Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • العبد التقی الغنی الخفی (سانحہ ارتحال والدگرامی مولانا فضل حق مدنی مبارکپوری رحمہ اللہ)(دوسری قسط)

    منہاج تربیت:
    ابو مرحوم کی زندگی کا نمایاں ترین پہلو آپ کا تربیتی انداز ہے، طلبہ، عوام اور اپنی اولاد واحفاد میں ہرتین طبقہ کی تربیت کی، اور اس انداز وخطوط پر کی کہ اس کی نظیر دور حاضر میں ملنی بہت ہی مشکل ہے۔جامعہ سراج العلوم کے طلبہ میں دینی بیداری اور نماز کے تئیں محبت وشیفتگی پیدا کرنے میں آپ واقعی تنہا نظر آتے ہیں، آپ کی قیام گاہ جامعہ سے متصل بلکہ جامعہ ہی کے اندر تھی، روز انہ بلاکسی عوض وبدل یا تفویض ذمہ داری کے محض رضائے الٰہی کی خاطر آپ فجر کی نماز کے لیے طلبہ کو بیدار کرتے، مجال کیا کوئی طالب چھوٹ جائے، بسا اوقات دو تین بار بیدار کرتے، کبھی سختی بھی کرتے، اللہ کا خوف دلاتے، دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتے، فجر کی نماز کے بعد مسجد میں تقریباً پندرہ منٹ ٹہل کر تلاوت کرتے، طلبہ بھی ہر چہار طرف بیٹھے تلاوت کرتے، جب آپ نکلتے تو بعد میں طلبہ بھی نکلتے، کسی کو تلاوت کے بغیر مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی، یہ ابو مرحوم نے محض اپنی صوابدید سے شروع کیا تھا، جو بعد تک جاری رہا اور شاید اب بھی جاری ہو، امام طلبہ ہی ہوتے، کبھی وہ نہ حاضر ہوتے تونماز بھی آپ (یا حضرت شیخ مفتی عبد الحنان فیضی رحمہ اللہ) ہی پڑھاتے، یہ عمل آپ نے مسلسل چالیس سالوں تک کیا، ہزاروں طلبہ کی نماز اور تلاوت کا سبب بنے، ہزاروں طلبہ نماز اور تلاوت کے عادی ہوئے اور بعد میں ان سختیوں کے ہمیشہ قائل بھی رہے اور دعائیں بھی دیتے رہے۔
    کلاسوں میں بھی انداز خیرخواہانہ ہی رہا، ہمیشہ تقویٰ وطہارت قلب ونفس کی تلقین نوک زباں ہواکرتی تھی، کبھی کسی سے غیر اخلاقی حرکات سرزد ہوتیں تو سخت رویہ بھی اختیار کرتے، ہم نے جب بھی دیکھا آپ کو تعلیم میں محنت کرنے اور اخلاص وللہیت کی تلقین کرتے پایا، یہ آپ کی زندگی کا وہ امتیاز ہے جو ہم نے نہ دیکھا نہ پایا۔
    ابو محتر م کے ایک شاگرد مولانا نورعالم سراجی لکھتے ہیں:
    ’’فجر کی نماز کے لیے استاد محترم جب اپنے گھر سے نکلتے تو راستے میں سب سے پہلے ہمارا کمر ہ پڑتا، آپ سب سے پہلے مجھے آواز دیتے، جس سے ہمیں روزنہ فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق مل جاتی‘‘۔
    اعزا،اقربا اور عمومی لوگوں کے اندر بھی جب بے راہ روی دیکھتے تو قطعی نظر انداز نہ کرتے اور نہ ہی مصلحت پسندی سے کام لیتے، بلکہ اصلاح کرتے اور بروقت مناسب اور مستحکم رہنمائی کرتے، خصوصاً اگر کوئی ایسا شخص ملتا جو بے نمازی ہوتا یا نماز کے تئیں غفلت کا شکار ہوتا تو آپ ضرور اس کی خبر گیری کرتے، اسے سمجھاتے، بہتوں کو دیکھا کہ آپ کے اثر اور تربیت سے نماز کے پابند ہوگئے،مجھے نہیں یاد کہ کبھی آپ کو کسی نے نماز کے لیے توجہ دلائی ہو یا نیند سے بیدار کیا ہو، بوقت تہجد اٹھتے اور فجر کی اذان ہوتے ہی تمام افراد خانہ کو بیدار کرتے، اگر اس معاملہ میں کوئی روگردانی کرتا غضبناک ہوجاتے اور کہتے بیٹا!نماز روزہ اور دین میں کوئی سستی اور غفلت برداشت نہیں ہے۔
    ہم افراد خانہ اور جملہ برادران کی تعلیم وتربیت میں آپ نے جو محنت کی، وہ بھی ہماری نظر میں بے مثال ہے، یہ بات ہندوستان بھر میں لوگوں نے کہی، اس پہلو کا کھل کر آپ کی زندگی میں بھی اعتراف کیا گیا اور بعد از وفات بھی، ابو محترم کہیں بھی گئے خصوصاً علماء کے مابین، ہر جگہ آپ کی اس عظمت کا ذکر خیر کیا گیا۔ شریعت کی سخت پابندی سکھائی، خصوصاً نماز اور عبادات کے حوالے سے آپ ہمیشہ سخت گیر رہے، آپ گھر میں موجود ہوں اور افراد خانہ فجر میں سوئے رہ جائیں، ایسا ممکن نہیں تھا، فجر کے بعد گھر میں ایک ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور ہم پر بھی واجب کرتے، آپ کی غیر موجودگی میں ابو کی روح امی میں حلول کرجاتی اور یہ فریضہ امی جان بڑی تندہی سے اسی انداز سے انجام دیتیں، گھر میں خالی اوقات میں ائمہ حرمین کی تلاوت لگی ہوتی، پہلے کیسٹوں کازمانہ تھا، ہمارے گھر تلاوت کی کیسٹس بڑی تعداد میں موجود تھیں، جنہیں آپ باہر سے لائے تھے، اس سے ہمیں قرآن پڑھنے کا صحیح انداز ملا، باہر کے ماحول کی گندگیوں سے بچانے کے لیے ہمیں باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی، اگر جانا بھی ہوتا تو کسی کے ساتھ یا ابو خود اپنے ساتھ لے جاتے، انتہائی کٹری نگاہ رکھتے، ہم کس سے ملتے ہیں، کن بچوں کے ساتھ رہتے ہیں، ہماری جملہ مصروفیات کیا ہیں، کبھی کوئی قابل ملاحظہ چیز دیکھتے تو فورا تنبیہ کرتے۔
    ابو محترم نے خانہ کعبہ کی دیوار پکڑ کر انتہائی عاجزی سے دعا کی تھی کہ میرے سارے بیٹے حافظ بنیں، یہ دعا بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوئی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا، بیٹے سب کے سب حافظ وعالم، بیٹیاں عالمہ، اب ایک بہو نغمہ ارم بھی جن کاانتخاب ابو اور امی نے صرف اس لیے کیا کہ وہ حافظہ وعالمہ (جامعہ امیرہ نورہ ریاض سعودیہ کی فاضلہ)تھیں، جو خاکسار کی اہلیہ ہیں اور حفظ واتقان اور انتہائی خوبصورت تلاوت کے لیے معروف ہیں۔ اس طرح سب کو حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال کیا، یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوا، ابو مرحوم نے اس کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا، مجھے یاد ہے ، میں جب حفظ کررہا تھا، آپ فجر کے بعد ہمارے ساتھ دیر تک بیٹھتے، بسا اوقات سبق اور آموختہ خود سنتے، غلطیوں کی اصلاح کرتے، کبھی مغرب وعصر بعد بھی ساتھ بیٹھ جاتے، باوجود اس کے استاد موجود ہوتے، اس طرح آپ کی طویل جدوجہد اور محنت سے ہم حفظ قرآن کی دولت سے باسعادت ہوسکے، اس دوران جن علماء صالحین سے ملاقات ہوتی دعائیں بھی کراتے، بڑے بھائی شیخ صہیب حسن مدنی حفظہ اللہ نے جب حفظ قرآن کریم شروع کیا تو ابو محترم آپ کو حضرت شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ رحمانی رحمہ اللہ کے پاس لے گئے، انہی کے ہاتھ پر حفظ کا آغاز کیا، اختتام بھی انہی کے روبرو کیا، بھائی کا بیان ہے کہ شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے سامنے جب میں سورہ تحریم کی آخری آیات جو توبۂ نصوح سے متعلق ہے کی تلاوت کررہا تھا، میں نے دیکھا کہ شیخ الحدیث پر اس آیت کے اثر سے رقت طاری ہے جو رخ زیبا سے نمایاں ہورہی ہے، یہی اہل اللہ کا خاصہ ہے کہ قرآنی آیات کی تلاوت سے دلوں میں رقت ونرمی پیدا ہوجاتی ہے، رحمہم اللہ تعالیٰ جمیعًا۔
    مجھے یاد ہے، صغر سنی تھی، بھائی محترم جامعہ سلفیہ بنارس کے طالب علم تھے، ہمارے گھر(مبارکپور)حضرت مولانا صفی الرحمن مبارکپوری (مؤلف الرحیق المختوم)اور حضرت مولانا ڈاکٹر رضاء اللہ مدنی مبارکپوری(سابق شیخ الجامعہ جامعہ سلفیہ بنارس)رحمہما اللہ تشریف لائے، اول الذکر ابو محترم کے استاد تھے اور ثانی الذکر بھائی محترم کے اور خاکسار کو ان دونوں کا صرف دیدار نصیب ہوا، گھر کے سبھی لوگ خصوصاً دادا (حاجی عبد الرقیب مرحوم جو صحیح معنوں میں علماء نواز تھے)بالکل پریشان انتظام وانصرام میں مصروف تھے، سبھی لوگ بچھے جارہے تھے، ہمیں ان شخصیتوں کی عظمت کا احساس نہیں تھا، نہ انہیں جانتے تھے، والد مرحوم کے ساتھ ساتھ سبھی افراد خانہ انتہائی تکریم واحترام سے پیش آرہے تھے، مائیں بچوں کو خاموش کرارہی تھیں، ابو محترم نے ان حضرات سے اپنے بچوں کی کامیابی کے لیے دعائیں لیں۔ آج بھی وہ منظر نگاہوں میں کوند رہا ہے، کیسے کیسے مہ وانجم سرشام ہمارے غریب خانہ پر اتر آئے تھے۔
    زباں پہ بار الہا…!یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے
    ہم جب بڑے ہوگئے تو ابو کی تربیت کا انداز قدرے بدل گیا، جب جامعہ سلفیہ میں داخلہ ملا تو ہم آپ سے دور ہوگئے، جب بھی ہم روانہ ہوتے، ابو مرحوم ہمارا ہاتھ پکڑ کر اپنے خاص لہجے میں محبت بھری نصیحتیں کرتے، بیٹا! نماز کی پابندی کیجیو، حصول علم غیر معمولی محنت کیجیو، شیخ الحدیث مرحوم کی جفاکوشیوں کا ضرور حوالہ دیتے، اساتذہ کا احترام کیجیو، وقت کا استعمال پڑھنے لکھنے میں صرف کیجیو، غلط صحبت سے قطعی اجتناب کیجیو، بیٹا!تقویٰ طہارت سے زندگی میں بڑی برکتیں آتی ہیں۔ آخر میں دعائیں دیتے اور اس دعا کا بار بار اعادہ کرتے:اللہ تمہیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ یہی طریقہ ہم تمام بھائیوں کے ساتھ اختیار کرتے۔ کبھی کوئی آنے جانے والا ہوتا تو خطوط میں بھی اسی طرح کی نصیحتیں لکھ بھیجتے۔ ایک بار میں نے کلیۃ الحدیث بنگلور میں آل انڈیا مسابقہ حدیث میں ٹاپ کیا، واپس آیا تو ابو محترم نے باہر گھر کی قریبی شاہراہ پر آکراستقبال کیا، یہ طریقہ آپ کا ہمیشہ آتے جاتے رہا، پیشانی پر بوسہ دیا، آبدیدہ ہوگئے اور مسلسل دعائیں دیتے رہے۔
    جب ہم فارغ ہوگئے اور تدریس سے جڑے تو مزید لہجہ بدل گیا، مادری زبان میں تم سے ہم آپ ہوگئے، فجر میں بیدار کرنے کا طریقہ بھی بدل گیا، فجر سے قبل فون کرتے، دیر تک خیر خیریت لیتے، باتیں کرتے، جب انہیں یقین ہوجاتا کہ میں مکمل بیدار ہوگیا ہوں، تو سلام کرکے فون رکھ دیتے، بار بار یہ کہتے بیٹا یہاں نیٹ ورک نہیں رہتا، اس لیے قبل از فجر بات کرنا پڑتی ہے، ہم اب بچے نہیں تھے کہ ابو کا یہ طریقہ نہ سمجھ پاتے، ہم بھی کہتے، ابو جب آپ کو سہولت ہوکر لیا کیجیے، بعد ازاں جب مئو آگئے تو بھی یہ سلسلہ کبھی کبھار جاری رہا، حالانکہ عمر کے اس مرحلہ میں ہمیں اس کی (بیدار کرنے کی) چنداں ضرورت نہ تھی، لیکن ہمیں بھی اطمینان ہوتا کہ کسی بہانے آپ سے بات ہوجایا کرتی۔ اب بات کرتے تو اکثر باتوں باتوں میں آبدیدہ ہوجاتے، یہ عموماً اس وقت ہوتا جب میں اپنی کوئی علمی پیش رفت بتاتا، خوش ہوتے، زباں پر دعاؤں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہوجاتا۔ سوچتا ہوں کہ اب یہ مخلصانہ دعائیں کون دے گا، اخلاص ووفا سے معمور یہ بے ہمتا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔
    مئو آیا تو اب ابو محترم کے موضوعات بھی بدل گئے تھے، بیٹا!تدریس میں غیر معمولی محنت سے کام لینا، ذرا بھی کوتاہی نہ کرنا، بھر پور تیاری سے باوضو درس میں حاضر ہونا، ابتدا کی محنت اصل ہوتی ہے جو ہمیشہ کام آتی ہے، مدرسوں کی سیاست سے فاصلہ بناکے رکھنا، مخلصین کے ساتھ ہی صحبت رکھنا۔ سوال کرتے، بیٹا!آج کل کون سا علمی کام کررہے ہیں؟ یہ سوال اخیر میں اکثر کرنے لگے تھے، کبھی بھول جاتے تو یاد دلاتا ابو ابھی تو بتایا تھا، پھر انہیں یاد آجاتا، لیکن سچ یہ ہے کہ انہیں بھولتا نہیں تھا، بلکہ وہ بار بار سننا چاہتے تھے۔ ابو کی بیماری سے کچھ عرصہ قبل خاکسار نے شیخ الکل حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے بارہ اردو فارسی رسائل کا عربی ترجمہ مع تحقیق وتعلیق دو جلدوں میں مکمل کیا تھا، ابو اس کی بابت اکثر استفسار کرتے رہتے، کہ بیٹا کب شائع ہوگی، میں عرض کرتا ابو جلد ان شاء اللہ،لیکن کتاب ابو کی حیات میں نہیں چھپ سکی، ابو محترم اس حسرت کو لے کر دنیا سے گئے، اس کتاب کا اھداء میں نے ابو محترم کی طرف کیا تھا، اگر وہ کتاب یہ دیکھتے تو یقینا بہت خوش ہوتے، لیکن اب وہ اسے دیکھ کر دنیا میں خوش ہونے کے لیے موجود نہیں۔ جب میری کتاب (نفل نمازیں:احکام، مسائل، آداب)چھپی تو دیکھا، بہت سے مقامات کوحرفاً حرفاً پڑھا، بہت خوش ہوئے، کہا بیٹا!اسی طرح کا کام کیا کرو، اس سے اخروی فائدے بہت ہیں، لوگ پڑھیں گے، عمل کریں گے تو اس کا فائدہ دنیوی بھی ہوگا اور اخروی بھی۔
    جنازہ میں شریک ابو محترم کے انتہائی مخلص دوست حضرت شیخ عبد الرشید مدنی؍حفظہ اللہ (شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر) اور دیگر اساتذۂ جامعہ کہنے لگے کہ:’’شیخ فضل حق کی تربیت کے حوالے سے کوئی مثال نہیں، بے مثال انداز وطرز میں آپ نے اس پہلو کو نبھایا‘‘۔
    محترم ڈاکٹرابوتحریر (دہلی) اپنے تعزیتی مکتوب میں فرماتے ہیں:
    ’’جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے دینیات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سراج العلوم جھنڈا نگر میں ایک طویل عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیااور ایک خلق کثیر نے ان سے استفادہ کیا۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ درس و تدریس میں مشغول رہے اور تصنیف و تالیف کی طرف توجہ دینے کا موقع نہیں مل سکا، لیکن انہوں نے اولاد کی تعلیم و تربیت پر جس انداز سے توجہ دی اس کا ثمرہ دنیا کے سامنے ہے‘‘۔
    طہارت وتقویٰ شعاری:
    آپ کی زندگی کاایک ابھرا ہوا امتیازی وصف تقویٰ شعاری، تعلق مع اللہ اور تعبدی پہلو ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کے مثل کوئی نہیں تھا، لیکن یہ سچ ہے کہ اس طرح کی مثالیں اس مادیت پرستانہ دور میں کم یاب ہیں، گو نایاب نہیں۔ پنج وقتہ نمازوں کا انتہائی اہتمام تھا، اس میں نہ کبھی سستی برتی نہ اپنے متعلقین کی سستی برداشت کی، روزانہ کا معمول تھا بوقت تہجد اٹھ جاتے، بہت بار آپ کو بارگاہِ الٰہی میں انتہائی عاجزی وبے بسی کے انداز میں سسکیاں لیتے اور آنسو بہاتے دیکھا، اکثر آپ جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے بے قابو ہوجاتے، رب کے حضور پورے جسم وروح کے ساتھ عاجزانہ طلب گار ہوتے، سبھی کے لیے دعا کرتے، یہ آپ کا ابتدائے عمر سے معمول تھا، جس میں درازیٔ عمر کے علی الرغم کبھی فرق نہ آنے دیا، جب آپ میں اٹھنے کی سکت نہ رہی، نہ مجال حرکت، تو اس حالت میں آپ کی عبادت مثالی ہوگئی تھی، میری سردیوں کی چھٹیاں ابو کے ساتھ گزریں، میں نے دیکھا اس حالت میں رات رات بھر بارگاہ الٰہی میں مصروف دعا ومناجات ہیں، جس شخص کو دومنٹ بیٹھنا مشکل ہورہا ہو، وہ گھنٹوں رب کے حضور عاجزی کررہا ہے، اللہ اللہ! یہ نیکی وتقویٰ شعاری اور زہد وتقشف کا وہ کون سا مقام ہے جہاں انسان سے لذت آشنائی اس طرح دامن گیر ہوجاتی ہے، کہ اسے آخرت کے مظاہر کھلی آنکھوں سے نظر آنے لگتے ہیں اور اللہ سے قرب کا احساس مرور وقت کے ساتھ فزوں تر ہوتا جاتا ہے، یہ وہ مقام ہے جو انسانی طاقت سے باہر ہے، قاسی القلب اسے ہرگز نہیں سمجھ سکتا، لاریب یہ سب کچھ رب کی توفیق کے سوا کچھ بھی نہیں۔
    زندگی کے ہرمعاملہ میں شدت احتیاط برتتے، کہیں سے ایک روپیہ حرام نہ آنے پائے، کہتے بیٹا!میں یہ اللہ کے سامنے پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنے بچوں کو ایک روپیہ بھی حرام نہیں کھلایا ہے۔ اپنی آخری وصیت میں بھی حلال کمائی کے ضمن میں اس بات کا اعادہ کیا ہے۔ اگر میں قسم کھا کر کہوں کہ بخدا میں نے اپنی زندگی میں اتنا نیک،صالح، متقی، پرہیزگار اور مخلص بندہ نہ دیکھا تو حانث نہ ہوں گا (اس وضاحت کے ساتھ کہ میں نے شیخ الحدیث رحمہ اللہ کو نہیں دیکھا)، آپ کو پوری زندگی نیکی، تقویٰ شعاری، خداترسی اور للہیت کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ خانوادہ کدربٹوا کی معروف شخصیت جناب رشید بھیا جو حضرت مولانا عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ کے فرزند ہوتے تھے، اکثر کہتے:’’مولانا فضل حق انسان نہیں فرشتہ ہیں‘‘۔ حضرت مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ بھی آپ کی اس پہلو کا کھل کر اعتراف کرتے رہے ہیں۔ بلکہ ساتھ رہنے والے تقریباً تمام اساتذہ اس کااعتراف کرتے ہیں۔
    ایک بار جھنڈانگر میں ایک صاحب نے کسی مناسبت سے کہاکہ :مولانا فضل حق سے بھی نیک کوئی ہوسکتا ہے!!اس طرح کے جملے ایک دو بار نہیں، بلکہ بارہا سنے گئے، ہرکھلے دل نے آپ کی اس عظمت کا اعتراف کیا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں آپ کی غیر معمولی محبت ڈال دی تھی، لوگ آپ سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے، جیسا کہ نصوص کتاب وسنت میں اس کی صراحت موجود ہے۔
    مشہور محقق اور ہمارے فاضل دوست محترم شیخ محمد تنزیل صدیقی کراچی (مؤلف دبستان نذیریہ) خاکسار کے نام اپنے تعزیتی مکتوب میں رقم طراز ہیں:
    ’’مولانا فضل حق اسم بامسمی موجودہ دور میں حق کا فضل ہی تھے، ان سے میری نہ کوئی ملاقات، نہ صورت آشنائی تھی، مگر ایک مختصر سی گفتگو نے دل پر گہرا اثر کیا، اس دور فتن میں ایسے بابرکت وجود کا اٹھ جانا انتہائی کربناک ہے، آپ کی زندگی میں جو خلا پیدا ہو ہے وہ تو خیر کبھی دور نہیں ہوسکتا، اب آپ مستقبل میں ان کی دعاؤں سے محروم ہوگئے۔ اللہ آپ اور تمام لواحقین کو صبر جمیل دے۔
    دعا ہے کہ اللہ رب العزت مولانا مرحوم کی مغفرت کاملہ فرمائے، میری دانست میں ایک مقدس روح جس نے دنیا کے ہنگاموں اور وقت کے فتنوں سے دور رہ کر خاموشی سے دین کی خدمت کی اور اپنے رب کے حضور تشریف لے گئے‘‘۔
    مفتی ومدرس حرم مکی شریف اور سینئر پروفیسر جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ،علامہ ڈاکٹر وصی اللہ عباس؍حفظہ اللہ اپنے تعزیتی آڈیو میں فرماتے ہیں:’’بارالہا!تو مولانا فضل حق مبارکپوری رحمہ اللہ کی مغفرت فرما، تمام لوگوں نے گواہی دی وہ عصر حاضرمیں اللہ کے نیک اور پرہیزگار بندوں میں سے تھے، الٰہی ان کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور جملہ پسماندگان برادرم راشد حسن مبارکپوری وغیرہم کو صبر جمیل عطا فرمائے‘‘۔ اس کے بعد شیخ حفظہ اللہ نے بہت دیر تک دعائیں دیں۔
    شیخ شمیم احمد ندوی (ناظم جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر نیپال) اپنے تعزیتی مکتوب میں لکھتے ہیں:
    ’’آپ کے والد گرامی نے تقویٰ وطہارت کی زندگی گزاری، اپنے دروس اور اپنی تربیت سے جامعہ میں ایک نسل کومتاثر کیا اور کبھی کسی کے خلاف دل میں کینہ یا حسد کا جذبہ نہیں رکھا، جامعہ کے سارے لوگ طلبہ واساتذہ اور انتظامیہ سب ان سے خوش اور راضی رہے‘‘۔
    شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی (امیر جمعیت اہل حدیث ہند)انتقال کے معاً بعد گھر (دہلی) تشریف لائے، نعش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’حضرت مولانا جسم وروح دونوں کے پاکیز ہ تھے، جسم وبدن بھی صاف شفاف اور روح بھی پاکیزہ وطاہر‘‘۔
    آپ کے ایک شاگرد شیخ عبدالمتین سراجی اپنے تعزیتی مضمون میں لکھتے ہیں:
    ’’یہ سانحہ کس قدر اندوہناک اور جانکاہ ہے کہ خانوادۂ مبارکپور کے علمی ورثے کے امین، معلم اخلاص وتقویٰ اور داعیٔ کتاب وسنت شیخ فضل حق مدنی مبارکپوری رحمہ اللہ ہم سے رخصت ہوگئے۔ ان کی زندگی درس وتدریس، زہد وتقویٰ، اصلاح ودعوت اور تواضع وحلم کا حسین امتزاج تھی، ان کے علمی وروحانی فیضان سے نہ جانے کتنے اہل علم وفضل نے استفادہ کیا اور آج بھی ان کے شاگردان مختلف علمی ودینی میدانوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں‘‘۔
    محترم مولانا وصی اللہ مدنی (استاد جامعہ سراج العلوم وناظم جمعیت اہل حدیث سدھاتھ نگر)نے انتقال کی خبر نشر کرتے ہوئے لکھا ہے:’’پیکر حسن اخلاق، جماعت کے معروف وسنجیدہ عالم دین، مادر علمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال کے سابق سینئر استاد اور میرے انتہائی مشفق ومہربان استاد گرامی جناب مولانا فضل حق مدنی مبارکپوری رحمہ اللہ کا طویل علالت کے بعد کل گزشتہ رات۱۱ ؍فروری۲۰۲۵؁ء بروز منگل بہ وقت :۳۰:۱۱ شب بہ مقام دہلی بقضائے الہٰی انتقال ہوگیا۔ میرے استاد گرامی انتہائی نیک سیرت، وجیہ وخوب صورت، پابنداحکام شریعت، تقویٰ شعار، باوقار، حلیم وبردبار، خلیق وملنسار، عمدہ سیرت وکردار کے حامل اور اپنے خاندان کے محترم انسان تھے‘‘۔
    ما جام نہ نویشتم مگر جام لبالب = ما کاسہ نہ گیریم مگر کاسہ سرشار
    (یعنی: ہم نے اب تک کچھ نہیں لکھا، مگر ہم بادہ (فکر ونظر) سے لبالب بھرے ہوئے ہیں۔ ہم کسی سے کاسہ (مستعار) نہیں لیتے، مگر ہمارا اپنا کاسہ (شعور وآگہی سے) لبریز ہے۔ گویا غالب نکتہ سرا کے لفظوں میں :سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے)
    جاری ………

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings