-
نمازِ فجر:دنیوی و اخروی کامیابی کا سرچشمہ دینِ اسلام میں نماز کو توحید کے بعد تمام عبادات پر فضیلت و برتری حاصل ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز کے طور پر منتخب فرمایا ہے، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا:
’’إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكَ الصَّلَاةِ‘‘۔
’’بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک ہے‘‘۔
[صحیح مسلم:۸۲]
بے شک نماز دینِ اسلام کا ستون اور اس کا بنیادی ڈھانچہ ہے، پس جب ستون گرجائے تو دین بھی ڈھے جاتا ہے، لہٰذا جو شخص نماز ادا نہیں کرتا، گویا کہ اس کا کوئی دین نہیں۔
اور تمام نمازوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر ان نمازوں میں سے فجر کی نماز کو خصوصی اجر، عظیم فضیلت اور بے پناہ ثواب سے نوازا گیا ہے، پس فجر کی نماز ایمان کی پرکھ اور اللہ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے اور اطاعت کی علامت ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نمازِ فجر کی اہمیت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
{أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَيٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
[الاسراء:۷۸]
’’آپ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجئے اور فجر کے وقت قرآن (پڑھنے کا التزام کیجئے) یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا‘‘۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’آیت میں ’’قرآنِ فجر‘‘سے مراد نماز فجر ہے‘‘۔
(تفسیر قرطبی، مذکورہ آیت کی تفسیر)
شریعت نے نمازِ فجر کی پابندی پر ایسے اجر و ثواب مقرر کئے ہیں جو نمازِ فجر کی بہ نسبت دیگر نمازوں کو حاصل نہیں، پس نمازِ فجر کا پابند شخص فضیلتوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے :
(۱) فرشتے بارگاہِ الٰہی میں اس کے حق میں خیر کی گواہی دیتے ہیں:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ، فَيَقُول: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي، فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ‘‘۔
’’یکے بعد دیگرے تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے آتے رہتے ہیں اور یہ عصر اور فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اوپر چڑھتے ہیں، جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہوتی ہے، پھر اللہ تمہارے بارے میں ان سے پوچھتا ہے حالانکہ اسے تمہاری خوب خبر ہے، پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔
[صحیح البخاری:۷۴۲۹]
(۲) وہ سارا دن اللہ کی حفاظت اور اس کی ضمانت میں رہتا ہے :
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:
’’مَنْ صَلَّي الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللّٰهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْء ٍ، فَيُدْرِكَهُ، فَيَكُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ‘‘۔
’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری (امان) میں ہے، تو ایسانہ ہو کہ (ایسے شخص کو کسی طرح نقصان پہنچانے کی بنا پر) اللہ تعالیٰ تم (میں سے کسی شخص) سے اپنے ذمے کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ کرے، پھر وہ اسے پکڑ لے، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے‘‘۔
[صحیح مسلم:۶۵۷]
(۳) اسے پوری رات قیام کے برابر ثواب ملتا ہے :
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ:
’’مَنْ صَلَّي الْعِشَاء َ فِي جَمَاعَةٍ، فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّي الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَكَأَنَّمَا صَلَّي اللَّيْلَ كُلَّهُ‘‘۔
’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو گویا اس نے آدھی رات کا قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز (بھی) جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے ساری رات نماز پڑھی‘‘۔
[صحیح مسلم:۶۵۶]
(۴) اسے دنیا اور اس کی ساری متاع سے بہتر چیز بخشی جائے گی :
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’رَكْعَتَا الْفَجْرِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا‘‘۔ ’’فجر کی دو رکعتیں دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے، اس سے بہتر ہیں‘‘۔[صحیح مسلم:۷۲۵]
(۵) اسے اللہ عزوجل کا دیدار نصیب ہوگا :
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ ہم نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر تھے آپ ﷺنے چاند کی طرف نظر اٹھائی جو چودھویں رات کا تھا، پھر فرمایا کہ:
’’أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا، لَا تُضَامُّونَ أَوْ لَا تُضَاهُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَي صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَالَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا}
[طہ:۱۳۰]
’’تم لوگ بے ٹوک اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو (اسے دیکھنے میں تم کو کسی قسم کی بھی مزاحمت نہ ہوگی) یا یہ فرمایا کہ تمہیں اس کے دیدار میں مطلق شبہ نہ ہوگا اس لیے اگر تم سے سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے (فجر اور عصر) کی نمازوں کے پڑھنے میں کوتاہی نہ ہوسکے تو ایسا ضرور کرو (کیونکہ انہی کے طفیل دیدار الٰہی نصیب ہوگا یا انہی وقتوں میں یہ رؤیت ملے گی) پھر آپﷺنے یہ آیت تلاوت فرمائی:{وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} پس اپنے رب کے حمد کی تسبیح پڑھ سورج کے نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے‘‘۔
[صحیح البخاری: ۵۷۳]
(۶) روزِ قیامت اسے کامل روشنی عطا کی جائے گی :
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ’’بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَي الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ‘‘۔
’’اندھیری راتوں میں مسجدوں کی طرف چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوشخبری دے دو‘‘۔
[سنن أبی داؤد:۵۶۲، صححہ الألبانی]
(۷) نمازِ فجر اسے جنت میں دخول کی ضمانت دیتی ہے :
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’مَنْ صَلَّي الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ‘‘ ۔
’’جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں (وقت پر) پڑھیں (فجر اور عصر) تو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔
[صحیح البخاری:۵۷۴]
(۸) نمازِ فجر اسے جہنم سے نجات کی ضمانت دیتی ہے :
سیدنا عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا :
’’لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّي، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، يَعْنِي الْفَجْرَ، وَالْعَصْرَ‘‘۔
’’وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہوگا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے یعنی فجر اور عصر کی نمازیں‘‘۔
[صحیح مسلم:۶۳۴]
سلفِ صالحین کے نزدیک نمازِ فجر کی باجماعت ادائیگی کی اہمیت :
(۱) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’لَأنْ أَشْهَدَ صَلاةَ الصُّبْحِ فى الجماعةِ أحبُّ إِلَيَّ من أنْ أَقُومَ ليلةً‘‘۔
’’میرے نزدیک باجماعت نمازِ فجر میں شریک ہونا، پوری رات قیام کرنے (عبادت کرنے) سے زیادہ محبوب ہے‘‘۔
[صحیح الترغیب (۴۲۳)، صحیح موقوف]
(۲) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:
’’كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الإِنْسَانَ فِي صَلاةِ الْعِشَاء الآخِرَةِ وَالصُّبْحِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ‘‘۔
’’جب ہم کسی شخص کو نماز عشاء اور فجر میں موجود نہ پاتے توہم اس کے بارے میں بُرا گمان کرتے (کہ وہ منافق ہوگیا ہے‘‘۔
[صحیح ابن خزیمۃ:۱۴۸۵، صحیح]
(۳) حارث بن حسان رضی اللہ عنہ نے ایک رات شادی کی، پھر نمازِ فجر کے لیے حاضر ہوئے، تو ان سے کہا گیا کہ: کیا آپ آج نمازِ فجر کے لیے باہر نکل رہے ہیں؟ حالانکہ آپ نے تو اسی رات اپنی بیوی سے نکاح کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:’’اللہ کی قسم! جو عورت مجھے صبح (فجر)کی نماز باجماعت پڑھنے سے روکے، وہ یقینابری عورت ہے‘‘۔[المعجم الکبیر للطبرانی: (۲۵۳؍۳)، حسن)]
(۴) سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا:‘’پچاس سالوں سے مجھے پہلی تکبیر سے محرومی نہیں ہوئی، اور پچاس سال سے میں نے نماز میں کسی آدمی کی پیٹھ نہیں دیکھی‘‘۔[وفیات الأعیان:۳۷۵؍۲]
(۵) قاضی ابن سماعۃ کہتے ہیں:’’چالیس سال تک مجھے پہلی تکبیر سے محرومی نہیں ہوئی، سوائے اس دن کے جس دن میری ماں کی وفات ہوئی‘‘۔[سیر أعلام النبلاء :۶۴۶؍۱۰]
نمازِ فجر کو ترک کرنے کے نقصانات :
(۱) نمازِ فجر سے سستی منافقت کی علامت ہے :
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَي الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَائِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا‘‘ ۔’’منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے (اور چل نہ سکتے) تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آتے‘‘۔[صحیح البخاری:۶۵۷، وصحیح مسلم:۶۵۱]
(۲) نمازِ فجر چھوڑنے والے پر شیطانی عمل :
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں حاضر خدمت تھا تو نبی کریم ﷺکے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر آیا، جو رات بھر دن چڑھے تک پڑا سوتا رہا ہو، آپﷺنے فرمایا کہ : ’’ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ أَوْ، قَالَ: فِي أُذُنِهِ‘‘ ۔’’یہ ایسا شخص ہے جس کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے‘‘۔
[صحیح البخاری:۳۲۷۰]
(۳) نمازِ فجر سے محرومی پورے دن کی تنگی اور ڈپریشن کا بنیادی سبب :
یقینا فجر کی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا انسان کی چستی کو بڑھاتا، نفس کو راحت بخشتا اور اسے تنگی، ڈپریشن اور سستی سے دور رکھتا ہے، اسی بارے میں صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَي قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ، إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ كُلَّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللّٰهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّي انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ‘‘۔
’’شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر نماز (فرض یا نفل) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے‘‘۔
[صحیح البخاری:۱۱۴۲]
اسی لیے اہلِ فجر (فجر کی نماز ادا کرنے والوں)کے چہرے روشن، پیشانیاں منور، نفس پاکیزہ، اعمال بابرکت اور اوقات مبارک ہوتے ہیں۔
نمازِ فجر گویا کہ سالانہ امتحان کی مانند ہے، اور دیگر نمازیں اس کے لیے تیاری کا درجہ رکھتی ہیں، یعنی نمازِ فجر ہی اصل امتحان ہے، جس نے اس میں شرکت کی وہ کامیاب و کامران ہوا، اور جس نے اس سے غفلت برتی وہ ناکام و نامراد اور خسارہ پانے والوں میں سے ہوا، بالکل اسی طرح جیسے کوئی طالب علم پورے سال حاضر رہے لیکن آخر میں امتحان سے غیر حاضر ہوجائے تو وہ ناکام شمار ہوتا ہے۔
جان لیجیے! اگر نیند میں لذت، راحت اور مٹھاس ہے، تو پھر نمازِ فجر کی لذت، راحت اور مٹھاس کا کیا ہی کہنا!
اللہ ہم سبھی کو نمازِ فجر اور دیگر نمازوں کو ان کے مقرر کردہ اوقات میں پڑھنے کا پابند بنائے۔آمین یا رب العالمین