-
طلاق حیض عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہ کا فتویٰ اور شبہات کا ازالہ (قسط ثانی) گزشتہ سطور میں پوری تفصیل پیش کی جاچکی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں جو طلاق دی تھی ، اس سے متعلق سوال پوچھے جانے پر انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اللہ کے نبیﷺ نے اسے شمار کرلیا تھا ۔بلکہ اس پر انہوں نے صرف اپنی طرف سے اپنی رائے دی ہے کہ میں اسے شمار کرتا ہوں۔
اب رہا سوال یہ ہے کہ یہ بات تو ثابت ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے خود اس طلاق کو شمار کرلیا تھا تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ طلاق حیض شمار کی جائے گی ؟
تو عرض ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ رائے بھی اس بات کی شرعی دلیل نہیں بن سکتی کہ طلاق حیض کو شمار کیا جائے گا ۔
٭ امام بیہقی رحمہ اللہ ہی نے قرأت خلف الامام کے مسئلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ایک حدیث پر یہ اعتراض کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے موقوفاً مروی حدیث اس کے خلاف ہے تو یہ اعتراض نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا سرفرازصفدر صاحب لکھتے ہیں:
اعتراض : بیہقی رحمہ اللہ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اصل روایت میں ’’لاصلاۃ خلف الامام‘‘ کا جملہ نہیں ہے جیساکہ علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر نقل کیا ہے اور اس میں یہ جملہ مذکور نہیں ہے…الخ
جواب: یہ اعتراض چنداں وقعت نہیں رکھتا۔
اولا:ً اس لیے کہ مرفوع حدیث کو موقوف اثر کے تابع بناکر مطلب لینا خلاف اصول ہے ۔
وثانیاً : اس کی بحث اپنے مقام پر آئے گی کہ اعتبار راوی کی مرفوع حدیث کا ہوتا ہے، اس کی اپنی ذاتی رائے کااعتبار نہیں ہوتا۔[احسن الکلام:۱؍۲۹۸]
٭ مولانا سرفرازصفدر نے ایک دوسرے مقام پر لکھا:
’’ روایت کے مقابلے میں راوی کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا‘‘[احسن الکلام:۲؍۱۱۸]
ایک بریلوی عالم کا اسی طرح کا قول آگے آرہا ہے ۔
٭ اب اس شبہ کے مزید جوابات ملاحظہ ہوں:
پہلا جواب: اعتبار راوی کی روایت کا نہ کہ اس کی رائے کا:
جب قرآن اور صحیح حدیث سے ایک مسئلہ ثابت ہوجائے تو اسی کو لیا جائے گا اس کے خلاف کسی بھی امتی کا قول نہیں لیا جاسکتا کیونکہ قرآن و حدیث وحی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے جبکہ امتی کے قول میں غلطی کا امکان ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ امتی نے حالات یا کسی مصلحت کے سبب نص کے خلاف فتویٰ دیا ہو جس میں وہ معذورہو ۔
حتی کہ کوئی صحابی ایک حدیث روایت کریں اور خود اس کے خلاف فتویٰ دیں تو بھی ان کی روایت کردہ حدیث ہی کو لیا جائے گا نہ کہ اس کے خلاف ان کے فتویٰ کو ، کیونکہ ان کے اس طرح کے فتویٰ میں بھی مذکورہ احتمالات ہوسکتے ہیں، کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
(۱) لبن الفحل کا مسئلہ:
اگر ایک شوہر کی بیوی اس کے نطفہ سے حاملہ ہوجائے تو پھر ولادت کے بعد یہ بیوی جن جن کو دودھ پلائے گی وہ سب کے سب اس کے شوہر اور شوہر کے خونی اقرباء کے رضاعی رشتہ دار ہوں گے ، کیونکہ بیوی کو دودھ اس کے شوہر کے نطفہ کے سبب ہی ہوا ہے ، اس لیے اس دودھ کے ساتھ شوہر کا تعلق جڑا ہے۔ اسی مسئلہ کو’’ لبن الفحل‘‘ کہا جاتا ہے ، فحل سے مراد شوہر ہے اور لبن سے مراد بیوی کا دودھ ہے ، لیکن اسے شوہر کی طرف منسوب کرتے ہوئے لبن الفحل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ شوہر کے نطفہ کے سبب ہی یہ دودھ وجود میں آتا ہے۔
لبن الفحل سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اس سلسلے میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ صریح حدیث ملاحظہ کیجئے:
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی۲۵۶) نے کہا:
حدثنا آدم، حدثنا شعبة، أخبرنا الحكم، عن عراك بن مالك، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي اللّٰه عنها ، قالت: ’’استأذن على أفلح، فلم آذن له، فقال: أتحتجبين مني وأنا عمك، فقلت: وكيف ذلك؟ قال: أرضعتك امرأة أخي بلبن أخي، فقالت: سألت عن ذلك رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فقال: صدق أفلح ائذني له‘‘۔
اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ’’افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اسے اجازت نہ دی۔ وہ کہنے لگے۔ تم مجھ سے پردہ کرتی ہو، حالانکہ میں تو تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا: وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا: میرے بھائی کی بیوی نے تمہیں دودھ پلایا ہے وہ دودھ میرے بھائی کی وجہ سے تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: افلح سچ کہتا ہے (اسے اندر آنے کی )اجازت دو‘‘
[صحیح البخاری :۳؍۱۶۹، رقم:۲۶۴۴]
اس حدیث کو روایت کرنے والی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں ، لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس حدیث کے خلاف عمل ثابت ہے چنانچہ:
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی۱۷۹) نے کہا:
عن عبد الرحمٰن بن القاسم، عن أبيه، أنه أخبره:’’أن عائشة زوج النبى صلى اللّٰه عليه وسلم كان يدخل عليها من أرضعته أخواتها، وبنات أخيها، ولا يدخل عليها من أرضعه نساء إخوتها‘‘
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : ’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے ، لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کے بھائیوں کی بیویوں نے دودھ پلایا ہے‘‘
[موطأ مالک ت عبد الباقی:۲؍۶۰۴، وإسنادہ صحیح وأخرجہ البیہقی فی معرفۃ السنن ،رقم:۱۵۴۲۷من طریق عبد الرحمٰن بن القاسم بہ ، وأخرجہ أیضا سعید بن منصور فی سننہ، رقم:۹۶۳، من طرق عن القاسم بن محمد بہ ]
اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھابھیوں کا دودھ پینے والوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھیں ، حالانکہ لبن الفحل کے سبب یہ لوگ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی رشتہ دار تھے اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ یہ حدیث روایت کررکھی ہے کہ لبن الفحل سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے اور ایسے رضاعی رشتہ والے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آسکتے ہیں ۔
یہ مثال احناف کے اس اصول کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے کہ راوی جب اپنی روایت کے خلاف عمل کرے تو راوی کے عمل و فتویٰ کو لیا جائے گا ۔کیونکہ احناف نے بھی اس مسئلہ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے عمل وفتویٰ کو ترک کردیا ہے اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اپنایا ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی۴۵۶) اس مثال کو لے کر احناف کے اس اصول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ وهذا خبر لم يروه عن رسول اللّٰه ﷺ إلا عائشة وحدها، وقد صح عنها خلافه، فأخذوا بروايتها وتركوا رأيها، ولم يقولوا: لم تخالفه إلا لفضل علم عندهن، وقالوا: لا ندري ل أى معنى لم يدخل عليها من أرضعته نساء إخوتها ‘‘
’’ اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے ،اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس کی مخالفت ثابت ہے ، تو ان لوگوں نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو لے لیا اور ان کی رائے کو ترک کردیا ، اور حسب عادت یہ نہیں کہا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس لیے مخالفت کی ہوگی کہ ان کے پاس کوئی اضافی علم ہوگا‘‘
[المحلی لابن حزم، ط بیروت:۱۰؍۱۸۳]
حافظ ابن حجررحمہ اللہ(المتوفی۸۵۲) اس مثال کی روشنی میں احناف کے غلط اصول اور ان کی بے بسی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وألزم به بعضهم من أطلق من الحنفية القائلين أن الصحابي إذا روي عن النبى صلى الله عليه وسلم حديثا وصح عنه ثم صح عنه العمل بخلافه أن العمل بما ر أى لا بما روي لأن عائشة صح عنها أن لا اعتبار بلبن الفحل ذكره مالك فى الموطأ وسعيد بن منصور فى السنن وأبو عبيد فى كتاب النكاح بإسناد حسن وأخذ الجمهور ومنهم الحنفية بخلاف ذلك وعملوا بروايتها فى قصة أخي أبي القعيس وحرموه بلبن الفحل فكان يلزمهم على قاعدتهم أن يتبعوا عمل عائشة ويعرضوا عن روايتها ولو كان روي هذا الحكم غير عائشة لكان لهم معذرة لكنه لم يروه غيرها وهو الزام قوي‘‘
’’ احناف میں سے جن لوگوں نے علی الاطلاق یہ کہا ہے کہ جب ایک صحابی کوئی حدیث روایت کرے اور وہ سنداً اس سے ثابت ہو ، پھر اسی صحابی سے یہ بھی ثابت ہو کہ اس نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو اعتبار صحابی کے عمل وفتویٰ کا ہوگا نہ کہ صحابی کی روایت کردہ حدیث کا ۔اس اصول کا رد بعض اہل علم نے یہ الزامی جواب دیتے ہوئے کیا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل و فتویٰ ثابت ہے کہ لبن الفحل کا اعتبار نہیں ہوگا ، جیساکہ مالک نے مؤطا ، سعیدبن منصور نے سنن اور ابوعبید نے کتاب النکاح میں بسند حسن روایت کیا ہے ، لیکن جمہور بشمول احناف نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث کو لیا ہے ، جس میں ابوالقیس کے بھائی (افلح) کا واقعہ ذکر ہے اور لبن الفحل کے سبب حرمت رضاحت کا اعتبار کیا ہے ۔ لہٰذا احناف پر لازم تھا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کی پیروی کرتے اور ان کی روایت کردہ حدیث سے اعراض کرتے ، اور اگر اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور صحابی نے روایت کیا ہوتا تو احناف کے لیے گنجائش تھی ، مگر صورت حال یہ ہے کہ اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیاہے ، اس لیے احناف کو دیا گیا یہ الزامی جواب بہت قوی اور مضبوط ہے ‘‘
[فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۹؍۱۵۲]
حقیقت یہ کہ اس مثال نے حنفیت کے اصول کا جنازہ نکال دیا ہے اور پوری دنیائے حنفیت میں کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔
بعض احناف نے ہمت جٹا کر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا جن لوگوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھیں، تو اس کی وجہ حرمت رضاعت کا عدم اعتبار نہیں بلکہ کوئی اور وجہ ہوگی ۔
عرض ہے کہ یہ جواب انتہائی لایعنی اور بے سود ہے کیونکہ روایت میں پوری طرح صراحت ہے کہ اجازت دینے اور نہ دینے کی وجہ حرمت رضاعت کا اعتبار اور عدم اعتبار تھا ۔چنانچہ جن کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنے کی اجازت دی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں:
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی۱۷۹) نے کہا: ’’ كان يدخل عليها من أرضعته أخواتها، وبنات أخيها ‘‘
’’ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے ‘‘
اور جن کو آنے کی اجازت نہ تھی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں: ’’ولا يدخل عليها من أرضعه نساء إخوتها ‘‘
’’ لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کی بھابھیوں نے دودھ پلایا ہے ‘‘
