Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • تین طلاق اور صحیح مسلم کی حدیث ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ (آٹھویں اور آخری قسط )

    سند پر دوسرا اعتراض : طریق پر
    (الف): طریق ’’طاؤس عن ابن عباس‘‘ پر نکارت کا اعتراض
    بعض لوگ یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ طاؤس جب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کریں تو ان کی روایت منکر ہوتی ہے ، جیساکہ اہل علم نے کہا ہے۔
    عرض ہے کہ دنیا کے کسی بھی محدث نے ’’طاؤس عن ابن عباس‘‘ کے طریق پر منکر کی جرح نہیں کی ہے ، اس سلسلے میں جتنے بھی اقوال پیش کئے جاتے ہیں وہ ناقدین محدثین کے اقوال نہیں ہیں بلکہ عام اہل علم کی باتیں ہیں اور یہ باتیں بھی محض اس بنیاد پر کہی گئی ہیں کہ ابن عباس سے تین طلاق کے ایک ہونے کی بات صرف طاؤس نے نقل کی ہے باقی لوگوں نے ان سے طلاق کے تین ہونے کا فتویٰ نقل کیا ہے۔
    اور ماقبل میں امام طاؤس رحمہ اللہ پرشذوذ کے اعتراض کے تحت تفصیل سے اس کا جوب دیا جاچکا ہے ۔
    اب آئیے اس سلسلے میں پیش کئے جانے والے بعض کلام کو دیکھ لیتے ہیں ۔
    ء زاہد کوثری صاحب حسین بن علی الکرابیسی (المتوفی۲۴۸)سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’’وقال الكرابيسي فى أدب القضاء ، إن طاؤسا يروي عن ابن عباس أخبارا منكرة ونراه واللّٰه أعلم أنه أخذها عن عكرمة ، توقاه سعيد ابن المسيب وعطا وجماعة وكان قدم على طاؤس و أخذ طاؤس عن عكرمة عامة مايرويه عن ابن عباس‘‘
    ’’کرابیسی نے ادب القضاء میں کہا ہے کہ طاؤس یہ ابن عباس سے منکر روایات بیان کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان روایات کو انہوں نے عکرمہ سے سنا ہے، اس سے ابن المسیب ، عطاء اور ایک جماعت نے دوری اختیار کی ، اوریہ طاؤس کے پاس آئے تھے اور طاؤس نے عکرمہ ہی سے وہ روایات لی ہیں جو عام طور سے ابن عباس رضی للہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ‘‘
    [اشفاق فی أحکام الطلاق: ص:۴۹]
    عرض ہے کہ :
    اولاً:
    کرابیسی کی کتاب ’’ادب القضاء ‘‘دستیاب نہیں ہے اور زاہد کوثری غالی حنفی کے نقل پر قطعاً اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔
    ثانیاً:
    خود کرابیسی پر شدید جرح ہے حتیٰ کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اسے کافر کہا ہے جیساکہ پہلے گزرچکا ہے ، بلکہ زاہد کو ثری نے خود کرابیسی کے بارے میں کہا:
    ’’متکلم فیہ‘‘ ، اس پر کلام کیا گیا ہے ۔[تأنیب الخطیب :ص:۳۵۶، دوسرا نسخہ ص۱۸۴]
    ثالثاً:
    کرابیسی ناقد ائمہ میں سے نہیں ہیں ، اور ناقدین ائمہ میں سے کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی ہے جو کرابیسی سے نقل کی گئی ہے ، اس لئے کرابیسی کی بات غیرمقبول ہے۔
    رابعاً:
    کرابیسی کا اعتراض طاؤس کی ان روایات پر ہے جنہیں طاؤس رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خود نہیں سنے ہوتے ہیں بلکہ عکرمہ سے سن کر اسے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہی ۔ لیکن صحیح مسلم کی زیر بحث حدیث کو طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے خود سنا ہے ناکہ عکرمہ سے سن کر ابن عباس سے روایت کیا ہے ، چنانچہ:
    امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی۳۸۵)نے کہا:
    ’’نا محمد بن مخلد،والعباس بن العباس بن المغيرة ،قالا:نا أحمد بن منصور بن سيار،عن عبد الرزاق،أنا معمر،عن ابن طاؤس،عن أبيه،قال:سمعت ابن عباس،يقول:’’كان الطلاق على عهد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر:الثلاثة واحدة ،فقال عمر:إن الناس قد استعجلوا فى أمر كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم ‘‘
    ’’طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا :’’کہ عہدرسالت اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاق ایک شمار ہوتی تھی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدبازی شروع کردی ہے جس میں انہیں کے لئے مہلت تھی ، اس لئے اگر ہم لوگوں پر اسے نافذ کردیں تو؟ پھر انہیں لوگوں پر اسے نافذ کردیا‘‘
    [سنن الدارقطنی، ت الارنؤوط:۵؍۸۴،وإسنادہ صحیح ]
    اس روایت میں طاؤس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت کردی ہے لہٰذا کرابیسی کا کلام ثابت بھی ہو تو بھی یکسر مردود ہے۔
    ابو جعفر النحاس النحوی رحمہ اللہ (المتوفی ۳۳۸)نے کہا:
    ’’وطاؤس وإن كان رجلا صالحا فعنده عن ابن عباس مناكير يخالف عليها ولا يقبلها أهل العلم منها أنه:روي عن ابن عباس، أنه قال فى رجل قال لامرأته أنت طالق ثلاثا إنما يلزمه واحدة‘‘
    ’’طاؤس گرچہ نیک آدمی تھے لیکن ان کے پاس ابن عباس کی منکر روایات تھیں ، جن میں ان کی مخالفت کی جاتی ہے اوراہل علم اسے قبول نہیں کرتے ، انہیں میں سے وہ روایت بھی ہے جسے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے ایک شخص کے بارے میں کہا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی کہ یہ ایک ہی طلاق ہوگی‘‘
    [الناسخ والمنسوخ للنحاس :ص:۲۳۰]
    عرض ہے کہ:
    أبو جعفر النحاس رحمہ اللہ نے یہاں جو کچھ کہا ہے اس کے لئے طاؤس کے نقل کردہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ کو بنیاد بنایا ہے جس میں تین طلاق کو ایک ماننے کا ذکر ہے ۔اور ماقبل میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ بھی صرف طاؤس نے نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے دیگر شاگردوں مثلا ًعکرمہ وغیرہ نے بھی نقل کررکھا ہے۔لہٰذا جن لوگوں نے طاؤس کو منفرد سمجھ کر ان کی بات رد کی ہے ان کا فیصلہ غلط ہے ۔
    واضح رہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت اسی طرح ان کے فتویٰ کو اہل علم کی ایک جماعت کی طرف سے ہرصدی میں قبول کیا گیا ہے جیساکہ تفصیل آرہی ہے بلکہ عہد فاروقی کے ابتدائی دو سال سے قبل تو اس روایت کی قبولیت اور اس پرعمل کرنے پر پوری امت کا اجماع تھا ۔
    نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے طاؤس عن عباس کے طریق سے مروی ایک روایت کے بارے میں فرمایا:
    ’’وقد تلقي العلماء ذلك بالقبول ‘‘
    ’’اس روایت کو علماء کے یہاں تلقی بالقبول حاصل ہے‘‘
    [فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۹؍۴۰۳]
    لہٰذا ابو جعفر النحاس کا یہ کہنا کہ اس طریق سے مروی روایت کو اہل علم قبول نہیں کرتے غلط ہے ۔
    (ب): طریق ’’طاؤس عن ابن عباس‘‘ میں اضطراب کا اعتراض
     اضطراب کا پہلا اعتراض :
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ کسی سند میں طاؤس نے ابن عباس سے بغیر واسطہ کے روایت کیا ہے اور کسی سند میں انہوں نے ابو الصھباء کا واسطہ ذکر کیا ہے، لہٰذا یہ سند میں اضطراب ہے۔
    ابو العباس احمد بن عمر القرطبی رحمہ اللہ (المتوفی۶۵۶)نے کہا:
    ’’وقد اضطرب فيه طاؤس۔فمرة رواه عن أبي الصهباء ، ومرة عن ابن عباس نفسه ‘‘
    ’’اس میں طاؤس سے اضطراب ہوا ہے انہوں نے کبھی ابوالصھباء سے روایت کیا اور کبھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے‘‘
    [المفہم للقرطبی: ۴؍۲۴۱]
    عرض ہے کہ یہ محض غلط فہمی اور ناسمجھی ہے کیونکہ امام طاؤس نے کسی بھی سند میں ابوالصہبا کے واسطے سے یہ روایت نقل نہیں کی ہے بلکہ ہر سند میں انہوں نے خود ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ڈائریکٹ یہ روایت نقل کی ہے۔
    اور جس روایت میں ابوالصہباء کا ذکر ہے اس میں یہ بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو الصہباء کے سوال پر یہ حدیث بیان کی ہے ، لیکن جب ابن عباس رضی اللہ عنہ ابوالصہباء کے سوال کے جواب میں یہ حدیث بیان کررہے تھے تو اس وقت امام طاؤس بھی وہاں موجود تھے اور ابن عباس کی بیان کردہ حدیث سن رہے تھے ۔
    بالفاظ دیگر یہ سمجھ لیں کہ ابوالصہباء اس حدیث کے راوی نہیں ہیں بلکہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کررہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کو جواب دے رہے تھے اوراس سوال وجواب کے وقت وہاں امام طاؤس بھی موجود تھے ، اس لئے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو امام طاؤس نے ان کے سامنے اپنے کانوں سے یہ حدیث سنی ، چنانچہ امام دارقطنی کی سند اوپر پیش کی جاچکی ہے اس میں طاؤس نے صراحت کے ساتھ کہا ہے :
    سمعت ابن عباس، یقول…:الخ
    ’’ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا…الخ ‘‘[سنن الدارقطنی، ت الارنؤوط: ۵؍ ۸۴وإسنادہ صحیح ]
    اور مصنف عبدالرزاق میں طاؤس کے الفاظ ہیں :
    قال:’’دخلت على ابن عباس ومعه مولاه أبو الصهباء ، فسأله أبو الصهباء …‘‘
    طاؤس کہتے ہیں کہ:’’میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے ساتھ ان کے مولی ابوالصھباء تھے تو ابوالصھباء نے ان سے سوال…‘‘
    [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمی:۶؍۳۹۲،وإسنادہ صحیح]
    معلوم ہوا کہ طاؤس اور ابن عباس کے بیچ کسی کا واسطہ نہیں بلکہ طاؤس نے اس حدیث کو ڈائریکٹ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور ابوالصہباء کا ذکر سند کے اندر نہیں ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو الصہباء کے پوچھنے پر بیان کی تھی ۔
    نیز بطور الزام عرض ہے کہ فریق مخالف تین طلاق کے تین ہونے سے متعلق صحابہ کے فتاویٰ سے متعلق جو روایات پیش کرتے ہیں ان میں بھی بعض روایات کی سندوں میں یہ صورت پائی جاتی ہے ملاحظہ ہو:
    پہلی مثال:
    تین طلاق کو تین بتانے سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ کے فتویٰ والی یہ روایت دیکھئے:
    نا أبو بكر ،نا أبو حميد المصيصي ،نا حجاج ، نا شعبة ، أخبرني عمرو بن مرة ،قال:سمعت ماهان يسأل سعيد بن جبير عن رجل طلق امرأته ثلاثا، فقال سعيد:سئل ابن عباس عن رجل طلق امرأته مائة ،فقال:’’ثلاث تحرم عليك امرأتك وسائرهن وزر ،اتخذت آيات اللّٰه هزوا ‘‘
    عمرو بن مرۃ کہتے ہیں کہ میں نے ماھان کو سنا انہوں نے سعید بن جبیر سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تو سعید نے کہا:ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے دی تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’تین طلاق نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا اور بقیہ کا تجھ پر گناہ ہے تو نے اللہ کی آیات کو مزاق بنایا‘‘
    [سنن الدارقطنی :۵؍۲۴]
    اس روایت میں ماھان نامی ایک شخص کا ذکر ہے جس نے سعید بن جبیر سے سوال کیا تھا اوراسی کے جواب میں سعید بن جبیر نے ابن عباس کا فتویٰ بتایا ۔
    لیکن اسی روایت کی دوسری سند اس طرح ہے:
    عن الثوري، عن عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير قال:’’جاء ابن عباس رجل فقال:طلقت امرأتي ألفا، فقال ابن عباس:ثلاث تحرمها عليك، وبقيتها عليك وزرا۔اتخذت آيات اللّٰه هزوا‘‘
    عمرو بن مرۃ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’ کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاق دے دی ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:تین طلاق نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کردیا اور بقیہ کا تجھ پر گناہ ہے تو نے اللہ کی آیات کو مزاق بنایا‘‘
    [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمی:۶؍۳۹۷]
    اس سند میں سعید بن جبیر سے سوال کرنے والے ماھان کا ذکر نہیں ہے ۔
    تو کیا اب یہ کہہ دیا جائے کہ یہ روایت بھی مضطرب ہے کیونکہ کسی سند میں ماھان کا واسطہ ہے اور کسی سند میں یہ واسطہ نہیں ہے ؟
    دوسری مثال:
    تین طلاق کو تین بتانے سے متعلق مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فتویٰ والی یہ روایت دیکھئے:
    أخبرنا أبو عبد اللّٰه الحافظ، أخبرني محمد بن أحمد بن بالويه، نا محمد بن غالب، نا عبيد اللّٰه بن معاذ، نا أبي، نا شعبة، عن طارق بن عبد الرحمٰن قال:سمعت قيس بن أبي حازم قال : ’’سأل رجل المغيرة بن شعبة وأنا شاهد، عن رجل طلق امرأته مائة قال:ثلاث تحرم وسبع وتسعون فضل ‘‘
    قیس بن حازم کہتے ہیں:’’ کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا اور میں موجود تھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے دی ، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا:تین طلاق اس کی بیوی کو حرام کردے گی ، اور ننانوے طلاق زیادتی ہے ‘‘
    [السنن الکبریٰ للبیہقی:۷؍۵۴۹]
    اس روایت میں سوال پوچھنے والے ایک رجل شخص کا ذکر ہے جس نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تھا اوراسی کے جواب میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا۔
    لیکن اسی روایت کی دوسری سند اس طرح ہے:
    حدثنا غندر، عن شعبة، عن طارق، عن قيس بن أبي حازم: ’’أنه سمعه يحدث عن المغيرة بن شعبة ، أنه سئل عن رجل طلق امرأته مئة ؟ فقال :ثلاث يحرمنها عليه ، وسبعة وتسعون فضل‘‘
    قیس بن حازم کہتے ہیں :’’کہ انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاق دے دی ، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا:تین طلاق اس کی بیوی کو اس پر حرام کردے گی ، اور ننانوے طلاق زیادتی ہے‘‘
    [مصنف ابن أبی شیبۃ۔ سلفیۃ: ۵؍۱۳]
    اس سند میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سوال پوچھنے والے رجل شخص کا ذکر نہیں ہے ۔
    تو کیا اب یہ کہہ دیا جائے کہ یہ روایت بھی مضطرب ہے کیونکہ کسی سند میں سوال پوچھنے والے رجل کا واسطہ ہے اور کسی سند میں یہ واسطہ نہیں ہے ؟
    یاد رہے کہ ان دونوں مثالوں میں پیش کردہ روایات کو فریق مخالف صحیح سمجھتے ہیں اور بطوردلیل پیش کرتے ہیں۔
    معلوم ہوا کہ ابو العباس القرطبی رحمہ اللہ کی طرف سے اضطراب کا دعویٰ غلط ہے ۔
    امام شوکانی رحمہ اللہ (المتوفی۱۲۵۰)فرماتے ہیں:
    ’’ومن الأجوبة دعوي الاضطراب كما زعمه القرطبي فى المفهم، وهو زعم فاسد لا وجه له‘‘
    ’’اس حدیث کا ایک جواب دیتے ہوئے اس میں اضطراب کا دعویٰ کیا گیا ہے ، جیساکہ قرطبی نے المفہم میں گمان کیا ہے اور یہ گمان فاسد ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے‘‘
    [نیل الأوطار:۶؍۲۷۷]
     اضطراب کادوسرا اعتراض :
    بعض لوگ کہتے ہیں کہ کسی روایت میں سائل کا نام ابوالصہباء ہے جبکہ کسی روایت میں سائل کا نام ابوالجوزاء ہے ، لہٰذا یہ بھی اضطراب ہے۔
    عرض ہے کہ:
    اولا:
    یہ نام سند کے رواۃ میں سے نہیں ہے ، اس لئے اگر اضطراب مان بھی لیا جائے تو سائل کا نام ثابت نہیں ہوپائے گا باقی اس کی سند اپنی جگہ صحیح ہوگی اور باقی حدیث کا پورا متن بھی صحیح ہوگا، کیونکہ سند اور بقیہ متن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
    ثانیاً:
    اضطراب کے لئے ضروری ہے کہ دونوں روایت ایک ہی درجے کی ہوں۔
    امام ابن الصلاح رحمہ اللہ (المتوفی۶۴۳)نے کہا:
    ’’المضطرب من الحديث:هو الذى تختلف الرواية فيه فيرويه بعضهم على وجه وبعضهم على وجه آخر مخالف له، وإنما نسميه مضطربا إذا تساوت الروايتان۔أما إذا ترجحت إحداهما بحيث لا تقاومها الأخري بأن يكون راويها أحفظ، أو أكثر صحبة للمروي عنه، أو غير ذلك من وجوه الترجيحات المعتمدة، فالحكم للراجحة، ولا يطلق عليه حينئذ وصف المضطرب ‘‘
    ’’مضطرب وہ حدیث ہے جس کی روایت میں اس طرح اختلاف ہو کہ بعض ایک طرح روایت کریں اور بعض اس کے مخالف دوسری طرح روایت کریں ، اور ہم ایسی حدیث کو اس وقت مضطرب کہیں گے جب طرفین کی روایت مساوی اورایک درجے کی ہو ۔ لیکن اگر دونوں میں سے کوئی روایت راجح قرار پائے اس طرح کہ دوسری روایت اس کے ہم پلہ نہ ہو ، بایں طور کہ اس کے روای احفظ ہوں یا مروی عنہ کے ساتھ اس نے زیادہ مدت گزاری ہو ، یا اس کے علاوہ معتمد وجوہ ترجیحات میں سے کوئی ہو تو حکم راجح روایت کے اعتبار سے لگے گا اورایسی صورت میں یہ روایت مضطرب نہیں ہوگی ‘‘
    [مقدمۃ ابن الصلاح: ص: ۹۴]
    امام نووی رحمہ اللہ (المتوفی۶۷۶)نے کہا:
    ’’المضطرب هو الذى يروي على أوجه مختلفة متقاربة، فإن رجحت إحدي الروايتين بحفظ راويها أو كثرة صحبته المروي عنه، أو غير ذلك:فالحكم للراجحة، ولا يكون مضطرباً ‘‘
    ’’مضطرب وہ حدیث ہے جو مختلف ایسے طرق سے مروی ہو جو آپس میں ہم پلہ ہوں اور اگر دو روایات میں ایک روایت راجح قرار پائے اس کے راوی کے احفظ ہونے کے سبب یا مروی عنہ کے ساتھ کسی راوی کی کثرت صحبت کے سبب یا کسی اور وجہ سے تو حکم راجح روایت کے اعتبار سے لگے گا اورایسی صورت میں یہ روایت مضطرب نہیں ہوگی‘‘
    [التقریب والتیسیر لمعرفۃ سنن البشیر النذیر فی أصول الحدیث :ص:۶]
    مزید تفصیل کے لئے دیکھیں ہماری کتاب:[انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر:۲۳۷،۲۳۸]
    اور یہاں دونوں روایات ایک درجہ کی نہیں ہیں بلکہ جس روایت میں ابوالصھباء کا نام ہے وہ اعلیٰ درجہ کی صحیح روایت ہے بلکہ صحیح مسلم میں موجود ہے۔
    اور جس روایت میں ابوالجوزاء کا نام ہے اس کی سند صحیح مسلم کے درجہ کی نہیں ہے بلکہ اس میں عبداللہ بن مؤمل کمزورحافظہ والا ہے جیساکہ ماقبل میں وضاحت ہوچکی ہے ، لہٰذا اس کا بیان مرجوح ہوگا اور صحیح مسلم والی حدیث راجح قرار پائے گی اور درست نام ابو الصہباء تسلیم کیا جائے گا۔اور کوئی اضطراب باقی نہیں رہے گا۔
    سند پر تیسرا اعتراض : غیرمتعلق اقوال
    صحیح مسلم کی زیربحث حدیث کی سند پر اعتراضات کے لئے جن جن چیزوں کا سہارا لیا گیا سب کا جواب دیا جاچکا ہے ۔اب آخر میں یہ بھی واضح کردیں کچھ لوگ اس حدیث کو ضعیف ثابت کرنے کے لئے بعض اہل علم کے ایسے اقوال پیش کرنے لگتے ہیں جن کا تعلق اس حدیث کی تضعیف نہیں ہے ، مثلاً یہ کہ بعض اس حدیث کو منسوخ کہتے ہیں اور بعض اسے غیرمعمول بہ کہتے ہیں وغیر وغیرہ ۔
    عرض ہے کہ ان باتوں کا اس حدیث کی تضعیف سے کوئی تعلق نہیں ہے اوران کے جوابات بھی ہم دوسرے مقامات پر دے چکے ہیں۔
    اور بعض لوگوں نے تو حد کردی اور اس حدیث پر اعتراضات کرنے کے لئے بعض اہل علم کے ایسے اقوال بھی پیش کردئے جو کسی دوسری حدیث سے متعلق تھے ۔مثلاً:
    ابن رجب رحمہ اللہ کے حوالے سے بعض لوگ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:
    ’’کان علماء مکۃ ینکرون علی طاؤس ماینفرد بہ من شواذ الأقوال ‘‘
    ’’مکہ کے علماء طاؤس کے شاذ اور منفرد اقوال پر نکیر کرتے تھے‘‘
    [السیرالحاث :ص :۲۹، اشفاق فی أحکام الطلاق: ص:۴۹]
    عرض ہے کہ: مکہ کے ان علماء کی اس نکیر کا تعلق طاؤس کی روایت کردہ زیربحث صحیح مسلم کی حدیث سے نہیں ہے بلکہ خود امام طاؤس کے اقوال وفتاویٰ سے ہے جن میں مکہ والے ان کو منفرد جانتے تھے، اس کی وضاحت اس روایت سے ہوجاتی ہے ۔
    محمد بن إسحاق المکی الفاکہی (المتوفی۲۷۲)نے کہا:
    حدثنا محمد بن منصور، قال:ثنا سفيان، عن ابن أبي نجيح، قال:تكلم طاوس، فقال:’’الخلع ليس بطلاق، إنما هو فراق، فأنكر ذلك عليه أهل مكة، فقالوا:إنما هو طلاق، فاعتذر إليهم، وقال:لم أقل هذا، إنما قاله ابن عباس رضي اللّٰه عنهما‘‘
    ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ طاؤس نے فتویٰ دیا اور کہا: ’’خلع طلاق نہیں ہے بلکہ افتراق ہے ، تو اہل مکہ نے اس بات کو غلط قرار دیتے ہوئے ان پر نکیر کی اور کہا بلکہ یہ طلاق ہے ، تو طاؤس رحمہ اللہ نے اپنی تائید میں کہا کہ:یہ بات میں ہی نہیں کہتا بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فتویٰ دیا ہے ‘‘
    [أخبار مکۃ للفاکہی : ۳؍۷۰،وإسنادہ حسن ، وقال الحافظ فی الفتح:۹؍۴۰۳،أخرج إسماعیل القاضی بسند صحیح عن بن أبی نجیح…فذکرہ ]
    یہ روایت واضح کرتی ہے مکہ کے علماء طاؤس کی روایت پر نہیں بلکہ ان کے اس فتویٰ پر نکیر کرتے تھے کہ خلع طلاق نہیں ہے ۔
    اور ہم ماقبل میں واضح کرچکے ہیں کہ اس سلسلے میں امام طاؤس کا فتویٰ ہی صحیح ہے ۔
    ٭٭٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings