Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • علامہ عزیر شمس رحمہ اللہ کے محاضرات کا تحریری سلسلہ

    شیخ الاسلام اما م ابن تیمیہ کی تصنیفی خدمات اور ان کا منہج
    (تیسری اور آخری قسط)

    مجموع الفتاویٰ ایسا مجموعہ ہے جس کے اندر شیخ الاسلام کے فتاویٰ،رسائل اور مضامین سب کچھ ہیں۔اور کوشش یہ کی گئی ہے کہ ابواب اور موضوعات کے اعتبار سے اسے مرتب کیاجائے،بسا اوقات ایسا بھی کیا گیا ہے کہ ایک ہی کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیاہے ،مثلاً’’نقض المنطق‘‘ جو بعد میں ہمارے یہاں’’الانتصار لاہل الاثر‘‘کے نام سے چھپی ہے، اس کا ایک حصہ منہج اہل الحدیث سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ منطق کے رد پر ہے ، منطق کا جو حصہ ہے اس کو جلد تاسع میں انہوں نے ڈال دیا ہے،اور اہل الحدیث کا جو حصہ ہے اسے کسی دوسرے حصہ میں ڈال دیاہے،فتاؤں کے ان مجموعوں کے مطالعہ سے قبل ہمیں ان کے ان رسائل کا مطالعہ کرنا چاہئے،جو چھوٹے چھوٹے ہیں او روہ دو مجموعوں میں ہیں،یہ دونوں مجموعے ۱۹۰۵ء میں چھپے تھے ،ایک مجموعہ’’مجموعۃ الرسائل الکبریٰ‘‘ کے نام سے ہے جس میں ۲۹رسالہ ہیں ،دوسرا’’مجموع رسائل الصغریٰ‘‘کے نام سے جس میں۹رسالہ تھے ،ان دونوں مجموعوں میں چھوٹے چھوٹے رسائل جیسے’’رفع الملام ،معارج القبو ل‘‘وغیرہ،ان دونوں مجموعوں کے مطالعہ کامطلب ہے کہ ابن تیمیہ کے ۲۹رسالہ ہم نے پڑھ لیا،اس کے علاوہ دو تین مجموعے اور چھپے تھے ، ایک ابن منیر دمشقی تھے ،انہوں نے’’رسائل المنیریہ‘‘کے نام سے ابن تیمیہ کے بہت سے رسالہ چھاپے ، سید رشید رضا مصری نے بھی المنار میں ایک ایک رسالہ جہاں سے انہیں ملتا شائع کرتے رہتے ،(۱)چنانچہ کبھی دمشق سے جمال الدین قاسمی بھیج دیتے تھے یامحمود شکری آلوسی مخطوطات عراق سے نقل کرکے بھیج دیتے تھے ،اور وہ اس کو چھاپ دیتے تھے ،اس زمانہ میں جب یہ رسائل چھپ رہے تھے ،۱۹۲۶ء،۱۹۳۳ء وغیرہ میں ،تو المنا رکے ایک شمارہ میں سید رشید رضا نے نقل کیاہے کہ ایک مستشرق نے لکھا اس وقت سید رشید رضا مصری المنار میں ایسے شخص کے رسالہ چھاپ رہے ہیں جن کی حیثیت’’قنابل موقوتۃ ، تفجر بہ عالم الاسلامی‘‘کی سی ہے۔حقیقت میں ان مستشرقین کو پتاتھا، کہ ابن تیمیہ کی تحریروں سے لوگوں میں بیداری آئے گی ،جو سب دینی تعلیمات پر پردہ پڑگیا ہے اور سب آلائشیں ڈال دی گئیں ہیں ،ان سب کی حقیقت لوگوں کو معلو م ہوجائے گی،اسی زمانہ میں مولانا ابو الکلام آزاد نے ہندوستان میں محسوس کیا کہ یہ تحریریں صرف عربی میں رہیں گی توبر صغیر کے لوگ کیسے استفادہ کریں گے ، پھر انہوںنے اردو میں ترجمہ کرنے کے لیے عبد الرزاق ملیح آبادی کو لگادیا ،الہلال بک اجنسی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیااور ان کی تقریباً پندرہ بیس کتابوں کا ترجمہ عبد الرزاق ملیح آبادی نے کیا(۲)،اس کے علاوہ اور بھی دو تین ادارے تھے جنہوں نے ان کی کتابوں کاترجمہ کیا ،اب تک ان کی تقریبا ًچالیس کتابوں کاترجمہ ہو چکا ہے(۳)،لیکن ان ترجموںمیں بڑا تفاوت ہے، بعض کتابوں کے ترجمہ کئی بار ہوئے اور ہر کسی نے دوسرے سے چوری کی ہے، ہمارے بھائی ابو المکرم عبدالجلیل مرحوم جو تھے(۴)،انہوں نے الفرقان بین اولیاء الرحمن و اولیاء الشیطان(۵) کاجب ترجمہ کیا ،توانہوںنے یہ دیکھنے کی کوشش کی اس سے پہلے کس نے ترجمہ کیا ہے ،تو ایک ترجمہ غلام ربانی صاحب نے کیاتھا ، لیکن انہیں یہ نہیں پتہ چل سکا کہ الفر قان کا سب سے پہلا ترجمہ مطبع محمد ی لاہور سے ۱۲۹۵ھ میں چھپا تھا ،یہ سب سے پہلا ایڈیشن ہے جو چھپا ، ۱۲۹۱ھ میں سب سے پہلا ایڈیشن الحمویہ کا شائع ہواتھا اور وہ مترجم تھا ،اور اس کو مولاناغلا م علی قصوری نے چھاپاتھا(۶)۔۱۲۹۶ھ میں ایک مجموعہ جامع البیان کے نام سے معین بن صفی کی تفسیر ہے جو دسویں صدی کے مصنف ہیں اور اس کو غزنوی علماء نے چھاپا تھا ، اس تفسیر کے اخیر میں انہوں نے ابن تیمیہ کے آٹھ نو رسالہ چھاپے تھے (۷)،اسی طرح سے سیاسہ شرعیہ جو سیاست الہیہ کے نام سے۱۳۰۶ھ میں ممبئی سے چھپی تھا، ۱۳۱۱ھ میں رفع الملام لیتھو پر چھپی تھا ،۱۳۱۴ھء میں اجتماع الجیوش الاسلامیہ کے ساتھ امرتسر سے الرسالہ المدنیہ شائع ہوئی تھی ،تو بہت سی کتابیں ابن تیمیہ کی اصل اور ترجمہ کے ساتھ ہندوستان میں شائع ہوئی ہیں،خیر یہ الگ بحث کا متقاضی ہے ۔
    بات ہورہی تھی ان کی کتابوں کی فہرست بہت لمبی چوڑی ہے،ان کا تذکرہ یہاں ممکن نہیں ہے،بہرحال ہر مرحلہ میں جو انہوں نے کتاب لکھی ہے اس کا تذکرہ کردیتا ہوں ،۷۰۵ھ تک ،جبکہ ابھی وہ مصر ہی میںمقیم تھے،اس وقت ان کی نشونما حنبلی مسلک پر ہوئی تھی ، ان کے اساتذہ بھی حنبلی تھے ،فقہ حنبلی کی کتابیں بھی پڑھی تھیں،تو وہ اپنی کتابوں کے اندر ’’عند اصحابنا،قال اصحابنا ،ذکر اصحابنا ‘‘وغیرہ کہتے ہیں ،لیکن جب وہ مصر گئے ہیں، مصرمیں حنبلی تو تھے نہیں اکثر مالکی یا شافعی تھے ،یاحنفی تھے ،تو جب وہاں لوگ ان سے سوال کرتے تھے ،تو وہ ’’قال اصحابنا یا ذکر اصحابنا‘‘ سے تو جواب دے نہیں سکتے تھے ، اس وجہ سے وہ وہاں پر بالکل اجتہادی انداز میں فتویٰ دیا کرتے تھے ، پہلے فترے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں یعنی ۷۰۵ھ تک ،الصارم المسلول ۶۹۳ھ میں لکھی ،الوصیہ الصغریٰ ۶۹۷ھ میں لکھی ، الحمویہ ۶۹۸ھ میں لکھی،اقتضاء الصراط المستقیم بھی اسی دور کی کتاب ہے ،بیان الدلیل علی ابطال التحلیل یہ حلالہ اور حیل سے متعلق بے نظیر کتاب ہے یہ بھی اسی زمانہ کی ہے ،شرح العمدہ ،القواعد الفقیہ ، المسودہ فی اصول الفقہہے ،قاعدہ العقود وغیرہ ۔یہ سب اس دور کی کتابیں ہیں ،اور ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ ان تمام کتابوںمیں قال اصحابنا یا ذکراصحابنا کہتے ہیں۔
    دوسرا مرحلہ یعنی مصرمیں قیام کے دوران انہوںنے کافی اہم اہم اوربڑی بڑی کتابیں لکھیں ،مثلاً: ’’الاستقامہ ‘‘ یہ دو جلد میں ہے،یہ کتاب قشیری کے رد میں ہے ،’’جواب الاعتراضات المصریہ علی الفتوی الحمویہ ‘‘ جو چار پانچ جلدوں میں تھی ،جس کا تھوڑا ساحصہ ملا ہے ،’’بیا ن تلبیس الجہمیہ‘‘یہ رازی کی کتاب تاسیس التقدیس کے نام سے جو صفات کے بیان پر ہے ،اس پر رد ہے۔ایک کتاب ان کی التسعینیہ کے نام سے ہے جو کلا م اللہ اور ان کے مناظروں سے متعلق ہے ۷۰۶ھ میں لکھی۔صوفیہ وغیرہ کے رد میں بغیہ المرتاد ،اس کتاب کو السبعینیہ یا المسائل الاسکندریہ کے نام سے بھی جانا جاتاہے ،۷۰۹ھ میں لکھی ،اس زمانہ میں جو انہوں نے فتاویٰ دئے تھے وہ سب ’’الفتاوی المصریہ‘‘ کے نام سے چھ یا سات جلدوں میں لکھے تھے جیسا کہ تذکرہ نگاروں کا کہناہے ۔انہی سارے فتاویٰ کو مختصر کرکے ایک جلد میں مختصر الفتاویٰ کے نام سے بعد میںشائع کیاگیا۔لیکن یہ اتنا مختصر ہے کہ کہیں کہیں اصل چیزیں نکل گئی ہیں، اس لیے اصل فتاویٰ مصریہ چھپنا چاہیے،لیکن افسوس کہ فتاویٰ مصریہ کی ساری جلدیں نہیں ملتی ہیں(۸)،اسی زمانہ میں مصر میں انہوںنے رد الشاذلی(۹)بھی لکھی تھی،اور شرح الاصفہانیہ ۷۱۲ھ جو آخری سال تھا مصر میں قیام کا اس میں انہوں نے لکھا، ایک اور مجموعہ جو میں نے بتایا تھا۳۲۵ورق کا جو مکتبہ ظاہریہ میں انہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا،اس میں تقریباً سو سے زیادہ رسالہ ہیں ،اکثر فصل کہہ کرکے لکھنا شروع کردیتے ہیں ،ایسے ہی قاعدہ یابسم اللہ کہہ کرکے لکھنا شروع کردیتے ہیں ،قواعد مصریہ کے نام سے اس کا ٹائٹل ہے،اسی زمانہ میں سیاسہ شرعیہ بھی انہوں نے لکھی ہے،یہ سب مصر میں کئے ہوئے ان کے کا م ہیں ، مصر میں زمانہ قیام ان کا بڑا مبارک تھا ،پھر بعد میں جب دمشق میں آئے تو بڑی بڑی جو اہم کتابیں اس وقت دنیا میں موجود ہیں جیسے: درء تعارض العقل والنقل،منھاج السنہ ،الصفدیہ ،الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاالشیطان،کتاب الایمان ،الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ،رد علی المنطقین،کتاب النبوات،الفرقان بین الحق والباطل ،الرد علی الاخنائیہ‘‘ یہ سب کتابیں تقریباً انہوں نے اسی دور میں لکھیں ہیں ،اسی طرح مسئلہ طلاق پر اور ’’الرد علی السبکی‘‘ ،بھی انہوں نے اسی وقت لکھا تھا ،بہرحال مکمل طورپران کتابوں کی کوئی تاریخی ترتیب تو نہیں بنائی جاسکتی ہے، لیکن اگر ذکر کی گئی ترتیب کے اعتبار سے انہیں پڑھا جائے تو ان کی فکری تطور کا پتا ضرورچلتا ہے،اسی طرح کسی مسئلہ سے متعلق ان کی دو مختلف رائیں ہیںتو اس کابھی پتہ چلتا ہے،بطور مثال آدم علیہ السلام جس جنت سے نکالے گئے تھے وہ اس زمین پر تھی یا آسمان پر ،اس پر انہوں نے دو جگہ بحث کی ہے ،ایک جگہ فتاویٰ میں لکھا ہے کہ وہ اوپر تھی وہاں سے اتارے گئے اور اس کے لیے انہوں نے قرآن کی آیتوں سے استدلال کیاہے،اور ان لوگوں کو گمراہ قرار دیا ہے جو کہتے ہیں کہ نہیں وہ جنت زمین پر تھی،معتزلہ وغیرہ جیسا کہ اس کے قائل ہیں ،لیکن ان کی جوآخری کتاب ہے ، دمشق کے اندر لکھی جانے والی ( کتاب النبوات لابن تیمیہ:۱۰)کے نام سے ،اس میں صراحت کی ہے کہ وہ جنت زمین کے اندر تھی ،تو اس طرح کے بعض مسائل ملتے ہیں کہ جس میں ان کا اجتہاد مختلف ہوگیا،لیکن عقائد کے سلسلہ میں وہ ایک ہی چیز پر قائم رہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہوئی۔
    ان کی جو کتابیں ہیں وہ مختلف شکل کی ہیں ،کچھ تو استفتاء کی شکل میں ہیں،کچھ تو قواعد ورسالہ وغیرہ کی شکل میں ہیں ، کچھ تو شروحات کی شکل میں ہیں اور اس میں رد بھی شامل ہے ،جیسے عقیدہ الاصفہانیہ ،جو شرح بھی ہے اور رد بھی ہے ،اسی طرح ایک کتاب ہے’’ تنبیہ الرجل العاقل فی تنبیہ الجد ل الباطل‘‘ کے نام سے،نسفی کی ایک کتاب جدل کے باب میں ہے ، یہ اس کی شرح بھی ہے اور اس پر رد بھی ہے ،کچھ ان کے خطوط ہیں مکاتیب شخصی کے نام سے جوانہوںنے اپنے اصحاب وغیرہ کو لکھا تھا ،اس میں ایک خط ان کا اپنی والدہ کے نام سے ملے گاجو پڑھنے کے لائق ہے،اسے پڑھئے اور دیکھئے کہ والدہ سے ان کو کتنی محبت تھی ،کس طرح سے وہ پر لگا کر والدہ کے پاس پہنچ جانا چاہتے ہیں لیکن یہاں ان کی مشغولیت ہے دعوت دین کے میدان میں اور دوسرے میدانوں میں بھی ،اصحاب کے علاوہ انہوںنے بہت سے امراء کو خطوط لکھے مثلاً الملک الناصر کو ،الملک الموید کو لکھا،بلکہ جب بھی وہ ضرورت محسوس کرتے تو خطوط لکھ دیتے ، اس سلسلہ میں ایک دلچسب بات بتاؤں کہ شیعوں کے رد میں منہاج السنہ بہت مشہور کتاب ہے ،جو نو جلدوں میں محمد رضاسالم کی تحقیق سے چھپی ہے ،لیکن شیعوں ہی کے بارے میں ایک بارکچھ لوگ عراق سے آئے اور انہوںنے شیعوں کے فتنوں کاذکر کیا،تو انہوں نے ایک رسالہ لکھا ’’رسالۃ إلی المنسوبین الی التشیع‘‘اس کے اندر انہوںنے اہل بیت کے فضائل اور ان سے متعلق کئی باتیں ذکر کی ہیں(۱۱)۔شیخ الاسلام یہ بخوبی سمجھتے تھے کہ کسے کس اندازمیں خطاب کرنا ہے، بلکہ ایک بار جیل سے رہائی کے بعد جب ملک الناصرنے ان سے پوچھاکہ ان علماء سوء کو کیا کریں کہ جن کی وجہ سے فتنہ فساد ہورہے ہیں ،پھر کیا ہوا شیخ الاسلام ان کی تعریف کرنے لگے،ابن مخلوف کہتے ہیں کہ جب معاملہ میرے ہاتھ میں تھا تو کو ئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا ، آج جب ان کے ہاتھ میں میرے معاملات ہیں تو کس طرح نے انہوں نے معاف کردیا۔
    اب اخیر میں ایک بات اور ذکر کردوں کہ ان کی کتابوں کا مطالعہ کس طریقہ سے کریں،سب سے پہلے جو ہم پڑھیں اس میں سے فوائد اور اہم باتیں نوٹ کرتے چلیں ،اس وجہ سے کہ ابن تیمیہ کون سی بات کب کہاںاور کیسے بیان کردیں کچھ پتہ نہیں ،اب الرد علی المنطقین میں خضر سے متعلق گفتگو مل جائے گی ،دوسری بات ابن تیمیہ نے ایک موضوع سے متعلق کہاں کہاں کیا کیا لکھاوہ سب پڑھئے ،ابن تیمیہ کی عظمت اگر جاننا ہو تو دوسروں کے یہاں اس موضوع سے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے اسے بھی پڑھئے ،اس کے بعد ابن تیمیہ کی عظمت کاپتہ چلے گا،چوتھی چیز یہ ہے کہ ابن کتابوں کی کتابوں کے مختلف ایڈیشن چھپے ہیں اور غلطیوں سے خالی نہیں ہیں ، لہٰذا وہ ایڈیشن پڑھیں جو زیادہ محقق ہو،بہت سی کتابیں اصل نہیں چھپی ہیں ،تلخیص چھپی ہیں،اب کسی نے بہت اچھی تلخیص کی ہے اور کسی نے تلخیص کے نام پر اصل کتاب کی علمی حیثیت کو غائب کردیاہے،ایک مثال دیتا ہوں غلط تلخیص کی ،ایک کتاب ہے اقتضاء الصراط المستقیم ،اس کے اب تک چار ترجمہ ہوئے ہیں ،مکمل ترجمہ تو اب تک نہیں چھپا ہے،اس کتاب کی تین لوگوں نے تلخیص کی ہے ،عبد الرزاق ملیح آابادی ،اس میں خیر تو بنیادی افکار تو موجود ہیں ،لیکن وہ بہت ہی مختصر ہے ،دوسری تلخیص کی تھی ایک ہیں شمس تبریز کرکے یہ ندوہ العلماء لکھنو میں تھے ،اس میں تلخیص کیا انہوںنے کی ہے بلکہ تحریف کیا ہے ،لا تشد الرحال والا مسئلہ دیکھ لیں ،تیسری جو تہذیب اور تلخیص کی ہے وہ عبد الرحمان الفریوائی کی اور اس کا ترجمہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نے کیاہے،اصل کتاب کا جو مکمل ترجمہ کیا ہے مولانا داؤد راغب رحمانی نے،یہ بہت بڑے عالم تھے ، نیل الاوطار ، تفسیر ابن کثیر ، منتقی الاخبار وغیرہ کا ترجمہ کیاہے، یہ بہت اچھے مترجم تھے اور بہت اچھا ترجمہ کرتے تھے ،لیکن وہ ترجمہ اب تک نہیں چھپا ہے۔
    حواشی و اضافہ(آفا ق احمد سنابلی )
    ۱۔ ان تمام رسائل کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
    ۱۔ ’’مجموعۃ الرسائل الکبریٰ ‘‘یہ مجموعہ دو جلدوں میںداراحیاء التراث العربی بیروت لبنا ن سے مطبوع ہے ،اس مجموعہ میں کل۲۹رسالہ ہیں۔ پہلی جلد میں یہ رسائل ہیں۔۱۔ الفرقان بین الحق و الباطل ۔ ۲۔معارج الوصول۔ ۳۔التبیا ن فی نزول القرآن۔۴۔الوصیۃ الصغریٰ۔۵۔النیۃ۔۶۔العرشیۃ ۔۷۔الوصیۃ الکبریٰ۔۸۔الارادۃوالامر ۔۹۔العقیدۃالواسطیۃ۔۱۰۔المناظرۃ فی العقیدۃ الواسطیۃ۔۱۱۔العقیدۃ الحمویۃ الکبریٰ۔۱۲۔الاستغاثۃ۔دوسری جلد میںیہ رسائل ہیں۔۱۔ رسالہ الاکلیل فی المتشابہ و التاویل ۔۲۔فی الجواب عن قول القائل اکل الحلال متعذر لایمکن وجودہ فی ھذا الزمان۔۳۔فی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تشد الرحال الا الی ثلاثہ مساجد- وفی زیارہ بیت المقدر۔۴۔ مراتب الارادہ ۔۵۔فی القضاء والقدر ۔۶۔فی الاحتجاج بالقدر ۔۷۔فی درجات الیقین ۔۸۔بیان الھدیٰ من الضلال ۔۹۔فی سنہ الجمعہ۔۱۰۔تفسیر المعوذتین ۔۱۱۔بیان العقود المحرمہ ۔۱۲۔فی معنی القیاس ۔۱۳۔فی حکم السماع و الرقص ۔۱۴۔فی الکلام علی الفطرہ ۔۱۵۔فی الکلام علی القصاص ۔۱۶۔فی الکلام علی رفع الامام الحنفی یدیہ فی الصلاہ۔ ۱۷۔ فی مناسک الحج۔
    ۲۔ جامع الرسائل-بتحقیق الدکتور محمد رشاد سالم رحمہ اللہ-یہ دو جلدوںمیںہے،جس میںپہلا مجموعہ۱۶رسالوںپر اور دوسرا مجموعہ۳رسالوںپر مشتمل ہے۔۳۔جامع المسائل-یہ مجموعہ ۶جلدوںپر مشتمل ہے۔اسے علامہ عزیر شمس اور ان کی ٹیم نے مرتب کیا ہے۔۴۔مجموعۃ الرسائل والمسائل-اسے جمال الدین القاسمی نے مرتب کیاہے اور اس پر تعلیق رشید رضا ’’صاحب المنار‘‘نے چڑھائی ہے۔ پانچ اجزاء اور دو جلدوں میںمطبوع ہے۔۵۔مجموعۃ الرسائل المنیریۃ لابن محمد منیر الدمشقی ، اس کے اندر انہوںنے ابن تیمیہ کے رسالوںکے علاوہ علامہ شوکانی و ابن حجر ،صنعانی وغیرہ کے بھی رسالے شامل ہیں۔
    ۲۔ عبد الرزاق ملیح آبادی(ایڈیٹر ’’الجامعہ‘‘کلکتہ)انہوںنے ابن تیمیہ کی کئی ایک کتابوںکا ترجمہ کیا ہے جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔۱۔کتاب الوسیلہ لابن تیمیہ ، پبلشر ،الھلال بک ایجنسی۔ ۲۔اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت: صفحات:۷۵۔۳۔مجذوب صفحات:۳۴۔۴۔مناظرہ ابن تیمیہ صفحات:۳۴۔۵۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب الجواب الصحیح کے چند اوراق کا ترجمہ(یہ رسالہ صداقتِ رسول کے نام سے مطبوع ہے صفحات:۳۲،۶۔صراط مستقیم صفحات:۲۴۵۔اصول تفسیر صفحات:۷۰۔۷۔حسین و یزید صفحات:۵۰۔تفصیل کے لیے دیکھیں :(عبد الرزاق ملیح آبادی اور اردو صحافتby محمد ساجد ذکی فہمی :ص:۲۴۴)
    ۳۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی اب تک جتنی کتابوںکا اردو میںترجمہ ہوا ہے ،ان کی بہترین فہر ست عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی رحمہ اللہ نے تیار کیا ہے ، دیکھیں:(حیات شیخ الاسلا م ابن تیمیہ ،ابو زہرہ مصری،ترجمہ :سید رئیس احمد جعفری ندوی :ص:۸۳۵)۔
    ۴۔ ابو المکرم عبد الجلیل رحمہ اللہ ۔ان کی پیدائش ۳۱؍مارچ۱۹۶۳مقام سانڈا ضلع بستی (موجودہ سنت کبیر نگر) یوپی میںہوئی ،متدین گھرانہ سے ان کاتعلق تھا ،مرکزی دار العلوم جامعہ سلفیہ بنارس سے آپ نے۱۹۸۴ء میںسند فراغت حاصل کی،مشہور اساتذہ میں مولانا عابد صاحب رحمانی ،مولانا رئیس صاحب ندوی ،مولانا مقتدیٰ حسن ازہری اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری وغیرہم ہیں۔جامعہ سلفیہ بنارس کے بعد جامعہ ملک سعود ریاض سے آپ نے لیسانس کی ڈگری حاصل کی ۔۲۱؍جنور ی۲۰۰۵ء میں ۴۳سال کی عمر میںان کا انتقال ہوا۔ انہوںنے کئی ایک کتابوںکا اردو میںترجمہ کیاہے ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں:(مولانا ابو المکر م بن عبد الجلیل حیات اور خدمات از قلم عمران احمد بن عبد الجلیل ،ناشر :مدرسہ زید بن ثابت ، سانتھا ،سنت کبیر نگر)۔
    ۵۔ الفرقان بین اولیاء الرحمن کا تعارف اگست۲۰۲۴ء کے شمارہ میںگزر چکا ہے ۔
    ۶۔ مولانا ابو عبد اللہ غلام العلی قصوری ثم امرتسری کی سوانح حیات کے لیے دیکھیں:(ارباب علم وخرد) غلام علی قصوری نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مایہ ناز کتاب ’’حمویۃ فی الرد علی الجہمیۃ‘‘کا اردو ترجمہ بعنوان ’’الشافیہ‘‘کے نام سے کیا ، جو پہلی مرتبہ لاہور سے ۱۲۹۱ھ میںطبع ہوا ۔(امام ابن تیمیہ ،رشحات قلم علامہ شبلی نعمانی و الطاف حسین حالی حواشی محمد تنزیل الصدیقی الحسینی :ص:۱۷)۔
    ۷۔ دیکھیں۔(حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ :۸)
    ۸۔ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ان فتاؤں کامجموعہ ہے جو انہوںنے ۷۰۵ھ۔ ۷۱۲ھ کے درمیان مصر میںقیام کے دوران انہوں نے دئیے تھے۔وقد ذکر ابن القیم رحمہ اللّٰہ ان ہذہ الفتاوی تقع فی ست مجلدات، فقال فی النونیۃ عند ذکر کتب شیخ الإسلام رحمہ اللّٰہ:
    وَکَذَاکَ اَجْوِبَۃٌ لَہُ مِصْرِیَّۃٌ فِی سِتِّ اَسْفَارٍ کُتِبْنَ سِمانِ۔[الکافیۃ الشافیۃ: ص:۲۳۰]
    وذکر ابن رجب رحمہ اللّٰہ انہا تقع فی سبع مجلدات، وقال بعد ان عدَّد جملۃ من مصنفات شیخ الإسلام- منہا الفتاوی المصریۃ:(وکلُّ ہذہ التصانیف- ما عدا کتاب الإیمان- کتبہ وہو بمصر فی مدۃ سبع سنین، صنفہا فی السجن)۔[ذیل الطبقات:۴؍۵۲۱]
    یقول ابن عبد الہادی رحمہ اللّٰہ:(وقد جمع بعض اصحابہ قطعۃ کبیرۃ من فتاویہ الفروعیۃ، وبوَّبہا علی ابواب الفقہ فی مجلدات کثیرۃ، تعرف بـ:الفتاوی المصریۃ، سماہا بعضہم:الدرر المضیۃ من فتاویٰ ابن تیمیۃ)۔[العقود الدریۃ :ص:۵۴]
    والذی قام بجمعہا ہو ابن عبد الہادی نفسہ واللّٰہ اعلم، فقد جاء فی مجموعۃٍ ضمن مخطوطٍ تضمن جزء ًا من الفتاوی المصریۃ ما نصہ:[مختصر الفتاویٰ المصریۃ:۱؍۱۷،ط رکائز]
    ۹۔ الرد علی الشاذلی فی حزبیہ، وما صنفہ فی آداب الطریق (یطبع کاملا لاول مرۃ)تحقیق: علی بن محمد العمران۔
    راجعہ:سعود بن عبد العزیز العریفی- جدیع بن محمد الجدیع۔الناشر:دار عطاء ات العلم (الریاض) – دار ابن حزم (بیروت)
    ۱۰۔ یہ پورا مسئلہ تفصیل سے دیکھیں:[کتاب النبوات لابن تیمیہ:ج:۲،ص:۷۰۵]
    ۱۱۔ یہ رسالہ’’کتاب جامع المسائل – ابن تیمیۃ – ط عطاء ات العلم‘‘کے اندر موجو د ہے ۔دیکھیں:[ج:۳،ص:۶۷]

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings