-
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر امت مسلمہ کی اہم ذمہ داری اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانیت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے آیا ہے، اس دین کا بنیادی مقصد نیکی کو فروغ دینا اور برائی کو مٹانا ہے، اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ’’خیر امت‘‘کا لقب دیا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ امت امر بالمعروف (نیکی کا حکم دینا) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنا)کا فریضہ انجام دیتی ہے، قرآن و حدیث میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے، اور جو قومیں اس ذمہ داری سے غافل ہوجاتی ہیں، وہ تباہی و زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔
قرآن مجید میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت:
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت کے ہر فرد پر حسب استطاعت فرض ہے خواہ وہ علماء ہوں یا عوام الناس ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا، بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بھی حکم دیا ہے۔
سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِااللَّهِ}’’
تم ایک بہترین امت ہو، جسے انسانوں (کی ہدایت و اصلاح)کے لیے میدان عمل میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘۔
[آل عمران: آیت:۱۱۰]
یعنی امت مسلمہ بہترین امت ہے، یہ امت تمام انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، اس کا مقصد وجود یہ ہے کہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے بغیر نجات و فلاح کا حصول ممکن نہیں، امت مسلمہ خیر امت کے مقام پر اسی وقت فائز ہوسکتی ہے جب کہ وہ انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض انجام دے۔
امت مسلمہ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ نیکیوں کو فروغ دینے اور برائیوں کو مٹانے کے لیے اپنا اثر اور اپنی قوت استعمال کرے، گھر کے اندر اور گھر کے باہر جہاں بھی اس کے لیے ممکن ہو نیکیوں کا حکم کرے اور برائیوں سے روکے۔
سورہ التوبہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
{وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَائُ بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُقِیمُونَ الصَّلوٰۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ أُولٰئِکَ سَیَرْحَمُہُمُ اللّٰہُ إِنَّ اللّٰہَ عَزِیزٌ حَکِیْمٌ}
’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کرتے ہیں برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ ضرور رحمت نازل فرمائے گا بے شک اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے‘‘۔
[التوبۃ:آیت:۷۱]
اس آیت کریمہ سے دو باتیں واضح ہوئیں، پہلی بات یہ کہ اقامت صلوٰۃ، ادائے زکوٰۃ اللہ ا و راس کے رسولﷺ کی اطاعت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی اہل ایمان کی لازمی اور بنیادی صفات ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنے کا مکلف ٹھہرایا ہے۔
اگر کسی وقت وہ اپنے گھر والوں کو کسی برائی یا گناہ میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھیں، تو انہیں چاہیے کہ وہ ان کو روکیں اور ان کی اصلاح کریں۔
اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
{يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا قُوْا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا}
’’اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘۔
[التحریم:آیت ۶]
اس آیت کریمہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں کو برائی اور گناہ سے نہ روکے اور ان کی دینی رہبری نہ کرے، تو قیامت کے دن ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا اس کی باز پرس ہوگی۔
مذکورہ آیات کا حاصل یہ ہے کہ تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا واجب ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت حدیث کی روشنی میں:
حدیث مبارکہ سے بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ انسان کے بس میں جہاں تک ہوسکے خود بھی برے کام سے بچے اور لوگوں کو بھی بچائے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺفرمایا :
’’من ر أى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان‘‘۔
’’جو شخص تم میں سے کوئی برائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے، پس اگر اس کی طاقت نہ ہو زبان سے مٹائے، اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو دل ہی سے مٹا دے ( یعنی دل میں اسے برا سمجھے)، یہ سب سے کم درجے کا ایمان ہے‘‘۔
[صحیح مسلم:۴۹]
یعنی مومن جب برائی کو دیکھتا ہے تو اسے زور بازو سے مٹا دیتا ہے، اگر اسے اس کی طاقت نہیں ہوتی تو اس کے خلاف زبان استعمال کرتا ہے، اس کی بھی طاقت نہیں ہوتی تو دل سے تڑپتا ہے کہ برائی مٹ جائے مگر یہ کمزور ترین ایمان کی بات ہے، ایمان صحیح حالت میں ہو تو مومن برائی کی خلاف طاقت اور زبان استعمال کرے گا، یہ اس کے ایمان کا تقاضہ بھی ہے اور اللہ کی جانب سے حکم بھی۔
یہ حدیث معاشرے میں اصلاح عدل و انصاف اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی اہمیت کو بیان کرتی ہے، اس میں زور دیا گیا ہے کہ ظلم کو روکنا صرف نصیحت تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عملی اقدام بھی ضروری ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک کرنے پر وعید :
نبی کریم ﷺنے اس فریضہ سے غفلت برتنے والوں کے لیے سخت وعید سنائی ہے، لہٰذا اس سلسلہ میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:
’’مُروا بالمعروفِ، وانهوا عَنِ المنكرِ، قبلَ أن تَدعوا فلا يُستجابَ لَكُم‘‘۔
’’تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے‘‘۔
[صحیح ابن ماجہ:۳۲۵۱، حسنہ الألبانی]
(۲) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللّٰهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِقَابًا مِنْهُ، ثُمَّ تَدْعُونَهُ فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ‘‘۔
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف (بھلائی) کا حکم دو اور منکر (برائی) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے‘‘۔
[سنن الترمذی: ۲۱۶۹، حسنہ الألبانی]
بالجملہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہر شخص پر ہرحال میں حسبِ استطاعت فرض ہے۔
پوری اُمت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن بدقسمتی سے آج امت مسلمہ اپنا مقصد حیات بھول چکی ہے، اس صورت حال میں ضروری ہے کہ امت میں سے کچھ لوگ جاگیں اور دوسروں کو بھی جگائیں۔
امر بالمعروف کے ذریعہ معاشرے میں تمام واجبات رائج ہوسکتے ہیں اور نہی عن المنکر کے ذریعے تمام برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ اسلام کا بنیادی ستون ہے، اگر امت مسلمہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرے، تو وہ دنیا میں سربلند ہوگی اور آخرت میں اللہ کی رحمت کا مستحق ٹھہرے گی۔
اللہ ہم تمام کو ہدایت اور توفیق سے نوازے، ہم سے دین کی خدمت لے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فرائض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