Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ

    شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ کی تصنیفی خدمات اور ان کا منہج
    (دوسری قسط)
    ان کی زندگی کادوسرا مرحلہ: جب ان کا شہرہ ہوا،توایک واقعہ پیش آتاہے ۶۹۳؁ھ میں عساف نام کا ایک عیسائی تھا (۱)،ا س نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی ،ابن تیمیہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں اس کے پاس گئے اور اسے زد وکوب کرنے کی کوشش کی ، پھر اس وقت کی حکومت نے ابن تیمیہ اور ان کے ساتھی کو پکڑااور کہا کہ یہ کیا کررہے ہو ، اس نے کیا غلطی کی ہے،پھر اس واقعہ سے متاثر ہوکرکے انہوں نے جو سب سے پہلی اور مشہور کتاب لکھی ہے وہ ’’الصارم المسلول‘‘ ہے ۔یہ اپنے موضوع پر بے نظیر کتاب ہے ، اب الحمد للہ اس کاترجمہ بھی شائع ہوگیاہے۔(۲)۔شیخ الاسلام نے اس میں یہ کیاہے کہ صحابہ سے لے کر اپنے زمانہ کے علماء کے اتنے نقول ذکر کئے ہیں کہ انہوں نے اس میں ایک اجماعی چیز بتائی ہے،کہ ایسے شاتم رسول کی سزا اسے سفر آخرت پر روانہ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔بعد میں جس جس نے بھی اس موضوع پرکوئی کتاب لکھی سبھوں نے اس سے استفادہ کیاہے۔ان کے زمانہ میں ایک صاحب تقی الدین سبکی بھی تھے، جو ان کے مخالف بھی تھے(۳)، انہوں نے بھی السیف المسلول لکھی جو تقریباًاسی کتاب کاچربا ہے،تو یہ کتاب ابن تیمیہ نے ۶۹۳؁ھ میں لکھی ،پانچ سال کے بعد ایک استفتاء حماء ایک شہر ہے سیریاکے اندر (۴)،وہاں سے آیا کہ صفات کے باب میں کیا عقیدہ رکھنا چاہیے،عام طور پر اشاعرہ ان سب کی تاویل کرتے ہیں ، پھر ابن تیمیہ نے بیان کیا کہ صفات سے متعلق جو آیات و احادیث ہیں ،ان سے متعلق یہ عقیدہ رکھنا ہوگا کہ ان سب کو حقیقت پر محمول کیاجائے ،اور یہی اہل سنت والجماعت کامنہج ہے ۔پھر اس سلسلہ میں انہوں نے فقہاء و محدثین کے کئی ایک نقول بیان کئے یہاں تک کہ صوفیہ کے بھی،آپ پڑھیں گے تو حیران رہ جائیں گے کہ انہوں نے اتنے سارے اقتباسات کہاں سے نقل کردیئے۔اب اس فتویٰ پر ہنگامہ شروع ہوا کہ ان کا عقیدہ تو بہت خراب ہے او راشاعرہ نے پورا ہنگامہ کیا،یہ ۶۹۸؁ھ کی بات ہے۔جب بھی اس پریا کسی مسئلہ پر مجلس منعقد کی گئی تو ابن تیمیہ ان پر غالب رہتے تھے ،اسی دوران رضی الدین واسطی(۵) کے مطالبہ پر انہوںنے ۶۹۸؁ھ یا ۶۹۹؁ھ ’’واسطیہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ۔ان دونوں کتابوں کا اثر یہ ہوا کہ جن لوگوںکامنہج اور عقیدہ وغیرہ اہل سنت سے بالکل الگ تھا ،ان لوگوں کے اندر بڑی کھلبلی مچی اور انہوں نے شیخ الاسلام کو ستانا شروع کیااور ان ستانے والوں میں فقہاء ومتکلمین بھی شامل تھے۔دو تین سال تک یہ سلسلہ چلا ، پھر اس کے بعد چار سال کاعرصہ اس میں ایسا گزرا کہ( ۶۹۹؁ھ سے ۷۰۳؁ھ) تاتاری یعنی مغول(۶) امڈ کر دمشق پر چلے آئے تھے،پھر اس میں ابن تیمیہ کابہت بڑا کردار رہا،جاکرکے ان سے ملے اور انہیں سمجھانے کی کوشش کی ،دیگر لوگ ڈرتے تھے لیکن ابن تیمیہ بڑی ہی جرأت کے ساتھ اسے سمجھاتے رہے یہاں تک کہ اس نے ابن تیمیہ سے متاثر ہوکر کہا کہ آپ ہمارے لیے دعا کردیجئے ،وہ بھی دعا کیا ایک طرح سے ان کے خلاف بددعا ہی کررہے تھے ، کہتے تھے’’اللہ جو مسلمانوں کا برا سمجھے ،تو اسے نیست و نابو دکردے اوروہ آمین آمین کہہ رہاہے،یہ حال تھا ابن تیمیہ کی جرأت وشجاعت اور بہادری کا،دوتین سال ان کے اس طرح گزرے کہ جس کے اندر انہوںنے لوگوں کو مقابلہ کے لیے تیا رکیا،اس بیچ میں انہوں نے ایک بار مصر کاسفر کیا،سفر کا مقصد وہاں کے لوگوںکو بھی تاتاریوں سے مقابلہ کے لیے تیار کرناتھا، وہاں آٹھ دن رہے ۔
    پھر جب یہ سلسلہ ختم ہواتو جو ابن تیمیہ کے مخالفین تھے وہ ان کے پیچھے پڑے اور انہوں نے ابن تیمیہ سے کہا کہ جو آپ نے عقائد اور دیگر مسائل میں فتنہ پیداکردیاہے ،ان سے آپ رجوع کیجئے ،انہوں نے کہا کہ میں کیا رجوع کروں ،پھر مجلسیں ہوئیں اور وہ ناکام ہوئے ،’’عقیدۂ واسطیہ‘‘ سے متعلق مناظرہ ہوا(۷)۔بنیادی طورپر صفات کا ہی مسئلہ تھاجس میں مخالفین کامیاب نہیں ہوئے ،اسی بیچ صوفیوں کے ایک گروپ نے کچھ فتنہ کھڑا کیا اور ان سے بھی مناظرہ ہوا اس مناظرے کی بھی تاریخ موجود ہے۔ ۷۰۵؁ھ میں واسطیہ کا بھی مناظرہ ہوا تھا۔یہ سارے واقعات دمشق میں زمانہ قیام تک کے واقعات ہیں،۷۰۵؁ھ میں رمضان کے اندر وہ مصر چلے جاتے ہیںاو ر وہاںپر بھی قضاۃکے ساتھ کافی بحث ومباحثہ ہوا،کافی مجلسیں منعقد ہوئیں ، آخر میں ان لوگوںنے کہا کہ آپ کے عقائد میں گڑبڑی ہے ، اللہ کے رسولﷺ کی شان میںیہ سب گستاخی ہے ،اور آپ کی وجہ سے کافی خلفشار بھی ہے ،مزید ان لوگوں نے کہا کہ آپ رہیں گے تو مسائل ہوں گے ،اس لیے ان کو جیل میں ڈال دیا ،چنانچہ ۷۰۵؁ھ سے لے کر ۷۰۹؁ھ تک وہ جیل میں رہے ۔پھر وہ جیل سے نکالے گئے ،اس کے بعدصوفیوں سے مسئلہ شروع ہوا،ابن عربی اور وحدۃالوجود کے قائلین کے خلاف فتوے دیئے اور جب لوگوں نے ان سے پوچھا تو پوری وضاحت کے ساتھ کہا کہ یہ الحاد ،زندیقیت اور کفر ہے ،ایک جگہ وحدۃ الوجود کے قائلین پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں،ایک زمانہ تھامیں ابن عربی کا بڑا معتقد تھا،لیکن جب میں نے فصول الحکم (۸)پڑھی ہے ،فرعون کے مومن ہونے کے بارے میں اور دوسرے الحاد و زندقہ کے بارے میں ، اس کے بعد انہوںنے فتویٰ دینا شروع کیا،اس زمانہ میں جو وہاں صوفیہ تھے اسکندری ،زین الدین ابن مخلوف،ان لوگوں نے ان کے خلاف پھر داروگیر شروع کی اور ان لوگوں نے کہا کہ ان کا قاہر ہ میں رہنا صحیح نہیں ہے،چنانچہ ان کو اسکندریہ بھیج دیا گیا،مگر اسکندریہ میں بھیجنے کانتیجہ ہوا کہ وہاں ان کی مقبولیت اور بڑھی،وہاں برج کے اندر وہ مقیم تھے ، لوگ آتے جاتے تھے اور ان سے سوالات بھی کرتے تھے ،بہت سی کتابیں بھی انہوںنے وہاں لکھیں ،تو اس طرح سے وہ ۷۰۵؁ ھ سے لے کر کے ۷۱۲؁ھ تک وہاں رہے ،گویا کہ سات سال تک وہ وہاں رہے ،رمضان میں گئے تھے اور ۷۱۳؁ھ میں ذی القعدہ کے اندر وہاں سے واپس ہوئے اور دمشق گئے ، ۷۱۲؁ھ سے لے کر کے ۷۲۸؁ھ تک جو تقریباً۱۶سال کا عرصہ ہے، اس دوران ابن قیم رحمہ اللہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہے ،جیل اور جیل کے باہر بھی ، وہاں بھی ان کے ساتھ بڑے مسائل اٹھے،خاص طور پر طلاق بالحلف یعنی اگر کسی نے یہ قسم کھالیا کہ میر ی بیوی نے فلاں کام کیاتو طلاق،تو کیایہ کفارہ دے کرکے بری ہوسکتاہے یا طلاق لازماً واقع ہوجائے گی،تو اس سلسلہ میں سارے فقہاء اس بات پر متفق تھے کہ طلاق واقع ہوجائے گی،لیکن ابن تیمیہ اس بات کے قائل تھے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی او ر کسی نے ایسا کیا تو کفارہ ادا کردے گا(۹)،پھر ابن تیمیہ سے کہا گیا کہ اس مسئلہ سے رجوع کیجئے پھر لوگ کہتے کہ اچھا اس طرح فتویٰ مت دیجئے ،وہ کہتے ٹھیک ہے ،لیکن پھر جب کوئی پوچھے گا تو پھر وہی جواب دوں گا،پھران کو پکڑ نے کا سلسلہ شروع کیاگیا،پھر جب جیل سے نکل گئے ،آخر میں ان کو کس بنیاد پر جیل میں ڈالا یہ جان کر کے بڑی حیرت لوگوں کو ہوگی،دس پندرہ سال پہلے انہوں نے ایک فتویٰ دیا تھا زیارت قبر نبوی (۱۰)سے متعلق اور اس میں شیخ الاسلام نے استغاثہ بالنبی کوجائز نہیں قرار دیاتھا اور قبر کے پاس جاکرکے وہاں دعا کرنا درست نہیں ہے ،اس سے متعلق جوفتویٰ دیاتھا وہ فتویٰ زیارت قبور کے نام سے بہت مشہورہے ،پھر اس پرانے فتویٰ کے حوالہ سے کہا گیا کہ یاتو اس سے رجوع کیجئے ،یہ رسول اللہ اور اولیاء کی شان میں بڑی بے ادبی کی بات ہے ،جب انہوں نے اس سے رجوع نہیں کیا تو دمشق کے اندر جیل میںڈال دیا گیا اور وہیں ۷۲۶؁ھ میں جیل میں ڈالے گئے اور دو سال کے بعد وہیں ۷۲۸؁ھ میںان کا انتقال ہوا(۱۱)۔
    تو ان کی زندگی میں اس طرح کے مراحل پیش آئے ،اب اندازہ لگائیے جس شخص نے ادھر سے ادھر آنے جانے میں ، بحث ومباحثہ میں،قید خانہ میںاپنی زندگی گزاری ہو ،یہاں تک کہ انہوں نے شادی بھی نہیں کی تھی ،بلکہ ان کی خدمت کرنے والوں میں ان کے بھائی وغیرہ تھے جو ان کو کھانا وغیرہ لاکر دیتے تھے،ان تمام کے باجود انہوںنے اتنا لکھا،اتنی تحریریں ان کی ہیں کہ آپ دنگ رہ جائیں گے ،وہ تحریریں بھی مختلف نوع کی ہیں ،کسی نے فتویٰ پوچھا تو جواب دیا ،کسی نے غوث، قطب اور ابدال کے بارے میں فتویٰ پوچھا ،مختصر سا استفتاہے دس آٹھ سطر کا ،اب جب وہ لکھنے بیٹھے تو الحمد للہ کے بعد بیس بائیس ورق لکھ گئے ،اس کے بعد ان کے حوالے کردیا ،وہ فتویٰ ابھی بھی ان کی تحریر کے ساتھ بخط مؤلف موجود ہے ،کسی بھی موضوع پرجب لکھنا شروع کرتے تو کئی کئی صفحات لکھ جاتے ، او راپنے شاگردوں کے حوالے کردیتے کہ انہیں نقل کرو ، بعض نقل کرتے اوربعض نہ نقل کرپاتے ، کیونکہ و ہ پڑ ھ ہی نہیں پاتے تھے ،ان کے سیرت نگار لکھتے ہیں:’’من حرصہم لایردون‘‘یعنی وہ پڑھ بھی نہیں پاتے اور کسی کو دیتے بھی نہیں صرف اس وجہ سے کہ ابن تیمیہ کی تحریر ہمارے پاس باقی رہ جائے ،لیکن بعد میں جب ان کی تحریروں کے مبیضات تیارکئے گئے ،خاص طور پر ایک صاحب ہیں ابن المحب کے نام سے(۱۲)،انہوں نے ان کی تحریروں کی بنیاد پر بہت سے نسخے نکالے ہیں ۔
    اس وقت دار الکتب الظاہریہ میں ان کی کئی تحریروں کے مسودات ہیں،ان میں چار مجموعوں کا میں ذکر کردیتا ہوں ، جس زمانہ میں میں نے ابن تیمیہ کی کتابوں کی تحقیق شروع کی تھی ،یہ سب موجود نہ تھیں اب’’الالوکۃ‘‘(۱۳)والوں نے ظاہریہ کے سارے مضامین ڈال دیئے ہیں ،تو ان میں چار مجموعے ایسے ہیں جو ابن تیمیہ کی تحریروں پر مشتمل ہیں ۔ ان میں۶۹،۹۱،۹۹،۱۰۹کا مجموعہ جن میں کچھ پڑھی جاتی ہیں او رکچھ نہیں ۔ان کو دیکھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان کی تحریریں کس طرح کی ہواکرتی تھیں اور کتنے سریع الکتابہ تھے ۔اسی طرح ایک مجموعہ اور بہت ضخیم ہے جو تقریباً۳۲۵ورق کا ہے، وہ پورا کا پورا انہی کے ہاتھ کا لکھا ہواہے۔وہ سب قواعد اور اصول وغیرہ کی چیزیں ہیں ۔تو اس طرح ان کی تحریریں بہت سی ہیں جو دمشق کے اندر موجود ہیں ۔ بعض دوسری لائبریریوں کے اندر بھی ہیں ۔اور ایک بڑا حصہ ان کی تصانیف کاضا ئع ہوگیا۔ان کی مفقود کتابوں کی تعداد زیادہ ہے،ان کی جتنی بڑی بڑی کتابیں تھیں یاتو وہ مفقود ہوگئیں یا ان کا بڑا حصہ مفقود ہوگیا،’’جواب الاعتراضات المصریۃ علی الفتوی الحمویۃ‘‘،یہ کسی کے جواب میں ہے، بتاتے ہیںیہ چار جلدوں میں ہے ،کچھ لوگ کہتے ہیں یہ چھ جلدوں میں تھی ،اس کے صرف دو ٹکڑے مجھے ملے جو ۲۰۰صفحات پر ہیں۔اگر پوری ملتی تو’’بیا ن تلبیس الجہمیۃ‘‘کی طرح دس بارہ جلدوں میں ہوتی ،اسی طرح جوان کی کتابیں مفقود ہیں ان میں ’’المحرر‘‘ ہے جو ان کے دادا مجد ابن تیمیہ کی ہے،اس کی شرح انہوں نے لکھی تھی وہ بھی پائی نہیں جاتی ،یہ شرح العمدہ جو چھپی ہے اس کا بھی دو تہائی حصہ مفقودہے ،ان کی مفقود کتابوں میں المحصل رازی کی ہے جس پر انہوں نے رد لکھا تھا ،اس کتاب کا ذکر خود امام ابن تیمیہ اپنی کتابوں میں کرتے ہیں ،اچھا جو کتابیں پہنچیں ہیں ان میں بھی نقص ہے، مثلاً ’’بیان تلبیس الجہمیۃ‘‘، ’’درء تعارض العقل والنقل‘‘ ہے ، اس میں بھی نقص ہے۔اچھا ایسا بھی ہوتاہے شیخ الاسلام کی کوئی کتاب کسی مجموعہ میں مکمل ہو اور کسی مجموعہ میں نقص ہو مثلاً’’رسالہ فی امر الہلال‘‘ ،چاند دیکھنے سے متعلق یہ رسالہ ہے ۔یہ رسالہ مجموعہ’’ رسائل الکبریٰ‘‘ میں ناقص چھپا ہواہے اور ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں مکمل ہے۔الاستغاثہ سے متعلق ایک رسالہ ہے ، مجموعہ’’ رسائل الکبریٰ ‘‘میں ناقص ہے اور ’’مجموع الفتاویٰ ‘‘میں مکمل چھپا ہواہے۔اس کے عکس بھی ہے مثلاً ’’الوصیۃ الکبریٰ‘‘ جو انہوں نے عدی ابن مسافر کو لکھا تھا ،’’مجموع الفتاویٰ‘‘ میں ناقص ہے اور الکبریٰ میں مکمل ہے۔اور بھی ایسی کتابیں ہیں، مثلاً ’’القواعد النورانیۃ الفقہیۃ‘‘ کے نام سے ہے، صاحب مجموع الفتاویٰ نے یہ کیا ہے کہ اس کو انہوںنے ٹکڑوںٹکروں میں تقسیم کردیا ہے جو جس مبحث سے متعلق تھا صوم ،صلاۃ،حج، زکوۃ اس کو وہاں ڈال دیا ہے،تو کہنا یہ ہے کہ ان کی تحریریں ایک بڑی تعداد میں ہیں ،ان کا آج تک کوئی صحیح شمار نہیں کرسکاہے۔امام ذہبی کہتے ہیں ،ان کی تین سو سے زائد کتابیں ہیں ۔کہیں کہتے ہیں کہ ان کی پانچ سوجلدیں بنیں گی،کہیں اس بھی زیادہ کہتے ہیں ۔ آج تک کسی مصنف نے اس سے زیادہ کتابیں نہیں لکھی ہیں ۔جن لوگوں نے ان کی کتابوں کی فہرست بنائی ہے ، ان میں سب سے پہلے جنہوں نے فہرست بنائی ہے ،ان میں ابن تیمیہ کے ایک شاگرد تھے ابو عبداللہ ابن رشیق ۷۴۹؁ھ میں ان کی وفات ہے ۔(۱۴)۔انہوں نے اسماء مؤلفات ابن تیمیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ۔یہ کتا ب غلطی سے ابن قیم کی طرف منسوب ہوگئی ۔ابوعبد اللہ ابن رشیق ابن تیمیہ کے پرسنل سکریٹری تھے ،بلکہ کہا جاتاہے’’ کا ن ابصر بخط الشیخ منہ‘‘کا مطلب ہے کہ ان کی کو سی تحریر کہاں ہے ؟ابن تیمیہ اپنے اسی شاگرد کو کہا کرتے تھے کہ فلاں تحریر کہاں ہے چنانچہ وہ تلاش کرکے لاتے تھے ۔تو ابن رشیق نے ان کی کتابوں کی پہلی فہرست بنائی تھی ،پھر اسی سے ابن عبد الھادی نے ’’العقود الدریہ‘‘ میں ان کی کتابوںکی ایک فہرست تیار کی(۱۵)،ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کوشش کروں گا کہ ان کتابوں کو تاریخی ترتیب پر مرتب کروں گا،پھر کون سی کتاب انہوں نے دمشق میں لکھی اور کون سی کتاب مصر میں لکھی ہے،لیکن شایدان کو موقع نہیں ملا ،ایک مصنف ہیں صلاح الدین صفدی ،انہوں نے الوافی بالوفیات میں کوشش کی ہے کہ ان کی تصانیف کو موضوعی اعتبار سے ترتیب دے دیں(۱۶)،عقیدہ ،تفسیر ،فقہ ،اصول ،انہوںنے اکثر کتابوں کے نام ذکر کئے ہیں ۔بعد میں جتنے لوگ بھی آئے ہیں ، انہوںنے انہی تینوں (ابن رشیق ،ابن عبدالہادی ، صلاح الدین صفدی )وغیرہم سے ہی استفادہ کیاہے۔جدید دور میں جن لوگوں نے فہر ست تیار کی ہے ان میں سب سے بے نظیر فہرست علامہ عطاء حنیف بھوجیانوی رحمہ اللہ کاہے،انہوں نے حیات شیخ الاسلا م ابن تیمیہ جو ابو زہرہ مصری کی کتاب ہے اس کا ترجمہ کروایاتھا ،تو اس ترجمہ کے اخیر میں ابن تیمیہ کی ساری کتابوں کی فہرست دی ہے(۱۷)،اور وہ موضوعات پر مرتب ہیں ،انہوں نے ساری کتابوں کی تعداد تقریباً۵۹۱بتائی ہے ،اس فہرست کی خصوصیت یہ کہ جو کتابیں مستقل پہنچیں بھی نہیں ہیں ، تو اس موضوع سے متعلق مجموع الفتاویٰ الکبریٰ میں کس جگہ ہے اس کی جانب بھی انہوں نے اشارہ کردیاہے،اس زمانہ میں سوچئے جب مجموع الفتاویٰ ابھی نہیں چھپی تھی ،مجموع الفتاویٰ تو ۱۳۸۱؁ھ سے ۱۳۸۶؁ھ کے درمیان میں چھپی ہے۔ یعنی چھ سال کے اندر۔
    جاری……
    حواشی مع اضافات(آفاق احمد )
    (۱) عَسَّافٌ ہَذَا بِابْنِ اَحْمَدَ بْنِ حَجِّیٍّ اَمِیرِ آلِ عَلِیٍّ۔[البدایۃ والنہایۃ ط إحیاء التراث:۱۳؍۳۹۶] ۶۹۴؁ھ میں اس کے چچازاد بھائی نے مدینہ کے قریب اسے قتل کیا۔[الموسوعۃ التاریخیۃ – الدرر السنیۃ:۶؍۱۳۴]
    (۱) یہ کتاب شیخ الاسلام کی ان کتابوںمیں سے ہے جس کا ترجمہ اردو ،انگلش اور ہندی تینوں زبانوںمیںموجود ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے ایک شخص اس بات سے بخوبی آگاہ ہوجائے گا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی وسعت معلومات کا عالم کیاتھا ، اقوال کی نسبت تک ان کے دماغ میںمحفوظ تھی ۔
    (۳) تقی الدین سبکی شافعی المسلک تھے ۶۸۳؁ھ-۔۷۵۶؁ـھ،۱۳۵۵۔۱۲۸۴م). یہ اپنے وقت کے فقیہ ،مفسر ، حافظ ، نحوی اور اصولی سمجھے جاتے تھے ،سبک نامی شہر میںان کی ولادت ہوئی۔(قریۃ مصریۃ من قری محافظۃ المنوفیۃ)اسی شہر کی جانب ان کی نسبت ہے ۔یہ ملک شام کے قاضی بھی رہ چکے ہیں ، ان کی ۱۵۰سے زائد مصنفات ہیں،اپنے زمانہ میں انہیں شیخ الاسلام کے نام سے جاناجاتاتھا۔(یہ معلومات مکتبہ شاملہ میںموجود بطاقہ سے اخذ کی گئی ہیں)۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور تقی الدین سبکی کے بیچ علمی مباحثہ ہوئے ، سبکی نے ابن تیمیہ پر رد کرتے ہوئے کتاب لکھی’’الدرۃ المضیۃ فی الرد علی ابن تیمیۃ‘‘اور ابن تیمیہ نے بھی ان پر رد کرتے ہوئے کتاب لکھی ’’الرد علی السبکی فی مسالۃ تعلیق الطلاق‘‘۔
    (۴) الحمویۃ،شام کا ایک شہر ہے ،سائل وہیںکاتھا اس وجہ سے اس فتویٰ کی نسبت اسی کی طرف کردی گئی ہے ۔اس طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کئی ایک کتابیں ہیں،جن کی نسبت سائل کے شہر کی جانب ہے جیسے الصفدیہ ۔ہاںکبھی کبھار جس پر رد کرتے اس کی طرف نسبت کردیتے ۔ جیسے الرد علی الاخناء۔
    (۵) سرزمین واسط سے شافعی مسلک سے تعلق رکھنے والے رضی الدین نامی ایک قاضی حج کی نیت سے نکلتے ہیںاور ان کی ملاقات شیخ الاسلا م سے ہوتی ہے ،وہ شیخ الاسلام سے عرض کرتے ہیں کہ آپ عقیدہ میں کوئی کتاب لکھ دیں ، شیخ الاسلام نفی میںجواب دیتے ہیںمزید کہتے ہیں کہ ائمہ سلف نے عقائد پر کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ،انہی میںسے کوئی کتاب لے لیں ،لیکن انہوںنے اصرار کیا اور کہا کہ مجھے وہی پسند ہے جو آپ لکھ دیں،چنانچہ شیخ الاسلام نے اسے عصر سے مغرب کے بیچ میں لکھ کر مکمل کردیا ،پھر اس کے متعدد نسخے مصر ،عراق وغیرہ میںعام ہوگئے ۔ [مجموع الفتاویٰ:۳؍۱۶۴]
    واسط عراق کا ایک شہر ہے ،جسے حجاج بن یوسف نے بسایاتھا ،واسط اس وجہ سے نام رکھا گیا کیونکہ یہ شہر بصرہ اور کوفہ کے درمیان میںواقع ہے ۔[معجم البلدان :۵؍۳۴۷]
    اس کے علاوہ اور بھی واسطیہ کی وجہ تسمیہ لوگوں نے ذکر کیاہے۔مثلاًاس کی نسبت وسطیت کی جانب ہے ،جس کا مطلب ہے کہ وسطیت اہل السنہ والجماعۃ۔ دیکھیں:[التحفۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ- عبد الرحمن العقل: ص:۱۹]
    لیکن راجح واسط شہر کی جانب ہی نسبت ہے ۔ اور اگر وسطیت مان بھی لیںتو پھر نام اس طرح ہونا چاہئے’’العقیدۃ الوسطیۃ‘‘نہ کہ واسطیہ ۔اور بعض مصری طباعتوںمیںجو ’’العقیدۃ الوسطیۃ‘‘مذکو ر ہے وہ سہو اًہے۔دیکھیں:[التحفۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ۔عبد الرحمن العقل ۔ص:۱۸۔۱۹] اس کتاب کے حوالہ سے مزید جانکاری کے لیے دیکھیں:(اہل السنہ جلد نمبر۱۳،شمارہ نمبر ۱۱،نومبر ۴ ۲۰۲؁صفحہ :۱۴)۔
    (۶) تاتاری یا مغول کا اطلاق اس قوم پر ہوتاہے جو چین کے شمالی حصہ میں صحراء جوبی میں واقع منغول میں ساتویں صدی ہجری کے شروع میں ظاہر ہوئے ۔ حن کے بڑے بڑے لیڈران میںچنگیزخاںکا نام آتاہے ، جس کا اصلی نام تیموجین ہے ۔مغول یا تاتاریوں کی تاریخ جاننے کے لیے دیکھیں:[التتار من البدایۃ إلی عین جالوت،المولف: راغب السرجانی]دوسری کتاب ہے [التتار والمغول‘‘تالیف ،د ؍ محمود السید آستاد التاریخ الاسلامی کلیۃ المعلمین المدینۃ المنورۃ سابقا]
    ان دونوں مؤلفین کے منہج کے سلسلہ میںفی الحال میرے پاس کوئی مستند معلومات نہیںہے اس وجہ سے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔
    (۷) مناظرہ ابن تیمیہ صفحات ۳۴۔اس مناظرہ کا ترجمہ عبد الرزاق ملیح آبادی رحمہ اللہ نے کیا ہے ، ریختہ نامی ویب سائٹ پر یہ مناظرہ ترجمہ کی شکل میںموجو دہے۔
    (۸) شیح الاسلام ابن تیمیہ نے اس کتاب پر رد کیاہے اور وہ رسالہ مجموع الفتاویٰ میں’’الرد الاقوم علی مافی فصول الحکم‘‘ کے نام سے مطبوع بھی ہے۔
    (۹) اس مسئلہ کی پوری تفصیل (الفتاوی الکبریٰ لابن تیمیۃ:۳؍۳۰۴) میں موجود ہے ۔
    (۱۰) شیخ الاسلام نے اس مسئلہ پر امام اخناء پر رد کرتے ہوئے مستقل ایک کتاب لکھی ہے۔جس کانام ہے ’’الإخنائیۃ‘‘او الرد علی الإخنائی‘‘۔ اس کتاب کے حوالہ سے مزید جانکاری کے لیے دیکھیں:(اہل السنہ: جلد نمبر:۱۴،شمارہ ،۳، مارچ ۲۰۲۵؁صفحہ :۱۴)۔
    (۱۱) شیخ الاسلام کو پوری زندگی میںسات مرتبہ جیل کی تکلیفوںاور پریشانیوںسے گزرنا پڑا۔جن میں چار مرتبہ مصر کے قید خانہ میںگئے اور تین مرتبہ دمشق کے قید خانہ میںگئے ۔۱۔دمشق کے قید خانہ میں آپ کے جانے کا سبب شاتم رسول عساف نصرانی ہے ،اس کے بعد آپ نے اس پر کتاب لکھی جو اہل علم کے یہاں کافی مقبول ہے ۔۲۔ صفات باری تعالیٰ کے مسائل میںحق بولنے کے سبب مصرکی جیل میںایک سال چھ مہینے رہے ۔۳۔ استغاثہ اور توسل کے مسئلہ کے سبب چند دن کے لیے مصر کی جیل میںجانا پڑا ۔اس کے بعد انہوںنے ’’الردعلی الاخناء ‘‘ لکھی ۔۴۔ مصرکی جیل میںتقریباً دومہینہ سے زیادہ رہے ۔۵۔ مصر کی ہی جیل میں سات مہینہ اور کچھ دن رہنا پڑا۔۶۔ طلاق کے مسئلہ میں دمشق کی جیل میںپانچ مہینہ اٹھائیس دن رہنا پڑا ۔۷۔ زیارتِ قبرِ رسول کے مسئلہ میں انہیںدو سال تین مہینہ اور چودہ دن دمشق کی جیل میںرہنا پڑا۔اوراسی میںانہوںنے’’ الردعلی الاخناء‘‘ تالیف فرمائی۔[المداخل إلی آثار شیخ الإسلام ابن تیمیۃ (بکر ابو زید)ص:۳۱۔۳۲]
    (۱۲) ابن المحب الصامت(۷۸۹ھ)
    ۳۔ الالوکۃ،یہ ایک مشہور اسلامک آن لائن بڑی ویب سائٹ ہے۔جس میںتیرہ ویب سائٹس ضم ہیں،کئی ہزار مفید کتابیں،مضامین،مخطوطات کے فوٹو وغیرہ موجود ہیں۔ دکتورسعد بن عبداللہ الحمیِّدکے اشراف میںیہ سارے علمی کام یہاںپر انجام دیئے جارہے ہیں۔پی ڈی ایف میں کی شکل میںکوئی یہاںسے کچھ پڑھنا چاہتاہے تو پڑھ سکتاہے ۔ جہاں تک الوکہ نام کا مسئلہ تو اس کی تشریح یہ ہے کہ: (الالوکۃ ) فی اللغۃ العربیۃ تعنی:الرسالۃ، یقال:اَلَکَ بین القَوم یالِکُ: إذا کان رسولاً بینہم۔ومنہ سُمِّی واحدُ الملائکۃ مَلَکًا:لانہ مُرسَل، والاصل فیہ (مَالَک)، انظر مادۃ (ا ل ک) فی المعجمات.الوکہ کا معنیٰ رسالہ کے ہیں۔
    (۱۴) ابو عبد اللہ بن رشیق (راء پر ضمہ اور یاء پر تشدید مع الکسرہ)کئی تاریخ و سیرت کی کتابوںمیںان سے متعلق معلومات موجود ہیں۔ ایک کتاب ہے ’’عبق الرحیق فی ترجمۃ الشیخ المغربی‘‘ ابو عبد اللہ بن رشیق بشیر الإدریسی،اس میںان سے متعلق کئی چیزیںمل جائیںگی۔
    (۱۵) یہ فہرست (مصنفات الشیخ رحمہ اللہ)کے نام سے اس کتاب میںموجو دہ ہے ۔العقود الدریۃ فی مناقب ابن تیمیۃ (ص:۳۸ط عطاء ات العلم)
    (۱۶) تفصیل کے لیے دیکھیں:(الوافی بالوفیات:۷؍۱۱)کئی صفحات پر ان کے بارے میںاوران کی کتابوںکی فہرست موجود ہے۔
    (۱۷) کتاب کا پورا نام ہے ’’حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ حالات و سوانح ،عصر وعہد ،افکار و آراء‘‘ ،تالیف محمد ابو زہر مصر ۔ترجمہ ۔ سید رئیس احمد جعفری ندوی ۔مقدمہ غلام رسول مہر ۔ تحقیق تنقیح واضافہ ، ابو طیب محمد عطاء اللہ حنیف ۔ عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی کی یہ فہرست صفحہ ۸۰۸سے لے کر کے صفحہ ۸۳۴ تک پر ہے ۔یہ فہرست موضوعاتی ترتیب پر ہے ۔ اسی طرح ابن تیمیہ کی جن کتابوںکا ترجمہ اردو میںہوا ہے،اس کی بھی فہرست اس کتاب میںموجود ہے ۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings