-
تعلیم نسواں اسلام کی نظر میں رضوان اللہ عبد الروف سراجی(مدرس:مر کز الامام البخاری تلولی)
محترم قارئین! علم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، علم کاحاصل کرلینا اصلادین کا آدھا حصہ پالیناہے اور چونکہ عورت بھی سماج کا ایک حصہ ہے ، اس لیے مردو ںکے ساتھ عورتوں کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:{إِنَّمَا النِّسَاء ُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ}
[سنن ابی داؤد:۲۳۶]
ترجمہ: ’’عورتیں مردوں ہی کا حصہ ہیں ‘‘۔
یہاں اللہ کے رسولﷺنے عورتوں کو مردوں کا حصہ قرار دیا یعنی احکام دین کا سیکھنا یا اس پر عمل کرنا صرف مردوں پر ضروری نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی اس حکم میں شامل ہیںکیوں کہ جہاں مردوں کے لیے تعلیم کی اہمیت ہے وہیں عورتوں کے لیے بھی تعلیم کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔
٭ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو حکم دیا کہ تمہارے گھروں میں دین کی جو تعلیم ہوتی ہے ، قرآن و سنت کی جو باتیں ہوتی ہیں وہ دوسروں کو بھی بتاؤ ، ان سے دوسروں کو بھی آگاہ کرو ،جیسا کہ قرآن گواہی دیتا ہے:
{وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَي فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا}
[الاحزاب :۳۴]
ترجمہ:’’اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں اور رسول کی احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ لطف کرنے والا خبردار ہے‘‘۔
٭اسی لیے عورتوں کی تعلیم و تربیت کا اللہ نے اتنا پاس و لحاظ کیا ہے کہ عورتوں نے جب رسول گرامیﷺسے شکایت کی کہ اللہ تعالیٰ صرف مردو ںہی کو خطاب کیوں کرتا ہے ؟ہم عورتوں کوکیوں نہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وحی نازل کیا:
{إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَ الصَّادِ قَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ اَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَاَجْرًا عَظِيمًا}
[الاحزاب:۳۵]
ترجمہ: ’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرد اور فرما نبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں ان (سب کے)لیے اللہ نے (وسیع)مغفرت اور بڑاثواب تیار کر رکھا ہے‘‘۔
٭ اسی لیے بروز عید نبی ﷺمردوں کو خطاب کرکے عورتو ںکو بھی خطاب کرنے جا تے تھے،جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اَضْحَي اَوْ فِطْرٍ إِلَي الْمُصَلَّي، فَمَرَّ عَلَي النِّسَائِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ، تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي اُرِيتُكُنَّ اَكْثَرَ اَهْلِ النَّارِ، فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ، قَالَ: تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَاَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ اَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَال: اَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْاَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ: بَلٰي، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، اَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ قُلْن: بَلٰي، قَالَ: فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا‘‘۔
[صحیح بخاری:۳۰۴]
ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺعید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے،تو آپ ﷺعورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے،انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا، عورتوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ!ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے؟آپ ﷺنے فرمایا کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، جی ہے، آپﷺنے فرمایا بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے ،پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے، عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے، آپﷺنے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے‘‘ ۔
٭ اسی تعلیم نسواں ہی کا خیال کرکے نبیﷺنے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت دی تا کہ وہ بھی دین سیکھیں کیوں کہ جس قوم کی عورت تعلیم یافتہ نہیں ہوتی وہ معاشرہ مثالی نہیں بن سکتا ،اس کے بچے مثالی نہیں ہوسکتے ، اس کا گھر مثالی نہیں ہوسکتا ، چونکہ مسجدیں دین کا مرکز ہوا کرتی ہیں، یہاںسے نور اسلام کی شعاعیں پھوٹتی ہیں ،ام ہشام حارثہ بنت نعمان رضی اللہ عنہا فر ماتی ہیں:
’’اَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ يَقْرَاُ بِهَا عَلَي الْمِنْبَرِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ‘‘۔
[صحیح مسلم :۷۸۲]
ترجمہ: میں نے ’’قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیدِ‘‘رسول اللہ ﷺسے سن کر یاد کیا ہے کیوں کہ آپﷺہر جمعہ کو خطبہ میں منبر پر پڑھا کرتے تھے‘‘۔
نبی ﷺکی اجازت کا یہ اثر ہوا کہ فرض توفرض ہے نبی ﷺکے دور میں عورتیںنفل نماز کی ادائیگی کے لیے بھی مسجد جایا کرتی تھیں،جیسا کہ انس بن ما لک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:مَا هٰذَا الْحَبْلُ؟، قَالُوا: هٰذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حُلُّوهُ لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ‘‘۔
[صحیح بخاری:۱۱۵۰]
ترجمہ : ’’نبیﷺمسجد میںداخل ہوئے تو آپ نے ایک رسی دیکھا جو دو ستونوں کے درمیان پھیلی ہوئی تھی،پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا کی رسی ہے جب وہ تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹک جاتی ہیں، نبیﷺنے فرمایا کہ نہیں، اسے کھول دو، تم میں ہر شخص طاقت بھر نماز پڑھے جب تھک جائے تو بیٹھ جائے‘‘۔
٭ تعلیم نسواں ہی کا خیال کرکے نبی ﷺنے عورتوں کے لیے ایک دن خاص کردیاتا کہ وہ آکر دین کی باتیں سنیں، اور انہیں بھی دینی مسائل سے آگاہی ہو، چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبیﷺکے پاس کچھ عورتیں آکر کہنے لگیں :
’’غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ، فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا مِنْ نَفْسِكَ، فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا لَقِيَهُنَّ فِيهِ فَوَعَظَهُنَّ وَاَمَرَهُنَّ، فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَهُنَّ ، مَا مِنْكُنَّ امْرَاَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَتْ: امْرَاَةٌ وَاثْنَتَيْنِ، فَقَالَ:وَاثْنَتَيْنِ‘‘۔
[صحیح بخاری:۱۰۱]
ترجمہ : مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی دن خاص فرما دیںتو آپﷺنے ان سے ایک دن کا وعدہ کیا، اس دن عورتوں سے آپ ملا قا ت کرتے ،انہیں وعظ فرماتے اوراحکام سناتے، جو کچھ آپ ﷺنے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو عورت تم میں سے (اپنے)تین (لڑکے)آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گے،اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو (بچے بھیج دے)آپﷺنے فرمایا ،ہاں!اور دو (کا بھی یہی حکم ہے)۔
٭ تعلیم نسواں کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگائیے کہ انہیں تعلیم دینے سے جہنم سے نجات ملے گی، جیسا کہ اللہ کے رسولﷺفرماتے ہیں:
’’مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْء ٍ ، فَاَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ ‘‘۔
[صحیح بخاری:۵۹۹۵، صحیح مسلم :۲۶۲۹]
ترجمہ : ’’جو شخص لڑکیوں کے ذریعہ آزمایا جا ئے اور وہ ان کے ساتھ احسان کرے تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بنیں گی‘‘۔
دیکھے یہاں پر اس شخص کے لیے لڑکیوں کو جہنم کا پردہ کہا گیا ہے جو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اچھا سلوک کرنے میں ہر وہ کام شامل ہے جو ان کے لیے ضروری اور مفید ہے اور انہی میںسے ایک علم بھی ہے ، اس لیے ہر ضرورت کے ساتھ ذمہ دار لڑکی کی یہ ضرورت بھی پورا کرنے کی کوشش کرے ۔
٭ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا ئیے کہ آزاد تو آزاد ہے لونڈیوں تک کی تعلیم پر اجر کا وعدہ کیاگیاہے جیسا کہ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا:
’’ اَيُّمَا رَجُلٍ كَانَتْ عِنْدَهُ وَلِيدَةٌ فَعَلَّمَهَا فَاَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، وَاَدَّبَهَا فَاَحْسَنَ تَاْدِيبَهَا، ثُمَّ اَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ اَجْرَانِ‘‘۔
[صحیح بخاری:۵۰۸۳]
ترجمہ : ’’ جس شخص کے پاس لونڈی ہو وہ اسے اچھی طرح تعلیم دے دے، اسے اچھی طرح ادب سکھادے اور اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دوہرا ثواب ملتا ہے‘‘ ۔
٭نبیﷺپر سب سے پہلے نازل ہونے والی وحی کا تعلق علم سے ہے، آپ غار حرا میں اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان لگائے بیٹھے ہوئے تھے کہ فرشتہ بحکم الہٰی وحی لے کر نازل ہوا جس کا آخری حصہ تھا:
{عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ}
[العلق:۵]
ترجمہ : ’’اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا ‘‘۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کا کلمہ استعمال کیاہے اورلفظ انسان میں نا صرف یہ کہ مرد شامل ہے بلکہ عورتیں بھی شامل ہیں گویا مردوں کے ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی ضروری ہے ۔
٭تعلیم نسواں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبیﷺان کے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس ایک عورت بھی تھی جسے شفاء کہا جاتا تھا ، وہ پھوڑے پھنسی کا دم کیا کرتی تھی، نبیﷺنے اس سے کہا :’’عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ‘‘۔[سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ :۱۷۸]
ترجمہ :’’اسے حفصہ کو بھی سکھا ؤ ‘‘۔
٭ اسی طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺکی معرفت مردوں کی طرح عورتوں پر بھی ضروری ہے ، مردوں کی طرح عورتوں کو بھی نما ز پڑھنی ہے ،انہیں بھی زکوٰۃ اداکرنی ہے ، انہیںبھی روزہ رہنا اور حج کرنا ہے اس لیے ان کا بھی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔
٭جنت و جہنم کا فیصلہ مردو عورت دونوں پر صادر ہوگا ،عورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور آپ ﷺکی اطاعت کرکے جنت حاصل کرناہے اور اس کے لیے انہیں بھی علم چاہئے، اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے:
{وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثَي وَهُوَ مُوْمِنٌ فَاُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا}
[النساء:۱۲۴]
ترجمہ: ’’جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کرے، یقینا ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا‘‘۔
٭ اسی طرح موت جیسے مرد کو آتی ہے ویسے عورت کو بھی آتی ہے ،قبر کے حالات سے جس طرح مردوں کو دو چار ہو نا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی دوچار ہو نا ہے، حساب وکتاب جس طرح مردوں کا ہوگا اسی طرح عورتوں کا بھی ہو گا اس لیے موت سے پہلے عورتوں کو بھی آخرت کی تیاری اور قبر و آخرت کے حساب و کتاب کی جانکاری کے لیے علم درکار ہے ۔
٭جس طرح عورتوں کے تئیں مردوں کو حقوق جاننا ضروری ہے اسی طرح مردوں کے تئیں عورتوں کو بھی جاننا ضروری ہے اس لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے ۔
٭عورتوں کی تعلیم سماج کی ضرورت ہے ،خاندان کی ضرورت ہے،گھر گھر کی ضرورت ہے کیوں کہ اگر عورت تعلیم یافتہ نہ ہو تو بچے بگڑ جا ئیں ، خاندان بکھر جا ئے ، پورا معاشرہ تباہ و بر باد ہو جا ئے ، نسلیں صحیح ڈگر پر نہ رہ جا ئیں ،قوم کی صحیح تربیت نہ ہو سکے ،وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے جس میں مردو ںکے ساتھ ساتھ عورتیں بھی تعلیم یافتہ ہو، اسی لیے مردوں کی طرح اسلام نے عورتوں کی تعلیم پر بھی زور دیا ہے۔
٭امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا جس طرح مردوں پر ضروری ہے اسی طرح عورتوں پر بھی ضروری ہے اس لیے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی علم کی ضرورت ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَالْمُوْمِنُونَ وَالْمُوْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَائُ بَعْضٍ يَاْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُوْنَ الصَّلَاةَ وَيُوْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ اُولٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ إِنَّ اللّٰهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ}
[التوبۃ:۷۱]
ترجمہ: ’’مومن مرد وعورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار ومعاون اور) دوست ہیں، وہ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والاہے‘‘۔
اور اللہ کے رسول ﷺنے فر مایا:
’’ مَنْ رَاَي مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ اَضْعَفُ الْإِيمَانِ ‘‘۔
[صحیح مسلم :۶۹]
ترجمہ: ’’جو شخص تم میں سے کسی منکر (خلاف شرع) کام کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل ہی سے سہی (دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو) یہ سب سے کم درجہ کا ایمان ہے‘‘۔
٭عورت کو ایک وفا دار بیوی ،نیک بیٹی اور بہترین بہن کے روپ میں اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور تعلیم یافتہ عورت ہی وفا دار بیوی ،نیک ماں اور بہترین بہن بن سکتی ہے ۔
٭عورت کو بچوں کی تربیت کرنی ہے کیوں کہ ماں کی گود ہی سب سے پہلا مدرسہ ہے اس لیے بچوں کو بہترین مربیہ چاہئے اورایک عورت اسی وقت بہترین مربیہ ہو سکتی ہے جب وہ دینی تعلیم سے آراستہ ہوسکتی ہے ۔
٭آپ یہ بات جانتے ہیں کہ حیا عورت کا زیور ہے اور حیا کو ایمان کا ایک شعبہ قرار دیا گیا ہے حتیٰ کہ بے حیائی سے اسلام نے نہ صرف یہ کہ روکاہے بلکہ اس پرسزا کا تعین بھی کیا ہے لیکن علم ایک ایسی چیز ہے کہ اگر اس راہ میں حیا حائل ہو جائے تو اس کی پروا ہ نہ کی جا ئے بلکہ دین سیکھا جا ئے بلکہ حسب ضرورت بتا دیاجا ئے جیسا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:
’’يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَي الْمَرْاَةِ غُسْلٌ إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا رَاَتِ الْمَائَ ، فَضَحِكَتْ اُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: اَتَحْتَلِمُ الْمَرْاَةُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَبِمَ شَبَهُ الْوَلَدِ‘‘
[صحیح بخاری:۶۰۹۱، صحیح مسلم :۳۱۳]
ترجمہ : ’’یا رسول اللہ!اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریمﷺنے فرمایا: ہاں، جب عورت پانی دیکھے (تو اس پر غسل واجب ہے) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے‘‘۔
اوریہی وجہ ہے کہ انصاریہ عورتوں کی بابت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
’’ نِعْمَ النِّسَاء ُ، نِسَاء ُ الاَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَائُ اَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ ‘‘۔
[صحیح مسلم :۲۳۲]
ترجمہ: ’’انصار کی عورتیںکتنی اچھی تھیںکہ وہ دین کی بات پوچھنے میں شرم نہیں کرتی تھیں۔ (شرم، گناہ اور معصیت میں ہے اور دین کی بات پوچھنا ثواب اور اجر ہے)
چونکہ انصار کی عورتیں بھی حصول علم کی راہ میں حیا نہیں کرتیں تھیں خواہ اس کا تعلق حیا ہی سے کیوں نہ ہو جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فر ماتی ہیں :
’’اَنَّ اَسْمَاء، سَاَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: تَاْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَائَ هَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰي رَاْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّي تَبْلُغَ شُئُونَ رَاْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَائَ ، ثُمَّ تَاْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَطَهَّرُ بِهَا، فَقَالَتْ اَسْمَائُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَاَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِينَ اَثَرَ الدَّمِ، وَسَاَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقَال: تَاْخُذُ مَائً، فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، اَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَي رَاْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ حَتَّي تَبْلُغَ شُئُونَ رَاْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاء‘‘۔
[صحیح مسلم:۲۳۲]
ترجمہ: ’’اسماء (شکل کی بیٹی یا یزید بن سکن کی بیٹی)نے رسول اللہ ﷺسے پوچھاکہ حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا: پہلے پانی بیری کے پتوں کے ساتھ لے اور اس سے اچھی طرح پاکی حاصل کرے (یعنی حیض کا خون جو لگا ہوا ہواسے صاف کرے) پھر سر پر پانی ڈالے اور خوب زور سے ملے یہاں تک کہ پانی مانگوں (بالوں کی جڑوں) میں پہنچ جائے پھر اپنے اوپر پانی ڈالے (یعنی سارے بدن پر) پھر ایک پھاہا (روئی یا کپڑے کا) مشک لگا ہوا لے کر اس سے پاکی حاصل کرے،اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: کیسے پاکی حاصل کروں؟ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: سبحان اللہ پاکی حاصل کرے،عائشہ رضی اللہ عنہا نے چپکے سے کہہ دیا کہ خون کے مقام پر لگا دے پھر اس نے جنابت کے غسل کاپوچھاتو آپﷺنے فرمایا: پانی لے کر اچھی طرح طہارت حاصل کرے پھر سر پر پانی ڈالے اور ملے یہاں تک کہ پانی سب مانگوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی ڈالے۔
دیکھئے یہاں حیا حصول علم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا،اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول گرامیﷺسے وہ مسئلہ کھل کر اور وضاحت کے ساتھ پوچھاجب کہ اس بات کاعورت کے لیے کسی غیر مرد کے سامنے منہ پر لاناآسان کام نہیں تھا لیکن چونکہ حصول علم کا معاملہ تھا ، مسئلے کی جانکاری لینی تھی، اس لیے آپ رضی اللہ عنہا نے بلا کسی تذبذب کے کھل کر رسول گرامیﷺسے پوچھا اور آپ ﷺنے انہیں کھل کر پوری وضاحت کے ساتھ بتایا اوراسی لیے انصار کی عورتوں کو عائشہ رضی اللہ عنہا نے تعریف کیا ۔
پتہ چلا کہ عورتوں نے حصول علم کی راہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حیا ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ عورتوں میں بھی ایک سے ایک عالمہ نکلیں ، بسا اوقات ان عورتوں کے پاس وہ علم ہوتا جو مردوں کے پاس نہیں ہوتا جیسا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
’’مَا اَشْكَلَ عَلَيْنَا اَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَاَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا‘‘۔
[جامع الترمذی:۳۸۸۳]
ترجمہ: ’’ہم اصحاب رسول اللہ ﷺپر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی‘‘۔
اسی طرح ایک اور روایت میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں:
’’اخْتَلَفَ فِي ذَلِكَ رَهْطٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالاَنْصَارِ، فَقَالَ الاَنْصَارِيُّونَ: لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنَ الدَّفْقِ، اَوْ مِنَ الْمَائِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُوْنَ: بَلْ إِذَا خَالَطَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، قَالَ: قَالَ اَبُو مُوسٰي: فَاَنَا اَشْفِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقُمْتُ فَاسْتَاْذَنْتُ عَلٰي عَائِشَةَ ، فَاُذِنَ لِي، فَقُلْتُ لَهَا: يَا اُمَّاهْ، اَوْ يَا اُمَّ الْمُوْمِنِينَ، إِنِّي اُرِيدُ اَنْ اَسْاَلَكِ عَنْ شَيْئٍ، وَإِنِّي اَسْتَحْيِيكِ، فَقَالَت: لَا تَسْتَحْيِي، اَنْ تَسْاَلَنِي عَمَّا كُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ اُمَّكَ الَّتِي وَلَدَتْكَ، اَنَا اُمُّكَ، قُلْتُ: فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ: عَلَي الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الاَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ‘‘۔
[صحیح مسلم:۳۴۹]
ترجمہ: مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا، انصار نے کہا: غسل اس وقت واجب ہوگا جب منی کود کر نکلے اور مہاجرین نے کہا: جب مرد عورت سے صحبت کرے تو غسل واجب ہے،ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:ٹھہرو!میں تمہاری تسلی کئے دیتا ہوں، میں اٹھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مکان پرجا کر ان سے اجازت مانگی ، انہوں نے اجازت دے دی، میں نے کہا: اے ماں، یا مسلمانوں کی ماں!میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے شرم آتی ہے،عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:تواس بات کے پوچھنے میں شرم نہ کرجو اپنی سگی ماں سے پوچھ سکتا ہے، جس کے پیٹ سے پیدا ہوا، میں بھی تو تیری ماں ہوں ،میں نے کہا:غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا:تو نے اچھے واقف کار سے پوچھاہے، رسول اللہﷺنے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چاروں کونوں میں بیٹھے اور ختنہ ختنہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا‘‘۔
عطاء بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’كانت عائشة من افقه الناس واحسن الناس رايا فى العامة ‘‘۔
[اسد الغابۃ :۱؍۱۹۱]
ترجمہ : ’’عائشہ لوگوں میں سب سے بہتر رائے والی اور سب سے زیادہ سمجھ دار عورت تھیں ‘‘۔
عروہ فرماتے ہیں :
’’ما رايت احدا اعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة، ولو لم يكن لعائشة من الفضائل إلا قصة الإفك لكفي بها فضلا وعلو مجد، فإنها نزل فيها من القرآن ما يتلي إلى يوم القيامة‘‘۔
[اسد الغابۃ :۱؍۱۹۱]
ترجمہ : ’’میں نے فقہ ، طب اور شعر کی بابت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم والا کسی کو نہیں دیکھا، اگر واقعہ افک کے علاوہ عائشہ کی کوئی فضیلت وارد نہ ہوتی تو ان کی بلندی اور فضیلت کے لیے یہی کافی ہوتا ، ان کے سلسلے میں قرآن نازل ہوا ہے جس کی تلاوت قیامت تک ہوتی رہے گی‘‘ ۔
اسلام نے جب عورتو ں کوحصول علم کی آزادی دی تو ایک سے ایک عالمہ پیدا ہو ئیں ، ایک سے ایک قارئہ میدان عمل میں آئیں ، ایسی ممتاز اور علمی مقام رکھنے والی صحابیات نے میدان علم میں اپنا سکہ جمایا کہ صحابہ ان سے علم حاصل کرنے آتے ،بہت سی صحابیات نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی میدان علم میں چیلنج کیاہے ، ذرا غور کیجئے کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
’’لَعَنَ اللّٰهُ الوَاشِمَاتِ وَالمُوتَشِمَاتِ، وَالمُتَنَمِّصَاتِ وَالمُتَفَلِّجَاتِ، لِلْحُسْنِ المُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ،فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَاَةً مِنْ بَنِي اَسَدٍ يُقَالُ لَهَا اُمُّ يَعْقُوبَ، فَجَاء َتْ فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ اَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ، فَقَالَ: وَمَا لِي اَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ، فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَاْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ، فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ، قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَاْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، اَمَا قَرَاْتِ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا}(الحشر:۷)؟ قَالَتْ: بَلٰي، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ نَهَي عَنْهُ، قَالَتْ: فَإِنِّي اَرَي اَهْلَكَ يَفْعَلُونَهُ، قَالَ: فَاذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا، فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ مَا جَامَعْتُهَا‘‘۔
[صحیح بخاری :۵۰۸۳]
ترجمہ : ’’اللہ تعالیٰ نے گودوانے والیوں اور گودنے والیوں پر، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں،یہ کلام قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت کو معلوم ہوا جو ام یعقوب کے نام سے معروف تھی وہ آئی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے؟ انہوں نے کہا آخر کیوں نہ میں انہیں لعنت کروں جنہیں رسول اللہﷺنے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ملعون ہیں، اس عورت نے کہا کہ قرآن مجید تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں میں نے تو اس میں کہیں یہ بات نہیں دیکھی،انہوں نے کہا کہ اگر تم نے بغور پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی : { وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} (الحشر:۷) ’’رسولﷺتمہیں جو دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں روکیں اس سے رک جاو‘‘، اس نے کہا کہ پڑھی ہوں، انہوں نے کہا کہ پھر نبی کریم ﷺنے ان چیزوں سے روکا ہے،اس پر عورت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسا کرتی ہیں،انہوں نے کہا کہ اچھا جاؤ اور دیکھ لو،وہ عورت گئی اور اس نے دیکھا لیکن اس طرح کی ان کے یہاں کوئی معیوب چیز اسے نہیں ملی، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میری بیوی اسی طرح کرتی تو میں اس کے ساتھ مجامعت نہیں کرتا‘‘۔
زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے دور کی فقیہہ اور اللہ کے رسول ﷺکی ربیبہ تھیں ،ان کا نام برہ تھالیکن نبی ﷺ نے بدل کر ان کا نام زینب رکھ دیا تھا۔
عطاف فر ماتے ہیں کہ میری ماں نے کہا ہے:
’’ورايت زينب وهى عجوز كبيرة ما نقص من وجهها شيء وتزوجها عبد اللّٰه بن زمعة بن الاسود الاسدي، فولدت له، وكانت من افقه نساء زمانها‘‘۔
[اسد الغابۃ :۱؍۱۳۲]
ترجمہ: ’’میں نے بڑھاپے کی حالت میں زینب کو دیکھا اس حا ل میں کہ ان کے چہرے میں کچھ نقص نہیں تھا ، ان سے عبد اللہ بن زمعہ بن اسود اسدی نے شادی کیا اور ان سے بچے بھی ہوئے ، وہ اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہ تھیں ‘‘۔
چونکہ آپ رضی اللہ عنہا کی تربیت اللہ کے رسول ﷺنے کیا تھا، اس لیے وہ فضل و کمال کے لحاظ سے بلند مرتبے پر فائز تھیں،ارباب سیر نے لکھا ہے کہ بڑے بڑے ذی علم لوگ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔
ان دلائل سے پتہ چلا کہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی تعلیم ضروری ہے ، اس لیے انہیں بھی علم سے آراستہ کیا جائے ،الحمد للہ عصر حاضر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بے شمار مدارس کا قیام عمل میں آچکا ہے، جابجا مدارس نسواں قائم ہو چکے ہیں اور اب لڑکیوں کے لیے علم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے ، قابل مبارک باد ہیں وہ لوگ جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کا بندو بست کیا اور ان کے لیے خاص مدرسہ قائم کیا جہاں امن و سکون کے ساتھ بچیاں علم حاصل کر سکیں اوردینی تعلیم سے آراستہ ہو سکیں ، اللہ ان احباب کو جزائے خیر عطا فر ما ئے اور ان کی کوششوں کو قبول فر ما ئے اور ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے ۔ آمین
٭٭ ٭