Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • یہ دنیا فانی ہے پھر اس کے پیچھے کیوں بھاگنا؟

    اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی ہے، مگر یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں، یہ تو چند روزہ قیام گاہ ہے، یہاں کی ہر شے فنا ہونے والی ہے، بلند و بالا عمارتیں، عالی شان حویلیاں، مال و دولت اور رشتے ناطے سب کچھ خاک میں مل جائیں گے، اگر کچھ باقی رہے گا تو وہ ہمارا ایمان اور ہمارے اعمال ہوں گے، جو آخرت میں ہمارے لیے ذخیرۂ آخرت بنیں گے، یہ دنیا عمل کی جگہ ہے، وقت ضائع کرنے کی نہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{ يٰقَوْمِ إِنَّمَا هٰـذِهِ الْحَيَوةُ الدُّنْيَا مَتَـاعٌ وَإِنَّ الْـَآخِرَةَ هِيَ دَارُ لْقَرَارِ}[ الغافر:۳۹]
    ’’اے میری قوم! یہ حیاتِ دنیا متاعِ فانی ہے یقین مانو کہ قرار اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے‘‘۔
    یعنی دنیا کی زندگی ایک عارضی عطیہ ہے، جس کی نعمتوں سے بہت کم فیض اٹھایا جاسکتا ہے، پھر یہ متاعِ دنیا ختم ہو کر رہ جائے گی، لہٰذا یہ دنیا تمہیں ان مقاصد سے غافل نہ کر دے جن کے لیے تمہیں پیدا کیا گیا ہے، ہمیشہ رہنے والا گھر تو آخرت ہے، وہی قرار و سکون کی حقیقی منزل ہے، لہٰذا تمہیں چاہیے کہ آخرت کو ترجیح دو اور ایسے اعمال کرو جو تمہیں آخرت میں کامیابی و سعادت سے ہمکنار کریں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
    ’’مَا الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إلاَّ مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أحَدُكُمْ إصْبَعَه فِي الْيَم، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجَعُ‘۔
    ’’دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے،جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے، پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر واپس آتی ہے‘‘۔
    [صحیح مسلم:۷۱۹۷]
    یعنی دنیا اپنی ساری رونقوں اور رنگینیوں کے باوجود آخرت کے مقابلے میں انتہائی حقیر اور ناچیز ہے، اس کی لذتیںاور اس کی مٹھاس سب فنا ہونے والی ہیں، یہ دنیا عقلمندوں کو دھوکا نہیں دیتی، مگر جو لوگ دنیا کے دھوکے میں آجاتے ہیںوہ آخرت کے ثواب اور قربِ الٰہی سے محروم رہ جاتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    { وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }
    [الانعام:۳۲]
    ’’اور دنیاوی زندگانی تو کُچھ بھی نہیں بجز لہو و لعب کے اور آخرت والا گھر متقیوں کے لیے بہتر ہے ،کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں ہو‘‘؟
    ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے، جیسے کہ اللہ نے فرمایا :
    {كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَيٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ} [الرحمٰن :۶]
    ’’زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی‘‘۔
    یعنی یہاں موجود ہر شے فانی ہے، صرف اللہ کی ذات ہی باقی رہے گی، جب سب فنا ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ قیامت برپا فرمائے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    {فَالْيَوْمَ نَنْسَاهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَائَ يَوْمِهِمْ هٰذَا)[الاعراف:۵۱]
    ’’ہم بھی آج کے روز اُن کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وہ اس دن بھول گئے تھے‘‘۔
    یعنی جو لوگ دنیا میں آخرت کو بھول گئے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی انہیں بھلا دے گا۔
    اور جو لوگ دنیا کی فانی زندگی میں کھو جاتے ہیں اور آخرت کو نظرانداز کرتے ہیں، ان کا انجام دردناک ہوتا ہے۔
    فضیل بن عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’جب تم آخرت کی فکر کرو گے، تو دنیا خود تمہارے پیچھے آئے گی۔ اور جب تم دنیا کے پیچھے بھاگو گے تو آخرت تم سے دور ہو جائی گی‘‘۔[حلیۃ الأولیاء ]
    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{ وَابْتَـغِ فِيْمَآ اٰتَاكَ اللّٰهُ الـدَّارَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الـدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْـغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ}[القصص:۷۷]
    ’’اور جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر حاصل کر، اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول، اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے، اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
    یعنی اللہ نے جو مال و دولت عطا کی ہے اسے آخرت کی تیاری میں استعمال کرو ساتھ ہی حلال دنیوی ضروریات سے بھی فائدہ اٹھاؤ ،دین دنیا سے بے رغبتی کا نہیں بلکہ توازن کا درس دیتا ہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : ’’اپنی صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے تیاری کر لو‘‘۔[صحیح بخاری:۶۴۱۶]
    یعنی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری ضروری ہے، اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے دوسروں پر بھی احسان کرو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، اپنی دولت کے نشے میں ظلم، تکبر اور فسق و فجور نہ پھیلاؤ، یقینا اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
    افسوس! آج لوگوں کی اکثریت فکر آخرت سے غافل ہے، آج لوگ صرف پر تعیش زندگیاں گزارنے میں مگن ہیں، کسی کو آخرت کی فکر نہیں، حالانکہ انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا میں ایک مسافر کی طرح رہے، اور یہ ذہن نشین کرلے کہ یہاں کا سفر ختم ہوگا، اور اللہ سے جا ملنا ہے، دنیا میں رہ کر آخرت کو نہ بھولے، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حسن اخلاق، سچائی، صبر اور شکر کو زندگی کا حصہ بنائے، دنیا کو ذریعہ بنائے، مقصد نہیں، اپنی دنیا کو دین کے تابع کرے، نہ کہ دین کو دنیا کے تابع۔
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر کرنے کی توفیق بخشے۔آمین یارب العالمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings