-
اسلام کی امتیازی خوبیاں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان بنایا اور دینِ حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، کیونکہ دینِ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اس کے سوا جتنے بھی مذاہب دنیا میں رائج ہیں، وہ سب باطل اور گمراہی پر مبنی ہیں، جو لوگ دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین یا مذہب کے پیروکار ہیں، ان کی دنیوی زندگی خسارے میں ہے اور آخرت میں تو وہ یقینا کھلے خسارے کا شکار ہوں گے، ایسے لوگوں کے حصے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ} [سورۃ العنکبوت:۵۲]’’اور جو لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کا انکار کرتے ہیں، وہی درحقیقت گھاٹے میں ہیں‘‘۔
دینِ اسلام اللہ تعالیٰ کا وہ پسندیدہ دین ہے جو انسانی فطرت سے مکمل ہم آہنگ ہے، اس کی تمام تعلیمات، خواہ وہ عبادات سے متعلق ہوں یا عقائد، معاملات یا اخلاق سے، فطری تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔
جب ہم اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو روزِ روشن کی طرح یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام اپنی فطری خوبیوں کے سبب ابتدا ہی سے ترقی کی راہ پر گامزن رہا ہے۔
اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے، اُسے بندگی اور عبدیت کا شعور عطا کرتا ہے، اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے، یہ دین ہر زمانے، ہر قوم اور ہر طبقے کے لیے یکساں طور پر ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہے۔
اسلام کی اشاعت میں اس کی بلند اخلاقی تعلیمات اور روحانی خوبیوں کا گہرا اثر رہا ہے، جب بھی باطل طاقتوں نے چہرۂ اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی، تو اس کی روشن تعلیمات ہی ان کے لیے حجت بن کر سامنے آئیں اور ان کی سازشوں کو ناکام و نامراد کر دیا۔
اب اسلام کی چند امتیازی خوبیوں کو ملاحظہ فرمائیں، تاکہ ان شبہات کا ازالہ کیا جاسکے جو آج اسلام کے خلاف مختلف انداز سے پھیلائے جارہے ہیں :
باسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، بندۂ مومن اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہیں کرتا، بلکہ وہ اللہ وحدہ لاشریک پر مکمل بھروسہ کرتا ہے اور اسی سے لو لگاتا ہے، اسی سے خوف کھاتا ہے اور اس کے تعلق سے یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ تنہا وہی نفع و نقصان کا مالک ہے، اور نہ کوئی نبی، نہ ولی اور نہ ہی کوئی بزرگ فقیر اس کاساجھی دار ہے۔
اللہ کا فرمان ہے:{وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللّٰهِ أَحَدًا}[سورۃ الجن:۱۸]’’اور یہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو‘‘۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: {فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء َ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا}[سورۃ الکہف:۱۱۰]’’تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘۔
رسولﷺنے فرمایا:’’مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللّٰهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‘‘۔[صحیح بخاری :۱۲۳۷]’’میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالی کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا‘‘۔
ایک توحید پرست انسان سب سے زیادہ امانت دار، سب سے زیادہ پرسکون، باسعادت اور باشجاعت ہوتا ہے، کیونکہ اسلام انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے آزادی دیتا ہے۔
(۲) اسلام تمام انبیاء و رسل اور قرآن کی جانب سے سبھی مصدقہ آسمانی کتابوں پر ایمان کی تعلیم دیتا ہے:
یہ ایمان کا ایک رکن ہے نیز اسلام تمام انبیاء کو اوصاف جمیلہ و اخلاق حمیدہ سے متصف کرتا ہے، انہیں ہر برائی سے پاک اور معصوم بتاتا ہے، جیسا کہ قرآن نے مریم علیہ السلام کا قصہ اور عیسی علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ انتہائی حیا دار اسلوب اور بڑے ادبی انداز میں بیان کیا ہے، اللہ کا ارشاد ہے: {قَالَتْ رَبِّ أَنَّيٰ يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَائُ إِذَا قَضَيٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ} [سورۃ آل عمران:۴۷] ’’کہنے لگیں الٰہی مجھے لڑکا کیسے ہوگا ؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے ہوجا!تو وہ ہوجاتا ہے‘‘۔
قرآن کریم اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے، اللہ کا فرمان ہے: {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ}[سورۃ البقرۃ:۲۸۵] ’’رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے‘‘۔
قرآن مجید کو اللہ نے تمام آسمانی کتابوں پر غلبہ عطا کیا ہے، لہٰذا یہ آخری آسمانی کتاب سب سے افضل، سب سے اعظم اور سب سے زیادہ محیط ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ} [سورۃ المائدہ:۴۸] ’’اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے‘‘۔
(۳) اسلام توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ پر ابھارتا ہے :
اللہ کی رحمت بڑی وسیع اور اس کی مغفرت بہت عظیم ہے، اس کے ذریعے سے جنت تک رسائی آسان ہے انسان کتنی بھی غلطیاں کرلے توبہ کرنے پر اللہ اسے بخش دیتا ہے، اپنے رب سے توبہ و استغفار کے لیے کسی بھی وسیلے کی ضرورت نہیں ہے، بندہ کسی بھی وقت کتنا بھی دستِ سوال دراز کرے اس کی متعین کی ہوئی کوئی حد نہیں ہے، اللہ ہر وقت توبہ قبول کرتا ہے، اور توبہ کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے، اللہ کا ارشاد ہے: {إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ} [سورۃ البقرۃ:۲۲۲]
ترجمہ:’’اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘۔
رسول اللہﷺنے فرمایا:’’اللہ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا وہ اونٹ اچانک مل جائے جسے وہ بے آب و گیاہ چٹیل میدان میں گم کر بیٹھا ہو‘‘۔[صحیح بخاری:۶۳۰۹]
(۴) اسلام نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہے:
اسلام نے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے، اور اس کے برعکس قطع رحمی کو نہایت سنگین گناہ شمار کیا ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ،أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَيٰ أَبْصَارَهُمْ}[سورۃ محمد: ۲۲-۲۳] ’’اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کردو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو، یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے‘‘۔
اس کی تائید نبی کریم ﷺکی ایک سخت وعید سے ہوتی ہے، حدیث میں رسول ﷺنے فرمایا: ’’لاَ يَدْخُلُ الجَنَّةَ قَاطِعٌ‘‘۔[صحیح بخاری:۵۹۸۴]
’’قطعی رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا‘‘۔
ایسی واضح ہدایات کی موجودگی میں، ایک سچے مسلمان کا رویّہ وہی ہونا چاہیے جو اسلام نے مقرر فرمایا ہے:صلہ رحمی، نرم خوئی اور حسنِ سلوک۔
اللہ کا فرمان ہے: {وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَيٰ وَالْيَتَامَيٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا} [سورۃ البقرۃ:۸۳]
’’اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسی طرح قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا‘‘۔
یہی تعلیمات اسلام کی انسان دوست فطرت، اس کے رحم و عدل کے مزاج اور معاشرتی اصلاح کے جامع نظام کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
(۵) اسلام محبت و الفت کا دین ہے:
اسلام اللہ کی خاطر محبت کرنے پر مسلمانوں کو ابھارتا ہے، اور محبت اسلام کی نظر میں ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے ایک مومن اپنے رب کا تقرب حاصل کرتا ہے، بلکہ یہ محبت ایمان کی مضبوط رسی ہے اور بندوں کے لیے حب الٰہی کا ذریعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’ایمان کا کون سا کڑا (یعنی نیک عمل) زیادہ مضبوط ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺنے فرمایا:’’اللہ کے لئے دوستی کرنا، اللہ کے لیے دشمنی کرنا، اللہ کے لیے محبت کرنا اور اللہ کے لیے بغض رکھنا‘‘۔[سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی:۱۷۲۸]
(۶) اسلام ایک اعتدال پسند دین ہے:
بعض ادیان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ عبادت و روحانیت کے باب میں غلو کا شکار ہیں، نفس کو دنیاوی ضرورتوں سے محروم رکھتے ہیں اور انسانی فطرت سے پورے طور پر متصادم نظر آتے ہیں، دوسری طرف بعض ادیان کا حال یہ ہے کہ وہاں جسم و نفس کی چاہت بے لگام ہے نفس کی تربیت و طہارت سے یکسر اعراض ہے آخرت اور اخروی کاموں سے چشم پوشی ہے جبکہ اسلام کی خوبی یہ ہے کہ یہ روح کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے ساتھ ہی جسم بدن کا پورا حق فراہم کرتا ہے رسولﷺنے فرمایا:’’روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو، رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی، کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے ، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے‘‘۔[صحیح بخاری]
اس کے علاوہ اسلام دیگر تمام ادیان کے احترام کی تعلیم دیتا ہے اپنی خوبیوں سے لوگوں کو آشکار کرتا ہے اور کسی بھی مذہب پر سب و ستم اور اس کے استہزا سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُونَ مِن دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَيٰ رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [سورۃ الانعام:۱۰۸]
’’اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ جاہلانہ ضد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وہ ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی کیا کرتے تھے‘‘۔
خلاصہ اور مقصد: میں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام کی خوبیوں کا ایک مختصر سا خاکہ پیش کیا ہے، مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اس سچے دین کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرکے اس میں پورے کا پورا داخل ہوجائے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِين}
[سورۃ البقرۃ:۲۰۸]
’’ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔
یقینا اسلام اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ دنیا کا واحد ترین مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو انسانیت اور رحم و کرم کا ایسا عظیم درس دیا ہے جس کی نظیر کسی قوم اور کسی مذہب میں نہیں ملتی، دین اسلام کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس نتیجے پر ضرور پہنچے گا کہ مذہب اسلام رحم و کرم کا پیکر ہے اور صبر و تحمل، عفو درگزر ،شفقت و رحمت اورصلح و صفائی جیسے کریمانہ اور شریفانہ اخلاق کی تعلیم دے کر اس نے انسانیت کی تکمیل کی ہے، اور ان تمام خوبیوں میں سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ آج کے دور میں جو لوگ اسلام لارہے ہیں وہ اسلام کی حقانیت کے سبب لارہے ہیں، مسلمانوں کے کردار کا اس میں کم دخل ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے وہ ہمیں اسلام کی خوبیوں کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یارب العالمین