہے جو اعلیٰ ترین نعمتوں کی مالک ہو، جیسے زندگی، عقل، سماعت اور بصارت جیسی نعمتیں عطا کرنے والا‘‘۔[المخصص:13/96]
    عبادت کی اصطلاحی و شرعی تعریف:
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ عبادت کی شرعی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’عبادت ایک جامع اصطلاح ہے جو ہر اُس بات پر مشتمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اور جس سے وہ راضی ہو، چاہے وہ ظاہری ہو یا باطنی، اقوال ہوں یا افعال‘‘۔[مجموع الفتاوىٰ : 10/149]
    انہی ظاہری و باطنی اعمال میں جیسے نماز، زکاۃ، روزہ، حج، سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، کفار و منافقین سے جہاد کرنا، پڑوسی اور یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، مساکین ومسافرین کی مدد کرنا، غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، جانوروں پر رحم کرنا، دعا، ذکراور تلاوت قرآن مجید کرنا یہ سب عبادات میں شامل ہیں۔
    قارئین کرام ! اب ہم ملاحظہ کریں گے کہ عبادت میں سستی کیونکر واقعی ہوتی ہے، چنانچہ عبادت میں سستی کے اسباب چند درج ذیل ہیں :
    اس ضمن میں میں ان بنیادی اسباب کا ذکر کرنے کی کوشش کروں گی جو عبادت میں سستی اور ترکِ عبادت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، تاہم ان اسباب کی وضاحت سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ کے اس باب سے متعلق چند حکیمانہ اور بصیرت افروز اقوال پیش کیے جائیں، تاکہ ان کی روشنی میں آگے آنے والے اسباب اور ان کے علاج کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
    امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنی تصانیف میں عبادت میں سستی کی گہری وجوہات اور ان کے علاج پر جامع روشنی ڈالی ہے، ان کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت میں سستی صرف بدنی تھکن نہیں بلکہ دل کی بیماری ہے جس کی جڑیں دنیا کی محبت، نفس کی لالچ اور شیطان کی چالوں میں پوشیدہ ہیں، آئیں ان حکمت بھرے اقوال پر غور کریں :
    (۱) عمل کا سرچشمہ علم اور اخلاص ہے :
    ’’عمل علم کا پھل ہے، اور علم اخلاص کا نتیجہ ہوتا ہے، جب دل بیمار ہو جاتا ہے تو جسم عبادت سے سست ہو جاتا ہے‘‘۔[الجواب الكافي: 432]
    یہ قول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت کا ثمرہ اخلاص سے منسلک ہےاور دل کی صحت ہی عمل کی جان ہے۔
    (۲) نفس کی دعوت راحت اور سستی کی طرف :
    ’’ نفس آرام اور بیکار رہنے کی طرف بلاتی ہے اور جو اس کی فرمانبرداری کرتا ہے وہ سستی اور غفلت کی طرف بڑھتا ہے اور بندگی کے اعلیٰ مقامات سے دور ہو جاتا ہے‘‘۔[مدارج السالکین: 3/241]
    یہ قول ہمیں نفس کی حقیقت سمجھنے اور اس کی ضد کے خلاف مجاہدہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
    (۳) دنیا کی محبت، ہر گناہ کی جڑ :
    ’’ہر گناہ کی بنیاد دنیا کی محبت ہے، جو دنیا کو اللہ کی طاعت پر ترجیح دیتا ہے، اس کے لیے عبادت بوجھ بن جاتی ہے‘‘۔ [الفوائد :156]
    یہ قول دنیا کی محبت سے بچنے اور آخرت کی محبت کو ترجیح دینے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
    (۴) شیطان کی چال، سستی اور ٹال مٹول :
    ’’شیطان سستی اور کام میں ٹال مٹول میں کرنے کے دروازے کھولتا ہے، یہاں تک کہ بندہ عبادت کو بالکل ترک کر دیتا ہے‘‘۔[إغاثة اللهفان: 365]
    یہ قول ہمیں خبردار کرتا ہے کہ شیطان کی چالوں سے ہوشیار رہنا اور بروقت عمل کرنا ضروری ہے۔
    الغرض امام ابن القیم رحمہ اللہ کی ان تمام عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت میں سستی کی جڑیں دل کی بیماری، دنیا کی محبت، نفس کی فرمانبرداری اور شیطان کی فتنوں میں پنہاں ہیں، ان سے بچاؤ کا واحد راستہ اخلاص، معرفتِ الٰہی، نفس کی تربیت اور مستقل مزاجی ہے، ان راہوں پر چل کر ہی بندہ سستی کو شکست دے کر رب کے حضور سر تسلیم خم کر سکتا ہے۔
    اب ہم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف عبادت میں سستی کے بیان کردہ اسباب کا جائزہ لیں گے، بلکہ دیگر ممکنہ وجوہات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے، تاکہ اس روحانی بیماری کی جڑوں تک رسائی حاصل ہو سکے اور آخرکار ایک موثر، شرعی اور عملی علاج تک پہنچنا ممکن ہو جائے۔
    (۱) ایمان کی کمزوری :
    جب دل میں ایمان کمزور ہو جائے تو عبادات کا شوق بھی ختم ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے قرآن پاک میں اللہ نے منافقین کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
    ﴿وَإِذَا قَامُوٓا۟ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ قَامُوا۟ كُسَالَىٰ﴾ [ النساء :142]
    ’’منافق جب نماز کے لیےکھڑے ہوتے ہیں تو بڑی سستی سے کھڑے ہوتے ہیں‘‘۔
    اس کی وجہ یہ تھی کہ نفاق ان کے اندر تھا اور نفاق ایمان کی ضد ہے، جس میں نفاق ہو اس کے ایمان کی تکمیل ناممکن ہے۔
    (۲) دنیا کی محبت :
    دنیاوی مصروفیات، مال و دولت اور عیش و آرام کی طرف حد سے زیادہ جھکاؤ، اسی وجہ سے اللہ نے قرآن مجید میں اس بات کی تنبیہ فرمائی کہ یہ چیزیں تمہیں غافل نہ کردیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْھِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴾ [المنافقون: 8]
    ’’اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں اور جو ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔
    (۳) غفلت اور لاپرواہی :
    دل کی غفلت انسان کو عبادت سے غافل کر دیتی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسی وجہ سے غفلت اور سستی سے پناہ مانگی ہے :
    ’’اللھم إني أعوذ بك من العجز والكسل…‘‘
    ’’اے اللہ! میں عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔[صحیح بخاری:2823]
    (۴) گناہوں کی کثرت :
    کثرتِ گناہ دل کو سیاہ کر دیتی ہے، جس سے عبادت کا ذوق ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ’’جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبہ لگ جاتا ہے‘‘۔[سنن ترمذی : 3334]
    (۵) نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی :
    جب انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جائے تو عبادت بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، اسی وجہ سے اللہ نے نفس کے متبعین کے لیے عذاب اور نفس کے خلاف چلنے والوں کے لیے عظیم بشارت سنائی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
    ﴿وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَھَى النَّفْسَ عَنِ الْـھَوٰى فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰى﴾[ النازعات :40-41]
    ’’لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا سو بے شک اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے‘‘۔
    (۶) عبادت کو معمولی سمجھنا :
    جب انسان عبادت کی عظمت کو نہ سمجھے تو اس میں سستی ہونے لگتی ہے، اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے چھوٹی سی چھوٹی عبادت کو بھی حقیر سمجھنے سے منع فرمایا:
    ’’نیکی میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو، چاہے یہی ہو کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی کو مسکراتے ہوئے چہرے سے ملو‘‘۔ [صحیح مسلم : 7563]
    (۷) ماحول کا اثر :
    نیک صحبت نہ ہونا اور ایسے لوگوں میں وقت گزارنا جو خود عبادت میں سست ہوں، اسی وجہ قرآن مجید نے بھی نیک صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے :
    ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم﴾ [ الکھف: 28]
    ’’اور اپنے آپ کو اُن کے ساتھ روکے رکھو جو اپنے رب کو پکارتے ہیں‘‘۔
    سستی کا علاج :
    سابقہ تمام تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اب عبادت میں سستی کے مسئلے کا ایک جامع اور قابلِ عمل حل اخذ کیے جا سکتے ہیں جنہیں ہم ترتیب و وضاحت کے ساتھ چند نکات کی صورت میں پیش کرتے ہیں، ہر نکتہ کے ساتھ اس کی شرعی یا عقلی دلیل بیان کی جائے گی، اور آخر میں سلفِ صالحین کے منتخب اقوال بھی درج کیے جائیں گے، تاکہ یہ علاج صرف نظری نہ رہے، بلکہ عملی میدان میں بھی رہنمائی فراہم کرے :
    (۱) ایمان کو مضبوط بنائیں :
    قرآن پاک کی تلاوت، سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ﴿اَللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ﴾ [ البقرۃ : 257]
    ’’اللہ ایمان والوں کا دوست ہے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے‘‘۔
    رسالت مآب ﷺ نے فرمایا:
    ’’جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مانا، اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا‘‘۔[صحیح مسلم: 34]
    (۲) نیت کی تجدید کریں:
    ہر عبادت کو اللہ کی رضا کے لیے کریں، نہ کہ عادت کے طور پر، جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
    ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾[الأنعام: 162]
    ’’کہہ دو میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔
    رسول اللہ ﷺ کی جامع حدیث ہے:’’إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ‘‘۔
    ’’بیشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔ [صحیح بخاری : 1]
    جاری ……..

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings