-
یزید بن معاویہ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص کیوں نہ لیا ؟ یزید بن معاویہ نے خونِ حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص کیوں نہیں لیا ؟
اس سوال سے بڑا سوال یہ ہے کہ واقعۂ کربلا کے معاصرین اور قرون مفضلہ کے سلف میں سے کسی نے یزید پر یہ اعتراض کیوں نہیں کیا کہ اس نے خونِ حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص کیوںنہیں لیا ؟
بلکہ اعتراض کرنا تو دور کی بات ان میں سے کسی نے قصاص کا مطالبہ بھی نہیں کیا حتیٰ کہ اہل بیت کے گھرانے سے بھی کسی نے قصاص کی کوئی مانگ نہیں کی ۔
بعض اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ یزید ہی قاتل تھا اس لیے یزید سے قصاص کا مطالبہ نہیں ہوا ۔
لیکن یہ جواب ایک نیا سوال کھڑا کردیتا ہے کہ کیا اس دور کے لوگوں نے بھی یزید کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل کہا ہے ؟
اگر اس جرم میں اسی کا ہاتھ تھا اس وجہ سے اس سے قصاص کا مطالبہ نہیں ہوا تو پھر اس جرم کا الزام بھی تو اسی پر لگنا چاہیے!
اب کوئی یہ نہ کہے کہ یزید کے ڈر سے کسی نے یہ الزام نہیں لگایا ، کیونکہ جب یزید کو شرابی کہنے سے کچھ لوگ نہیں ڈرے تو یزید کو قاتل حسین (رضی اللہ عنہ )کہنے سے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے؟
بہر حال یزید کو قاتل حسین (رضی اللہ عنہ)کہنے پر اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ آخر اس وقت کے لوگوں نے اس معاملے میں یزید کو مجرم کیوں نہیں گردانا ؟ بالخصوص حرہ کے موقع پر کہ جب اہل مدینہ نے یزید کی بیعت توڑدی اور یزید پر بہت سارے الزامات لگائے لیکن کسی نے یزید پر یہ جرم عائد نہیں کیا کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل بھی ہے۔
بلکہ ان سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ نے یزید کے جرائم اور اس کے گناہوں کی بابت سوال کیا تو مخالفین نے بہت کچھ کہا لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ تو آپ کے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے!
دوسری طرف صحابہ واہل بیت کی صریح شہادتیں موجود ہیں کہ انہوں نے عراقیوں کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دیا ہے۔ اس لیے حق بات یہ ہے کہ یزید قاتلِ حسین (رضی اللہ عنہ )نہیں ہے ۔
اب رہا یہ سوال کہ اگر یزید قاتل نہیں ہے تو یزید نے قاتلینِ حسین رضی اللہ عنہ سے قصاص کیوں نہیں لیا؟
تو اس سوال کا درست جواب معلوم کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ قرون مفضلہ میں ہمیں شہداء کی دو قسمیں نظر آتی ہیں ،پہلی وہ قسم ہے جس میں سلف کے یہاں قصاص کا مطالبہ بھی ہوتا تھا اور قصاص لیا بھی جاتا تھا ، جبکہ اسی دور میں شہداء کی ایک قسم ایسی بھی نظر آتی ہے جن سے متعلق نہ تو قصاص کا مطالبہ ہوتا تھا اور نہ ہی قصاص لیا جاتا تھا اس دور کا یہی طرزعمل تھا ، تفصیل ملاحظہ ہو:
شہداء کی پہلی قسم(شہدائے امن):
وہ شہداء جو حالتِ امن میں شہید کئے گئے یعنی بوقت شہادت وہ کسی سے لڑائی کے لیے نہیں نکلے تھے نہ لڑنے والوں کے ساتھ شامل تھے ، نہ میدان جنگ کے آس پاس گئے بلکہ وہ اپنے گھروں میں تھے یا عادت ومعمول کے مطابق کسی کام میں مصروف تھے کہ اچانک ان پر حملہ کرکے ان کو شہید کردیا جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں اس نوعیت کے جو بھی شہداء تھے ان سب کے خون کا قصاص لیا گیا اور قاتل کو قتل کیا گیا ۔ مثلاً:
خلیفۂ دوم سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ: آپ کی شہادت حالت جنگ میں نہیں ہوئی ہے بلکہ عین حالت نماز میں مسجد میں آپ کو شہید کیا گیا ، ظاہر ہے کہ یہاں قصاص لازم ہے ۔
چنانچہ قاتل ابولؤلؤ کوصحابہ نے مسجد میں ہی دبوچ لیا جس کے بعد اس نے خود کشی کرتے ہوئے خود کو ہی زخمی کرلیا ۔ [صحیح البخاری:۳۷۰۰]
اور واقدی کے بقول عبداللہ بن عوف زہری نے اس کا سر قلم کردیا ۔[الطبقات الکبریٰ ط دار صادر:۳؍۳۴۸]
بلکہ عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ بن عمر کو جب پتہ چلا کہ ابو لؤلؤ کے گھر کے تین مزید لوگ اس قتل کی سازش میں شریک تھے تو انہوں نے ان کے گھر جاکر ان تینوں کو بھی قتل کرڈالا ۔[مصنف عبد الرزاق :۵؍۴۸۰وإسنادہ صحیح]
خلیفۂ سوم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ: آپ کی شہادت بھی میدان جنگ میں نہیں ہوئی بلکہ آپ تو اپنے گھر میں اپنے بال بچوں کے ساتھ تھے ، کسی سے لڑائی کے لیے نہیں نکلے بلکہ خود پر حملہ کرنے والوں سے بھی مقابلہ نہ کیا اور دوسرے خیر خواہوں کو بھی مقابلہ سے روک دیا حالانکہ آپ خلیفہ تھے ۔[تاریخ خلیفۃ بن خیاط :ص۱۷۳وإسنادہ صحیح]
ظاہر ہے کہ ایسے امن پسند اور لڑائی سے ہاتھ روکنے والے اور وہ بھی خلیفہ اورجنتی صحابی کو ان کے گھر میں داخل ہو کر انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جائے تو ایسے قاتلین سے قصاص لینا بہر صورت واجب ہوگا ، اسی لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے قصاص کی مانگ کی بالآخر قاتلین عثمان میں سے ہر شخص یا تو ہلاک ہوا یا قصاصاً معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کیا ۔
عبد اللہ بن خباب بن الأرت رحمہ اللہ: ان کو خوارج نے ناحق قتل کردیا تھا ۔[المستدرک للحاکم، ط الہند: ۲؍۱۵۳وإسنادہ صحیح]
یہ مسلمانوں کی کسی بھی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے بلکہ ہر طرح کی لڑائی سے خود کو الگ رکھنے والے تھے ، حمید بن ہلال ایک چشم دید گواہ (اس کا نام نہیں لیا تاکہ خوارج اسے قتل نہ کردیں) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دن یہ اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ کہیں جارہے تھے پھر خوارج نے ان سے حدیث رسول سنانے کو کہا تو انہوں نے وہ حدیث سنا دی جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کی آپسی لڑائی میں سب سے الگ رہنے کا حکم دیا تھا یہ سن کر خوارج نے ان کو نہر کے کنارے لٹا کر ذبح کردیا اور ان کی بیوی کا پیٹ پھاڑ کر ان کے بچے کو قتل کردیا اور بیوی کو بھی مار ڈالا ۔ [المعجم الکبیر للطبرانی: رقم ۳۶۲۹وإسنادہ حسن لغیرہ والرجل المبہم صاحب حمید]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے خوارج سے کہا کہ ان کے قاتلین کو ہمارے حوالے کرو تاکہ ہم قصاص لیں کیونکہ انہوں نے ایک بے ضرر انسان کو ناحق قتل کیا ہے ۔ ان لوگوں نے کہا ہم سب نے قتل کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھرہم ان سب سے جنگ کریں گے۔[مسدد بحوالہ:المطالب العالیۃ :۱۸؍۲۱۹،حسن لغیرہ إلا أحرفا یسیرۃ]
خوارج کا اس بے ضرر مسلمان کو اس کی بیوی و بچے کے ساتھ قتل کردینا اور پھر علی رضی اللہ عنہ کا قصاص کے لیے ان قاتلین کو طلب کرنا یہی چیز جنگ نہروان کا سبب بنی ۔
خلیفۂ چہارم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ: آپ کو بھی جب شہید کیا گیا تو آپ حالت جنگ میں نہیں تھے بلکہ نماز کی خاطر مصلی پر جارہے تھے اسی دوران عبدالرحمن ابن ملجم نے آپ پر قاتلانہ حملہ کردیا ۔[مصنف ابن أبی شیبۃ:۲۱؍۱۸۲وإسنادہ صحیح]
جس کے کچھ دنوں بعد آپ کی وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔[مقتل علی لابن أبی الدنیا: ص۸۲وإسنادہ صحیح]
حسن رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد ان کے حکم سے قاتل کو بھی قصاصا قتل کیا گیا ۔[الطبقات الکبریٰ ط دار صادر:۳؍۳۹حسن بالشواہد]
سیدنا خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ: آپ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کی جگہ نماز پڑھانے کے لیے مصلیٰ پر جارہے تھے اسی دوران قاتل نے ان پر حملہ کیا جس سے وہ شہید ہوگئے ۔[فتوح مصر والمغرب :ص:۱۳۱وإسنادہ صحیح]
پھر گورنرمصر عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے اس قاتل کو قصاصا قتل کروایا ۔[تاریخ الطبری:۵؍۱۴۹فتوح مصر والمغرب: ص۱۳۱وإسنادہ صحیح]
غور کریں ان تمام شہداء کی شہادتوں میں مشترک بات یہ ہے کہ یہ ساری شخصیات بوقت شہادت حالت امن میں تھیں، یعنی یہ حضرات مسجد یا گھر یا اپنے علاقہ میں تھے ، ان میں سے کوئی بھی شخصیت بوقت شہادت جنگ یا میدان جنگ کے آس پاس نہ تھی ،یہی وجہ ہے کہ ان شہداء میں سے ہر ایک کے خون کا حساب ہوا اور ہر ایک کے قاتل کو قصاصاً قتل کیا گیا ۔
شہداء کی دوسری قسم(شہدائے حرب):
وہ شہداء جو حالت جنگ میں شہید ہوئے یعنی بوقت شہادت وہ کسی گروہ سے لڑنے کے لیے نکلے تھے یا لڑنے والوں کے ساتھ تھے یا میدان جنگ کے آس پاس تھے اور اسی حالت میں ان کو کسی نے شہید کردیا ۔
اسلامی تاریخ میں اس نوعیت کے جو بھی شہداء گزرے ہیں ان میں سے کسی کے خون کا نہ تو قصاص لیا گیا اور نہ ہی قصاص کی مانگ کی گئی مثلاً:
سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: آپ جنگ جمل میں شریک تھے لیکن آخر میں الگ ہوگئے تھے، احنف نے راہ چلتے دھوکے سے آپ کو شہید کیا اور اس مردود نے آپ رضی اللہ عنہ کا سر قلم کرکے علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر کیا ، علی رضی اللہ عنہ نے اس قاتل کو جہنم کی بشارت دی ۔ [الطبقات الکبریٰ لابن سعد:۳؍۱۱۰ واسنادہ صحیح]
یہاں بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے جب علی رضی اللہ عنہ زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کو درست نہ جانتے تھے بلکہ اس کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے رہے تھے تو پھر علی رضی اللہ عنہ نے اس قاتل سے قصاص کیوں نہ لیا جبکہ یہ اقبالی مجرم تھا نیز تنہا اور اکیلا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کے سامنے حاضر بھی تھا؟
اس مضمون کو آخر تک پڑھیں ان شاء اللہ اس کا معقول جواب آپ کو مل جائے گا۔
سیدنا طلحہ بن زبیر رضی اللہ عنہ: آپ نے بھی جنگ جمل میں شرکت کی تھی ، اور آپ کو جس نے قتل کیا تھا ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اس سے بھی آگاہ تھے ۔[المستدرک للحاکم، ط الہند:۲؍۳۵۳ رقم۳۳۴۸وإسنادہ صحیح]
فائدہ:
اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی پیشین گوئی کی ہے اور انہیں شہید کہا ہے ۔ [صحیح مسلم:۲۴۱۷]
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زبیر اور طلحہ رضی اللہ عنہما بھی راہ حق میں شہید ہوئے ہیں وہ معاذ اللہ باغی نہیں تھے ورنہ اللہ کے نبیﷺ ان کی موت کو شہادت نہ کہتے ۔
امام ابو عبد اللہ شمس الدین القرطبی رحمہ اللہ (المتوفی۶۷۱ھ) فرماتے ہیں:
’’فلو كان ما خرج إليه من الحرب عصيانا لم يكن بالقتل فيه شهيدا لأن الشهادة لا تكون إلا بقتل فى طاعة‘‘۔
اگر طلحہ رضی اللہ عنہ کا جنگ میں نکلنا نافرمانی پر مبنی ہوتا تو اس میں قتل ہونے پر وہ شہید نہ کہلاتے کیونکہ شہادت صرف نیکی کی راہ میں قتل ہونے سے ملتی ہے۔
[الجامع لأحکام القرآن للقرطبی:۱۶؍۳۲۱]
بلکہ مسلمانوں کی کسی بھی باہمی لڑائی میں شہید ہونے والے کسی بھی صحابی کو باغی کہنا قطعا درست نہیں ہے ۔
کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ: آپ کو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا قاضی مقرر کیا تھا ، آپ مسلمانوں کی آپسی لڑائیوں میں الگ تھلک رہنے والے تھے ، اور لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیتے اور آپسی لڑائی میں حصہ لینے سے روکتے تھے ، جنگ جمل کے موقع پر بعض نے ان سے کہا کہ آپ چل کر فریقین کو سمجھائیں تاکہ لوگ آپس میں لڑنے سے باز رہیں ،یہ صلح و صفائی کی نیت سے میدان جنگ تک چلے گئے اور دونوں فریق کو اللہ کا واسطے دے کر روکنے کی کوشش کرتے رہے اسی حالت میں انہیں بھی شہید کردیا گیا ۔[أخبار القضاۃ:۱؍۲۸۱،تاریخ خلیفۃ: ص۱۸۵]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت جنگ صفین میں ہوئی ہے ۔[المستدرک للحاکم، ط الہند:۳؍۳۸۹وإسنادہ صحیح]
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت معرکہ کربلا میں ہوئی ہے ، یہ جنگ قافلہ حسین رضی اللہ عنہ نیز اس میں موجود اہل کوفہ اور عمر بن سعد کے لشکر کے مابین ہوئی اور دونوں طرف کے لوگوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا ۔[تاریخ الطبری:۳؍ ۲۹۹ واسنادہ صحیح]
دونوں طرف کتنے لوگ قتل کیے گئے یہ کسی صحیح سند سے منقول نہیں لیکن اس بابت سب سے قدیم مرجع طبقات ابن سعد ہے جس میں متعدد سندوں سے منقول ہے:
’’وقتل مع الحسين۔اثنان وسبعون رجلا۔وقتل من أصحاب عمر بن سعد۔ثمانية وثمانون رجلا‘‘
’’حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے۷۲لوگ اور عمربن سعد کے لشکر سے۸۸لوگ قتل کیے گئے ۔
[الطبقات الکبریٰ: ۱؍۴۷۵وانظر:أنساب الأشراف:۳؍۴۱۱تاریخ الطبری:۵؍۴۵۵]
یہ روایت بتلاتی ہے کہ دونوں طرف کے مقتولین کی تعداد تقریباً برابر تھی مگر یہ تعداد بھی مبالغہ آمیز لگتی ہے فریقین کے مقتولین کی صحیح تعداد کتنی تھی یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابن سعد نے نقل کیا:
’’ یقاتل قتال الفارس الشجاع ‘‘۔
’’آپ بہادر شہسوار کی طرح لڑ رہے تھے‘‘۔[الطبقات الکبریٰ:۱؍۴۷۰]
اہل تشیع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تنہا ایک ہزار کی تعداد کو قتل کیا ، بلکہ مسعودی نے تو لکھا ہے کہ:
’’قتل بيده ذلك اليوم الفا وثماني مائة مقاتل‘‘۔
’’اس روز آپ (حسین رضی اللہ عنہ ) نے اپنے ہاتھوں (فریق مخالف کے) ایک ہزار آٹھ سو جنگجو قتل کیے ۔
[إثبات الوصیۃ للمسعودی:ص۱۷۸و وفی نسخۃ۱۴۷]
ان میں سے کوئی بھی بات بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
اس معرکہ میں حسین رضی اللہ عنہ کا کیا طرزعمل تھا یہ اللہ ہی بہترجانتا ہے ۔
ممکن ہے حسین رضی اللہ عنہ نے کسی کو بھی قتل نہ کیا ہو بلکہ فریقین کو لڑائی سے باز رہنے ہی کی تاکید کررہے ہوں اور اسی دوران آپ کو بھی شہید کردیا گیا ، جیسے جنگ جمل میں بصرہ کے قاضی کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ لڑنے نہیں بلکہ فریقین کو لڑائی سے روکنے کے لیے گئے تھے مگر انہیں بھی شہید کردیا گیا واللہ اعلم۔
دوسری قسم کے ان تمام شہداء میں مشترک بات یہ ہے کہ ان کی شہادتیں حالت حرب وجنگ میں ہوئی ہیں ، خواہ کسی نے لڑائی میں شرکت کی یا کسی اور سبب میدان جنگ تک گئے ۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں لڑنے کے لیے نہیں محض اپنے والد کی رعایت میں گئے تھے اگر یہ بھی شہید ہوجاتے تو ان کی شہادت کی بھی یہی نوعیت ہوتی حتیٰ کہ صلح وصفائی کی نیت وکوشش کے ساتھ بھی کوئی میدان جنگ گیا اور شہید کردیا گیا تو اس کی شہادت بھی اسی قبیل کی ہے جیسے جنگ جمل میں قاضی بصرہ کعب بن سور الازدی رحمہ اللہ کا معاملہ تھا کمامضی ۔
مؤخر الذکر شہادت میں نہ قصاص کا مطالبہ ہوتا ہے نہ قصاص لیا جاتا ہے سلف کا اسی پرعمل تھا بلکہ قولاً بھی ان سے یہی بات ثابت ہے، چنانچہ:
امام سعید بن المسیب (المتوفی۹۴) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’إذا التقت الفئتان فما كان بينهما من دم أو جراحة، فهو هدر، ألا تسمع إلى قول اللّٰه عز وجل: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا}[الحجرات:۹] فتلا الآية حتي فرغ منها، قال:فكل واحدة من الطائفتين تري الأخري باغية۔
’’اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان جو بھی قتل وخونریزی ہوئی ہے وہ سب ضائع ہے (یعنی اس پر قصاص نہیں ہے )کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا؟:اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں۔۔۔ [الحجرات: ۹]۔ پھر سعید ابن المسیب نے پوری آیت پڑھی اور کہا: تو ایسے دونوں گروہوں میں سے ہر ایک دوسرے کو زیادتی کرنے والا سمجھتا ہے۔
[مصنف عبد الرزاق:۱۰؍۱۲۲وإسنادہ صحیح]
امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ (المتوفی۱۲۵) فرماتے ہیں:
’’أدركت الفتنة الأولي أصحاب رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فكانت فيها دماء وأموال فلم يقتص فيها من دم ولا مال ولا قرح أصيب بوجه التأويل إلا أن يوجد مال رجل بعينه فيدفع إلى صاحبه‘‘۔
’’پہلے فتنہ (جمل وصفین)کے وقت صحابہ موجود تھے ، اس میں (دوران جنگ)تاویل کی بنا پر جو قتل ہوئے ان کا قصاص نہیں لیا گیا ، جو مالی نقصانات ہوئے ان کا معاوضہ طلب نہیں کیا گیا اور جو زخم لگائے گئے ان کی دیت نہیں لی گئی البتہ کسی خاص شخص کا کوئی خاص مال صحیح سالم کسی کے پاس پایا گیا تو اسے اس کے مالک کو لوٹا دیا گیا ‘‘۔
[الأم:۴؍۲۲۷، وإسنادہ إلی الزہری صحیح بالشاہد ، مطرف تابعہ عبدالرزق :رقم۱۸۵۸۴]
یہی موقف امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ سے بھی ثابت ہے ۔
[الأم للإمام الشافعی :۴؍۲۲۷، السنۃ للخلال:۱؍۱۵۲]
اس پوری تفصیل سے آپ کو نہ صرف اس بات کا جواب ملتا ہے کہ یزید بن معاویہ نے خون حسین رضی اللہ عنہ کا قصاص کیوں نہیں لیا ، بلکہ یہ عقدہ بھی حل ہوجاتا ہے کہ اس دور کے صحابہ وتابعین بلکہ خود افراد اہل بیت میں سے بھی کسی نے قصاص کا کوئی مطالبہ کیوں نہیں کیا ۔
ساتھ ہی اس بات کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ جنتی صحابی سیدنا زبیر رضی اللہ کے قاتل ابن جرموز سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قصاص کیوں نہ لیا جبکہ وہ اقبالی مجرم بھی تھا اور تنہا واکیلا علی رضی للہ عنہ کے سامنے حاضر بھی ہوا۔
در اصل اس دور میں حالت جنگ میں ہونی والی شہادتوں پر قصاص لینے یا قصاص کی مانگ کرنے کا کوئی آئین ودستور تھا ہی نہیں بلکہ جنگ ختم ہوتے ہی وہ سارے معاملات بھی ختم ہوجاتے تھے جو دوران جنگ پیش آئے ، جنگ کی یہی بے رحم سچائی ہے اسی لیے اللہ کے نبی ﷺنے آپس میں خانہ جنگی کے وقت الگ تھلگ رہنے اور گھروں میں بیٹھے رہنے یا دور دراز کسی اور علاقے میں نکل جانے کاحکم دیا ہے۔ اور ایسے حالات میں جمہور سلف کا عملًا وقولاً یہی موقف تھا۔