ملاحظہ فرمائیں روایت پوری طرح صراحت کررہی ہے کہ یہ سارا معاملہ صرف اور صرف حرمت رضاعت کی بنا پر تھا ۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی۴۵۶) اس لایعنی جواب کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وقال بعضهم: ’’للمرأة أن تحتجب ممن شاء ت من ذوي محارمها؟ فقلنا: إن ذلك لها إلا أن تخصيصها – رضي الله عنها – بالاحتجاب عنهم من أرضعته نساء أبيها، ونساء إخوتها، ونساء بني أخواتها، دون من أرضعته أخواتها، وبنات أخواتها، لا يمكن إلا للوجه الذى ذكرنا، لا سيما مع تصريح ابن الزبير – وهو أخص الناس بها – بأن لبن الفحل لا يحرم، وأفتي القاسم بذلك، فظهر تناقض أقوالهم والحمد لله رب العالمين ‘‘
بعض نے یہ کہا ہے کہ : ’’ایک عورت کی اپنی مرضی ہے کہ وہ محرم رشتہ داروں میں بھی جن کو چاہے اپنے پاس آنے سے روک دے ، تو ہمارا کہنا ہے کہ : بے شک عورت کو اس کا حق ہے ، لیکن یہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنہیں اپنے پاس آنے سے روکا ہے ان کی خاصیت یہ بتائی ہے کہ وہ ان کے والد ، بھائیوں اور بھتیجوں کی بیویوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں ، اور جولوگ ان کی بہنوں اور نواسیوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دی ہے ، لہٰذا یہاں وجہ صرف وہی ہوسکتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ، بالخصوص جبکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ لبن الفحل سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے ، نیز قاسم بن محمد نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے ،اس سے ان مقلدین کی باتوں کا تناقض ثابت ہوگیا والحمدللہ‘‘
[المحلی لابن حزم، ط بیروت:۱۰؍۱۸۳]
خلاصہ یہ کہ جب اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی روایت کردہ صریح حدیث کے خلاف موقف اپنا سکتی ہیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق سے متعلق اپنی حدیث کے خلاف تو بدرجہ اولیٰ فتویٰ دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے والد نے طلاق بدعت کے وقوع کا قانون ہی بنادیا تھا۔
(۲) صلاۃ وسطیٰ کا مسئلہ:
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے کہ صلاۃ وسطیٰ سے مراد صلاۃ عصر ہے ۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفی۲۴۱) نے کہا:
حدثنا عبد الصمد ، حدثنا ثابت ، حدثنا هلال ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ، قال:’’ قاتل النبى صلى الله عليه وسلم عدوا ، فلم يفرغ منهم حتي أخر العصر عن وقتها ، فلما ر أى ذلك قال : اللهم من حبسنا عن الصلاة الوسطي ، فاملأ بيوتهم نارا ، واملأ قبورهم نارا‘‘
ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :’’نبی ﷺ نے قتال کیا اور دشمنوں سے عصر کے آخری وقت ہی فارغ ہوئے ، جب آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا: اے اللہ ! جن لوگوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ سے روک دیا ہے ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے ‘‘
[مسند أحمد ط المیمنیۃ:۱؍۳۰۱، وإسنادہ صحیح وأخرجہ عبد بن حمید فی المنتخب طریق محمد بن الفضل عن ثابت بہ ، وأخرجہ أیضا البزار کما فی کشف الأستار:۱؍۱۹۷، من طریق عباد بن العوام، و الطبرانی فی الکبیر:۱۱؍۳۲۹، والأوسط:۲؍۲۸۴، من طریق أبی عوانہ ، کلاہما عن ہلال بہ]
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ اس حدیث کے خلاف یہ فتویٰ دیا ہے کہ صلاۃ وسطیٰ سے مراد صلاۃ فجر ہے ۔
امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی۲۳۵) نے کہا:
حدثنا وكيع، عن قرة، قال: حدثنا أبو رجاء ، قال: ’’صليت مع ابن عباس الصبح فى مسجد البصرة، فقال: هذه الصلاة الوسطي ‘‘
ابورجاء کہتے ہیں کہ:’’ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے کہا: یہی صلاۃ وسطیٰ ہے‘‘
[مصنف ابن أبی شیبۃ، ط الفاروق:۳؍۵۱۶،وإسنادہ صحیح وأخرجہ الطحاوی فی شرح معانی الآثار، ت النجار:۱؍۱۷۰، من طریق أبی داؤد عن قرۃ بہ ،وأخرجہ أیضا عبد الرزاق فی مصنفہ ،رقم:۲۲۰۷،والطحاوی فی شرح معانی الآثار، ت النجار:۱؍۱۷۰، من طریق عوف عن أبی رجاء بہ ، وأخرجہ أیضا اسماعیل القاضی من طریق آخر و صححہ کما فی التمہید لابن عبد البر:۴؍۲۸۵، ولہ طرق کثیرۃ عن ابن عباس]
واضح رہے کہ جن روایات میں یہ آیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی صلاۃ عصر کو صلاۃ وسطیٰ کہا ہے وہ ساری روایات ضعیف ہیں ، قدرے تفصیل کے لیے دیکھئے : [ تفسیر سنن سعید بن منصور:۳؍۹۱۷ تا ۹۲۰ حاشیہ]
(۳) آزادی کے بعد شادی شدہ لونڈی کے نکاح کا مسئلہ:
بریرہ رضی اللہ عنہا جب لونڈی تھیں تبھی ان کی شادی ہوگئی تھی، بعد میں ان کے مالک نے انہیں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیچ دیا اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خریدنے کے بعد آزاد کردیا ، لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے اس خرید وفروخت کو طلاق قرار نہیں دیا بلکہ انہیں اختیاردیا کہ وہ چاہیں تو بدستور اپنے شوہر کی بیوی بنی رہیں اور چاہیں تو الگ ہوجائیں ۔
اس حدیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ شادی شدہ لونڈی کو بیچ دینے یا اسے آزاد کردینے سے اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ۔چنانچہ :
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی۲۵۶) نے کہا:
ثنا محمد، أخبرنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس:’’ أن زوج بريرة كان عبدا يقال له مغيث، كأني أنظر إليه يطوف خلفها يبكي ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبى صلى اللّٰه عليه وسلم لعباس: يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا فقال النبى صلى اللّٰه عليه وسلم: لو راجعته قالت: يا رسول اللّٰه تأمرني؟ قال: إنما أنا أشفع قالت: لا حاجة لي فيه ‘‘
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:’’ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ گویا وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہاکے پیچھے روتے ہوئے گھوم رہے تھے اور ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہاسے فرمایا: اے عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں؟ آخر نبی ﷺ نے سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا: کاش تم ان سے رجوع کرلو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ آپ کا حکم ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، میں صرف سفارش کررہا ہوں، اس پر بریرہ رضی اللہ عنہا کہا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے‘‘
[صحیح البخاری: ۷؍۴۸، رقم:۵۲۸۳]
اور سنن ترمذی کی اسی روایت میں ہے: ’’یوم أعتقت بریرۃ‘‘’’ جس دن بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئیں‘‘[سنن الترمذی ت شاکر :رقم :۱۱۵۶، وإسنادہ صحیح]
اور مسند احمد کی اسی رویت میں ہے: ’’لما خیرت بریرۃ رأیت‘‘، ’’جب بریرہ کو اختیار سے دیا گیا‘‘ [مسند أحمد ط المیمنیۃ:۱؍۲۱۵ إسنادہ صحیح ]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ اس حدیث میں واضح ہے کہ شادی شدہ لونڈی بیچ دی جائے یا آزاد کردی جائے تو اس سے اس کی طلاق نہیں ہوجاتی بلکہ اسے اختیار ہوتا ہے وہ چاہے تو بدستور بیوی بنی رہے اور چاہے تو الگ ہوجائے ۔
لیکن دوسری طرف ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح یہ فتویٰ بھی ثابت ہے کہ لونڈی کو بیچنا ہی اس کی طلاق ہے، چنانچہ:
امام سعید بن منصور رحمہ اللہ (المتوفی۲۲۷) نے کہا:
حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا خالد الحذاء ، عن عكرمة ، عن ابن عباس:’’ أنه كان يقول فى بيع الأمة : فهو طلاقها ‘‘
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:’’ انہوں نے لونڈی کو بیچے جانے پر کہا کہ یہی اس کی طلاق ہے ‘‘
[سنن سعید بن منصور، ت الأعظمی:۲؍۶۳ وإسنادہ صحیح علی شرط الشیخین]
ملاحظہ فرمائیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دیا ہے ۔ لیکن اہل علم نے یہاں ان کے فتویٰ کو نہیں لیا بلکہ ان کی حدیث کو لیا ہے۔
٭ لونڈی والی مثال پر احناف کا اعتراض اور اس کا جواب:
مغیث وبریرہ رضی اللہ عنہما کی مثال پر بعض احناف کا اعتراض یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ جس حدیث کے خلاف فتویٰ دیاہے وہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ نے بھی روایت کیا ہے ، اس لیے یہاں راوی کے فتویٰ کے مقابلے میں اس کی روایت کو ترک کرنا نہیں ہے ، کیونکہ دیگر صحابہ نے اپنی اس حدیث کے خلاف فتویٰ نہیں دیا ہے ۔
جواباً عرض ہے کہ:
اس مثال میں کم سے کم یہ تو تسلیم کیا گیا کہ ایک صحابی اپنی حدیث کے خلاف بھی فتویٰ دے سکتا ہے اور اس کی حدیث مقبول اور اس کا فتویٰ غیرمقبول ہوسکتا ہے، رہی بات یہ کہ اسی حدیث کو دیگر صحابہ نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ نہیں دیا ہے ، تو اس کے باوجود بھی یہ حقیقت تو مسلم رہے گی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دیا ہے اور ان کے فتویٰ کا اعتبار نہیں کیا گیا ہے۔
تو جب لونڈی کے مسئلہ میں کوئی صحابی اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں ، تو طلاق کے مسئلہ میں بھی ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے متعلق ایک اور مثال ایک بریلوی عالم کی زبانی سنئے ، مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
ہم آپ کو فقہ کے بیسیوں مسائل دکھا سکتے ہیں کہ فقہاء نے راوی کی روایت پر عمل کیا ہے اور اس کی رائے کو چھوڑ دیا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کی ایک مثال ملاحظہ فرماویں : عن ابن عباس أن النبى صلى اللّٰه عليه وسلم أمر أصحابه أن يرملوا الأشواط الثلاثة۔ [بخاری :رقم:۱۶۰۲]
اور آپ کا قول یہ ہے کہ :’’لیس الرمل بسنۃ‘‘ [سنن أبی داؤد :رقم:۱۸۸۵] اب عمل روایت پر ہے ان کی رائے پر نہیں ۔( دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص:۲۴۱)
اس دوسری مثال سے متعلق ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فإن قيل: إن ابن عباس قال فى الرمل: ليس سنة، وهو راوي الحديث؟ قلنا: لا حجة فى أحد مع رسول اللّٰه ﷺ‘‘
’’ اگر کہا جائے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے کہ رمل سنت نہیں ہے ، اور رمل والی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہی روایت کی ہے ، تو ہم کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے خلاف کسی کا قول بھی حجت نہیں ہے ‘‘
[المحلی لابن حزم، ط بیروت:۵؍۸۴]
ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہ خود صاحب واقعہ ہیں اور وہ طلاق کو شمار کررہے ہیں اور یہ بھی تو اصول ہے کہ راوی اپنی روایت (مرفوع حدیث) کا مطلب دوسروں سے بہتر جانتا ہے۔
تو عرض ہے کہ یہ اصول یہاں پر اس لیے فٹ نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے یہاں اپنی روایت (مرفوع حدیث)سے استدلال کرتے ہوئے یہ بات نہیں کہی ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ اپنی روایت کا مطلب دوسروں سے بہتر جاتے ہیں ۔
گزشتہ سطور میں ہم ان کے فتویٰ سے متعلق سارے ثابت شدہ الفاظ صحیح حوالوں کے ساتھ پیش کرچکے ہیں ان میں سے ایک بھی حوالہ ایسا نہیں ہے جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس فتویٰ کے لیے اپنی روایت کردہ مرفوع حدیث ہی کو بطور دلیل پیش کیا ہو ، یا اس سے کسی بھی طرح کا استدلال کیا ہو، تو جب انہوں نے اپنے فتویٰ کے لیے اپنی حدیث کو دلیل بنایا ہی نہیں تو یہاں پر یہ کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ راوی اپنی حدیث کا مطلب دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے؟
جاری ہے ………