Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • معیار الحق: مشمولات واثرات (قسط اول)

    اجمالی تعارف:
    معیار الحق: شیخ الکل حضرت میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی (ت:۱۹۰۲ء = ۱۳۲۰ھ ) کی سب سے اہم اور سب سے زیادہ شہرت یافتہ تالیف ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ مسئلہ تقلید پر اہل حدیثانِ برصغیر کی جانب سے لکھی گئی کتابوں میں سے اپنے عہد کی اہم ترین کتاب ہے، جو لوگ کہتے ہیں تقلید واجب ہے، اس کے بغیر ایک انسان نہیں رہ سکتا یا مکمل طور سے شریعت پر عمل نہیں کرسکتا اور مزید اینکہ اجتہاد کا دروازہ بند ہے…، ان تمام گوشوں پر ایک علمی نوعیت کا رد ہے۔
    موضوع کی معنویت اور اس سے متعلقہ دیگر کتابیں :
    کتاب کا موضوع مسئلۂ’’ تقلید‘‘ ہے، ایک زمانہ تھا جب یہ موضوع بہت اہم اور حساس تھا، خاص کر علماء اہل حدیث اور علماء اہل رائے کے درمیان برصغیر میں اس موضوع پر ایک عرصہ تک معرکہ گرم رہا۔ ایک فریق ائمۂ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید کو دلائل کتاب وسنت سے قطع نظر – واجب سمجھتا تھا۔ یہ اہل الرائے یعنی دیوبند ی اور بریلوی حضرات تھے۔ دوسرے طبقہ کا خیال تھا کہ کسی ایک کی تقلید واجب نہیں، بلکہ دلائل کتاب وسنت کی روشنی میں جو بہتر ہو اسے دین کا حصہ بنایا جائے، یہ اہل الحدیث حضرات تھے۔ جس پر آج بھی دونوں طبقے پورے اعتماد سے قائم ہیں۔ دونوں طرف سے کتابیں لکھی گئیں، علماء اہل حدیث کے سرخیل شیخ الکل حضرت میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ تھے، انہوں نے اس موضوع پر لکھا اور خوب لکھا، اس موضوع پر راقم الحروف کی دانست میں شیخ الکل نے فتاوے اور مضامین کے علاوہ مختلف اوقات میں کل تین چھوٹے اور بڑے رسالے لکھے۔
    ۱۔ معیار الحق (پیش نگاہ وزیر تبصرہ کتاب۔ علامہ شیخ محمد عزیر شمس؍رحمہ اللہ نے اس کتاب کا عربی ترجمہ کیا ہے)۔
    ۲۔ واقعۃ الفتویٰ دافعۃ البلویٰ (خاکسار نے اس کاعربی ترجمہ مع تحقیق کیاہے جو زیر طبع ہے)۔
    ۳۔ ثبوت الحق الحقیق (خاکسار نے اس کا عربی ترجمہ مع تحقیق کیا ہے جو زیر طبع ہے)۔
    ان کتابوں پر علمائے اہل الرائے (دیوبندی اور بریلوی علماء ) کی جانب سے متعدد رُدُود اور پھر علماء اہل حدیث کی جانب سے ان کے جوابات بھی لکھے گئے۔ ہم چاہتے ہیں پہلے موضوع سے متعلقہ اہم کتابوں خصوصاً علمائے اہل حدیث کی کتابوں – کا ایک اجمالی خاکہ پیش کردیا جائے، تاکہ درجہ بدرجہ ہم مضمون سے وابستہ جملہ تفصیلات پر حاوی ہوجائیں۔پہلے اہم عربی کتابیں ملاحظہ ہوں:
    ٭ رسالۃ التقلید: لمحمد بن أبی بکر بن أیوب بن سعد شمس الدین ابن قیم الجوزیۃ (ت:۷۵۱ھـ)، (یہ شیخ محمد عفیفی کی تحقیق سے شائع ہوئی، یہ در اصل کتاب:’’أعلام الموقعین‘‘ سے ماخوذ ہے)۔
    ٭ القول السدید فی بعض مسائل الاجتہاد والتقلید:لمحمد بن عبد العظیم المکی الرومی الموروی الحنفی الملقب بابن مُلّا فَرُّوخ (ت:۱۰۶۱ھـ) (یہ شیخ جاسم مہلہل الیاسین، عدنان سالم الرومی کی تحقیق سے شائع ہوئی، ط؍۱دار الدعوۃ، الکویت، عام:۱۹۸۸ء)۔
    ٭ عقد الجید فی أحکام الاجتہاد والتقلید:لأحمد بن عبد الرحیم بن الشہید وجیہ الدین بن معظم بن منصور المعروف بـ الشاہ ولی اللّٰہ الدہلوی (ت:۱۱۷۶ھـ)( یہ شیخ محب الدین الخطیب کی تحقیق سے شائع ہوئی۔ ط؍المطبعۃ السلفیۃ، القاہرۃ)۔
    ٭ حکم التقلید:حمد بن ناصـر بن عثمـان بن معمر النجدی التمیمی الحنبلی (ت:۱۲۲۵ھـ)(یہ شیخ عبد العزیز بن عدنان عیدان کی تحقیق سے شائع ہوئی۔ ط؍۱ رکائز للنشـر والتوزیع، عام: ۱۴۳۹ ھ ـ = ۲۰۱۸؁م)۔
    ٭ القول المفید فی أدلۃ الاجتہاد والتقلید:محمد بن علی بن محمد بن عبد اللّٰہ الشوکانی الیمنی (ت:۱۲۵۰ھـ)( یہ شیخ عبد الرحمن عبد الخالق کی تحقیق سے شائع ہوئی۔ ط؍۱ دار القلم، الکویت، ۱۳۹۶ھ ـ)۔
    ٭ الطریقۃ المثلی فی الإرشاد إلی ترک التقلید واتباع ما ہو الأولی:لأبی الطیب محمد صدیق خان بن حسن بن علی ابن لطف اللّٰہ الحسینی البخاری القَنَّوجی (ت:۱۳۰۷ھـ)(یہ شیخ سعید معشاشہ کی تحقیق سے شائع ہوئی)۔
    ٭ التقلید وأحکامہ:لسعد بن ناصـر الشثری حفظہ اللّٰہ۔
    ٭ الجوہر الفرید فی نہی الأئمۃ الأربعۃ عن التقلید: لأبی عبد الرحمن فوزی بن عبد اللّٰہ الأثری، ط؍: مکتبۃ الفرقان، ومکتبۃ أہل الحدیث،۱۴۲۰ھــ.
    مزید عربی، اردو اور فارسی کتابیں جو خصوصیت سے ہندوستان میں لکھی گئیں ان میں سے بعض اہم کتابیں ملاحظہ ہوں:
    ۱۔ الإقلید لأدلۃ الاجتہاد والتقلید:(عربی) از نواب صدیق حسن خان القَنوجی، ط:مطبع الجوائب، قسطنطیۃ، عام:۱۲۹۶ھ ـ۔
    ۲۔ الدر الفرید فی المنع عن التقلید: از عبد الحق البنارسی (ت:۱۲۸۶ھ )(عربی = غیر مطبوع؍مفقود)۔ خاکسارکے پاس موجود ہے، ہندوستان میں پہلی بار مجھے مکتبہ ہمدرد دہلی سے دستیاب ہوئی، مؤلف کانام کسی نے غالباً دشمنی میں مٹا دیا تھا، البتہ تاریخ وفات رہ گئی تھی، جس نے بشمول دیگر شواہد مؤلف کی نشاندہی کردی)۔
    ۳۔ اعتصام السنۃ فی قامع البدعۃ: از عبد اللّٰہ جہاو میان الإلہ آبادی (ت:۱۳۰۰ھ ـ)ط:مطبع نور، کانفور، سن طبع ۱۲۹۲ھ ـ۔
    ۴۔ السیف المسلول فی ذمّ التقلید المخذول:از الٰہ آبادی۔سن طبع۱۲۷۳ھ ـ۔
    ۵۔ سیف الحدید فی قطع المذاہب والتقلید: از الٰہ آبادی۔(غیر مطبوع)۔
    ۶۔ البیان المفید لأحکام التقلید: قاضی أبی جعفر محمد مجہلی شہری الجونفوری (ت ۱۳۲۰ھ ـ)، ط:مطبع مرکنتائل ۔ دلہی
    ۷۔ الفتح المبین علی ردّ مذاہب المقلدین: نواب بدیع الزمان الحیدرآبادی (ت۱۳۰۴ھ ـ)، ط:مطبع محمدی، لاہور، پاکستان، سن طبع۱۲۹۹ھ ـ۔
    ۸۔ فئوس الکَمَلۃ علی رؤوس الجہلۃ: إلٰہی بخش البیہاری (ت۱۳۰۰ھ ـ)، ط: جشمہ فیض، بتنہ، بیہار، الہند، سن طبع۱۳۰۰ھ ـ۔
    ۹۔ التقلید والعمل بالحدیث: نواب محسن الملک مہدی علی خان الاتاوی (ت:۱۳۲۵ھ ـ)، ط: مطبع شوکۃ المطابع، میرٹھ، یوپی، الہند۔
    ۱۰۔ الدر الفرید فی ردّ التقلید:عبد الغفور دانافوری الفتنوی (ت:۱۳۰۰ھ ـ)، ط: جشمہ فیض، دلہی، سن طبع:۱۲۹۷ھ ـ۔
    ۱۱۔ صمصام التوحید فی ردّ التقلید: عبد الجبار عمرفوری، (مولانا گنگوہی کے اس فتویٰ پر ردہے جس میں اہل حدیثوں کے مساجد سے اخراج کی بات کہی گئی ہے)۔
    ۱۲۔ تأسیس التوحید فی إبطال وجوب التقلید: عبد الرحمن بقا الغازیفوری (ت:۱۳۳۴ھ ـ)، ط:مطبع الفاروقی، بدلہی۔(مولانا لطف الرحمن حنفی کے رسالہ’’ التسدید ‘‘پر رد ہے)۔
    ۱۳۔ الانتقاد فیمـا ورد فی الاقتصاد: عبد اللّٰہ المعروف بـ نوازش المحمدی، ط:مطبع المحمدی بدلہی، سن طبع:۱۳۵۵ھ ـ (مولانا اشرف علی تھانوی کے رسالہ’’ الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد‘‘ پردرہے)۔
    ۱۴۔ ردّ الجواب علی وجہ المرتاب: محمد سعید البنارسی (ت:۱۳۲۲ھ ـ)، ط: سعید المطابع، بنارس، سن طبع:۱۳۱۸ھ ـ (مجیب اجمیری دیوبندی کے رسالہ پر رد ہے)۔
    ۱۵۔ الإرشاد المحمدی: محمد الجونا کرہی (ت:۱۹۴۱؁م)، ط:ممبائی جوب دلہی، سن طبع۱۳۵۶ھ (مولانا اشرف علی تھانوی کے’’ رسالہ الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد‘‘پر رد ہے)۔
    ۱۶۔ تقلید شخصی: ثناء اللّٰہ الأمرتسـری (ت:۱۹۴۸؁م)ط:مطبع لال استیم لاہور، باکستان۔سن طبع:۱۳۳۹ھ ـ۔مولانا کی دیگر بہت سی اہم کتابیں اس موضوع پر ہیں۔
    ۱۷ ۔ القول السدید فی حکم الاجتہاد والتقلید: محمد إبراہیم السیالکوتی (ت:۱۳۷۵ھ ـ)، سن تالیف:۱۹۴۳؁م۔
    ۱۸۔ إرسال البرید إلی القول الجدید: عبد الجلیل السامرودی (ت:۱۳۹۲ھ ـ) ط:جی ایند سنز دلہی۔آپ کی ایک اور کتاب:’’انتباہ النائمین بمجرد وصول روائج خرافات المقلدین ‘‘بھی اہم ہے۔
    ۱۹۔ الکلام المبین فی رد تلبیسات المقلدین: أبو الحسن السیالکوتی (ت:۱۳۲۵ھ ـ)(مولانا عبد الحئی لکھنوی کی کتاب’’ فتح المبین‘‘ پررد ہے)۔
    ۲۰ الإرشاد إلی سبیل الرشاد فی بحث التقلید والاجتہاد: أبو یحییٰ محمد شاہ جہان فوری (ت:۱۳۳۸ھ ـ) (اپنے موضوع پر شاہکار ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کی کتاب ’’سبیل الرشاد‘‘ پر علمی رد ہے۔ متعدد بار شائع ہوکر مقبول خاص وعام ہوچکی ہے)۔
    ۲۱۔ صیانۃ العباد عن تلبیسات سبیل الرشاد:عزیز الدین أکبرآبادی (ت:۱۹۲۰؁م) یہ بھی مولانا گنگوہی کی کتاب ’’سبیل الرشاد ‘‘پر نقد علمی ہے۔
    ۲۲۔ القول المزید فی أحکام التقلید:أبو محمد إبراہیم الآروی (ت:۱۳۱۹ھ ـ)۔ غالباً غیر مطبوع رہی، اگر اصحاب علم وفضل کی نگاہوں سے گزرے تو اس کی اشاعت کی جانی چاہیے۔
    مسئلۂ تقلید سے متعلق شیخ الکل کے خیالات:
    شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اس بابت گزشتہ اہل علم یعنی اسلاف کرام سے غیر معمولی وابستگی ظاہر کرتے ہیں، ان اسلاف وائمہ اربعہ کی تقلید کی بابت جو اقوال وخیالات ہیں، وہی خیالات شیخ الکل کے بھی ہیں، ان کے اقوال ذکر کرتے ہیں اور انہیں اپنے معروضات کے لیے دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں، کہ ان تمام ائمہ میں سے کسی نے بھی اپنی تقلید کا حکم نہیں دیا، بلکہ سبھی نے کہا کہ:اگر نصوص کتاب وسنت سے میری بات ٹکرائے تو اسے دیوار پر مار دو اور کتاب وسنت کے دلائل سے وابستہ ہوجاؤ ۔ ان میں کچھ اقوال بطور استیناس یہاں ذکر کئے جاتے ہیں، تاکہ مسئلہ کی نوعیت کلام سلف کی روشنی میں ذہن کے دریچوں پر نقش ہوجائے۔
    فرمانِ امام ابوحنیفہ:
    علمنُا هذا رأي، وهو أحسَنُ ما قدَرنا عليه۔ومن جاء نا بأحسَن منه قبِلناه منه۔
    [اخرجہ بن حزم فی ’’الصادع‘‘ نقلہ الذھبی فی ’’مناقب أبی حنیفۃ و صاحبیہ‘‘ ص:۳۴ عن الحسن بن زیاد ن ونحوہ عن اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفۃ۔ ’’الاحکام‘‘ (۶؍۵۸،۱۸۵) و ’’کتاب الروح‘‘ لابن القیم (ص:۷۴۱) و ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (۲۰؍۲۱۱)۔ انظر’’اعلام الموقعین‘‘(۱؍۱۶۲، ط: عطاء ات العلم]
    یعنی: ہمارا یہ علم ہماری رائے ہے، ہم سے سب سے بہتر جوسکتا تھا وہ یہی ہے، اور جو اس سے بہتر لائے گا ہم اسے قبول کریں گے۔
    فرمانِ امام مالك: قال معن بن عيسي القزَّاز:سمعتُ مالكًا يقول: إنمـا أنا بشـر أخطء وأصيب، فانظروا فى قولي، فكلُّ ما وافق الكتاب والسنةَ فخذوا به، وما لم يوافق الكتاب والسنة فاتركوه.
    [أخرجہ ابن عبد البر فی ’’جامع بیان العلم‘‘ (۱۴۳۵)، و عنہ ابن حزم فی ’’الصادع‘‘ (۳۴۵)، وعنہ ابن القیم فی ’’اعلام الموقعین‘‘ (۱؍۱۶۳)]
    امام معن بن عیسی القزاز کہتے ہیں، میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:میں انسان ہوں، مجھ سے غلط اور صحیح دونوں باتیں صادر ہوسکتی ہیں۔ میرے قول پر غور کرو، جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اسے لے لو، جو مطابق نہ ہو اسے چھوڑ دو۔
    وأيضًا: عن ابن القاسم، عن مالك أنه كان يُكثِر أن يقول: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ۔
    [ابن عبد البر فی ’’جامع بیان العلم‘‘ (۱۴۴۵)، و ابن حزم فی ’’الصادع‘‘ (۳۴۷)، وعنہ ابن القیم فی ’’اعلام الموقعین‘‘ (۱؍۱۶۴)]
    امام مالک رحمہ اللہ اکثر قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمایا کرتے تھے:
    فرمان امام شافعی:
    قال: أجمع الناس على أن من استبانتْ له سنة عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم لم يكن له أن يدعَها لقول أحدٍ۔
    [ اعلام الموقعین:۳؍۱۷۶]
    اس بات پر علماء امت کا اجماع ہے کہ اگر کسی مسئلہ میں کسی کے لیے رسول گرامی ﷺ سے منقول کوئی سنت ظاہر ہوگئی، تو کسی کے قول کی بنیاد پر اس کا ترک کرنا قطعا ًجائز نہیں۔
    وتواتر عنه أنه قال:إذا صحّ الحديث فاضربوا بقولي الحائطَ۔
    [ تذکرۃ الحفاظ:۱؍۳۶۲، انظر: اعلام الموقعین:۳؍۱۷۶]
    امام صاحب سے تواتر کے ساتھ منقول ہے کہ: جب صحیح حدیث مل جائے تو میرے قول کو دیوار سے مار دو۔
    وصحّ عنه أنه قال: إذا رويتُ عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حديثًا ولم آخذ به فاعلموا أن عقلي قد ذهب۔
    [ اخرجہ البیھقی فی ’’مناقب الشافعی‘‘ (۱؍۴۷۳۔۴۷۴) انظر: اعلام الموقعین:۳؍۱۷۶]
    آپ ہی سے بسند صحیح منقول ہے: اگر میں کوئی حدیث رسول بیان کروں اور اس پر میں خود عملاً کاربند نہ ہوں تو سمجھ لو کہ میری عقل چلی گئی ہے۔
    وصحّ عنه أنه قال: لا قول لأحدٍ مع سنة رسول اللّٰه ﷺ۔
    [ اعلام الموقعین:۳؍۱۷۶]
    آپ سے ہی منقول ہے:سنت رسول ﷺکی موجودگی میں کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں۔
    فرمان امام احمد بن حنبل:
    كان يقول: لا تقلّدني، ولا تقلّد مالكًا ولا الشافعي ولا الثوري، ولا الأوزاعيَّ، وخذْ من حيث أخذوا۔
    [ اعلام الموقعین:۳؍۳۹]
    امام صاحب کہا کرتے تھے: تم لوگ نہ میری تقلید کرو، نہ مالک وشافعی کی، نہ ثوری واوزاعی کی، شریعت وہاں سے لو جہاں سے انہوں نے لی۔ (یعنی بلاواسطہ کتاب وسنت سے شریعت سمجھو اور عمل کرو)
    وكان يقول:مِن قلة علم الرجل أن يُقلِّد دينه الرجال.
    [المصدر نفسہ:۳؍۳۹]
    وقال: لا تُقلِّد دينك الرجال، فإنهم لن يَسْلَموا مِن أن يَغْلُطوا۔
    [التمھید لابی الخطاب:۴؍۴۰۸]
    امام صاحب یہ بھی کہا کرتے تھے: آدمی کی کوتاہی علم کی نشانی ہے کہ وہ دین وشریعت کے معاملہ میں (نصوص کتاب وسنت کے بجائے)کسی شخص کی تقلید کرے۔
    انہوں نے مزید فرمایا: دین وشریعت کے معاملہ میں لوگوں کی تقلید نہ کرو، کہ وہ غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ نہیں۔
    شیخ الکل کے تقلید سے متعلق وہی خیالات ہیں، جو ان علماء اسلاف نے ظاہر کئے ہیں، کہ تقلید کسی معین امام کی درست نہیں۔آپ نے اس مسئلہ میں کل پینتیس (۳۵) اہل علم کے اقوال نقل کئے ہیں، جن تمام سے منع تقلید ِرجال واشخاص بصراحت ثابت ہوتا ہے۔ اس درمیان ان تمام اشکالات کو بھی رفع کرتے جاتے ہیں، جو بظاہر قبول کی راہ میں روڑا بن کر ظاہر ہوتے ہیں، پھر دلائل ذکر کئے ہیں، درجہ بدرجہ، پہلے قرآن کریم سے، پھر احادیث شریفہ سے، پھر اجماع صحابہ اور قیاس سے، اور پھر دیگر دلائل وطرق سے۔
    نقل اقوال کے بعد اخیر میں فرماتے ہیں: ’’ پس اب کہاں تک روایتیں نقل کرتے جائیں،مصنف ذی علم کو اسی قدر کافی ہے، اور متعصب جاہل کو چاروں مذہب کی کتابوں سے ہدایت نہیں ہوگی، بلکہ ہرقول دلیل میں تاویل پیش کرے گا۔ اب بعض اہل بصیرت کے لیے جو کہ قرآن اور حدیث کے سمجھنے کے کا قصد رکھتے ہیں، اسی کو مقصود اصلی اورکافی سمجھتے ہیں، دلائل شرعیہ کا بیان چاہیے‘‘۔ (معیار الحق :ص۱۳۷،پاکستانی طباعت)
    ثبوت الحق الحقیق: مسئلہ تقلید پر شیخ الکل کی کتاب ہے، جس کا تذکرہ ابھی گزرا، اس کتاب کے اخیر میں شیخ الکل نے بعض اہل علم کے کلام سے استیناس کرتے ہوئے، مسئلہ پر باختصار اہم گفتگو کی ہے۔ فرماتے ہیں:
    مسألة: يجوز تقليد المفضول مع وجود الأفضل فى العلم عند الأكثر، وعن أحمد وكثير المنع، بل يجب النظر فى الأرجح، ثم اتباعه لنا، أولا كما أقول:عموم فاسئلوا أهل الذكر۔وثانيًا: القطع فى عصـر الصحابة باستفتاء كل صحابي مفضول فكان إجماعًا، ومن ثم قال الإمام: لولا إجماع الصحابة لكان مذهب الخصـم أولي، انتهي ما فى مسلم الثبوت۔ فمن أنكر عموم أهل الذكر فأولي ثم أولي۔اللهم أرنا الحق حقا والباطل باطلا۔
    [ثبوت الحق الحقیق:ص:۸]
    مسئلہ: (علماء کا اختلاف ہے کہ تقلید کس کی کرنی چاہیے؍فتویٰ کس سے لینا چاہئے!) اکثر علماء کا کہنا ہے کہ عام آدمی کسی بھی عالم سے مسئلہ پوچھ سکتا ہے، خواہ وہ سب سے بڑا عالم نہ ہو، بلکہ اس سے بڑے اہل علم موجود ہوں (یعنی: افضل کی موجودگی میں فاضل سے استفتا جائز ہے)۔ جبکہ امام احمد اور بہت سے اہل علم منع کرتے ہیں، اور کہتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ سب سے بڑے اور راجح (زیادہ علم والے اہل علم) عالم سے ہی فتویٰ لیا جائے، لیکن (درست بات یہ ہے کہ) عام لوگوں کے لیے کسی بھی اہل علم سے مسئلہ پوچھنا جائز ہے، اور اس کی دو اہم دلیلیں ہیں:
    ۱۔ قرآن کریم سے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:أہل ذکر سے سوال کرو۔ اس میں کہیں سے یہ شرط نہیں کہ سب سے بڑے عالم سے پوچھو۔ (بلکہ عام ہے)
    ۲۔ صحابۂ کرام کے زمانے میں لوگ ہر صحابی رسول سے مسئلہ پوچھتے تھے، خواہ وہ فاضل ہوں یا مفضول، اور تمام صحابہ نے اس پر عمل کیا، یعنی اس بات پر تمام صحابہ کا اجماع تھا۔
    اسی لیے (امام صاحب)فرماتے ہیں: اگر صحابہ کا یہ اجماع نہ ہوتا تو مدمقابل کا مسئلہ درست ہوتا۔ یعنی یہ کہنا درست ہوتا کہ صرف راجح عالم سے فتویٰ لینا چاہیے۔ لہٰذا جوحضرات یہ کہتے ہیں کہ ہر عالم سے نہیں صرف بڑے عالم سے مسئلہ پوچھا جاسکتا ہے، وہ درحقیقت قرآن اور صحابہ کرام کے اجماع کے خلاف ہیں، اللہ ہمیں حق اور سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت سے نواز۔ (ثبوت الحق الحقیق از محدث دہلوی (ص:۸)
    جاری……

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings