Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • تصویر کی حرمت اسلام کی نظر میں

    اللہ رب العالمین کا ہم پر سب سے بڑا حق توحید یعنی ’’لا الہ الا اللہ‘‘ہے،اور اسی حق کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا۔اس دنیا کے اندر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جس بات سے نفرت ہے وہ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے،اللہ کا برابر کر لیا جائے، اللہ نے کچھ چیزوں کو حلال کیا ہے اور کچھ کو حرام، کچھ چیزیں اس کی نظر میں نہایت ہی پسندیدہ ہیں۔ انہی چیزوں میں سے ایک ’’تصویر‘‘ ہے جس کے اندر آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ملوث ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو نہایت ہی مبغوض ہے،یہ ایسا عمل ہے جواللہ تعالیٰ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، گویا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور اس زمانے میں یہ عمل زیادہ بڑھ چکا ہے،میں نے اسی وجہ سے اس موضوع کا انتخاب کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے وقت میں اس موضوع پر جب لوگ خطاب کریں تو کہہ دیا جائے کہ نہیں دین کے اندر تو یہ بات نہیں ہے!میری مراد یہ ہے کہ تصویر حرام ہے۔
    تصویر اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ نفرت خیز ہے اور نفرت کا سبب کیوں ہے؟ اس سے متعلق میں حدیث کے حوالے سے گفتگو کرتی ہوں۔صحیح بخاری کی روایت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں آپ جب ہجرت کرکے حبشہ چلی گئی تھیں تو انہوں نے وہاں پر دیکھا کہ عیسائیوں کی عبادت گاہوں میں مجسمے اور تصاویر موجود تھیں،جب آپ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺنے فرمایا:
    ’’إِنَّ أُولٰئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ، بَنَوْا عَلٰي قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِيكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الخَلْقِ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘
    ’’جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدترین مخلوق ہوں گے‘‘
    [صحیح البخاری: ۳۸۷۳]
    اب آئیے یہ جانتے ہیں کہ تصویر لینے والے کا انجام کیا ہے؟ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے آپ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
    ’’مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ‘‘
    ’’جو شخص دنیا میں مورت بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ بھی کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا‘‘
    [صحیح البخاری:۵۹۶۳]
    اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے مطالبہ کرے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے کیونکہ’’خلق‘‘’’پیدا کرنا‘‘اللہ تعالیٰ کا عمل ہے اور وہی ہمارا خالق ہے،جو انسان تصویر بناتا ہے گویا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے مد مقابل کھڑا کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس گناہ کو کبھی نہیں معاف کریں گے اور قیامت کے دن انہیں شدید عذاب میں مبتلا کیا جائے گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ’’إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ‘‘
    ’’اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا‘‘
    [صحیح البخاری:۵۹۵۰]
    قیامت کے دن تصویر بنانے والوں سے کیا کہا جائے گا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
    ’’إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هٰذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ‘‘
    ’’جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو‘‘
    [صحیح البخاری:۵۹۵۱]
    اسی طرح نبی کریم ﷺ نے تصویر کی اہانت کرنے کا حکم دیا،اس کو روند دینے کا حکم دیا۔اسی کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح کے اندر ایک باب ہی قائم کیا ’’باب ما وطی من التصاویر‘‘’’یعنی تصاویر کو روند دینے کا بیان‘‘۔
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ،شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ جیسے کبار اہل علم سے سوال کیا گیا کہ کیا یادگار کے لیے تصویر لینا جائز ہے؟ تو کہا کہ: نہیں،’’کل مصور فی النار‘‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ’’ کہ ہر تصویر لینے والا جہنم میں ہوگا‘‘
    [صحیح مسلم:۲۱۱۰]
    یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے جس میں آج اکثر لوگ بے خبر ہیں۔چنانچہ ہر انسان کو تصویر لینے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
    آج موجودہ زمانے میں اگر دیکھا جائے تو فیس بک،واٹس ایپ،یو ٹیوب،ٹوئٹر اور انسٹاگرام ہر جگہ چاہے مرد ہوںیا خواتین،بچے ہو ںیا بوڑھے ہر کوئی اپنی تصویر اور ویڈیوز بنا کر شیئر کرتے ہیں اور لائک کرواتے ہیں،جبکہ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ کتنا بڑا جرم ہے۔(اللہ اکبر)
    دیکھئے ہماری بہنوں اور بھائیوں کو کہ وہ کس طرف بھاگ رہے ہیں،جس طرف دنیا جا رہی ہے اس طرف ہمیں نہیں جانا ہے،کیونکہ یہ دنیا ’’أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَي النَّارِ‘‘’’آپ کو جہنم کی طرف دعوت دے رہی ہے‘‘،’’ وَاللّٰهُ يَدْعُو إِلَي الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ ‘‘’’اور اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کی طرف اور اپنے مغفرت کی طرف دعوت دے رہے ہیں‘‘ ، چنانچہ انسان کو اِن تمام چیزوں سے گریز کرنا چاہیے۔
    لہٰذا واضح ہوا کہ جو لوگ بھی تصویر لیتے ہیں قیامت کے دن اُنہیں عذاب دیا جائے گا اور روایت بالکل واضح ہے ۔
    ’’يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ‘‘
    ’’اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو‘‘
    [صحیح البخاری:۵۹۵۱]
    اب موجودہ زمانہ فیشن کا زمانہ ہے لوگ مغرب کی طرف بھاگ رہے ہیں،جب کہ سورج ہمیں ہر شام یہ درس دیتا ہے کہ ’’مغرب کی طرف جاؤ گے تو ڈوب جاؤ گے‘‘۔
    اہل علم نے تصویر کی حرمت کی تین علتیں بیان کی ہیں:
    ۱۔ یہ معصیت ہے،اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے،اور اللہ تعالیٰ نے اس پر مختلف وعیدیں سنائی ہیں عذاب کی شکل میں،فرشتے نہیں داخل ہوں گے اس گھر میں جس گھر میں کتا یا تصویر ہو۔
    ۲۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت۔
    ۳۔ تصویر کی وجہ سے اللہ کے علاوہ دوسروں کی عبادت کی جاتی ہے۔
    خلاصہ:
    مذکورہ تمام حدیثیں تصویر کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں،اور اہل علم نے تصویر کی دو قسمیں بیان کی ہے:
    ۱۔ وہ تصویر جس کو’’تصویر الفوتوغرافی‘‘یعنی جس کو( photography)کہا جاتا ہے۔گرچہ کے اہل علم نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے،مگر آپ ﷺ کی احادیث پر اگر آپ غور کریں گے تو آپ ﷺ کے الفاظ ’’کل مصور‘‘ ہر تصویر لینے والا،بنانے والا وہ لعنتی ہے،ہر تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا۔یہاں پر اللہ کے نبی ﷺ نے کوئی تفریق نہیں کی کہ جو ویڈیو لے گا تو وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جو فوٹو لے گا تو اس کی وجہ سے اسے عذاب دیا جائے گا،یا وہ ہاتھ سے اگر تصویر بنائے گا تو اس کو عذاب دیا جائے گا اور جو کیمرہ سے تصویر لے گا اس کو عذاب نہیں ہوگا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
    بلکہ اگر آپ عربی زبان میں جس زبان میں شریعت نازل ہوئی،قرآن نازل ہوا اس زمانے میں ’’صورۃ‘‘یعنی تصویر کا معنی اگر دیکھیں تو تصویرکہا جاتا ہے ’’الرسم‘‘اور’’رسم‘‘اس لفظ کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس کو انسان کھینچ کر بناتا ہے۔اور کیمرہ انسان کا عمل ہے،انسان نے اس کو بنایا ہے تو انسان جب کیمرہ سے تصویر لے گا تو اس میں بھی یہ علت موجود ہے کہ وہ انسان کا عمل ہے۔لہٰذا اہل علم نے تصویر کی اس قسم کو حرام قرار دیا۔
    ۲۔تصویر کی دوسری قسم جس کو ’’تصویر الفیدیو‘‘یعنی جس کو ویڈیو کہا جاتا ہے،اس کی بھی دو قسمیں علماء نے بیان کیا:
    ۱۔ پہلی قسم ہے لائیو کاسٹ(live cast) جس کو عربی زبان میں’’بث مباشر‘‘کہا جاتا ہے۔تو اس کے جواز ہونے میں علماء کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں ہے،کیونکہ یہ آئینہ کی طرح ہے اگر آپ آئینہ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کی شکل نظر آرہی ہے تو آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
    ۲۔ ویڈیو کی دوسری قسم جس کو سیو کر لیا جاتا ہے تو اس سے متعلق صحیح بات یہ ہے جو شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ (جن کا شمار سعودی عرب کے کبار علماء میں سے ہوتا ہے اور آپ محدث مدینہ بھی ہیں) نے کہا:کہ ویڈیو کی یہ قسم حرام ہے۔میں نے بہت دنوں تک اس کا مطالعہ اور ریسرچ کیا ہے اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ حرام ہے۔سوائے چند استثناء کے جیسے:اگر کوئی شخص دین کی نشرواشاعت کے لیے ویڈیو کا استعمال کرتا ہو،یا کوئی حق کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہو جیسے نیوز وغیرہ تو یہ ساری چیزیں دین کا عظیم قاعدہ ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ کے تحت حلال ہوں گے۔
    اسی طرح فوٹوگرافی میں بھی چند چیزیں مستثنیٰ ہوںگی جیسے:پاسپورٹ بنانے کے لیے فوٹو لینا،آدھار کارڈ یا شناختی کارڈ،اسکول اور سرٹیفکیٹ وغیرہ کے لیے فوٹو لینا ہے تو یہ ایسی ضروریات ہیں جہاں پر آپ بچ نہیں سکتے وہاں پر تصویر لینا جائز ہے۔اس کے علاوہ شوق سے تصویر لینا یا یادگار کے لیے تصویر لینا یا کسی بھی دوسرے موقع پر تصویر لینا حرام ہے۔
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو تصویر جیسی لعنت سے بچائے اور امت کو اس سے دور رہنے کی توفیق دے۔اللہم آمین۔
    ٭٭٭

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings