Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ہندوستانی فارغین پر مدنیوں کی کرم فرمائی

    بلاشبہ مدنی ہونا ایک شرف کی بات ہے،ایک معیار اور اعتبار ہے جو اس لاحقے سے جڑا ہوا ہے،مدینہ کا لفظ دلوں میں جذبۂ تقدس کو مہمیز کرتا ہے،اس بنیاد پر لوگ عزت دیتے ہیں،احترام کرتے ہیں،ایسا نہیں ہے کہ کتب احادیث میں اس پر فضائل ومناقب کا کوئی باب قائم کیا گیا ہے،جس طرح سے غیر مدنیوں میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں،اسی طرح ان میں بھی کوالٹیز ہوتی ہیں،میں ایسے کئی مدنی حضرات کو جانتا ہوں جو اکابر واصاغر سب کو عزت دیتے ہیں،علم وصلاحیت سے بھرپور ہوتے ہیں،علمی مسائل میں ان کی نکتہ آفرینی اور علمی گیرائی ان کے تبحرِ علمی کا پتہ دیتی ہے،موقر وہر دلعزیز ہوتے ہیں، قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں،اس تحریر کے احاطے میں وہ دور دور تک نہیں آتے،قلم کا رخ ان مدنی حضرات کی طرف ہے جنہوں نے ہندوستان سے مدینہ تک فاصلہ طے کرلینے کو مدنی ہونا سمجھ لیا ہے،ایک ائیر پورٹ سے دوسرے ائیر پورٹ پر لینڈ کرلینے کو کافی سمجھ لیا ہے،اسی لیے دل تنگ اور نظر کج ہے،اس عظیم خطۂ ارض کی روحانی برکات سے وہ یکسر عاری اور تہی دامن ہیں جو اپنے محیط میں علوم ومعارف کا دریا سموئے ہوئے ہے،وہ کبر کی نفسیات میں جیتے ہیں،انہوں نے علم وتحقیق،اخلاق واطوار،وسعتِ قلبی اور اعلیٰ ظرفی سے قطعی معذرت کرلیا ہے،ترفع کا ایک احساس لیے ہوئے اپنے ملک وارد ہوتے ہیں تو خود کو عقل کل اور دوسروں کو پانی کم چائے سمجھتے ہیں،یہی لوگ ہیں جو ہندوستانی فارغین کو حقیر سمجھتے اور نقص وعجز سے متہم کرتے ہیں،گاہے بگاہے ان کی دل آزاری کرتے رہتے ہیں،ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ سلسلہ اب دراز ہوتا جارہا ہے،دل لفظوں کے نشتر سے بار بار مجروح ہوتو قلم کو روک پانا مشکل ہوجاتا ہے اور دل کے زخم لفظوں میں ڈھلنے لگتے ہیں۔
    یہ درد کے ٹکڑے ہیں الفاظ نہیں ساگر
    ہم سانس کے دھاگوں میں زخموں کو پروتے ہیں
    آخر کیوں ہندوستان کے فارغین اب امپورٹڈ فارغین کے زمانے میں غیر مفید اور ناکارہ ہوگئے؟شدت پسندی،بے اعتدالی،نا اہلی،بے بضاعتی اور نا پختگی ان کی صفات ٹھہرگئیں،یہی نہیں بلکہ ظاہری رکھ رکھاؤ اور رفتار وگفتار سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہماری موجودگی میں ان کا کیا کام؟ہندوستان کے فارغین نے ہمیشہ مدنی حضرات کو ترجیح دی ہے،انہیں فوقیت بخشی ہے،ایک ہی ادارے میں برتی جانے والی نابرابری پر وہ کبھی معترض نہیں ہوئے،بڑی خوش دلی اور اعلیٰ ظرفی سے امتیاز وترجیح کے ناخوشگوار عمل کو قبول کیا،اب سلسلہ تنقیص وتحقیر کا چل پڑا ہے تو یاد رہے امتیازات کو تو گوارا کرلیا گیا تھا لیکن الزامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا،جب معتبر لوگ بھی بھید بھاؤ کا آزار پال کر رکھتے ہوں تو معاف کیجئے گا، ہم بھی فرشتے نہیں ہیں،ہم بھی انسان ہیں،ایک رنج وغم محسوس کرنے والا دل ہمارے پاس بھی ہے،اس لیے تحریرسے جنہیں تکلیف پہنچے ان سے معذرت خواہ ہوں۔
    تب زباں کھولی ہماری لذتِ گفتار نے
    پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پیکار نے
    علم وصلاحیت پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے،ہندوستان کے فارغین میں بھی صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے،بعض ہندوستانی عالم اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں،دعوت وتبلیغ،درس وتدریس،تصنیف وتالیف،تحقیق وتنقیح اورخطابت وتقریر میں ایک زمانہ ان سے مستفید ہورہا ہے،زمینی کام یہ نسبتاً زیادہ کررہے ہیں،کبھی موقع ملا تو اس موضوع پر تفصیلی بات ہوگی، عیب جوئی ہمارا مزاج نہیں ہے،وگرنہ یونیورسٹی کی دیواروں سے چھن کر آنے والی خبریں ہمیں بھی موصول ہوتی ہیں،نزاکتوں کو ہم سمجھتے ہیں،اسی لیے خاموش رہتے ہیں۔
    ہم جو خاموش تھے تو ادب مانع تھا
    ورنہ آتا ہے ہم کو بھی حرف تمنا کہنا
    تعلیم کا مقصد مادہ پرستی میں بدل کر طلبہ سے کیا کیا کرواتا ہے؟وہ مدنی حضرات مجھ سے زیادہ جانتے ہیں،کشش تعلیم کی ہوتی ہے یا وظیفے کی؟یہ تو جگ ظاہر ہے،وظیفے سے محرومی کا ڈر کیسے داؤں پیچ سکھاتا ہے؟ہم سے وہیں کے طلبہ بیان کرچکے ہے،جان بوجھ کر فیل ہونے کے عمل پر بھی حیرت ہوتی تھی،پورے سال ایام حج کے انتظار میں کڑھتے ہیں، یہ عبادت کی محبت نہیں کمائی کے چکر میں ہوتا ہے،ایک حج بدل کو کئی لوگوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے،اس قسم کی دینی واردات بھی کرگزرتے ہیں،سن لیجیے! لاحقے پر زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے،تدریبیہ کے ختم ہونے پر خام مال جب سے تھوک کے بھاؤ جانے لگا ہے،مارکیٹ میں نرخ کے گرنے کی شروعات ہوچکی ہے،امامت وخطابت اور مسند مکتب پر بھی فروکش ہونا پڑجاتاہے،ایک دن آئے گا کہ لاحقوں سے اوپر اٹھ کر صلاحیت کو معیار قرار دیا جائے گا، وہ دن دور نہیں ہے۔
    کہتے ہیں کہ علم کی زیادتی انسان میں تواضع لاتی ہے،فروتنی پیدا کرتی ہے،اصاغر کی توقیر سکھاتی ہے،اعلیٰ ظرفی کی خوبیدار کرتی ہے،اگر علم سے کبر و غرور جنم لے رہا ہے،انانیت اور خودپسندی پروان چڑھ رہی ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ علم نہیں فتنہ ہے،اس فتنے سے سب کو بچنے کی ضرورت ہے خواہ وہ ہندوستانی فارغ ہویا غیر ملکی فارغ ہو۔
    ہندوستانی فارغین کی تنقیص ان اداروں کی تنقیص کو مستلزم ہے جو ادارے مدینہ یونیورسٹی کے قیام سے پہلے سے علوم دینیہ کی نشرواشاعت میں لگے ہیں،سوال یہ ہے کہ کیا یہ لوگ مکتب سے ہی جست لگا کر سیدھا جامعہ اسلامیہ پہنچ گئے تھے یا ہندوستانی مدارس میں انہوں نے چند سالوں تک تعلیم حاصل کی تھی؟جواب اثبات میں ہوگا،اگر ہندوستانی مدارس کی تعلیم ناقص تھی تو آپ کو داخلہ کیسے مل گیا؟آپ وہاں کے معیار پر قابل قبول کیسے ہوگئے؟آپ اس زبان کو کیسے سمجھ سکے جس میں آپ کا انٹرویو لیا گیا؟اسی تعلیم کی بنیاد پر آپ کی ترقی ہوئی اور آپ اسی تعلیم میں کیڑے نکالتے ہیں،آپ کی تعلیمی زندگی کا آغاز یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی تعلیم اب بے قیمت ہوچکی ہے،آپ کی اٹھان یہیں سے ہوتی ہے،اب یہی غیر مفید ہوگئی،جس کی گودوں میں آپ پلے بڑھے،اسی کی تحقیر شروع کردی،اس سے بڑی احسان فراموشی کیا ہوگی؟یہ تو ایسے ہی ہوا کہ جس باپ نے پڑھا لکھا کر قابل بنایا اسی کو ناکارہ کہہ دیا جائے،ظاہر ہے بیٹا کتنا بھی بڑا ہوجائے وہ اپنے باپ سے برتر نہیں ہوسکتا۔
    حیرت ہوتی ہے کہ معروف مدارس میں مدنیوں سے تعلیم پائے ہوئے طلبہ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ نقص وتحقیر کی یہ ذلت ان پر بھی چسپاں کی جاتی ہے،یہ منطق بھی عجیب ہے کہ جگہ اگر چہ مدینہ یونیورسٹی نہیں ہے،لیکن مربی تو مدینہ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں تب بھی وہ ناقص اور ناپختہ ہیں،خام اور کچے ہیں،مطلب یہ ہے کہ نااہلی کے اس کلنک کو دھونے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ ایک ائیر پورٹ سے دوسرے ائیر پورٹ تک اڑان بھری جائے،کوہِ نور کا یہ ہیرا سفر اور تپسیا کے بعد ہی مل سکتا ہے وگرنہ نہیں۔
    اس عجیب سلسلۂ نامسعود پر دکھ ہوتا ہے،کہیں ایسا تو نہیں جوق درجوق مدینہ سے آنے والے فارغین کے لیے ملازمت کی راہ ہموار کی جارہی ہے،کیونکہ ہندوستانی فارغین ملازمت کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہیں،لہٰذا تنقیص اور تحقیر کی ایک ہوا چلائی جائے تاکہ ایک غیر معمولی انخلاء عمل میں آئے اور دھیرے دھیرے دعوت و تدریس کی پوری زمین ہماری تحویل میں آجائے،جملے سخت ضرور ہیں لیکن اس درد،چبھن اور قلق کے مقابلے میں کچھ نہیں جو ایک طویل عرصے سے رہ رہ کے پہنچایا جارہا ہے۔
    بجا ہے تلخیٔ گفتار کا گلہ ناصح
    مگر وہ زخم بھی دیکھے جو ہم نے کھائے ہیں
    اس الزام کے چھینٹے ان غیر مدنی بزرگ علماء کرام کے دامن تک بھی پہنچتے ہیں جو آپ کے استاد ہوتے تھے،بد قسمتی سے جو آپ کی طرح مدنی نہیں ہوسکے ہیں،جن کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ طے کیا ہے،جنہوں نے آپ کی نوک پلک سنوارا ہے،افسوس ان پر کیا گزرتی ہوگی،وہ آپ کے تعلق سے کیا رائے قائم کریں گے،یہ بہت ممکن ہے کہ شاگرد علم وصلاحیت میں استاد سے آگے بڑھ جائے،لیکن تعظیم اور احترام کا مہذب رشتہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے،استاد تو استاد ہے شاگرد تو شاگرد ہی رہے گا۔
    ہم ہائی پروفائل مدنی حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ اس قسم کے عناصر کی تربیت کیجیے اور ان کی ذہن سازی کیجیے،مجھے معلوم ہے کہ آپ کی وسیع القلبی اور اعلیٰ ظرفی اس بھید بھاؤ اور آزار کو پسند نہیں کرتی ہوگی،آپ اگر چاہیں تو یہ سلسلہ رک سکتا ہے،ان متلون مزاج افراد کی اصلاح ہوسکتی ہے،تحریر پر بعض لوگوں کا برافروختہ ہونا فطری ہے،ممکن ہے اس تحریر کا جواب بھی داغ دیا جائے،مجھے اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے،میرامدعا صاف ہے کہ لاحقوں کا تعصب اور بھید بھاؤ ختم کیا جائے،مدنی ، سلفی ،سنابلی اورفیضی وغیرہ ہونے سے پہلے ہم مسلمان ہیں،آپس میں بھائی بھائی ہیں،اخوت کے اس غیرمعمولی رشتے کے سامنے سب ہیچ ہے،اس لیے ہمیں ایک دوسرے سے مل کر رہنا چاہیے،حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے،صلاحیتوں کی قدر کرنا چاہیے،نسبتوں کی راہ سے آنے والی تفریق کے شیطانی خیال کو ذہن سے جھٹک دینا چاہیے،یہی ہمارا دین ہم سے چاہتا ہے اور وہ علم بھی یہی چاہتا ہے جس کے حصول میں ہم نے اپنی زندگی کا گراں قدر حصہ صرف کیا ہے۔
    یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
    اُخُوّت کی جہاںگیری، محبّت کی فراوانی
    بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
    نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

مصنفین

Website Design By: Decode Wings