Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • اذان کی اجرت سے متعلق وارد حدیث کی تحقیق وتخریج قسط(۳)

    تیسرا طریق: مطرف بن عبد اللہ، عن عثمان بن ابی العاص الثقفی
    امام ابوداؤد رحمہ اللہ (المتوفی۲۷۵ھ)نے کہا:
    حدثنا موسي بن إسماعيل، حدثنا حماد، أخبرنا سعيد الجريري، عن أبي العلاء ، عن مطرف بن عبد اللّٰه، عن عثمان بن أبي العاص، قال: قلت: وقال موسي فى موضع آخر إن عثمان بن أبي العاص قال يا رسول اللّٰه اجعلني إمام قومي، قال: أنت إمامهم واقتد بأضعفهم واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا۔
    عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیجیے، آپ ﷺنے فرمایا:’’تم ان کے امام ہو تو تم ان کے کمزور ترین لوگوں کی رعایت کرنا، اور ایسا مؤذن مقرر کرنا جو اذان پر اجرت نہ لے‘‘ ۔
    [سنن أبی داؤد :رقم ۵۳۱،وإسنادہ ضعیف ومن طریق أبی داؤد أخرجہ ابن حزم فی المحلی (۳؍۱۵) والبغوی فی شرح السنۃ (رقم:۴۱۷)وأخرجہ عفان (أحادیث عفان:۲۳۶،ترقیم الشاملۃ) ترقیم الشاملۃ وأخرجہ أیضا أحمد فی مسندہ:۲۹؍۴۳۵) ومن طریقہ أخرجہ ابن الجوزی فی التحقیق (رقم:۱۵۷۵) من طریق حسن بن موسی الأشیب ،وأخرجہ أیضا ابن قانع فی معجم الصحابہ (۲؍۲۵۶)من طریق أبی سلمۃ ،وأخرجہ أیضا ابن المنذر فی الأوسط (رقم:۱۲۳۸) و الطحاوی فی شرح مشکل الآثار (رقم:۶۰۰۰) من طریق یحییٰ بن حسان التنیسی، وأخرجہ أیضا الجورقانی فی الأباطیل(رقم:۵۳۱)من طریق عبید اللہ بن محمد العیشی،وأخرجہ أیضا فی مسندہ (رقم:۲۱۴)من طریق سلیمان بن حرب،وأخرجہ أیضا الطبرانی فی معجمہ الکبیر (رقم:۸۳۶۵)من طریق حفص بن عمر الضریر وحجاج بن المنہال ،وأخرجہ أیضا ابن خزیمۃ فی صحیحۃ:۱؍۲۲۱) من طریق ہشام بن الولید و محمد بن الفضل عارم ،کلہم (عفان و حسن بن موسی الأشیب و أبو سلمۃ و یحییٰ بن حسان التنیسی و عبید اللہ بن محمد العیشی و سلیمان بن حرب وحفص بن عمر الضریر وحجاج بن المنہال وہشام بن الولید و محمد بن الفضل عارم) من طریق حماد بن سلمۃ بہ)]
    یہ روایت ضعیف ہے ۔
    امام جورقانی رحمہ اللہ (المتوفی۵۴۳ھ)اس روایت کے تمام طرق کے پیش نظر اس پر نقد کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
    ’’رواه جماعة كثيرة عن عثمان ولم يقل منهم أحد:واتخذ (مؤذنا) لا يأخذ على أذانه أجرا، إلا ما تفرد به حماد عن الجريري‘‘۔
    ’’اس حدیث کو عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ الفاظ نہیں بیان کیے کہ: ایسا مؤذن رکھیں جو اجرت نہ لیتا ہو ، یہ الفاظ صرف حماد بن سلمہ نے جریری کے طریق سے بیان کیا ہے ‘‘۔
    [الأباطیل والمناکیر للجورقانی:۲؍۱۷۱،ما بین القوسین من الناقل]
    یادرہے حماد بن سلمہ نے کئی روایات کو بیان کرتے ہوئے سند ومتن میں غلطیاں کی ہیں ،چنانچہ:
    امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی۷۴۸ھ) نے کہا:
    ’’هو ثقة صدوق يغلط‘‘۔’’ یہ ثقہ وصدوق ہیں اور غلطی کرتے ہیں‘‘۔
    [الکاشف للذہبی ت عوامۃ:۱؍۳۴۹]
    بلکہ بعض نے تویہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ آخری عمر میں سوئے حفظ کے شکار ہوگئے تھے لیکن علی الاطلاق ایسا کہنا درست نہیں ہے ۔
    البتہ جس روایت میں یہ ثقات کی مخالفت کریں وہاں ان کی روایت قابل حجت نہ ہوگی، جیساکہ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ’’وإذا كان الأمر على هذا فالاحتياط لمن راقب الله تعالي أن لا يحتج بما يجد فى أحاديثه مما يخالف الثقات‘‘۔
    ’’جب حماد بن سلمہ کا معاملہ ایسا ہے تو اللہ والوں کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ یہ جن روایات کو بیان کرنے میں ثقات کی مخالفت کریں ان میں ان کو حجت نہ مانا جائے‘‘۔
    [الخلافیات للبیہقی:۲؍۵۰]
    نیز دیکھیں:(ہماری کتاب احکام طلاق:
    تنبیہ : بعض لوگوں نے امام جورقانی کی اس جرح کا یہ جواب دیا ہے کہ حماد بن سلمہ کی متابعت حماد بن زید نے بھی کردی ہے، جیساکہ مسند احمد میں ہے ۔
    [مسند أحمد :۲۶؍۲۰۱]
    جوابا ًعرض ہے کہ:
    امام احمد رحمہ اللہ نے اسے عفان کے واسطے سے نقل کیا ہے اور عفان کے دیگر تمام شاگردوں نے بلکہ دوسری جگہ خود امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اس روایت میں عفان کے استاذ کی جگہ حماد بن سلمہ ہی کانام لیا ہے حوالے ملاحظہ ہوں:
    احمد بن حنبل حدثنا عفان، قال:حدثنا حماد بن سلمة۔
    [مسند أحمد: رقم:۱۶۲۷۱]
    أحمد بن سليمان، قال:حدثنا عفان، قال:حدثنا حماد بن سلمة۔
    [السنن الکبری للنسائی:۲؍۲۵۰]
    محمد بن إسحاق الصغاني ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة۔
    [السنن الکبری للبیہقی:۱؍۶۳۱]
    نیز احادیث عفان میں بھی یہ حدیث صرف حماد بن سلمہ ہی کے طریق سے دیکھیں :[أحادیث عفان :۲۳۶]
    علاوہ بریں عفان کے علاوہ تمام رواۃ نے اسے بالاتفاق حماد بن سلمہ سے ہی روایت کیا ہے ۔ حوالے ملاحظہ ہوں:
    موسيٰ بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة۔
    [المحلی لابن حزم، ط بیروت:۳؍۱۵]
    حسن بن موسيٰ، حدثنا حماد بن سلمة۔
    [مسند أحمد:۲۹؍۴۳۵]
    يحييٰ بن حسان، حدثنا حماد بن سلمة۔
    [شرح مشکل الآثار:۱۵؍۲۶۳]
    سليمان بن حرب ثنا حماد بن سلمة
    [مسند السراج :ص:۱۱۰]
    حجاج بن المنهال، قالوا: ثنا حماد بن سلمة۔
    [المعجم الکبیر: رقم:۸۳۶۵]
    ابو عمر الضرير، ثنا حماد بن سلمة۔
    [المعجم الکبیر: رقم:۸۳۶۵]
    ان حقائق سے روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ طریق حماد بن سلمہ ہی کا ہے ۔
    تاہم اگرفرض کرلیں کہ اس مقام پر حماد بن زید ہی ہے اور اس نے حماد بن سلمہ کی متابعت کردی ہے تو بھی سند کے اوپری طبقات میں بھی علتیں موجود ہیں چنانچہ:
    مطرف بن عبد اللہ سے اسی روایت کو جب ان کے دوسرے شاگرد سعید بن ابی الہند نے روایت کیا تو اس میں اذان پر اجرت والی بات ذکر نہ کی ،چنانچہ:
    امام حمیدی رحمہ اللہ (المتوفی۲۱۹ھ) نے کہا:
    ثنا سفيان قال: ثنا محمد بن إسحاق، سمعه من سعيد بن أبي هند، سمعه من مطرف بن عبد اللّٰه بن الشخير، قال: سمعت عثمان بن أبي العاص الثقفي، يقول: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: أم قومك واقدرهم بأضعفهم، فإن منهم الكبير والضعيف وذا الحاجة۔
    مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ’’عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں میں جو سب سے زیادہ کمزور ہوں ان کی رعایت کرنا، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، ناتواں اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں‘‘ ۔
    [مسند الحمیدی :رقم:۹۲۹،وإسنادہ صحیح وأخرجہ ابن أبی شیبۃ فی مصنفہ (رقم:۸۸۹۱) من طریق إسماعیل بن إبراہیم ومن طریقہ أخرجہ ابن ماجہ فی سننہ (رقم :۹۸۷) من طریق إسماعیل ابن علیۃ، وأخرجہ أیضا أحمد فی مسندہ (رقم:۱۶۲۷۳) من طریق حماد بن زید،وأخرجہ أیضا أبونعیم فی معرفۃ الصحابۃ (رقم:۴۹۳۶)من طریقہ یزید بن ہارون ،وأخرجہ أیضا ابن المنذر فی الأوسط(رقم:۲۰۳۰) من طریق یزید بن زریع ،وأخرجہ أیضا ابن خزیمہ فی صحیحہ (رقم:۱۶۰۸) من طریق سلمۃ بن الفضل وابن عدی و سفیان ، کلہم (اسماعیل بن علیلۃ وحماد بن زید ویزید بن ہارون ویزید بن زریع ) عن ابن اسحاق بہ ، وصرح ابن اسحاق بالسماع عند ابن المنذر)]
    نیز عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے ان کے شاگرد مطرف بن عبد اللہ کے علاوہ دیگر شاگردوں نے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے بھی اذان پر اجرت والی بات ذکر نہ کی ۔
    موسیٰ بن طلحہ عن عثمان بن أبی العاص کی روایت صحیح مسلم (رقم:۴۶۸)کے حوالے سے گزرچکی ہے ۔
    دیگر شاگردوں کی روایات اگلے طرق میں ملاحظہ ہوں:
    چوتھا طریق: سعید بن المسیب عن عثمان بن أبی العاص
    امام مسلم رحمہ اللہ (المتوفی۲۶۱ھ) نے کہا:
    حدثنا محمد بن المثني، وابن بشار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال: سمعت سعيد بن المسيب، قال: حدث عثمان بن أبي العاص، قال: آخر ما عهد إلى رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إذا أممت قوما، فأخف بهم الصلاة۔
    سعید بن مسیب نے کہا:حضرت عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:رسول اللہ ﷺ نے آخری بات جو میرے ذمہ لگائی یہ تھی:جب تم لوگوں کی امامت کراؤ تو انہیں نماز ہلکی پڑھاؤ۔
    [صحیح مسلم :رقم :۴۶۸،ومن طریق جعفر أخرجہ أحمد فی مسندہ (رقم:۱۶۲۷۷)،وأخرجہ البیہقی فی سننہ(رقم:۵۲۶۹)من طریق أبی داؤد ،وأخرجہ أیضا أبونعیم فی معرفۃ الصحابۃ :رقم:۴۹۳۷من طریق بشر بن عمروسلیمان بن حرب وأبی الولید ، کلہم (أبوداود وبشر بن عمروسلیمان بن حرب وأبو الولید) من طریق شعبۃ بہ]
    یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے اور اس میں اذان کی اجرت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
    پانچواں طریق : حکیم بن حکیم عن عثمان بن أبی العاص
    امام طبرانی رحمہ اللہ (المتوفی۳۶۰ھ)نے کہا:
    حدثنا يحيي بن أيوب العلاف المصري، ثنا سعيد بن أبي مريم، ثنا محمد بن جعفر، عن سهيل بن أبي صالح، عن حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف، عن عثمان بن أبي العاص، قال:قدمت فى وفد ثقيف حين وفدوا على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم، فلبسنا حللنا بباب النبى صلى اللّٰه عليه وسلم، فقالوا: من يمسك لنا رواحلنا، وكل القوم أحب الدخول على النبى صلى اللّٰه عليه وسلم وكره التخلف عنه، قال عثمان: وكنت أصغر القوم، فقلت:إن شئتم أمسكت لكم على أن عليكم عهد اللّٰه لتمسكن لي إذا خرجتم، قالوا: فذلك لك، فدخلوا عليه ثم خرجوا فقالوا: انطلق بنا، قلت: أين؟ فقالوا: إلى أهلك، فقلت: ضربت من أهلي حتي إذا حللت بباب النبى صلى اللّٰه عليه وسلم أرجع ولا أدخل عليه، وقد أعطيتموني من العهد ما قد علمتم؟ قالوا: فأعجل فإنا قد كفيناك المسألة، لم ندع شيئا إلا سألناه عنه، فدخلت فقلت: يا رسول اللّٰه، ادع الله أن يفقهني فى الدين ويعلمني، قال: ماذا قلت؟ فأعدت عليه القول، فقال: لقد سألتني شيئا ما سألني عنه أحد من أصحابك، اذهب فأنت أمير عليهم وعلي من تقدم عليه من قومك، وأم الناس بأضعفهم فخرجت حتي قدمت عليه مرة أخري فقلت: يا رسول اللّٰه، اشتكيت بعدك، فقال: ضع يدك اليمني على المكان الذى تشتكي، وقل: أعوذ بعزة اللّٰه وقدرته من شر ما أجد سبع مرات ففعلت فشفاني اللّٰه عز وجل۔
    عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ ثقیف کے لوگ جب اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے تو میں بھی ان میں تھا۔ ہم نے نبیﷺ کے دروازے پر اپنے کپڑے پہنے۔ وفد کے لوگوں نے کہا: کون ہمارے جانوروں کو سنبھالے گا؟ سب لوگ نبی ﷺ سے ملنا چاہتے تھے اور کوئی پیچھے رہنا نہیں چاہتا تھا۔ عثمان کہتے ہیں:میں وفد میں سب سے کم عمر تھا، تو میں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہارے جانور سنبھال لوں، بشرطیکہ تم اللہ کا عہد دو کہ جب تم باہر آؤ گے تو میرے جانور سنبھالو گے۔ انہوں نے کہا:ٹھیک ہے، آپ کی بات منظور ہے۔ چنانچہ وہ نبی ﷺسے ملنے اندر گئے اور پھر باہر آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا:چلو ہمارے ساتھ۔ میں نے پوچھا:کہاں؟ انہوں نے کہا:اپنے گھر والوں کے پاس۔ میں نے کہا:میں اپنے گھر والوں سے اتنی دور تک آیا ہوں اور اب نبی ﷺ کے دروازے پر پہنچ کر واپس چلا جاؤں اور ان سے نہ ملوں؟ تم نے مجھے جو عہد دیا تھا، وہ تم جانتے ہو! انہوں نے کہا: ٹھیک ہے لیکن جلدی کرنا کیونکہ ہم نے تمہاری جگہ سب کچھ پوچھ لیا ہے کوئی سوال نہیں چھوڑا جو ہم نے نبی ﷺ سے نہ کیا ہو۔پھر میں اندر گیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے دین کی سمجھ عطا فرمائے اور مجھے دین کا علم سکھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم نے کیا کہا؟ میں نے اپنی بات دہرائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم نے مجھ سے ایسی چیز مانگی جو میرے کسی اور ساتھی نے نہیں مانگی۔ جاؤ، تم اپنے وفد اور جن لوگوں کے پاس تم جارہے ہو ان کے امیر ہو، اور لوگوں کی امامت کرتے ہوئے کمزوروں کی رعایت کرنا۔پھرمیں واپس آیا اور کچھ عرصے بعد دوبارہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:یا رسول اللہ! آپ کے بعد مجھے بیماری ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنا دایاں ہاتھ اس جگہ پر رکھو جہاں تکلیف ہے اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھو:أعوذ بعزۃ اللّٰہ وقدرتہ من شر ما أجد۔(میں اللہ کی عزت اور اس کی قدرت کے ساتھ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے محسوس ہو رہا ہے)۔ میں نے ایسا ہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی۔
    [المعجم الکبیر للطبرانی: رقم:۵۳۵۶،وإسنادہ حسن وأخرجہ أیضا السراج فی مسندہ (رقم:۲۲۱) من طریق محمد بن جعفر بہ مختصرا]
    یہ حسن روایت ہے اس میں بھی اذان کی اجرت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
    مذکورہ طرق کے علاوہ اس حدیث کے اور بھی طرق ہیں اوران میں بھی اذان پر اجرت والے الفاظ ثابت نہیں ہیں لیکن میری نظر میں وہ سب کے سب ضعیف وغیر ثابت ہیں اور وہ ہیں:
    چھٹا طریق : داؤد بن أبی عاصم الثقفی، عن عثمان بن أبی العاص : [مسند أحمد:۲۹؍۴۴۰،وقال المعلقون علیہ :إسنادہ قوی ]
    ساتواں طریق: عبد اللہ بن الحکم عن عثمان بن أبی العاص: [مسند أحمد :۲۹؍۴۴۱]
    آٹھواں طریق: نعمان بن سالم، عن عثمان بن أبی العاص: [معجم الصحابۃ لابن قانع:۲؍۲۵۶]
    نواں طریق : المغیرۃ بن شعبۃ عن عثمان بن أبی العاص : [المعجم الکبیر للطبرانی:۹؍۴۴]
    دسواں طریق : اشیاخ بنی ثقیف عن عثمان بن أبی العاص: [مسند أحمد:۲۶؍۲۰۳وقال المعلقون علیہ:حدیث صحیح، ولا یضر جہالۃ الرواۃ الذین حدث عنہم النعمان بن سالم الثقفی، لأنہم جمع]
    ان طرق میں سے بھی کسی ایک میں اذان پر اجرت والی بات مذکور نہیں ہے ، لیکن چونکہ میری نظر میں یہ سارے طرق ضعیف ہیں اس لئے ہم اس کی تفصیل میں نہیں جاتے ۔
    ایک شاہد کا جائزہ:
    امام طبرانی رحمہ اللہ (المتوفی۳۶۰ھ)نے کہا:
    حدثنا عبد اللّٰه بن أحمد بن حنبل، حدثني محمد بن عبد الرحيم البرقي، ثنا شبابة بن سوار، ثنا المغيرة بن مسلم، عن الوليد بن مسلم، عن سعيد القطيعي، عن المغيرة بن شعبة، قال: سألت النبى صلى اللّٰه عليه وسلم أن يجعلني إمام قومي فقال: صل صلاة أضعف القوم ، ولا تتخذ مؤذنا يأخذ على أذانه أجرا۔
    مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ مجھے میری قوم کا امام بنادیں ، تو آپ ﷺنے فرمایاکہ: تم انہیں ان کے کمزورں کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھانا اور اور ایسا مؤذن مت رکھنا جو اپنی اذان پراجرت لیتا ہو۔
    [المعجم الکبیر للطبرانی:۲۰؍۴۳۴وإسنادہ ضعیف جدا وأخرجہ البخاری فی التاریخ:۳؍۴۸۶،من طریق محمد أبی یحیی عن شبابۃ بہ ولم یذکر فی الإسناد الولید بن مسلم]
    یہ روایت درج ذیل علتوں کی بنا پر سخت ضعیف ہے:
    اولاً:
    سعید بن طھمان کا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
    کسی بھی محدث نے سعید بن طہمان کے اساتذہ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔
    امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ اللہ (المتوفی۲۷۷ھ) نے کہا:
    ’’يروي عن أنس، لا يذكر سماعا، ولا رؤية‘‘۔
    ’’یہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے لیکن نہ تو ان سے سماع کا ذکر کرتا ہے نہ رؤیت کا‘‘۔
    [الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی:۴؍۳۵]
    غور کیجئے کہ جب ان کا سماع انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت نہیں ہے جن کی وفات ۹۳ہجری میں ہوئی ہے۔
    [تہذیب الکمال للمزی:۳؍۳۷۷]
    تو پھرمزید چالیس سال سے بھی زیادہ پیچھے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع کیسے ثابت ہوسکتا ہے جن کی وفات ۵۰ہجری میں ہوئی ہے۔
    [تاریخ بغداد، مطبعۃ السعادۃ:۱؍۱۹۱]
    ثانیاً:
    طبرانی کی روایت میں مغیرہ بن مسلم اور سعید القطیعی کے درمیان ولید بن مسلم کا اضافہ ہے اور انہوں نے آگے سند کے تمام طبقات میں سماع کی صراحت ذکر نہیں کی ہے جبکہ یہ بکثرت تدلیس و تسویہ کرنے والے ہیں ۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی۸۵۲ھ) نے ان کے بارے میں کہا:
    ’’ كثير التدليس والتسوية‘‘۔ ’’یہ بکثرت تدلیس اور تسویہ کرنے والے ہیں‘‘۔
    [تقریب التہذیب لابن حجر: رقم:۷۴۵۶]
    اور یہ سند سے کذابین اور وضاعین کو ساقط کرتے تھے اس لیے ان کے عنعنہ والی روایت سخت ضعیف شمار ہوگی خواہ عنعنہ کسی بھی طبقہ میں ہو ۔
    ترمذی (رقم۳۵۷۰)کی روایت کے تمام رجال بخاری ومسلم کے رجال ہیں اور سند میں علت صرف ولید بن مسلم کا عنعنہ ہے لیکن محدثین نے موضوع ومن گھڑت قرار دیا ہے ۔
    علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے موضوع کہا ہے، اور اس کاسبب ولید کے تسویہ کوقراردیاہے۔
    [الضعیفۃ۳۸۷۷،تحت الرقم:۳۳۷۴]
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کوموضوع کہا ہے ۔[لسان المیزان:۲۰۵]، اورولیدبن مسلم کی تدلیس تسویہ کو علت قراردیا ہے ۔[النکت الظراف:۹۱۵]
    ثالثاً:
    روایت میں امامت کا متن دسیوں طرق سے مروی ہے جن میں بہت سارے طرق صحیح ہیں ان تمام طرق میں رواۃ کا اتفاق ہے کہ امامت کی یہ بات عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے کی تھی۔
    لہٰذا ان تمام طرق کے برخلاف اس روایت میں اس بات کو دوسرے صحابی کے حوالے ذکر کرنا یہ بھی دلیل ہے کہ یہ روایت باطل اور کالعدم ہے۔
    خلاصۂ کلام:
    زیر بحث حدیث کے کل دس طرق ملتے ہیں جن میں چھ طرق (پہلا اور چھٹا تا دسواں )سرے سے ضعیف وغیر ثابت ہیں ۔
    باقی بچے چار طرق (دوسرا تا پانچواں) تو ان میں دو طرق (چوتھا اور پانچواں) میں اذان پر اجرت والی بات کا ذکر ہی نہیں ہے ۔
    باقی بچے دو طرق (دوسرا اور تیسرا) تو ان میں سے دوسرے یعنی موسیٰ بن طلحہ والے طریق میں اذان پر اجرت والی بات شاذ ہے اور اصل اور ثابت روایت میں یہ بات مذکور ہی نہیں ہے اسی لیے امام مسلم نے اپنی صحیح میں جب اس طریق سے روایت درج کی تو اس میں اذان پر اجرت والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
    اور باقی بچا تیسرا یعنی مطرف والا طریق تو اس میں بھی اذان پر اجرت والے الفاظ ثابت نہیں ہیں کیونکہ حماد سے اوپر طبقات میں مخالفت ہے جیسا کہ تفصیل گزرچکی ہے ۔ اسی لیے امام جورقانی رحمہ اللہ نے حماد کے بیان کردہ اضافہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔ کما مضی

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings