Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • کیا فرض نماز کے بعد نفل نماز پڑھنے کے لیے جگہ تبدیل کرنے کے سلسلے میں کوئی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں ہے؟

    الحمد للّٰہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ، اما بعد :
    محترم قارئین! ایک بھائی نے فیس بک پر فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ کا درج ذیل قول امیج کی صورت میں پوسٹ کیا:
    ’’لا یصح فی تغیر المکان فی النافلة حدیث مرفوع‘‘
    ’’(فرض نماز کے بعد )نفل نماز پڑھنے کے لیے جگہ تبدیل کرنے کے سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث صحیح نہیں ہے‘‘
    اِس پر ایک بھائی نے کہا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سنن ابی داؤد وغیرہ کی روایت کو صحیح کہا ہے۔
    تو پوسٹ کرنے والے بھائی نے جواباً عرض کیا کہ اُس کی سند میں فلاں فلاں راوی مجہول ہیں۔
    پھر سائل نے کہا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے کیسے صحیح قرار دیا؟
    تو پوسٹ کرنے والے بھائی نے کہا :
    ’’واللہ اعلم لعله قد نسی‘‘ ’’واللہ اعلم شاید آپ سے بھول ہو گئی ہے‘‘
    راقم عرض کرتا ہے کہ :
    صاحب پوسٹ نے اگر علامہ البانی رحمہ اللہ کی صحیح ابو داؤد -الام- کی طرف رجوع کیا ہوتا تو بلا شبہ آپ یہ نہیں کہتے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ سے بھول ہو گئی ہے کیوں کہ وہاں آپ رحمہ اللہ نے یہ بتلایا ہے کہ میں نے اِس روایت کو کیوں صحیح قرار دیا ہے۔
    نیز’’ الصحیحہ‘‘ کی طرف بھی رجوع کیا ہوتا تو وہاں بھی آپ کو اِس روایت کی بابت کئی باتیں ملتیں لیکن شاید آپ نے رجوع نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
    اگرشیخ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ نے مذکورہ بات کہی ہے تو صاحب پوسٹ کو چاہیے تھا کہ کم سے کم آپ حفظہ اللہ سے پہلے جو علماء کرام گزرے ہیں ، اُن کی کتب کی طرف بھی رجوع کر لیتے ۔اگر آپ رجوع کر تے تو شیخ الطریفی حفظہ اللہ کا قول موافقت کرتے ہوئے پوسٹ نہیں کرتے۔
    اگرفضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے مذکورہ بات کہی ہے تو آپ کا یہ قول بلا شبہ صحیح نہیںہے کیونکہ اِس تعلق سے دو(۲)مرفوع حدیثیں صحیح ہیں:
    پہلی حدیث :
    حضرت عمر بن عطاء بن ابی خوار المکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ’’اَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، اَرْسَلَهُ إِلَي السَّائِبِ- ابْنِ اُخْتِ نَمِرٍ- يَسْاَلُهُ عَنْ شَيْئٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ اَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ:لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّي تَكَلَّمَ اَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺاَمَرَنَا بِذَلِكَ، اَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّي نَتَكَلَّمَ اَوْ نَخْرُجَ ‘‘
    ’’نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں نمر کے بھانجے سائب کے پاس بھیجا، اُن سے اُس چیز کے بارے میں پوچھنے کے لیے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز میں دیکھی تھی۔سائب نے کہا کہ ہاں!میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقصورہ میں جمعہ کی نماز پڑھی تھی۔ جب امام نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا کہ جو کام تم نے کیا ہے آئندہ ایسا مت کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اسے کسی دوسری نماز کے ساتھ نہ ملانا یہاں تک کہ تم گفتگو کر لو یا نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہﷺنے ہمیں اِس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں گفتگو کر لیں یا نکل جائیں۔[صحیح مسلم:۸۸۳،و صحیح ابن خزیمۃ بتحقیق الاعظمی:۳؍۱۰۱، ح:۱۷۰۵،و معرفۃ السنن والآثار للبیہقی بتحقیق عبد المعطی:۴؍۴۰۹، ح:۶۶۳۷،و السنن الکبریٰ بتحقیق الترکی:۴؍۱۰۴،ح:۳۰۹۰،و مسند احمد بتحقیق الارنوؤط ورفقائہ:۲۸؍۸۰، ح:۱۶۸۶۶وغیرہ]
    مذکورہ حدیث کی بابت علماء کرام کے اقوال :
    امام ابو بکر محمد بن اسحاق السلمی، المعروف بابن خزیمہ رحمہ اللہ (المتوفی:۳۱۱ھ)مذکورہ حدیث پر سرخی لگاتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    ’’بَابُ الْاَمْرِ بِالْفَصْلِ بَیْنَ الْفَرِیضَة وَالتَّطَوُّعِ بِالْکَلَامِ اَوِ الْخُرُوجِ‘‘’’فرض نماز اور نفل نماز کے درمیان کلام یا خروج کے ذریعہ فصل کرنے کا باب‘‘۔[صحیح ابن خزیمۃ بتحقیق الاعظمی:۳؍۱۰۱، ح:۱۷۰۵]
    امام ابو بکر احمد بن الحسین البیہقی رحمہ اللہ (المتوفی ۴۵۸ھ)مذکورہ حدیث پر سرخی لگاتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    ’’الْإِمَامُ یَنْصَرِفُ إِلَی مَنْزِلِه فَیَرْکَعُ فِیه اَوْ یَفْصِلُ بَیْنَ الْفَرِیضَة وَالتَّطَوُّعِ بِکَلَامٍ اَوْ غَیْرِہِ‘‘
    ’’امام اپنے گھر جائے گا پھر وہاں نماز ادا کرے گا یا نمازِ فرض یا نمازِ نفل میں گفتگو وغیرہ کے ذریعہ فصل کرے گا‘‘ [معرفۃ السنن والآثار للبیہقی بتحقیق عبد المعطی:۴؍۴۰۹، قبل الحدیث:۶۶۳۷]
    اور اپنی ایک دوسری کتاب میں رقمطراز ہیں:
    ’’وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تَجْمَعُ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا حَيْثُ قَالَ:لَا تُوصَلُ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ، وتجمع الإمامَ والمامومَ‘‘
    ’’یہ روایت جمعہ اور دیگر نمازوں کو بھی شامل ہے کیونکہ نبی کریم ﷺنے کہا ہے کہ تم کسی نماز کو دوسری نماز سے نہ ملاؤ اور یہ روایت امام اور مقتدی دونوں کو اِس بات کا حکم دیتی ہے‘‘[السنن الکبری بتحقیق الترکی:۴؍۱۰۵، تحت الحدیث:۳۰۹۱]
    امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ (المتوفی۶۷۶ھ)مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
    ’’فِيهِ دَلِيلٌ لِمَا قَالَهُ اَصْحَابُنَا اَنَّ النَّافِلَةَ الرَّاتِبَةَ وَغَيْرَهَا يُسْتَحَبُّ اَنْ يَتَحَوَّلَ لَهَا عَنْ مَوْضِعِ الْفَرِيضَةِ إِلَي مَوْضِعٍ آخَرَ وَاَفْضَلُهُ التَّحَوُّلُ إِلَي بَيْتِهِ وَإِلَّا فموضع آخر مِنَ الْمَسْجِدِ اَوْ غَيْرِهِ لِيُكْثِرَ مَوَاضِعَ سُجُودِهِ وَلِتَنْفَصِلَ صُورَةُ النَّافِلَةِ عَنْ صُورَةِ الْفَرِيضَةِ‘‘
    ’’اس حدیث میں ہمارے اصحاب کے لیے دلیل ہے کہ سنن رواتب وغیرہ کے لیے فرض نماز پڑھی ہوئی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ اختیار کرنا مستحب ہے اور جگہ بدلنے کا سب سے افضل طریقہ گھر ہے۔ ورنہ مسجد کی کسی جگہ یا اس کے علاوہ کوئی جگہ تاکہ سجدہ کی جگہ کی کثرت ہو اور فرض نماز کی شکل سے نفل نماز کی شکل میں فرق ہوسکے‘‘[المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج :۶؍۱۷۱]
    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’وفی ذٰلک احادیث صحیحة احدها فی صحیح مسلم من حدیث معاویة رضی اللّٰہ عنہ‘‘
    ’’اور اِس مسئلے کے تعلق سے کئی صحیح حدیثیں ہیں ، اُن میں سے ایک صحیح مسلم میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے‘‘ [سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۷؍۵۲۴، تحت الحدیث:۳۱۷۳]
    اسی طرح کی بات اور بھی کئی علماء کرام نے کہی ہے۔دیکھیں :[سنن ابی داؤد بتحقیق الارنوؤط ورفقائہ :۲؍۲۴۷، تحت الحدیث:۱۰۰۷،و سلسلۃ الآثار الصحیحۃ لابی عبد اللّٰہ الدانی ،ح:۴۵۰]
    دوسری حدیث :
    ایک صحابی رسول ﷺفرماتے ہیں:
    ’’اَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ ﷺصَلَّي الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي (بَعْدَهَا)، فَرَآهُ عُمَرُ (فَاَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِرِدَائِهِ- اَوْ بِثَوْبِهِ -) فَقَالَ لَهُ:اجْلِسْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ اَهْلُ الْكِتَابِ (قَبْلَكُمْ) اَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ: اَحْسَنَ (صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ‘‘
    ’’رسول اللہ ﷺنے عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد فوراً ایک آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا (پس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اُس کی چادر یا کپڑے کو پکڑا )پھر اُس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ کیونکہ تم سے پہلے اہل کتاب ہلاک ہو گئے کیونکہ اُن لوگوں نے اپنی فرض اور نفل نمازوں میں فصل نہیں کیا۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اچھا کیا یا ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سچ کہا‘‘۔[مسند احمد بتحقیق الارنوؤط ورفقائہ:۳۸؍۲۰۲، ح:۲۳۱۲۱،و مسند ابی یعلی بتحقیق الدارانی:۱۳؍۱۰۷، ح:۷۱۶۶و مصنف عبد الرزاق بتحقیق الاعظمی:۱۲؍۴۳۱، ح:۳۹۷۳، الزیادۃ کلہا لہ وصحح سندہ الالبانی فی الصحیحۃ:۷؍۵۲۲، ح:۳۱۷۳،و معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم بتحقیق عادل بن یوسف العزازی:۵؍۲۸۹۲، ح:۶۷۹۳]
    مذکورہ حدیث محققین کی نظر میں :
    علامہ البانی رحمہ اللہ مسند احمد کی سند کی بابت فرماتے ہیں:
    ’’وهذا إسناد صحیح علٰی شرط مسلم، وجهالة الصحابی لا تضر‘‘
    ’’یہ صحیح سند ہے، مسلم کی شرط پر ہے اور صحابی کی جہالت مضر نہیں ہے‘‘
    [صحیح ابی داؤد- الام:۴؍۱۶۳، تحت الحدیث:۹۲۲]
    نیز دیکھیں:[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۶؍۱۰۵، ح:۲۵۴۹،وقال فیہ :وہذا إسناد صحیح رجالہ ثقات رجال البخاری]
    اور مسند ابی یعلیٰ والی سند کی بابت فرماتے ہیں:
    ’’وهذا إسناد صحیح رجاله کلهم ثقات علی شرط مسلم غیر الصحابی الذی لم یسم وذٰلک لا یضر لان الصحابة کلهم عدول‘‘
    ’’یہ صحیح سند مسلم کی شرط پر ہے ۔اِس کے تمام رجال ثقہ ہیں سوائے صحابی کے جن کا نام نہیں لیا گیا ہے اور یہ مضر نہیں ہے کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں‘‘[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۷؍۵۲۲، تحت الحدیث:۳۱۷۳]
    مسند احمد کے محققین فرماتے ہیں:
    ’’إسنادہ صحیح، رجاله ثقات رجال الصحیح غیر صحابیه‘‘
    ’’اِس کی سند صحیح ہے، اِس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں سوائے صحابی رسول ﷺکے‘‘[مسند احمد بتحقیق الارنوؤط ورفقائہ :۳۸؍۲۰۲، ح:۲۳۱۲۱]
    شیخ حسین سلیم اسد الدارانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’إسنادہ صحیح، وجهالة الصحابی لا تضر فکلھم عدول‘‘
    ’’اِس کی سند صحیح ہے، اور صحابی رسول کی جہالت مضر نہیں ہے کیونکہ وہ سب کے سب عادل ہیں‘‘[مسند ابی یعلی بتحقیق الدارانی:۱۳؍۱۰۷، ح:۷۱۶۶]
    مذکورہ حدیث کی بابت علماء کرام کے اقوال :
    امام ابو الحسن علی بن ابو بکر الہیثمی رحمہ اللہ (المتوفی۸۰۷ھ)مذکورہ حدیث پر سرخی لگاتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    بَابُ الْفَصْلِ بَیْنَ الْفَرْضِ وَالتَّطَوُّعِ  فرض اور نفل نماز کے درمیان فصل کا باب۔[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد بتحقیق حسام الدین القدسی:۲؍۲۳۴، ح:۳۳۹۸]
    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’والحديث نص صريح فى تحريم المبادرة إلى صلاة السنة بعد الفريضة دون تكلم او خروج، كما يفعله كثير من الاعاجم وبخاصة منهم الاتراك، فإننا نراهم فى الحرمين الشريفين لا يكاد الإمام يسلم من الفريضة إلا بادر هولاء من هنا وهناك قياما إلى السنة‘‘
    ’’یہ حدیث اِس بات میں نص صریح ہے کہ بغیر گفتگو اور خروج کے فرض نماز کے معاً بعد نفل نماز پڑھنا حرام ہے جیساکہ اکثر و بیشتر عجمی لوگ کرتے ہیں، اُن میں بطور خاص ترکی لوگ ۔ ہم حرمین شریفین میں دیکھتے ہیں کہ امام جیسے ہی فرض نماز سے سلام پھیرتا ہے تو ترکی لوگ یہاں وہاں سے کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگتے ہیں‘‘[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ :۶؍۱۰۵، ح:۲۵۴۹]
    اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
    ’’انه لا بد من الفصل بين الفريضة والنافلة التى بعدها إما بالكلام او بالتحول من المكان‘‘
    ’’فرض اور نفل نماز کے درمیان جو فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے، فصل کرنا ضروری ہے چاہے وہ گفتگو کے ذریعہ ہو یا جگہ بدل کر کے ہو‘‘[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ:۷؍۵۲۴، تحت الحدیث:۳۱۷۳]
    اب چند باتیں بطور فائدہ پیش خدمت ہیں :
    (فائدہ نمبر:۱) صاحبِ پوسٹ نے جو یہ کہا کہ سنن ابی داؤد کی سند ضعیف ہے ۔
    تو اِس کی بابت عرض ہے کہ بلا شبہ سنن ابی داؤد کی سند ضعیف ہے جیساکہ علامہ البانی اور شیخ شعیب اور اُن کی ٹیم نے کہا ہے لیکن اِس تحریر میں جو دو حدیثیں پیش کی گئی ہیں، وہ اِس کی شاہد ہیں جس سے اِسے تقویت ملتی ہے جیساکہ علامہ البانی اور دیگر علماء کرام نے بیان کیا ہے۔دیکھیں:[صحیح ابی داؤد -الام-، ج:۴، ص:۱۶۱۔۱۶۳،و سنن ابی داؤد بتحقیق الارنوؤط ورفقائہ :۲؍ ۲۴۷وغیرہ]
    (فائدہ نمبر:۲) امام ابو الفداء اسماعیل بن عمر الدمشقی، المعروف بابن کثیر رحمہ اللہ (المتوفی ۷۷۴ھ)رقمطراز ہیں:
    قال الحافظ ابو بكر الإسماعيلي:ثنا يحيي بن محمد الحِنَّائي، ثنا شيبان، ثنا حماد بن سَلَمة، عن الازرق بن قيس، عن عبد اللّٰه بن الحارث:انَّ ابا بكرٍ وعمرَ -رضي اللّٰه عنهما- كانا إذا دخل رسولُ اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فى الصلاة بادَرَا، ايهما يكون حيالَهُ، فصلَّي ذاتَ يومٍ، فلما فَرَغ قام رجلٌ يُصلِّي ركعتين بعد العصر، فقام إليه عمرُ -رضي اللّٰه عنه-، فاخذ بمنكبه، وقال:إنما هلك بنو إسرائيل انَّه لم يكن لصلاتهم فَصْلٌ، النبيُّ صلى اللّٰه عليه وسلم وقال: صَدَق عمرُ‘‘۔[مسند الفاروق بتحقیق إمام بن علی:۱؍۲۶۵، ح:۱۳۴واسنادہ صحیح ]
    مذکورہ متن کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اِس میں ہے کہ عصر کی نماز میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی حاضر تھے اور سنن ابی داؤد کی روایت میں بھی یہی بات ہے لہٰذا مذکورہ روایت سے بھی سنن ابی داؤد کی روایت کو تقویت ملتی ہے۔ والحمد للہ علی ذلک۔
    (فائدہ نمبر:۳) علامہ البانی رحمہ اللہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ایک اور مسئلہ ثابت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’والفائدۃ الاخری:جواز التطوع بعد صلاۃ العصر لإقرار النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘
    دوسرا فائدہ :نبی کریم ﷺکے اقرار کی وجہ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔[الصحیحۃ :۷؍۵۲۴، تحت الحدیث:۳۱۷۳]
    پھر مفصل اور احسن انداز میں اِس مسئلے پر گفتگو کی ہے جیساکہ حوالہ مذکورہ میں دیکھ سکتے ہیں۔
    اب چند باتیں بطور تنبیہ پیش خدمت ہیں :
    (تنبیہ نمبر:۱) علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسند احمد کی سند کو مسلم کی شرح پر قرار دیا ہے جیساکہ گزشتہ سطور میں بحوالہ گزر چکا ہے۔
    راقم کہتا ہے کہ مسند احمد کی سند امام مسلم کی شرط پر نہیں ہے کیونکہ ازرق بن قیس البصری سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت نہیں لی ہے۔
    امام ابو الحسن علی الہیثمی رحمہ اللہ (المتوفی ۸۰۷ھ)مسند احمد کی سند کی بابت فرماتے ہیں:
    ’’رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُو یَعْلَی، وَرِجَالُ اَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِیحِ‘‘
    ’’اِس حدیث کو امام احمد اور امام ابو یعلی رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے اور مسند احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘‘ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد بتحقیق حسام الدین القدسی:۲؍۲۳۴، ح:۳۳۹۸]
    اور یہی بات مسند احمد کے محققین نے بھی کہی ہے جیساکہ بحوالہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسند احمد کی سند کے راویوں کی بابت ایک دوسری جگہ کہا کہ اِس کے رجال ثقہ ہیں اور بخاری کے رجال ہیں۔جیسا کہ گزر چکا ہے۔
    راقم کہتا ہے کہ مسند احمد کے تمام رجال ثقہ تو ہیں لیکن صحیح بخاری کے رجال نہیں ہیںکیونکہ عبد اللہ بن رباح الانصاری رحمہ اللہ صحیح مسلم کے راوی ہیں،صحیح بخاری کے راوی نہیں ہیں۔ واللہ اعلم۔
    اِس پر مزید یہ کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے مسند ابی یعلی والی سند کو مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے جیساکہ گزشتہ سطور میں بحوالہ گزر چکا ہے۔
    راقم کہتا ہے کہ مسند ابی یعلی والی سند مسلم کی شرط پر نہیں ہے کیونکہ ازرق بن قیس البصری سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت نہیں لی ہے۔
    (تنبیہ نمبر:۲) امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے مسند الفاروق میں جو سند امام ابو بکر الاسماعیلی رحمہ اللہ کی کسی کتاب سے پیش کی ہے، اُس میں ایک غلطی ہے اور وہ یہ ہے کہ سند میں اسود بن قیس لکھا ہوا ہے جبکہ صحیح ازرق بن قیس ہے جیساکہ کتب رجال کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
    خلاصۃ التحقیق :
    اگر فضیلۃ الشیخ عبد العزیز الطریفی حفظہ اللہ نے زیر بحث جملہ کہا ہے تو آپ کا یہ قول بلاشبہ صحیح نہیں ہے کیونکہ فرض نماز کے بعد نفل نماز پڑھنے کے لیے جگہ تبدیل کرنے کے سلسلے میں دو(۲) مرفوع حدیثیں صحیح ہیں ۔ والحمد للہ علی ذلک۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

مصنفین

Website Design By: Decode Wings