Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • زمینی ستاروں کی قدر کرو!

    دعوت و تبلیغ اور امر بالمعروف والنہی عن المنکر کی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر اللہ کی جانب سے فرض ہے اور اسی بنا پر اس امت کو خیر امت کا خصوصی لقب بھی دیا گیا لیکن ہر ایک کے لیے حدود و قیود مقرر ہیں، انبیاء و رسولوں کی آمد کا جب سلسلہ چل رہا تھا تو اصل ذمہ داری ان کی تھی، انہوں نے مکمل طور سے اللہ کی باتیں اس کے بندوں تک پہنچا دیں، خیر کے تمام راستے دکھا دئیے، گناہوں وور برائیوں سے بھی آگاہ کر دیا اور ان کا ساتھ ان کے اصحاب اور ساتھیوں نے دیا، لیکن یہ مبارک سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد دعوت و تبلیغ کی یہ ذمہ داری بطورِ خاص علماء کے حوالے کر دی گئی اور انہیں وارثینِ انبیاء کا خطاب بھی ملا، اس مشن اور ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے ہر دور اور ہر زمانے میں انہوں نے اپنی بساط بھر کوششیں کیں، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، لیکن یہ راستہ ایسا ہے کہ یہاں ہر اک موڑ پر نیت کا امتحان ہے، درس، بیان، خطبہ، تحریر، تقریر یا اس میدان سے متعلق کوئی بھی چیز ہو نیّت کا درست ہونا بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے، شیطان ہمیشہ پیچھے پڑا ہوا رہتا ہے، دل میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے کہ آج تو ایسا بول دو کہ پبلک واہ واہ کر بیٹھے، جھوم جائے، نمبر ون خطیب سے لوگ پکارنے لگیں، فلاں جگہ مت جاؤ لوگ ایسے ہیں ویسے ہیں، فلاں جگہ چلے جاؤ کیونکہ وہاں کے سیٹھ صاحب بلا رہے ہیں جو بہت پہنچ والے ہیں اور تم ان کی ناراضگی مول نہیں لے سکتے وغیرہ وغیرہ، غرض یہ ہے کہ ہر قدم پر نیت کا امتحان چل رہا ہوتا ہے، ذرا سی لغزش ہوئی اور ساری محنت، ساری کوششیں اور سارا وقت خسارے اور نقصان کے خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
    یہ میدان ایسا ہے کہ یہاں عوام علماء کو سننے سے زیادہ انہیں اور ان کے خطاب کو پرکھتی ہے، امتحان لیتی ہے اور ان کی علمی لیاقت چیک کرتی ہے کہ اگر بولنے میں ذرا سی چوک ہوئی، زبان پھسل گئی، کچھ کا کچھ نکل گیا تو یہی لوگ ہاتھ منہ دھو کر، وضو کر کے بلکہ مکمل غسل کے ساتھ ایسے تیار رہتے ہیں کہ اس چھوٹی سی چیز کو پہاڑ کی شکل دے دیتے ہیں، اس مسئلے کا ہوّا بنا دیتے ہیں، شخصیت داغ دار کر دیتے ہیں، ذات پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اور پھر ساری زندگی اسی ایک چیز یا بات کو لے کر طعن و تشنیع کے نشتر چلائے جاتے ہیں۔
    کسی عالم کے پاس کہیں سے فون آ جائے یا کسی مقام سے بلایا جائے اور اس عالم کی جانب سے جائز عذر کی بنا پر انکار کر دیا جائے کہ ایسا مسئلہ ہے اس لیے معذرت قبول کریں، میں آپ کے یہاں نہیں آ سکتا تو لوگ اسے بہانہ کہتے ہیں، اس عالم کو مغرور سمجھ لیتے ہیں، انا پرست کہتے ہیں اور کچھ لوگوں کی جانب سے تھوڑی سی جرأت اور بڑھتی ہے تو متکبر کا خطاب بھی مل جاتا ہے۔
    عالم ایک لمبا سفر کر کے اور اپنے وقت کی قربانی دے کر کہیں پروگرام میں جائے اور وہاں اگر اپنی محنت، وقت اور حاضری کے بدلے جائز محنتانہ کا مطالبہ کر دے یا کوئی جائز اور قابل قبول رقم فکس کر دے تو لوگ مال کا حریص کہتے ہیں، فورا اللہ رسول کا حوالہ دیتے ہیں کہ اللہ کے لیے کرتے ہو یا پیسوں کے لیے؟
    جیسے کچھ پیٹ پرست مولویوں نے اللہ رسول کے نام پر قوم کو الّو بنا بنا کر ان کے مال کو ہڑپ رکھا ہے ویسے ہی اللہ رسول کے نام پر ائمہ، علماء اور دعاۃ کو قوم نے بہت ٹھگنے کا کام کیا ہے، اس معاملے میں علماء اور دعاۃ کا اتنا استحصال کیا گیا ہے کہ پوری تاریخ مرتب کی جا سکتی ہے۔
    قصہ مختصر یہ کہ دعوت و تبلیغ کا میدان بڑا کٹھن اور دشوار ہے، کانٹوں کے راستے پر چلنے جیسا ہے، جگہ جگہ لوگ دل دُکھانے اور قلبی اذیت دینے کا کام کر جاتے ہیں، اس میدان میں رہنے کے لیے صبر بہت ضروری ہے اور اسی لیے تو صبر کو عزیمت کا کام کہا گیا ہے، صبر نہ ہو تو کئی دفعہ لوگوں کا رویہ اتنی تکلیف دے جاتا ہے کہ یہ میدان ہی چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار کر لیا جائے۔
    اللہ اور رسول کی باتوں کو امت تک پہنچانے کے راستے میں علماء سے زیادہ بڑا کردار اور کسی نے ادا نہیں کیا ہے، اپنی بساط اور طاقت کے مطابق قرآن و حدیث کی باتیں لوگوں تک پہنچانے میں لگے رہتے ہیں، یقین مانیں کہ سماج میں جو بھی چھوٹی بڑی نیکیوں کے مظاہر دیکھنے ملتے ہیں وہ اللہ کی توفیق کے بعد انہی علماء و دعاۃ کی کوششوں کے نتائج ہیں، ان کی قربانیوں کی بدولت سماج میں روشنی ہے، اگر درمیان سے یہ علماء اور ان کی قابل قدر خدمات، کوششیں اور قربانیاں نکال دی جائیں تو پھر قومِ مسلم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
    اس لیے اللہ کے واسطے ان علماء کا مقام سمجھیں ، ان کی کوششوں کا احترام کریں، ان کے کاموں کی قدر کریں، ان کے جائز حقوق ادا کریں، پورے کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ہاں یہ دو باتیں ان کے تعلق سے ہمیشہ یاد رکھیں، پہلی کہ یہ بھی انسان ہی ہیں اگر ان سے کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو درگزر سے کام لیں رب آپ کو بھی معاف کرے گا اور دوسری بات یہ کہ ان کی نیتوں پر حملہ نہ کریں کہ یہ پیسے کے لیے یا کسی دنیاوی مفاد کو سامنے رکھ کر یہ سب کرتے ہیں، نیتوں کے مالک آپ نہیں ہیں اور نہ ہی آپ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے، جو نیتوں کا مالک ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔
    نوٹ: کوئی اسے مجھ سے متعلق کوئی خصوصی حادثہ نہ سمجھے،بس یہ چند باتیں ذہن اور دل کی آواز ہیں جنہیں الفاظ کے پیرائے میں ڈھال دیا گیا ہے تاکہ کچھ لوگوں تک ہی سہی یہ باتیں پہنچ جائیں اور ممکن ہے کہ ان کے ذہن و دماغ اور قلب و جگر میں علماء ، ائمہ اور دعاۃ کے حوالے سے محبت کا جذبہ بیدار ہو جائے۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings