Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • پرسکون زندگی گزارنے کے چند قیمتی اصول

    اللہ تعالیٰ کی لازوال اور عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت سکون و اطمینان ہے، انسان کی فطرت میں سکون، راحت اور اطمینان کی خواہش کا مادہ ازل سے رکھا گیا ہے، مگر جب انسان اس سکون کو صرف دنیاوی وسائل، مال و دولت، شہرت اور عیش و عشرت میں تلاش کرتا ہے تو وہ تھکن، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہوجاتا ہے، قرآن و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی سکون صرف اللہ سے تعلق، اس کی یاد اور نبی کریمﷺکی سنت پر عمل میں ہے، خود قرآن مجید میں کئی مقامات پر خالق کائنات نے اس کی تمثیل پیش کی ہیں:اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: {الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ، أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ}[ الرعد:۲۸]’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، یاد رکھو!دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے‘‘۔
    اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا: {وَمَن يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ} [الطلاق:۲۔۳]
    ’’اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ بناتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرتا‘‘۔
    اسی طرح نبی کریم ﷺنے بھی اس کی طرف مکمل رہنمائی فرمائی، چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ‘‘۔’’وہ شخص کامیاب ہوگیا جو اسلام لایا، اسے ضرورت بھر رزق دیا گیا، اور اللہ نے جو اسے عطا کیا اس پر وہ راضی رہا‘‘۔[صحیح مسلم :۱۰۵۴]
    سلف صالحین کی زندگیاں عملی طور پر انہی اصولوں کی عکاسی کرتی ہیں جو رہتی دنیا تک بنی نوع انسان کے لیے مشعل راہ ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’جو اللہ پر توکل کرتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، اور جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا‘‘۔[حلیۃ الأولیاء لأبی نعیم:۲؍۱۴۸]
    امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’جو شخص اللہ کی رضا کو لوگوں کی ناراضی پر ترجیح دیتا ہے، اللہ اسے سب کے دلوں میں محبوب بنا دیتا ہے‘‘۔[سیر أعلام النبلاء للذہبی:۱۰؍۸۷]
    امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’دل کا سکون صرف اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ اللہ سے تعلق جوڑتا ہے، اس کی یاد میں مشغول رہتا ہے اور دنیا کی فانی لذتوں سے بے نیاز ہوتا ہے‘‘۔[الجواب الکافی لابن القیم:ص:۱۰۹]
    زیر نظر مضمون انہی الٰہی و نبوی تعلیمات اور اقوالِ سلف کی روشنی میں ان رہنما اصولوں کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کرے گا جو نہ صرف انسان کو روحانی و ذہنی سکون عطا کرتے ہیں بلکہ ایک باوقار، متوازن اور کامیاب زندگی گزارنے کا عملی نسخہ بھی فراہم کرتے ہیں، تو اگر آپ اس مختصر سی زندگی میں حقیقی سکون اور اطمینان چاہتے ہیں تو درج ذیل نکات پر غور کریں اور انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں :
    (۱) اپنے مقصد کو سمجھیں: سب سے پہلے یہ جانیں کہ آپ کو اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے، آپ کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ جب انسان اپنے وجود کے مقصد کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی زندگی بے مقصد بھاگ دوڑ سے پاک ہوجاتی ہے اور اسے ایک واضح سمت مل جاتی ہے، یہ مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا، اس کی بندگی کرنا اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا ہے، یہ جان لینا کہ آپ کا اصل ٹھکانہ اور منزل آخرت ہے دنیا کی عارضی پریشانیوں کو کم کر دیتا ہے اور بنی نوع انسان کا جو سب سے بڑا ہدف اور مقصد ہے اس کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ یوں بیان فرمایا:
    {وَمَا خَلَقتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِيَعبُدُوْنِ}
    [ الذاریت:۵۶]
    ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔
    (۲) اپنے آپ کو فارغ نہ رکھیں: مصروفیت عافیت اور رحمت ہے، اپنے آپ کو کبھی بھی بیکار نہ چھوڑیں، خود کوخیر کے کاموں میں مصروف رکھیں، خاص طور پر مطالعہ جو علم کا دروازہ کھولتا ہے، اور قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنائیں، قرآن کا مطالعہ، اس کی تلاوت اور اس کے معانی پر غور و فکر دلوں کو سکون بخشتا ہے اور روح کو نور عطا کرتا ہے، مصروفیت آپ کو منفی خیالات، ڈپریشن اور بے چینی سے دور رکھتی ہے، وقت کی اہمیت اور قدر کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاس:الصِّحَّةُ وَالفَرَاغُ‘‘ ۔
    ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں:یعنی وہ وقت اور صحت کی ناقدری کرتے ہوئے اپنا نقصان کرتے ہیں‘‘۔
    [صحیح البخاری:۶۴۱۲]
    حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور یہ ایسی تجارت کی جگہ ہے جس کا نفع آخرت میں ظاہر ہوتا ہے، پس جس نے اپنی فرصت اور صحت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا وہ قابلِ رشک ہے، اور جس نے ان کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کیا وہ نقصان اٹھانے والا ہے، کیونکہ فرصت کے بعد مشغولیت آتی ہے اور صحت کے بعد بیماری، اور جو وقت گزر جائے وہ کبھی واپس نہیں آتا‘‘۔[فتح الباری لابن حجر:۱۱؍۲۳۰]
    سلف صالحن کے نزدیک وقت کی بڑی اہمیت تھی، ایک بار کرز بن سبرہ جن کا شمار بڑے عبادت گزاروں میں ہوتا تھا، ان سے کسی نے کہ ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ اس پر کرز بن سبرہ نے جواب دیا :’’سورج کو روک لو، تب میں تمہارے ساتھ بیٹھوں گا!کون ہے جو سورج کو روک سکتا ہے جبکہ وہ زندگیوں کو کم کرتے ہوئیاور وقت کو سمیٹتے ہوئے ڈھلتا جارہا ہے؟ کیونکہ وہ (سورج) دوبارہ واپس نہیں آئے گا‘‘۔[دروس الشیخ عائض القرنی:۲۱]
    (۳) لوگوں سے زیادہ میل جول نہ رکھیں (سوائے ضرورت کے تحت): اگرچہ سماجی تعلقات اہم ہیں، لیکن بے جا اور غیر ضروری میل جول اکثر دلوں میں کدورت، حسد، غیبت اور وقت کا ضیاع بن جاتا ہے، لوگوں سے تعلقات ضرورت کے تحت رکھیں، جہاں اخلاق، بھلائی اور نیکی مقصود ہو، زیادہ لوگوں سے وابستگی زیادہ امیدیں پیدا کرتی ہیں، جو اکثر ٹوٹنے پر تکلیف کا باعث بنتی ہے، اس لیے اپنے حلقہ احباب کو محدود اور معیاری رکھیں۔
    اسی وجہ سے سلف صالحین تنہائی اور قلت اختلاط کو پسند فرماتے تھے اور اس کی کثرت سے اجتناب کرتے تھے، بلکہ اس پر مستقل کتابیں بھی تصنیف فرمائی جن میں مشہور کتاب امام خطابی رحمہ اللہ کی’’کتاب العزلۃ‘‘ہے۔
    وہیب بن الورد فرماتے ہیں:’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے دس حصے ہیں:ان میں سے نو حصے خاموشی میں ہیں، اور دسواں حصہ لوگوں سے علیحدگی میں ہے‘‘۔[العزلۃ للخطابی:ص:۱۸]
    امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عزلت کا مطلب ہے بیکار لوگوں کی صحبت سے دور رہنا اور ایسی زیادتی سے بچنا جس کی آپ کو ضرورت نہیں‘‘۔[العزلۃ للخطابی :ص:۱۳]
    (۴) اپنے آپ کو لوگوں کا عادی نہ بنائیں اور جلدی اعتماد نہ کریں: اپنی خوشی اور سکون کو لوگوں کی موجودگی یا ان کی تعریف پر منحصر نہ کریں، خود کفیل بنیں اور اپنی خوشی کا ذریعہ اپنے اندر تلاش کریں، لوگوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنا اور جلدی اعتماد کرنا، بالخصوص ان کی نیتوں کو سمجھے بغیر اکثر مایوسی اور دھوکے کا باعث بنتا ہے۔انسان کی فطرت میں تبدیلی ہے، اس لیے کسی پر بھی مکمل بھروسہ کرنے سے پہلے خوب پرکھ لیں۔
    اسی وجہ سے قرآن مجید نے ہمیں کسی کے قول پر اعتماد کرنے پہلے تحقیق و تفتیش کا حکم دیا ہے، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: {يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنْ جَآء َكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُـوٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَـةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْـتُـمْ نَادِمِيْنَ} [الحجرات :۶] ’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو‘‘۔
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر بے بنیاد بات پر اعتماد کرنے سے پہلے تحقیق و تصدیق کا حکم دیا ہے تاکہ اگر بات جھوٹی ثابت ہوئی تو ہم کسی کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچائیں اور بعد میں افسوس نہ کریں، چونکہ دوسروں کی حفاظت کے لیے ہمیں تحقیق کرنی چاہیے، تو اپنے نفس کو بھی دھوکہ اور تکلیف سے بچانے کے لیے ہر شخص کی بات پر بغیر تحقیق اعتبار کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ’’النفس أولی بالترحم‘‘یعنی اپنے نفس پر رحم کرنا سب سے اول اور اہم ہے۔
    (۵) گھر والوں کے ساتھ تعلق بہتر بنائیں: آپ کا سب سے قریبی تعلقات آپ کے گھر والوں کے ساتھ ہوتا ہے، ان کے ساتھ اپنا رویہ نرم، محبت بھرا اور احسان مندانہ رکھیں، گھر کا ماحول پرسکون اور خوشگوار ہو تو باہر کی دنیا کی پریشانیاں بھی کم محسوس ہوتی ہیں، یہ تعلقات ہی مشکل وقت میں آپ کا سب سے بڑا سہارا ہوتے ہیں، رشتوں میں دوریاں اکثر ذہنی سکون چھین لیتی ہیں، لہٰذا ان کی قدر کریں، رسولِ اکرم ﷺنے اُس شخص کو کامل ایمان والا قرار دیا جس کا رویہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک پر مبنی ہو، چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’أكملُ المؤمنين إيمانًا أحسنُهم خُلقًا وخيارُكم خيارُكم لأهلِه‘‘ ۔’’ایمان والوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں، اور تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرتا ہو‘‘۔[ابو داؤد:۲۶۸۲،حسن صحیح]
    (۶) شکر گزاری اور قناعت اپنائیں: اپنی زندگی میں موجود نعمتوں پر شکر ادا کریں، جو کچھ آپ کے پاس ہے، اس پر شکر گزار رہیں اور مزید کی لالچ میں بے چین نہ ہوں، قناعت (جو ملا ہے اس پر راضی رہنا) دل کو ایک ایسا سکون دیتا ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی، دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ بے سکونی کا ایک بڑا سبب ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ شکر گزاری کی ترغیب اور ناشکری پر وعید سناتے ہوئے فرماتے ہیں: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} [ ابراھیم : ۷] ’’اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقینا سخت ہے‘‘۔
    (۷) اپنی صحت کاخیال رکھیں: جسمانی اور ذہنی صحت کے بغیر حقیقی سکون ممکن نہیں، اچھی غذا کھائیں، باقاعدگی سے اور مناسب نیند لیں، جب آپ کا جسم اور دماغ صحت مند ہوگا، تو آپ زندگی کے چیلنجز کا سامنا بہتر طریقے سے کرسکیں گے اور زیادہ پرسکون محسوس کریں گے۔
    پس صحت بھی ایک عظیم نعمت ہے، جیسا کہ میں نے وقت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک حدیث نقل کی تھی، جس سے نہ صرف وقت بلکہ صحت کی قدر و قیمت بھی ظاہر ہوتی ہے، اس کی مزید تفصیل اوپر ذکر کی جاچکی ہے۔
    اس کے علاوہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺنے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’
    ’’اغتنِمْ خمسًا قبل خمسٍ :شبابَك قبل هَرَمِك، وصِحَّتَك قبل سَقَمِك، وغناك قبل فقرِك، وفراغَك قبل شُغلِك، وحياتَك قبل موتِك‘‘۔
    ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے آنے سے پہلے غنیمت جانو:اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے، اپنی دولت کو محتاجی سے پہلے، اپنی فرصت کو مصروفیت سے پہلے، اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے‘‘۔
    [المستدرک علی الصحیحین للحاکم:۷۸۴۶، صحیح الترغیب:۳۳۵۵]
    یہ حدیث ہمیں زندگی کے قیمتی لمحات کی قدر کرنے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتی ہے، قبل اس کے کہ یہ نعمتیں ہم سے چھن جائیں، خصوصا صحت کی کیونکہ ان تمام نعمتوں کا انحصار اسی پر ہے کیونکہ جب صحت ہوگی تب انسان بقیہ امور انجام دے سکتا ہے۔
    (۸) اللہ پر مکمل بھروسہ اور توکل رکھیں: یقین رکھیں کہ آپ کی ہر مشکل اور پریشانی پر اللہ قادر ہے، اس پر مکمل توکل کریں اور اپنے معاملات اس کے سپرد کریں، جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ اللہ ہر چیز کا مالک ہے اور وہ اس کے لیے بہترین فیصلہ کرے گا، تو اس کے دل سے خوف اور بے چینی ختم ہوجاتی ہے اور اسے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر توکل اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّـٰهِ فَهُوَ حَسْبُه} [الطلاق:۳]’’ا اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے سو وہی اس کو کافی ہے‘‘۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَي اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا‘‘۔
    ’’اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے بھروسا کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں بھی اسی طرح رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتے ہیں‘‘۔
    [سنن ترمذی:۲۳۴۴، صحیح]
    (۹) دعا اور استغفار کا اہتمام : دعا اور استغفار اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے اور سکون حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں، جب انسان دعا کرتا ہے تو وہ اپنی حاجتیں، پریشانیاں اور امیدیں اپنے رب کے سامنے پیش کرتا ہے، جس سے اسے دلی سکون ملتا ہے، اسی طرح استغفار کے ذریعے انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، جو روح کو پاکیزگی بخشتا ہے اور اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، یہ دونوں عمل انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں اور اس کی زندگی میں برکت اور اطمینان کا باعث بنتے ہیں۔
    دعا ایک ایسی عبادت ہے جو اللہ کو نہایت پسند ہے، خود اللہ پاک رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ} [ البقرۃ : ۱۸۶]
    ’’اور جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں (تو کہہ دو) بیشک میں قریب ہوں، جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک راستہ پائیں‘‘۔
    اور احادیث میں تو کثرت سے رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگنے کی فضیلت بیان کی جیسا کہ آپ صحاح ستہ اور دیگر کتب میں مستقل ابواب کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔اور استغفار کو لازم پکڑنے کے متعلق قرآن مجید نے متعدد مقامات پر مختلف انداز میں ترغیب دی چنانچہ ایک مقام پر نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کو کہتے ہوئے اِرشاد فرمایا: {فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا} [سورۃ نوح :۱۰]’’اورمیں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے‘‘۔
    خود رسول اللہ ﷺ جیسے خیر البشر، اور معصوم عن الخطا، جیسی مقدس ہستی کا حال یہ تھا کہ آپ ﷺ دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کرتے تھے۔
    (۱۰) ماضی اور مستقبل کی فکرچھوڑیں : انسان کا ماضی گزر چکا ہے اور مستقبل ابھی آیا نہیں ہے، اگر ہم اپنا زیادہ تر وقت ماضی کی غلطیوں پر پچھتانے یا مستقبل کی پریشانیوں کے بارے میں سوچنے میں گزاریں گے تو ہم اپنے حال کو بہتر نہیں بنا پائیں گے، اسلام ہمیں اعتماد باللہ اور توکل کا درس دیتا ہے، ماضی سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے لیکن اس میں قید ہو جانا غلط ہے، اسی طرح مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے مگر اس کی بے جا فکر میں گم رہنا نقصان دہ ہے، ہمیں اپنے حال پر توجہ دینا چاہیے، اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے اور باقی معاملات اللہ کے سپرد کر دینا چاہیے، یہی حقیقی سکون ہے۔
    چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ہمیں اس باب کی بہترین مثال ملتی ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: {لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَيٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [الحدید:۲۳]’’تاکہ جو تم سے فوت ہوگیا ہو اس کا غم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو، اور اللہ کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا‘‘۔
    اسی طرح رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    ’’الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَي اللَّهِ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَي مَا يَنْفَعُكَ وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْء ٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاء َ فَعَلَ فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ‘‘۔
    ’’طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے، جبکہ خیر دونوں میں (موجود)ہے۔ جس چیز سے تمہیں (حقیقی)نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو (مایوس ہو کر نہ بیٹھ)جاؤ، اگر تمہیں کوئی (نقصان)پہنچے تو یہ نہ کہو:کاش! میں (اس طرح)کرتا تو ایسا ایسا ہوتا، بلکہ یہ کہو:(یہ)اللہ کی تقدیر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے،اس لیے کہ (حسرت کرتے ہوئے)کاش (کہنا)شیطان کے عمل (کے دروازے)کو کھول دیتا ہے‘‘۔
    [صحیح مسلم :۲۶۶۴]
    اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ماضی پر افسوس کرنے سے منع فرمایا اور اس کو شیطانی اعمال کے دروازے کھولنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
    خلاصۂ کلام: اٹل حقیقت ہے کہ حقیقی سکون مال، شہرت یا دنیاوی چیزوں سے نہیں، بلکہ یہ سب عارضی اور زوال پزیر ہوتے ہیں، مگر اللہ سے تعلق، اس کے ذکر اور سنتِ نبوی ﷺپر عمل سے دائمی اور لازوال سکون حاصل ہوتا ہے، زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے یہ دس اصول اپنائیں جن کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے مختصر طور پر ان کا اعادہ کرلیتے ہیں :
    ٭ مقصدِ حیات کو پہچانیں اوراللہ کی عبادت و رضا کو مقصد بنائیں۔
    ٭ فارغ نہ رہیں بلکہ علم، قرآن اور نیک کاموں میں مصروف رہیں۔
    ٭ میل جول محدود رکھیں تاکہ آپ وقت اور دل کی حفاظت کرسکیں۔
    ٭ لوگوں پر جلدی اعتماد نہ کریں بلکہ محتاط رہیں اور تحقیق کریں۔
    ٭ گھر والوں سے حسنِ سلوک کریں کیونکہ سکون کا اصل ذریعہ یہی ہیں۔
    ٭ شکر اور قناعت اپنائیں، اس سے دل مطمئن رہے گا۔
    ٭ صحت کا خیال رکھیں جو جسمانی و ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے۔
    ٭ اللہ پر توکل کریں، وہ آپ کے لیے کافی ہے۔
    ٭ دعا اور استغفار کا اہتمام کریں ،اس سے دل صاف اور سکون یافتہ رہے گا۔
    ٭ ماضی و مستقبل کی فکر چھوڑیں، حال کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگیں۔
    ٭ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ہمیشہ ملحوظِ نظر رکھیں:
    {اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ}

    [ الرعد :۲۸]
    ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے، خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں‘‘۔
    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی و دائمی سکون عطا کرے اور قرآن و سنت کا متبع بنائے۔آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings