Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(۱۳)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ’’الصفدية‘‘کاتعارف پیش خدمت ہے۔
    وجہ تسمیہ : شیخ الاسلام ابن تیمیہ سے شہر صفد (فلسطین میںایک شہر کا نام ) سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے معجزات انبیاء کے حوالہ سے سوال کیا تھا ،اسی وجہ سے اس کتاب کی نسبت اسی سائل کے شہر کی جانب کردی گئی،جیسا کہ شیخ الاسلام کی کئی ایک کتابوںکی نسبت سائل کے شہروں کی جانب ہے جیسے الحمویہ ،البعلبکیہ ، المراکشیہ وغیرہ ۔ دیکھیں: [تقویم البلدان :ص:۲۴۲ابوالفداء ]
    سبب تالیف : ایک سوال کے جواب میں آپ نے اسے ترتیب دیا ،سوال یہ تھاکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء کے معجزات کسبی ہیں؟کیا ان کی بات درست ہے ؟۔ دیکھیں:[الوافی بالوفیات :۷؍۱۷]
    تاریخ تالیف کتاب: تاریخ تالیف کی تعیین میںحتمی طور پر کسی نے کوئی بات نہیں ذکر کی ہے ، اندازے کے طور پر کچھ لوگوںنے ذکر کیاہے کہ’’ درء تعارض العقل والنقل‘‘ اور یہ کتاب قریبا ًایک ہی فترہ میں تالیف کی گئی ہیں، مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:[مقدمہ رسالہ الصفدیہ تحقیق محمدرشاد سالم :ص:۱۱]
    نسبتِ کتاب کی تحقیق:
    ۱۔ امام صفدی رحمہ اللہ نے اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ہی کی تالیف قرار دیا ہے۔[الوافی بالوفیات:۷؍۱۷]امام ابن رجب حنبلی نے بھی ابن تیمیہ ہی کی جانب منسوب کیاہے،ابن رجب کی پوری عبارت یہ ہے ۔
    ’’الصَّفَدِيَّة‘‘،جَوَابُ مَنْ قَالَ: إِنَّ مُعْجِزَاتِ الاَنْبِيَاء ِ قُوًي نَفْسَانِيَّةٌ،
    [ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب: ۴؍۵۲۲]
    محمد ابن احمد شاکر نے بھی اسی نسبت کو ثابت کیاہے۔
    جواب الرسالة الصفدية۔جواب فى نقض قول الفلاسفة:إن معجزات الانبياء عليهم السلام قوي نفسانية۔
    [فوات الوفیات:۱؍۷۶]
    شیخ الاسلام نے’’ الرد علی المنطقین‘‘ میں کئی ایک جگہوں پر اس کتاب کا ذکر کیاہے۔دیکھیں: [ص:۲۷۸،۳۰۱، ۴۶۱]
    کتاب کا موضوع: فوائد علمیہ :
    ۱۔ جو لوگ یہ کہتے ہیںکہ انبیاء کے معجزات کسبی ہواکرتے ہیں،ان کی یہ بات باطل ہے ،بلکہ کفر ہے ،ایسا کہنے والوں سے توبہ کرایا جائے گا ،او رحق اس کے لیے واضح کیاجائے گا،اور شرعی حجت تما م کریںگے ،اگر ان تمام کے باوجود بھی ایسے لوگ حق کو تسلیم کرنے سے انکا ر کر تے ہیںتو پھر ایسے لوگوں پر کفر کا فتویٰ لگایاجائے گا ۔
    ۲۔ اس طرح کی باتیں عموماً وہ لوگ کرتے ہیں جن کا تعلق فلاسفہ کی جماعت سے کہیں نہ کہیں ہوتا ہے، جیسے : قرامطہ ،باطنیہ ،اسماعیلیہ ،وغیرہ ۔
    ۳۔ بعض ایسے بھی ہیں جو نصوص کی جھوٹی تاویل کرتے ہوئے صلوات خمس ،رمضان کے روزے ،زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے وجوب کے قائل نہیں ہیں ،ساتھ میں جن چیزوں کو اللہ او ررسول نے حرام قرار دیا ہے ان کو حرام بھی نہیں سمجھتے ہیں جیسے شراب ،جوا اور زنا وغیرہ ۔
    ۴۔ اہل فلاسفہ میں سے ملاحدہ اور قرامطہ نیز ان کی موافقت کرنے والوں کے نزدیک نبو ت کا سلسلہ منقطع نہیں ہواہے ، بلکہ اللہ ہر نبی کے بعد دوسرے نبی کو بھیجتا رہتا ہے او ر ان میں سے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ نبوت کسبی ہے ۔
    ۵۔ اہل فلاسفہ کے نزدیک نبوت کی تین خصوصیات ہیں ،اب یہ تینوں خصوصیات جس کے اندر بھی جمع ہوجائیں، وہ منصب نبوت کا اہل ہو گیا۔ان تینوں کا ذکر شیخ الاسلام نے کیاہے۔ اور ان تینوں کا رد بھی شیخ الاسلام نے کیا ہے۔
    ۶۔ جو کہانت وغیرہ کرتے ہیںیہ جن ان کے لیے کھانے وغیرہ بھی چوری کرکے لاتے ہیں اور انہیں بعض غیبی امور کی خبر بھی دیتے ہیں۔
    ۷۔ جادو وغیرہ شیاطین سے مدد لے کرکے کیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ کافرمان ہے :
    {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَيٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا اُنزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتَّيٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ۔۔۔}
    [البقرہ:۱۰۲]
    ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت)سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جادو اتارا گیا تھا وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر۔
    ۸۔ اجماعاً یہ بات ثابت ہے کہ عورتوں میں کوئی نبیہ نہیں ہوئی ہے ، برخلاف ابن حزم کے کہ ان کا کہنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور مریم نبی تھیں۔حالانکہ سلف میںسے کسی کے یہاں اس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔
    ۹۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی شکل میں دوبار دیکھا ہے اور یہ صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیں:[صحیح بخاری:۳۲۳۲]
    ۱۰۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ملائکہ کے وجود پر اور ان کے افعال و کلام پر کئی دلیلیں ذکر کی ہیں۔
    ۱۱۔ ایک انسان کی سعادت مندی رب کی بندگی میں اور شرک سے بیزاری کا اظہار کرنے میںہے۔ توحید سے اعراض بیوقوف ہی کرے گا۔
    ۱۲۔ اہل علم کے مابین یہ مسئلہ مختلف فیہ رہاہے کہ کفار کے بچوں کا ٹھکانا موت کے بعد جنت ہے یا جہنم ہے ، اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ سب جنتی ہیںاور دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ وہ سب جہنمی ہیں ،نصوص کے مطابق درست موقف اہل سنت والجماعت کا ہے وہ یہ کہ نہ تو وہ سارے کے جنتی ہیں اور نہ ہی سارے کے سارے جہنمی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
    اَنَّ اَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَي الْفِطْرَةِ، فَاَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، اَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَائَ ؟۔ثُمَّ يَقُولُ اَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ:(فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ)
    [صحیح البخاری:۱۳۵۹]
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو (پیدائشی طور پر)کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں یہی ’’دین قیم‘‘ہے۔
    عَنْ عَطَاء ابْنِ يَزِيْدٍ أنّه سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:’’اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ‘‘۔
    [صحیح البخاری:۶۵۹۸]
    عطاء ابن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔
    ۱۳۔ وہ لوگ جن تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی یا مجنون ، بہرا بوڑھا شخص یا پھر جن کا انتقال نبی کی بعثت سے پہلے جسے فترہ کہتے ہیں،ہوا ،تو ایسے تمام لوگوں کو قیامت کے دن حکم دیا جائے گا اگر انہوں نے اطاعت کو قبو ل کیا تو جنت میں داخل ہوںگے اور اگر انہوں نے انکار کیا تو عذاب کے مستحق ہوں گے،جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے:{ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّيٰ نَبْعَثَ رَسُولًا} [الاسراء:۱۵]اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں ۔ یعنی ایک طرح سے ان کی آزمائش کی جائے گی۔
    ۱۴۔ شفاعت کے باب میں تین گروہ میں لوگ بٹے ہوئے ہیں: ۱ ۔ مشرکین ،نصاریٰ اور اہل غالی مبتدعین وغیرہ ،ان کا کہنا ہے کہ اللہ کے نزدیک عظیم لوگ ہی شفاعت کریںگے ، اس کو دنیا وی شفاعت کی طرح بتلاتے ہیں۔۲۔ معتزلہ ،خوارج یہ لوگ نبی اکرم کی شفاعت مرتکبین کبیرہ کے سلسلہ میں انکا رکرتے ہیں۔ ۳۔ اہل سنت والجماعت مرتکبین کبیرہ اور دیگراہل ایمان کے سلسلہ میں نبی اکر م ﷺکی شفاعت کا اقرار کرتے ہیں۔اور ہاں آپ ﷺ اللہ کی اجازت سے شفاعت کریںگے ۔جیسا کہ رسول اکرم کی حدیث ہے:
    عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺَ:’’يَجْمَعُ اللّٰهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُونَ:لَوِ اسْتَشْفَعْنَا عَلٰي رَبِّنَا حَتَّي يُرِيحَنَا مِنْ مَكَانِنَا، فَيَاْتُونَ آدَمَ، فَيَقُولُونَ: اَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللّٰهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَاَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا عِنْدَ رَبِّنَا، فَيَقُول: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ، وَيَقُولُ: ائْتُوا نُوحًا اَوَّلَ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللّٰهُ، فَيَاْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ، ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي اتَّخَذَهُ اللّٰهُ خَلِيلًا، فَيَاْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ، ائْتُوا مُوسَي الَّذِي كَلَّمَهُ اللّٰهُ، فَيَاْتُونَهُ، فَيَقُول:لَسْتُ هُنَاكُمْ فَيَذْكُرُ خَطِيئَتَهُ، ائْتُوا عِيسَي، فَيَاْتُونَهُ، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، ائْتُوا مُحَمَّدًا ﷺَ، فَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَاَخَّرَ، فَيَاْتُونِي فَاَسْتَاْذِنُ عَلَي رَبِّي، فَإِذَا رَاَيْتُهُ وَقَعْتُ سَاجِدًا، فَيَدَعُنِي مَا شَاء َ اللّٰهُ، ثُمَّ يُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَاْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِي، فَاَحْمَدُ رَبِّي بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِي، ثُمَّ اَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا، ثُمَّ اُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ وَاُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ اَعُودُ فَاَقَعُ سَاجِدًا مِثْلَهُ، فِي الثَّالِثَةِ اَوِ الرَّابِعَةِ، حَتَّي مَا بَقِيَ فِي النَّارِ، إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ‘‘، وَكَانَ قَتَادَةُ، يَقُولُ:عِنْدَ هَذَا، اَيْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْخُلُودُ۔
    [صحیح البخاری:۶۵۶۵]
    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا۔ اس وقت لوگ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے رب کے حضور میں کسی کی شفاعت لے جائیں تو نفع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے ہم اپنی اس حالت سے نجات پا جائیں۔ چنانچہ لوگ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے آپ ہی وہ بزرگ نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی چھپائی ہوئی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں۔ وہ کہیں گے کہ میں تو اس لائق نہیں ہوں، پھر وہ اپنی لغزش یاد کریں گے اور کہیں گے کہ نوح کے پاس جاؤ، وہ سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں۔ وہ اپنی لغزش کا ذکر کریں گے اور کہیں کہ تم ابراہیم کے پاس جاؤجنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا تھا۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن یہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ تم لوگ موسیٰ کے پاس جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی یہی جواب دیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، اپنی خطا کا ذکر کریں گے اور کہیں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، لیکن یہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں، محمد ﷺ کے پاس جاؤ کیونکہ ان کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے۔ اس وقت میں اپنے رب سے (شفاعت کی) اجازت چاہوں گا اور سجدہ میں گر جاوں گا۔ اللہ تعالیٰ جتنی دیر تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رہنے دے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھا لو، مانگو دیا جائے گا، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو، شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنے رب کی اس وقت ایسی حمد بیان کروں گا کہ جو اللہ تعالیٰ مجھے سکھائے گا۔ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دوں گا اور اسی طرح سجدہ میں گر جاؤں گا، تیسری یا چوتھی مرتبہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روکا ہے (یعنی جن کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر قرآن میں صراحت کے ساتھ ہے) قتادہ رحمہ اللہ اس موقع پر کہا کرتے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر جہنم میں ہمیشہ رہنا واجب ہو گیا ہے۔
    ۱۵۔ یوسف علیہ السلام کی ایک بڑی جامع دعا ابن تیمیہ نے ذکر کیاہے اور اس دعا کا اہتمام ہر مسلمان مرد وعورت کو ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے ۔ دعایہ ہے : {تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَاَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ} [ یوسف:۱۰۱]تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے۔
    تحقیقات ،شروحات و حواشی :
    ۱۔ الرسالہ الصفدیہ،تحقیق:محمد حسن محمد حسن اسماعیل،دارالکتب العلمیہ بیروت۔
    ۲۔ الصفدیۃالمحقق: محمد رشاد سالم،الناشر :مکتیۃ ابن تیمیۃ، مصر،الطبعۃ :الثانیۃ،۱۴۰۶
    محمد رشاد سالم کی تحقیق سب سے عمدہ ہے ، یہ دو جلدوں۷۴۸صفحات پر ہے ،اور اخیر میں اس کتاب کی ایک علمی فہرست کچھ اس ترتیب سے مذکو رہے ۔
    ۱۔الآیات القرآنیۃ، ۲۔الاحادیث النبویۃ، ۳۔الاعلام المترجمۃ، ۴۔الفرق والطوائف ، ۵۔الاماکن والبلدان ، ۶۔اسماء الکتب ، ۷۔مراجع التحقیق، ۸۔الموضوعات ۔
    جاری……

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings