Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علم عقیدہ کی چند اہم مصطلحات

    علم عقیدہ کی چند اہم  مصطلحات

    (چوتھی قسط)

    ٭ایک نظر مصطلح سلف پر:

     *أولاً:  سلف کا لغوی معنی:  ’’سلف‘‘یہ سالف کی جمع ہے، اور سالف متقدم کو کہا جاتا ہے، اور سلف سے مراد وہ جماعت ہے جو گزر چکی ہو۔[ لسان العرب لابن منظور:۹/۱۵۸]

    ابن فارس فرما تے ہیں:’’سلف:السین ، وللام ، والفاء أصل واحد یدل علی تقدم وسبق۔۔۔‘‘

    سلف:  سین، لام، اور فاء ایک ایسی اصل ہے، جو تقدم اور گزرے ہوئے زمانہ پر دلالت کرتی ہے ۔

      لہٰذا’’سلف‘‘یہ’’سلف یسلف سلفا وسلوفا‘‘سے ماخوذ ہے، یعنی:وہ گزر گیا۔[المفردات للراغب الأصفہانی: ص: ۲۳۹]

     اور ہر انسان کا ’’سلف‘‘اس کے گزرے ہوئے آباء و اجداد، اور قریبی رشتہ دار میں سے جو عمر و فضل میں برتر ہوں، اور ان میں سے فرد واحد کو’’سالف‘‘کہا جاتا ہے۔[معالم التنزیل للبغوی:۴/۱۴۲]

      اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلف سے مراد:’’آبا ء و اجداد اور اقارب میں سے وہ لوگ ہیں جو مر چکے ہیں، اسی لئے تابعین کے دفعہ اول کو’’سلف صالح‘‘کہا جاتا ہے۔[النہایۃ فی غریب الحدیث لابن کثیر:۲/۳۹۰]

    *ثانیاً:سلف کا اصطلاحی معنی:

      جہاں تک سلف کے اصطلاحی معنی کی بات ہے، اور اس سے کیا مراد ہے؟  تو اس سلسلے میں علماء کرام نے کئی ایک اقوال پر اختلاف کیا ہے، اور ان کے اختلاف کی وجہ ’’تحدید زمانہ‘‘ہے، ان کے چند اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

    *سلف سے مراد:

    ۱۔  صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یہ چند شراح ’’رسالہ لابن أبی زید القیروانی‘‘کا قول ہے۔[وسطیۃ أہل السنۃ بین الفرق للدکتور محمد باکریم :ص:۹۷۔۹۸]

    ۲۔  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین ہیں، یہ ابو حامد الغزالی کا قول ہے، جیسا کہ انہوں نے کہا:

    ’’اعلم أن الحق الصریح الذی لا مراء فیہ عند أہل البصائر ، ہو مذہب السلف، أعنی مذہب الصحابۃ والتابعین‘‘’’جان لو کہ وہ حق صریح ہے جس کے بارے میں دانشوروں کے نزدیک کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، وہ سلف کا مذہب ہے، (اس سے)میری مراد صحابہ کرام اور تابعین کا مذہب ہے‘‘[إلجام العوام عن علم الکلام للغزالی :ص۵۳]

    ۳۔ صحابہ کرام، تابعین، اور تبع تابعین ہیں، یعنی وہ تین صدی جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس قول میں خیریت کو ثابت کیا ہے۔

    ’’خير الناس قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم‘‘’سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد آئیں گے، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے‘‘[صحیح البخاری: ۲۶۵۲، و صحیح مسلم:۲۵۳۳]

    اس قول کی طرف اہل علم کی ایک بڑی تعداد گئی ہے، جیسے امام شوکانی، اور امام سفارینی وغیرھما ۔

       سلف سے متعلق پچھلے تمام اقوال کی رو سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سلف کے مسمی میں قرون اولیٰ کے سارے لوگ داخل ہیں، لیکن اس زمانہ کے سارے لوگوں کو’’سلفی‘‘نہیں کہا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ بات مشہور ہے کہ قرون اولیٰ ہی  میں مختلف فرقوں کا ظہور ہوا، چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں خروج و رفض کی بدعت نے جنم لی، جبکہ زمانۂ صحابہ کے اواخر میں بدعت ارجاء و قدر، اور زمانۂ تابعین کے اوائل میں بدعت تعطیل و تشبیہ نے سر اٹھایا۔ دیکھیں:[منہاج السنۃ:۶/۲۳۱]

    ان تمام بدعتوں نے مدینہ منورہ سے باہر دوسرے علاقوں میں سر اٹھایا، کوفہ میں تشیع و ارجاء ، بصرہ میں اعتزال و تصوف، شام میں نصب وقدر، اور خراسان میں تعطیل جیسی بدعتوں نے جنم لیا۔دیکھیں:[مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ:۲۰/۳۰۰]

    اس بنا پر’’تعیین سلف میں صرف قدیم زمانہ کا اعتبار نہیں ہوگا، بلکہ قدیم زمانہ کے ساتھ کتاب وسنت کے لئے نصوص اور روحانی اعتبار سے رائے کی موافقت ضروری ہے، اسی لئے جس کی رائے کتاب وسنت کے مخالف ہو، اسے ’’سلفی‘‘نہیں کہا جاسکتا ہے، اگرچہ اس نے صحابہ اور تابعین کے مابین زندگی گزاری ہو‘‘[الإمام ابن تیمیۃ وقضیۃ التأویل للدکتور جنید :ص:۵۲، ]کسی حد تک تصرف کے ساتھ اقتباس۔۔۔)

      اور صحیح بات یہی ہے کہ اہل قرون مفضلہ جو کتاب و سنت کے موافق تھے، ان کے ساتھ ان لوگوں کو شامل کیا جائے گا جنہوں نے کتاب وسنت کی موافقت کی، ان بزرگوں کے منہج کو اختیار کیا، اور ان کے ان آثار و صحیح مرویات کو اپنایا جن کے ذریعے سے سلف صالح نے حق کو بیان کیا ہے۔

    لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے لوگ ’’سلف‘‘کے مفہوم میں داخل ہیں، اور امام سفارینی رحمہ اللہ اس مسئلہ میں مُوَفَّق ہیں، جنہوں نے مذہب سلف کی یوں تحدید کی ہے کہ: مذہب سلف وہ طریقہ ہے جس پر صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، اور وہ ائمہ دین قائم تھے، جن کے لئے امامت کی شہادت دی گئی ہو، اور دین کے مسائل میں ان کی قدردانی کی گئی ہو، اور لوگوں نے ان کی باتوں کو شرف قبولیت بخشی ہے، کسی بھی بدعت میں وہ ملوث نہ تھے، اور نہ ہی کسی غیر پسندیدہ لقب سے مشہور ہوئے، جیسے:خوارج، روافض، قدریہ، جبریہ، جہمیہ، معتزلہ اور کرامیہ اور ان جیسے لوگ ۔[لوامع الأنوار للسفاریینی:۱/۲۰]

      بنا بریں سلف سے مراد صرف قرون مفضلہ کے لوگ ہی نہیں بلکہ وہ تمام لوگ ’’سلف‘‘ کے ضمن میں شامل ہیں، جنہوں نے کتاب وسنت کی موافقت کی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے منہج کو اپنایا۔

    *ثالثا:  علماء سلف کے نزدیک ’’خلف‘‘کا مفہوم:

    لغت میں ’’خلف‘‘اس شخص کو کہا جاتا ہے جو متقدم کے پیچھے آئے، چاہے وہ زمانہ کے اعتبار سے ، یا پھر رتبہ کے اعتبار سے متأخر ہو۔[القاموس المحیط للفیروزآبادی: ص:۱۰۴۲۔۱۰۴۳]

    اور سلف کے مقابلے میں خلف بول کر وہ شخص مراد ہوتا ہے، جو کسی بدعت کا مرتکب ہو، یا کسی ناپسندیدہ لقب سے مشہور ہو۔[القاموس المحیط للفیروزآبادی: ص:۱۰۴۲۔۱۰۴۳]

    جیسا کہ امام سفارینی کی عبارت اس سلسلے میں گزری، لہٰذا جو بھی کتاب و سنت سے منحرف ہوا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ سے روگردانی کی، اسے اپنے لئے منہج نہیں مانا، تو وہ’’خلفی‘‘ہے، اگرچہ اس نے صحابۂ کرام کے درمیان زندگی گزاری ہو۔

     *رابعا:ائمہ کرام کے نزدیک منہج سلف کا اہتمام:

     اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:{وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ} [ لقمان:۱۵]

     امام ابن القیم رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’صحابہ میں سے ہر ایک اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں، لہٰذا ان کے راستے کی اتباع کرنا ضروری ہے، اور ان کے اقوال و اعتقادات ان کا سب سے بڑا (اہم) راستہ ہے۔‘‘[أعلام الموقعین:۴/۱۶۸]

     اللہ تعالیٰ اس مبارک گروہ سے راضی تھا، انہیں یہ کہہ کر خوشخبری سنائی ہے: {وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}’اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ ان سب سے راضی ہوا، اور وہ سب اس سے راضی ہوئے، اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے‘‘[التوبۃ:۱۰۰]

    لہٰذا ان کے منہج سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟

    بنا بریں صحابہ کرام میں سے خصوصاً خلفاء راشدین ابو بکر الصدیق، عمر الفاروق، عثمان ذو النورین، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کی سنت، اور ان کے طریقہ کار کو اپنانا مسلمانوں کی شان و پہچان ہے، اسی لئے ان کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین، تمسکوا بہا، وعضوا علیہا بالنواجذ‘‘[سنن أبی داؤد:۴۶۰۷، سنن الترمذی:۲۶۷۶]البانی رحمہ نے کہا کہ:اس کی اسناد صحیح ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

     عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’من كان مستنا فليستن بمن قد مات، فإن الحي لا تؤمن عليه الفتنة، أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أبر هذه الأمة قلوباً وأعمقها علماً، وأقلها تكلفاً، قوم اختارهم الله بصحبة نبيه وإقامة دينه فاعرفوا لهم حقهم وفضلهم فقد كانوا على الهدي المستقيم‘‘ [جامع بیان العلم وفضلہ:۲/۹۷]

    جو سنت کا متلاشی ہے وہ اپنے پُرکھوں کی سنت کو لازم پکڑے، کیونکہ جو زندہ ہیں ان پر فتنوں کے خطرات ہیں، وہ محمد ﷺ کے ساتھی ہیں، اس امت کے سب سے صاف و شفاف دل والے ہیں، گہرے علم کے مالک ہیں، تکلف سے عاری ہیں، وہ ایسی جماعت ہے جسے اللہ نے اپنے نبی کی صحبت کے لئے اختیار کیا تھا، اور اپنے دین کی سربلندی کے لئے انتخاب فرمایا تھا، تو ان کے حقوق و فضائل کو پہچانو کیونکہ یہی لوگ راہ راست پر گامزن تھے‘‘[شرح السنۃ:۱/۲۱۴، الشریعۃ:۴/۱۶۸۵]

    امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’علم وہی ہے جو محمد ﷺ کے اصحاب سے آیا ہو، اور جو ان سے نہ آیا ہو تو پھر وہ علم ہی نہیں ہے‘‘[جامع بیان العلم وفضلہ:۱/۶۱۷]

    منہج سلف کو اجاگر کرتے ہوئے ایک اور جگہ فرماتے ہیں:’’اپنے سلف کے آثار کو لازم پکڑو، گرچہ لوگ تمہیں نکار دیں‘‘[الشریعۃ:۱/۴۴۵]

     امام احمدرحمہ اللہ نے فرمایا:’’ہمارے نزدیک سنت کا اصول یہ ہے کہ جس منہج پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ گامزن تھے اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لیا جائے، اور ان کی اقتداء کی جائے، اور بدعتوں کو چھوڑ دیا جائے‘‘[شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ:۱/۱۵۶]

     ائمہ کرام نے منہج سلف پر کتابیں تالیف کی، پیچیدہ مسائل کو اسی سے حل کیا، اسے ہی فہم سلیم کے لئے بنیاد قرار دیا، اور استنباط و استدلال کا معیار بتایا، چنانچہ امام ابن ابی العزرحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور میری تمنا تھی کہ میں راہ سلف پر چلتے ہوئے انہی کی عبارتوں میں اس(عقیدۂ طحاویہ)کی شرح کروں، اور ان کے زانوئے تلمذ اختیار کرتے ہوئے ان کے طریقوں کو اجاگر کروں، شاید کہ میں ان کے موتیوں کو پروں دوں، اور ان کے زمرے میں شامل ہو جاؤں‘‘ [شرح العقیدۃ الطحاویۃ:ص:۷۴]

     امام ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ہم جو کہہ رہے ہیں، اور جس دین سے ہم اللہ کی رضامندی حاصل کرتے ہیں (وہ)ہمارے رب کی کتاب، اور ہمارے رسول کی سنت، اور صحابہ، تابعین،ا ور ائمہ حدیث سے جو کچھ مروی ہے انہیں لازم پکڑنا ہے‘‘[الإبانۃ عن أصول الدیانۃ:۱/۲۰]

     اور امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اے عبد اللہ!اگر انصاف چاہتے ہو تو قرآن و سنت کے نصوص پر رک جاؤ، پھر دیکھو ان آیات کے سلسلے میں صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین، اور ائمہ تفسیر نے کیا کہا ہے، اور انہوں نے مذاہب سلف سے متعلق کن اقوال کو بیان کیا ہے، (اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ)پھر یا تو علم ودانائی کے ساتھ بولو گے، یا پھر حلم وبردباری کے ساتھ خاموش رہو گے‘‘[العلو:ص:۱۶]

     شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سب سے بہترین مؤمنین ہیں‘‘[مجموع الفتاویٰ:۳۵/۵۹]

    مزید ایک اور جگہ فرماتے ہیں:’’اس میں اور ان جیسے مسائل میں انسان پر جو اعتقاد واجب ہے منجملہ (وہ تمام امور ہیں)جن پر اللہ کی کتاب، رسول اللہ ﷺ کی سنت دلالت کرتی ہے، جن پر ان سلف مؤمنین کا اتفاق رہا ہے جن کی تعریف اللہ نے کی، اور ان کے پیروکاروں کی تعریف کی ہے، اور ان تمام لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جنہوں نے ان (سلف صالح)کے منہج کو ٹھکرا کر غیروں کی اتباع کی‘‘[مجموع الفتاویٰ:۴/۱۵۸]

     ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ان تمام علوم میں علم نافع کتاب وسنت کے نصوص کو ضبط کرنا، ان کے معانی کو سمجھنا، اس میں ان اقوال کی قید لگانا(ضروری)ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین اور تبع تابعین سے قرآن و حدیث کے معانی(کی وضاحت)میں منقول ہیں۔۔۔‘‘[فضل السلف علی علم الخلف:۱/۶]

    مذکورہ اقوال سے یہ بات روشن سورج کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ منہج سلف پر چل کر ہی کامیابی مل سکتی ہے، انہی کے طریقوں کو اپنا کر منزل مقصود تک پہونچا جا سکتا ہے، انہی کے اقوال و افکار سے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں، اور انہی کی حکمت و دانائی سے پریشانیوں کی گھتیاں سلجھائی جا سکتی ہیں، تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوٹ آئیں،منہج سلف کی طرف لوٹ آئیں، ہم اس راہ پر چل پڑیں جس کی خود اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے تعریف کی ہے، اور اس راہ کی مخالفت کو گمراہی قرار دیا ہے، لہٰذا یہ امر یقینی ہے کہ اسی سلفی منہج سے اصلاح ممکن ہے، کیونکہ’’اس امت کے آخری دفعہ کی اصلاح وہی چیز کر سکتی ہے جس نے پہلی دفعہ کی اصلاح کی تھی‘‘[الموطأ:۱/۵۸۴]

     *خامسا:  منہج سلف یا ائمہ سلف کی طرف انتساب:

    سابقہ سطور سے یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ منہج سلف ایک فکر کا نام ہے، جس کا منبع و سرچشمہ کتاب و سنت رسول ﷺ ہے، لہٰذا ائمہ کرام نے اپنے ان پُرکھوں کو سلف کے نام سے یاد کیا ہے، جو اللہ کی کتاب، سنت نبویہ، طریقۂ صحابہ کرام، اور منہج تابعین عظام پر قائم تھے، ائمہ سلف کی کتب و مؤلفات اس کی مثالوں سے بھری ہوئی ہیں، چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اس شخص کے لئے یہ کوئی عیب کی بات نہیں جس نے مذہب سلف کو ظاہر کیا، اور خود کی اس کی طرف نسبت کی، بلکہ اس سے یہ قبول کرنا ضروری ہے کیونکہ مذہب سلف صرف حق ہی ہو سکتا ہے‘‘[مجموع الفتاویٰ: ۴/۱۴۹]

     اسی طرح شیخ عبد الرحمن معلمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (القائد إلی تصحیح العقائد:ص:۴۷،۵۱،۵۵)میں، علامہ ابن باز رحمہ اللہ نے اپنے رسالے (تنبیہات ہامۃ علی ما کتبہ محمد علی الصابونی فی صفات اللہ عز وجل،ص:۳۴۔۳۵)میں، اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے (مختصر علو:ص:۱۲۲)میں مصطلح سلف کو استعمال کیا ہے،جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص منہج سلف کی طرف نسبت کرتے ہوئے خود کو’’سلفی‘‘کہتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کے اندر کسی قسم کا غرور نہ ہو، اپنے آپ کو منہج سلف کے لئے پاسبان ثابت کرے، کتاب اللہ اور سنت نبویہ کا پابند بنائے، بدعت اور اہل بدعت سے دوری اختیار کرے، اسلاف کا سچا جانشین بنے، اخلاص وللہیت کا علمبردار ہو، اور عمل وکردار سے اپنی سلفیت کا ثبوت دینے کی ہمہ دم کوشش کرے، تو پھر یہی حقیقی معنی میں اہل منہج سلف اور سلفی ہیں۔

    لہٰذا سلف و سلفیوں کی مخالفت کرنے والوں کو چاہئے کہ منہج سلف کا مطالعہ کریں، اس عظیم منہج کو ٹٹول کر دیکھیں، جو ایسے موتیوں کا خزینہ ہے، جو یقینا راہ راست کو روشن کرنے والے ہیں اور صراط مستقیم کی رہنمائی کرنے والے ہیں۔

    ’’أولٰئك آبائي فجئني بمثلهم‘‘

    ’’یہ وہ قوم تھی جن کے قلوب انبیاء کرام کے بعد سب سے اطہر و انقی قرار دئے گئے ہیں…‘‘ ’’ثم نظر فى قلوب العباد بعد قلب محمد، فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد، فجعلهم وزراء نبيه‘‘[حلیۃ الأولیاء :۱/۳۷۵]

    (نوٹ:  اس مضمون کا بیشتر حصہ میرے استاذ محترم دکتور عبد القادر بن محمد عطا صوفی/حفظہ اللہ کی کتاب المفید فی مہمات التوحید سے مستفاد ہے۔)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings