-
عبادت میں سستی : اسباب اور شرعی علاج (آخری قسط) (۳) نظم و ضبط اپنائیں :
دن کا شیڈول بنائیں، عبادت کے لیے مخصوص وقت مقرر کریں، جیسا کہ قرآن مجید کی یہ آیت اس پر دال ہے:
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ [سورۃ النساء : 103]
’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر فرض ہے‘‘۔
اور نبی کریم ﷺ کی زندگی مکمل نظم و ضبط کا نمونہ تھی، ہر کام وقت پراور ہر عمل مکمل اخلاص سے انجام دیا کرتے تھے۔
(۴) گناہوں سے توبہ کریں :
سچے دل سے توبہ کریں اور دل کو پاک کریں تاکہ عبادت کی لذت محسوس ہو، اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا﴾ [سورۃ التحریم: 8]
’’اے ایمان والو! اللہ کی طرف سچی توبہ کرو‘‘۔
رسول اکرم ﷺ نے بھی اس امر کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ہر انسان خطاکار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں‘‘۔
[سنن ترمذی :4492، حسنه الألباني]
چونکہ گناہ دل پر بوجھ ڈالتے ہیں جو سستی پیدا کرتا ہے، توبہ دل کو ہلکا اور روشن کرتا ہے۔
(۵) نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں :
مثلاً مسجد جائیں، دینی محافل میں شرکت کریں، نیک دوست بنائیں، قرآن پاک نے بلیغ انداز میں اس کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم﴾ [سورۃ الکھف : 28]
’’اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ جمائے رکھو جو اپنے رب کو پکارتے ہیں‘‘۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی جامع انداز میں ارشاد فرمایا:
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے‘‘۔ [ترمذی: 2378، قال الشيخ الألباني: حسن]
(۶) آخرت کو یاد رکھیں:
موت، قبراورحساب و کتاب کو یاد کرنا دل کو بیدار کرتا ہے، قرآن پاک کچھ اس انداز سے اس امر کو پیش کرتا ہے :
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾ [سورۃ آل عمران: 185]
’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’لذتوں کو توڑ دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو‘‘۔ [ترمذی: 2307، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح]
(۷) چھوٹی عبادات سے آغاز کریں:
تھوڑا تھوڑا کر کے عبادات میں اضافہ کریں تاکہ دل پر بوجھ نہ ہو، یہ طریقہ اللہ کے نزدیک نہایت پسندیدہ ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جو مسلسل کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو‘‘۔
[صحیح بخاری: 6466]
چونکہ چھوٹی عبادات مستقل مزاجی پیدا کرتی ہیں اور رفتہ رفتہ دل عبادت کا عادی ہو جاتا ہے۔
(۸) دعاؤں کی کثرت :
اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ عبادت کی توفیق اور شوق عطا فرمائے، دعا کی ترغیب کا اہتمام کتاب و سنت میں کثرت سے کیا گیا ہے، بلکہ محدثین و ائمہ نے دعا کی ترغیب و فضائل پر مستقل و جامع کتب و رسائل مرتب فرمائے ہیں، جیسا کہ اہل علم سے یہ بات مخفی نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ دعا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے :
﴿اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [سورۃ الغافر : 60]
’’تم مجھ کو پکارو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا‘‘۔
رسول اللہ ﷺ بھی عبادت پر قائم و دائم رہنے کی دعا کرتے تھے چنانچہ آپ کی مشہور دعا :
’’اَللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ‘‘۔
’’اے اللہ! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر، تیرا شکر اور اچھی عبادت کر سکوں‘‘۔
محترم قارئین! یہ بات یاد رکھیں کہ عبادت کی توفیق صرف اللہ کی مدد سے ممکن ہے، دعا اس مدد کو طلب کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اب ہم سلف صالحین کے چند اقوال پیش کرتے ہیں جو سستی اور غفلت کے بجائے چستی اور بیداری کی راہ میں نہایت معاون ثابت ہوں گے ان شاء اللہ :
(۱) امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’اے ابنِ آدم! تُو ایّام ہی کا مجموعہ ہے؛ جب ایک دن رخصت ہوتا ہے، تو گویا تیرا ایک حصہ بھی ختم ہو جاتا ہے‘‘۔ [حلیۃ الأولیاء:2/148]
یعنی زندگی چند سانسوں، لمحوں اور دنوں کا نام ہے۔ جو وقت ضائع ہو جائے، وہ واپس نہیں آتا، لہٰذا ہر دن کو غنیمت جان کر عبادت میں صرف کرنا چاہیے۔
(۲) امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
’’میں نے بیس برس تک اپنے نفس سے جہاد کیا کہ اسے قیام اللیل پر آمادہ کر سکوں‘‘۔[سیر أعلام النبلاء: 7/ 230]
مطلب یہ کہ عبادت میں سستی فطری ہے، مگر مجاہدہ ہی کامیابی کی کنجی ہے، اہلِ علم بھی مسلسل جدوجہد سے عبادت کی لذت حاصل کرتے تھے۔
(۳) امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا قول ہے :
’’یقین کر لو کہ آج موت، کل کے مقابلے میں تم سے زیادہ قریب ہے، لہٰذا ہر دن کچھ نہ کچھ آخرت کا سامان ضرور تیار کرو‘‘۔ [الزھد : 93]
یعنی موت کی یاد عبادت کی ترغیب دیتی ہے، اور ہر گزرتا لمحہ ہمارے خاتمہ کے قریب لا رہا ہے۔
(۴) امام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’جس کے لیے نیکی کا دروازہ کھل جائے، اُسے فوراً لپک کر داخل ہو جانا چاہیے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کب یہ دروازہ بند ہو جائے گا‘‘۔[صيد الخاطر: 348]
یعنی عبادت کا جذبہ جب دل میں پیدا ہو، تو اسے فوراً عمل میں لانا چاہیے، تاخیر شیطان کا جال ہے۔
(۵) موسیٰ بن عیسیٰ الموصلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
میں قرض کے بوجھ تلے دب گیا، بشر حافی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’آدھی رات کی عبادت کو لازم پکڑو‘‘، پھر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا:
’’سحر کے وقت کی عبادت کو لازم پکڑو‘‘۔[التوکل لأبي يعلى: 64]
(۶) امام ابن القیم رحمہ اللہ عبادت میں سستی کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’عبادت میں سستی کی سب سے بڑی وجہ دل کی غفلت، طاعات کی پیروی سے دوری، خواہشات کی مزاحمت میں کمزوری اور عبادت میں اخلاص کی کمی ہے‘‘۔
آگے مزید بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اللہ کا کثرت سے ذکر کرے، طاعات میں کوشاں رہے، نفس کو خواہشات کے خلاف مجاہدہ کرائے، اور عبادت میں اخلاص اختیار کرے‘‘۔[مدارج السالکین: 4/123]
الغرض عبادت انسان کے وجود کا سب سے اعلیٰ اور مقدس مقصد ہے، اور یہی راستہ اُسے اپنے رب کی قربت، سکونِ قلب اور ابدی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، مگر سستی، غفلت، طویل امیدیں، دنیا کی مشغولیات اور باطنی کمزوریاں ہمیں اس راستے سے ہٹاتی رہتی ہیں۔
سلفِ صالحین رحمہم اللہ نے جس اخلاص، محنت، مجاہدہ اور خوفِ خدا کے ساتھ عبادت کا حق ادا کیا، وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، ان کے اقوال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وقت ضائع نہ ہو، نفس پر قابو پانا مجاہدہ ہے، عبادت میں تاخیر شیطان کی چال ہے اور موت ہر لمحہ قریب تر آرہی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم سستی، غفلت اور موخر کرنے کی عادت کو ترک کر کے، عمل، عبادت اور بندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ چھوٹے چھوٹے اعمال سے آغاز کریں، مستقل مزاجی اپنائیں، نیک صحبت اختیار کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت و اخلاص کی دعا کرتے رہیں اور ان تمام عوامل کو ترک کریں جو عبادت میں کوتاہی کا سبب بنتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سلف صالحین کے نقشِ قدم پر کتاب و سنت کی روشنی میں چلتے ہوئے عبادت کا ذوق، اخلاص، اور استقامت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین