Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • نیکیوں کا موسمِ بہار

    وقت کا پہیہ گھومتے ہوئے رمضان کی دہلیز تک آپہنچا ہے،ایک بار پھر ہم پر قسمت مہربان ہورہی ہے،یعنی رحمتوں کا موسم بہار اپنی تمام تر عنایتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہونے جارہا ہے،یہ نیکیوں کی حسین رت اور رحمتوں کا بیش بہا خزانہ ہے،ہلالِ رمضان کو دیکھتے ہی روح ایک غیر معمولی کیف و سرور سے سرشار ہوجاتی ہے،ایک خوش گوار ترنگ پوری انسانی بستی پر وجد طاری کرنے لگتا ہے،جذبۂ خیر انگڑائی لیتا ہے،ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اورگنہگاروں میں بھی شوق عبادت مچلنے لگتا ہے۔
    کتاب وسنت میں اس ماہ کی غیر معمولی عظمت جس زور وتاکید کے ساتھ بیان ہوئی ہے وہ طبعیتوں کو مہمیز کرتی ہے، صرف ایک حدیث اس کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے،ارشاد رسول ﷺہے:
    قَالَ اللّٰه:’’كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ:إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ۔وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ۔لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا،إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ ‘‘
    رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو اسے فحش گوئی نہ کرنی چاہیے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ)کی جان ہے!روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی (ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔
    [بخاری:۱۹۰۴]
    اہلِ ایمان کے لیے یہ مہینہ بخشش،نجات اور مغفرت کے سینکڑوں مواقع لے کر آتا ہے،عبادت، تلاوت، توبہ، استغفاراورتزکیہ جیسے اعمال خیر سے زندگی سنور جاتی ہے،بہت ہی گیا گزرا ہے وہ مسلمان جو ان مواقع کو غفلتوں کی نذر کر دیتاہے،جس کے سینے میں ایمان کی شمع فروزاں ہوگی وہ اپنی دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہوکر ماہ رمضان کی سعادتوں کے حصول میں صبح وشام کھپا دے گا،کیونکہ رمضان دودھاری تلوار ہے،اگرانسان کامیابی سے ہمکنار ہوا تو فبہا وگرنہ بخت کی کالک سے وہ بچ نہیں سکتا،مشہور حدیث ہے،’’رََغِمَ أنفُ امرئٍ أدرك رمضانَ فلم يُغْفَرْ له‘‘آپﷺ نے فرمایا:’’جورمضان کو پائے اور مغفرت کا سامان نہ کرسکے، اس کی ناک خاک آلود ہو‘‘[فضل الصلاۃ للالبانی:۱۵، صحیح بشواھدہ]
    ایمان کا تقاضا ہے کہ اس ماہ کی آمد پر خوشی ومسرت کا اظہار ہو،رمضان کی پابندیاں سعادت محسوس ہوں نہ کہ رمضان کو بوجھ اور وبالِ جان تصور کیا جائے،اس کی آمد پر مسرت اور اس کے رخصت ہونے پر رنج وغم کی کیفیت سے دل رنجور ہو،وہ خوشی ہمارے نقل وحرکت سے ظاہر ہو،ہماری چلت پھرت میں نظر آئے،ہمارے رکھ رکھاؤ سے پھوٹتی محسوس ہو،تب سمجھا جائے گا کہ ہم نے رمضان کو نعمت خیال کیا ہے زحمت نہیں۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے کو تقویٰ کا محرک قرار دیا ہے،لعلکم تتقون،دراصل ایک مسلمان کی دینی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ تقویٰ ہے،وہ تقویٰ اگر ہماری زندگیوں سے ناپید ہے تو اس کی بازیابی کا سنہرا موقع رمضان ہمیں فراہم کرتا ہے،تقویٰ ہی ہماری سب سے بڑی کمائی ہے،یہ ایک انمول یافت ہے،کیونکہ رمضان کا حوالہ ایک مسلمان کو دینی اعتبار سے متحرک کرتا ہے،رمضان کے رخصت ہونے کے بعد یہی تقویٰ اس میں زور مارتا ہے اور وہ خیر و نیکی کے کاموں کی طرف لپکتا ہے،ایسا نہ ہوکہ رمضان میں ہمارا دینی انہماک ایک وقتی جوش ہو، پانی کا عارضی بلبلہ ہو،ماحول کے زیر اثر ہم نے ظاہری دینداری کا لباس اوڑھ لیا ہو،پھر یہ دینی فیشن ہلال عید کو دیکھ کر جہاں سے آیا ہوا تھا وہیں پر لوٹ جائے،جیساکہ شاعر نے کہا ہے۔
    تیس دن کے لیے ترکِ مے وساقی کرلوں واعظِ سادہ کو روزوں میں تو راضی کرلوں
    رمضان دراصل ہماری زنگ آلود دینی زندگی کو صیقل کرنے آتا ہے،ہماری رفتار و کردار کو بدلنے آتا ہے،ہمارے قوائے عمل پر پڑے ماہ وسال کے گرد کو اڑا کر تازہ دم کردیتا ہے،دھیرے دھیرے جمود وتعطل کی سل ٹوٹتی اورجذبۂ عمل بیدار ہوتا ہے،کتنی زندگیاں ہیں جنہیں رمضان خوشگوار انقلاب سے ہمکنار کرتا ہے،کتنے بھٹکے ہوئے آہؤوں کو رمضان کی برکت سے سوئے حرم جانا نصیب ہوتا ہے۔
    خوش نصیب ہے وہ مسلمان جسے یہ ماہِ مبارک میسر آیا ہے،کتنے ایسے ہیں جو گزشتہ سال رمضان کے لیے عازمِ استقبال تھے لیکن آج وہ اپنی قبروں میں محوِ خواب ہیں،یہ رمضان ان کے مقدر میں نہیں تھا،اس لیے ہر رمضان کو اپنی زندگی کا آخری رمضان خیال کرکے اس کی عبادتوں کو بجالایا جائے،یہ تصور ہی انسان میں شوق اور وارفتگی کو بڑھا بڑھا دیتا ہے کہ ممکن ہے اگلا رمضان ہمارے مقدر میں نہ ہو،اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابیِٔ رسول کو نصیحت فرمائی کہ: صل صلاۃ مودع۔’’اپنی ہر نماز کو زندگی کی آخری نماز تصور کرکے پڑھو‘‘،(صحیح ابن ماجہ)جب کوئی نماز کو زندگی کی آخری نماز خیال کرکے پڑھے گا تو وہ نماز کیسی ہوگی؟اس میں خشوع وخضوع کس اعلیٰ درجے کا ہوگا؟توجہ الی اللہ کی کیفیت کیا ہوگی؟قلب وروح میں کتنی تڑپ اور لجاجت ہوگی؟ظاہر سی بات ہے وہ اس نماز میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا،بعینہٖ جب رمضان کو زندگی کا آخری رمضان مان کر عبادت کی جائے گی تو بندہ رمضان پر قربان ہوجانا چاہے گا،وہ رجوع الی اللہ کی انتہاؤں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا،اس کی عظیم مثالیں ہمیں سلف کی زندگیوں میں نظر آتی ہیں،وہ پورے سال رمضان سے وابستہ ہوکر زندگی گزارتے تھے،رمضان کے بعد چھ ماہ تک رمضان کی عبادات کی قبولیت کے لیے دعائیں کرتے اور رمضان سے پہلے چھ ماہ تک اس کی آمد و استقبال کے لیے دعائیں مانگتے تھے۔
    رمضان کھانے پینے یا انواع واقسام کی ڈشوں سے لطف اندوز ہونے کا مہینہ نہیں ہے،یہ عبادت وبندگی کی لذتوں میں ڈوبنے اور ابھرنے کے لیے ہے،تلاوت واذکار کے ذریعہ روح کوقربِ الٰہی کی چاشنی سے شادکام کرنے کا موقع ہے، افسوس ان دنیا پرست لوگوں پر جو پورے رمضان صرف مختلف ڈشوں اور پکوانوں کا لطف اٹھاتے ہوئے گزارتے ہیں،افطار کے ساتھ کھانے پینے کا جو سلسلہ چلتا ہے تو پوری رات جاری وساری رہتا ہے،کہیں سیخ اور کباب سے لطف اندوز ہواجاتا ہے،کسی کی بریانی بہت مزہ دیتی ہے،کسی فالودہ کی دکان پر خلق کا ہجوم ہوتا ہے،کہیں کسی اور پکوان کے لیے عازمِ سفر ہوتا ہے،سچ کہوں تو رمضان بھوک پیاس نہیں بلکہ لذت کام و دہن کا مہینہ بن گیا ہے،دنیا جہان کی اشیاء دستر خوان پر جمع کرلی جاتی ہیں جو افطار کے بعد زیادہ تر کچڑے کے ڈبے میں جاتی ہیں یا تشنہ کامان ضرورت کے گھروں میں پہنچاکر ثوابِ دارین کی امید کی جاتی ہے۔
    رمضان کا مہینہ بھوک پیاس کی شدتوں کے ذریعے مومن کو انسانیت کے دکھوں سے قریب کرتا ہے ،غریبوں کی نارسائیوں کا ادراک کرایا جاتا ہے،تاکہ رحم ومروت کے جذبات پروان چڑھیں،ایثار وہمدردی کی خو امراء میں بیدار ہو،رمضان کا یہ فلسفہ جو سمجھ جاتا ہے وہ بھوکوں کی دادرسی کا خوگر ہوجاتا ہے،وہ مجبوروں کا غم کھاتا ہے،جب کوئی عام دنوں میں اپنی بھوک کی فریاد کرتا ہے تو رمضان کی بھوک یاد آتی ہے،وہ اس کی حالت پر تڑپ اٹھتا ہے،وہ اس کو کھلانے اور اس کی تکلیف دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے،یہ اعلیٰ مقصد بھی رمضان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
    اس مہینے کا زیادہ تر حصہ نیند اور سونے کی نذر کردیا جاتا ہے،جس ماہ کا ایک ایک پل قیمتی اور انمول ہو وہ بستروں کی نذر ہوجائے تو افسوس کا مقام ہے،رات کا جاگنا دن میں رات کی کسر پوری کرواتا ہے،فجر کے بعد نیند کا خمار ایسا طاری ہوتا ہے کہ ایک سیکنڈ بھی مسجد میں رکنا آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے،کتنے لوگ ہیں جو رمضان کے نام پر دوپہر تک بستر پر پڑے ہوتے ہیں،ظہر کی نماز کے لیے بمشکل تمام بیدار ہوئے تو بعد نمازِ ظہر قرآن پڑھتے پڑھتے مسجد ہی میں دراز ہوگئے،ویسے بھی دوپہر میں لمبے قیلولے کی پرانی عادت ہے،عصر کی اذان پر چونک کر اٹھتے ہیں،عصر کے بعد ذرا گھومے پھرے تو افطار کا وقت بھی آگیا،یہ کام بھی تو مشقت طلب ہوتا ہے،دسترخوان پر کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے اس لیے فرصت سے خریداری ہوتی ہے،یہ ہے ہماری رمضان کی لائف اسٹائل جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں،ہم نے رمضان کو اپنے طبیعت و خواہشات کے تابع کرلیا ہے،اپنے طریقے سے ایک ایک دن ہم گزارتے ہیں،یہ ماہ عبادت اور تقویٰ کی روح سے خالی ہوتا ہے،ظاہری رکھ رکھاؤ میں ایمان کے عظیم تقاضے پیچھے رہ جاتے ہیں،لہٰذا رمضان کے عظیم مقاصد سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمیں اپنی لائف ا سٹائل کو بدلنا ہوگا،اپنے نفس اور خواہشات سے اوپر اٹھ کر رمضان کو برتنے کی کوشش کرنی ہوگی،عبادت اور آخرت کے پیمانے سے ناپ کر ایک ایک عمل کو برتنا ہوگا،وگرنہ زندگی بھر ہم اس تقویٰ سے محروم رہیں گے جس کی تخم ریزی کے لیے رمضان ہم پر طلوع ہوا تھا۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings