-
بارش سے متعلق دس اہم باتیں ہر کوئی گرمی سے عاجز ہوگیا جب روزو شب
کس نے بارش کی عطا ،ہے کون اس رب کے سوا؟
بارش اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کی بقاممکن ہی نہیں، انسان، حیوانات اور نباتات سب کا انحصار بارش ہی پر ہے۔ قرآن مجید نے بارش کو اللہ کی قدرت، ربوبیت اور حکمت کی دلیل قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بارش کو رحمت کہا اور اس کے نزول کے وقت کی دعائیں بھی سکھلائی ہیں۔
میں نے اپنے اس مختصرسے مضمون میں اللہ کی مدد اور اس کی توفیق سے بارش سے متعلق دس اہم باتیں قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کی ہیں ۔
۱۔ بارش اللہ کی قدرت اور اس کی ایک عظیم نشانی ورحمت ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:{ وَاَنزَلْنَا مِنَ السَّمَائِ مَائً بِقَدَرٍ فَاَسْكَنَّاهُ فِي الْاَرْضِ وَإِنَّا عََلٰي ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُوْنَ}’’اور ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ کچھ پانی اتارا، پھر اسے زمین میں ٹھہرایا اور یقینا ہم اسے کسی بھی طرح لے جانے پر ضرور قادر ہیں‘‘۔[ سورۃ المومنون:۸۱]
حافظ ابن کثیررحمہ اللہ( وَإِنَّا عَلٰی ذَهَابٍ بِهِ لَقَادِرُوْنَ )کی تفسیر کے تحت ر قم طراز ہیں: یعنی اگر ہم چاہیں تو بارش بالکل نہ برسائیں،اور اگرہم چاہیں اسے تم سے ہٹا کر بنجر زمینوں، ریگستانوں اور سمندروں میں گرا دیں۔اور اگر ہم چاہیں تو اسے کھارا اور کڑوا کر دیں کہ نہ پینے کے کام آئے اور نہ کھیتی سینچنے کے، یہ بھی ہمارے اختیار میں ہے۔اوراگر ہم چاہیں تو اسے زمین میں جذب ہی نہ ہونے دیں بلکہ سطح پر بہا دیں، یہ بھی ہمارے لیے آسان ہے۔ اور اگر ہم چاہیں تو جب یہ بارش زمین میں اترے تو اتنی گہرائی میں غائب کر دیں کہ تم اس تک کبھی نہ پہنچ سکو اور نہ فائدہ اٹھا سکو، یہ بھی ہم کر سکتے ہیں۔
لیکن اللہ کا فضل و کرم تو دیکھوکہ وہ اپنے لطف کرم سے تم پر بادلوں سے میٹھا، خوش گوار اور شفاف پانی برساتا ہے، پھر اسے زمین میں محفوظ کر دیتا ہے، چشمے اور نہریں جاری کر دیتا ہے، ان سے کھیتیاں اور باغات سیراب ہوتے ہیں، تم اور تمہارے جانور و مویشی اس سے پانی پیتے ہو،س اسی پانی سے تم غسل کرتے ہو اور پاکی حاصل کرتے ہو۔(تفسیر ابن کثیر، تحت آیت۔سورۃ المومنون :۸۱)
۲۔بارش زمین کی زندگی پاکیزگی اوراس میں برکت کاسبب ہے : ارشاد ربانی ہے:{ وَاللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُوْنَ }’’اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سنیں‘‘۔[سورۃ النحل:۶۵]
علامہ عبد الرحمن ناصر السعدی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :اللہ تعالیٰ اپنی موعظتوں اور نصیحتوں کے ذریعے یہ سمجھاتا ہے کہ صرف وہی معبود ہے، اسی کی عبادت ہونی چاہیے، کیونکہ بارش برسانے والا اور ہر قسم کے پودے اگانے والا وہی ہے۔ اسی طرح وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جس نے مردہ زمین کو زندہ کیا وہی قیامت کے دن مردوں کو بھی زندہ کرنے پر قادر ہے۔ اور جس نے یہ ساری نعمتیں پھیلائیں وہی بڑی رحمت اور عظیم فضل و کرم والا ہے۔(تفسیر السعدی :ص:۴۴۳)
۳۔ بارش اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کا بہترین ذریعہ ہے : قرآنِ کریم میں بارش کو بار بار اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور انسانوں کو اس میں غوروفکر کی خصوصی دعوت دی گئی ہے ۔
ارشاد ربانی ہے:{ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللّٰهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً إِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ} ’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا، پھر زمین سرسبز ہوجاتی ہے، بے شک اللہ مہربان خبردار ہے‘‘۔[ سورۃ الحج:۶۲]
بارش کے ذریعے انسان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ کیونکہ وہی آسمان سے بارش نازل کرکے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔
بارش قدرتِ الٰہی کی ایک عظیم نشانی ہے ۔جو اللہ مردہ زمین کو بارش کے ذریعے زندہ کر سکتا ہے، وہ قیامت کے دن مردوں کو بھی زندہ کرنے پر قادر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاء أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَائِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ مُقْتَدِرًا}’’ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی)بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اور اس سے زمین کا سبزہ ملا جلا (نکلتا)ہے، پھر آخرکار وہ چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے‘‘[ سورۃ الکہف :۴۵]
علامہ عبد الرحمن ناصر السعدی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش برسی، جس سے زمین کا سبزہ اُگا، ہر طرف خوشنما پھول، پھل اور ہریالی نظر آئی۔یہ منظر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے، دل خوش ہوتے ہیں، لیکن کچھ ہی وقت میں یہی سبزہ سوکھ کر چورا ہو جاتا ہے،ہوا اسے ادھر اُدھر اُڑا دیتی ہے۔یعنی جو چیز کل تک خوبصورت اور دلکش تھی، وہ آج خاک میں مل گئی۔ایسے ہی انسان اپنی جوانی، دولت، اور لذتوں پر مغرور ہوتا ہے،یہ سمجھتا ہے کہ ہمیشہ ایسے ہی جیتا رہے گا،لیکن اچانک موت یا کوئی حادثہ اس کو گھیر لیتا ہے۔نہ جوانی باقی رہتی ہے، نہ مال، نہ لذتیں، صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔تب انسان افسوس کرتا ہے، پچھتاتا ہے،کہ کاش دنیا میں نیکی کرتا، وقت ضائع نہ کرتا۔لیکن اب وقت گزر چکا ہوتا ہے، اور وہ حسرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔( تفسیر السعدی ۔ ص:۴۷۸)
بارش اللہ سے متعلق غور و فکر کا دروازہ ہے۔بارش کا مشاہدہ انسان کے دل کو اللہ کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ایمان کو تازہ کرتا ہے۔
دلیل:{ وَمِنْ آيَاتِهِ اَنَّكَ تَرَي الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَإِذَا اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَائَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ إِنَّ الَّذِي اَحْيَاهَا لَمُحْيِي الْمَوْتَي إِنَّهُ عَلٰي كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ}’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ شاداب اور پھولنے لگتی ہے۔ بیشک جس (اللہ)نے اسے زندہ کیا ہے وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے، یقینا وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے‘‘۔[سورۃ فصلت :۳۹]
۴۔بارش سے اللہ تعالیٰ انسانوںکے لیے پانی کے ذخیرے جمع کرتا ہے: بارش کے بابرکت پانی سے دریا، ندی نالے ، نہریں اور جھیلیں بھر جاتی ہیں، جو پورے معاشرے کے لیے خیر کا باعث ہیں،یہ اللہ کی طرف سے ایک اجتماعی نعمت ہے جو سب کے لیے فائدہ مند ہے۔
۵۔بارش کی وجہ سے زمین کے ا ندر پانی کی سطح اوپر آجاتی ہے : جس سے نل کنویں اور ہینڈ پمپ وغیرہ ہمیشہ میٹھے پانی سے بھرے رہتے ہیں ،اگر بارش بالکل بند ہوجائے تو زمین کے اندر میٹھے پانی کی سطح انتہائی گہرائی میں چلی جاتی ہے ، جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :{ قُلْ اَرَاَيْتُمْ إِنْ اَصْبَحَ مَاوُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَاْتِيكُمْ بِمَاء مَعِين } ’’آپ کہہ دیجئے! کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تمہارے (پینے کا)پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے نتھرا ہوا (میٹھا) پانی لائے‘‘؟
مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر سے متعلق حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیںاللہ کے فرمان:{قُلْ اَرَاَيْتُمْ إِنْ اَصْبَحَ مَاوُكُمْ غَوْرًا } کا مطلب یہ ہے کہ پانی زمین کے اندر اتنا نیچے چلا جائے کہ نہ تو تیز دھار لوہے کے اوزاروں سے حاصل کیا جا سکے اور نہ ہی مضبوط بازووں کی محنت سے نکالا جا سکے۔(تفسیر ابن کثیر، تفسیر سورۃ الملک: ج:۸،ص:۱۸۳)
فائدہ: پانی اللہ کی دی ہوئی ایسی عظیم نعمت ہے اگر وہ اسے زمین کی گہرائی میں چھپا دے یا ختم کر دے تو انسان بے بس ہے، نہ کوئی فرشتہ، نہ کوئی انسان اور نہ کوئی ٹیکنالوجی اسے واپس لا سکتی ہے سوائے اللہ کے ۔
۶۔ بارش کے نزول کے مختلف مراحل کا خوبصورت تذکرہ : اللہ کا فرمان ہے :{ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا ثُمَّ يُوَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَي الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَائِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاء ُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَائُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِ۔يُقَلِّبُ اللّٰهُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِاُولِي الْاَبْصَارِ }’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہہ بہ تہہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے درمیان میں سے مینہ برستا ہے۔ وہی آسمان کی جانب سے اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے۔ بادل ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی،اللہ تعالیٰ ہی دن اور رات کو ردوبدل کرتا رہتا ہے آنکھوں والوں کے لیے تو اس میں یقینا بڑی بڑی عبرتیں ہیں‘‘۔[سورۃ النور :۴۳۔۴۴]
مذکورہ دونوں آیتیں بارش کے مراحل یعنی ہواؤں کے ذریعہ بادل کا بننا، اس کا جمع ہونا، پھر پانی کے قطروں کا گرنا بیان کرتی ہیں۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ آیت اس سائنسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو آج پانی کے چکر کے نام سے جانی جاتی ہے۔[الجامع لاحکام القرآن للقرطبی: ج:۱۴،ص:۲۰]
۷۔بارش کے نزول سے انسانی دل کے اندر اللہ کے شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے : بارش اللہ کی نعمت ہے جو بندوں کو اللہ شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے اسی لیے محمد رسول اللہ ﷺنے بارش کے نزول کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ایک خوبصورت دعا سکھلائی ہے : مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِه ۔ِ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی ۔
دلیل: زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا: معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں (آپ ﷺ نے فرمایا کہ):تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے۔ اور کچھ میرے منکر ہوئے ،پس جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لایااور ستاروں کامنکرہو ا اور جس نے کہا کہ فلاںستارے کے فلاںجگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہوا اور ستاروںپر ایمان رکھنے والاہوا ۔[صحیح بخاری :۸۴۶]
۸۔بارش کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں : اس لیے مسلمانوں کے بارش کے وقت اللہ سے دعانگنی چاہیے اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنی چاہیے :
رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اطلبوا إجابة الدعاء عند التقاء الجيوش، وإقامة الصلاة ونزول المطر‘‘۔’’دعائوں کی قبولیت کو تین مواقع پر تلاش کرو ۔ جب لشکر آمنے سامنے ہوں ۔جب نماز قائم کی جارہی ہو ۔جب بارش نازل ہورہی ہو‘‘۔[الام للامام الشافعی :ج۱ص:۲۸۹۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی:۱۴۶۹]
۹۔ بارش سے آب وہوا خوشگوار ہوجاتی ہے: بارش ہوا سے دھول، اسموگ اور دیگر نقصان دہ ذرات کو صاف کرتی ہے، جس سے ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ خاص طور پر سردیوں کی بارش ماحول سے الرجین اور آلودگی کو ہٹانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، جس سے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
۱۰۔بارش نازل ہونے سے ذہنی سکون ملتا ہے اور ڈپریشن میں کمی واقع ہوتی ہے : بارش کی آواز اور اس کی خوشبو دماغ کو سکون دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق بارش میں چہل قدمی یا اس کے ماحول سے لطف اندوز ہونا دماغی تناو اور ڈپریشن کو کم کرتا ہے۔
آخر میں دعاگو ہوں کہ رب العالمین ہم سب پر اپنی بارش کو رحمت بنا، زحمت نہ بنا، ہمارے دلوں کو بھی اپنی یاد سے سرسبز و شاداب فرما اور قیامت کے دن ہم سب کو اپنی رحمت وعنایت سے جنت کے باغات کا وارث بنا ۔ آمین یا رب العالمین۔
٭٭٭