-
ضرورت کے وقت عورت کا گھر سے باہر نکلنے کا جواز عَنْ عَائِشَةَ قَالَت: خَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ لَيْلًا، فَرَآهَا عُمَرُ فَعَرَفَهَا، فَقَال: إِنَّكِ وَاللّٰهِ يَا سَوْدَةُ مَا تَخْفَيْنَ عَلَيْنَا، فَرَجَعَتْ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ وَهُوَ فِي حُجْرَتِي يَتَعَشَّي، وَإِنَّ فِي يَدِهِ لَعَرْقًا، فَاُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَرُفِعَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُول: قَدْ اَذِنَ لَكُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ.
[صحیح البخاری:۵۲۳۷]
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور پہچان گئے۔ پھر کہا: اے سودہ، اللہ کی قسم! تم ہم سے چھپ نہیں سکتیں۔ جب سودہ رضی اللہ عنہا واپس نبی کریم ﷺکے پاس آئیں تو نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریمﷺاس وقت میرے حجرے میں شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ آپﷺ کے ہاتھ میں گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ اس وقت آپ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور جب نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لیے باہر نکل سکتی ہو۔
فوائد حدیث:
(۱) اس حدیث میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے اور اہل فضل اور کبار شخصیات کو ان کے مصالح، خیر خواہی کی تنبیہ کرنا اور تکرار کرنا جائز ہے۔
(۲) اس میں ہڈی چوسنے کے جواز کا بیان ہے۔
(۳) عورت کا خاوند کی اجازت کے بغیر قضائے حاجت کے لیے مخصوص جگہوں میں جانا جائز ہے، کیونکہ شریعت نے انہیں اس کی اجازت دی ہے۔
(۴) ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ عورتیں والدین اور عزیز و اقارب کی زیارت کے لیے جاسکتی ہیں اسی طرح ضروری حاجات کے لیے ان کا گھر سے نکلنا جائز ہے اور یہ مسجد میں نکلنے کے حکم کی طرح ہے۔[شرح صحیح البخاری لابن بطال:۷؍۳۶۴]
(۵) مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اجنبی عورت کا غیر محر م سے پردے کے پیچھے سے ہم کلام ہونا جائز ہے۔
[شرح صحیح البخاری لابن بطال:۷؍۳۶۴]
(۶)امہات المومنین کی تئیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
(۷)کوئی شخص اپنی والدہ کو وعظ و نصیحت کرسکتاہے جیسا کہ حضرت عمر نے نصیحت کیا یعنی کہ ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو۔
(۸)شرعی امور میں رسول اللہ ﷺوحی کا انتظار کیا کرتے تھے ۔
(۹)راستے میں بقدر ضرورت اجنبی عورت سے گفتگو جائز ہے ۔