-
بلاغہ: اہل سنت والجماعت کا علمی میراث بلاغت ایک مہتم بالشان علم ہے جو بے شمار فوائد کا حامل ہے اس لیے کہ اسی علم کی مدد سے عربی زبان وادب کے اسرار و رموز وا ہوتے ہیں ، اور اسی کی بدولت عربی زبان کی باریکیاں عیاں ہوتی ہیں ، اس علم کے عظیم الشان مقاصد میں سے ہے کہ قرآن میں موجود بلاغی اعجاز کے مختلف گوشوں سے پردہ اٹھایا جائے، اور نظمِ قرآن کی ان خوبیوں کو آشکار کیا جائے جن سے یہ مقدس کتاب معمور ہے، نیز اسی علم کے ذریعہ قرآن کریم کے بعض معانی کھل کر سامنے آتے ہیں جن پر دل مطمئن ہوتا ہے ، اور اسی علم کے ذریعہ قرآن کریم کے معانی میں پائے جانے والے دو احتمالات میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔ [التحریر والتنویر :ج:۱،ص:۱۲]
اور بقول شخصے : کسی علم کا شرف و مرتبہ اس کے مشمولات کے شرف سے اخذ کیا جاتا ہے، یا یوں کہہ لیں کہ کسی علم کی رفعت درحقیقت اس کے موضوعات کی رفعت کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
علمِ بلاغت کا ایک اہم ہدف یہ بھی ہے کہ فنِ تعبیر و ادائے معانی پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ یہی وصف انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{خَلَقَ الْإِنسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ}
یہ علم شیریں اور غیر شیریں کلام کے درمیان امتیاز کرنے میں مدد دیتا ہے، چنانچہ جہاں یہ ادبی تخلیقات کے امتیازی اوصاف کو نمایاں کرنے کے لیے ایک میزان کا درجہ رکھتا ہے، وہیں ادبی صلاحیتوں کو پروان بھی چڑھاتا ہے، اگر علمِ بلاغت نہ ہوتا تو فصحاء و بلغاء کے کلام کا باہمی تقابل ممکن نہ ہوتا، نہ ہی شاعروں کا موازنہ ان کے قصائد کی روشنی میں کیا جا سکتا تھا۔
ضیاء الدین ابن الاثیر(۶۳۷ھ)اپنی کتاب ’’المثل السائر ‘‘کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ نظم و نثر کی تالیف وترتیب کے لیے علم بیان کی بالکل ایسے ہی ضرورت ہے جیسے فقہی احکام کو مستنبط کرنے اور احکام پر دلائل کو منطبق کرنے کے لیے اصول فقہ کی ضرورت پڑتی ہے ۔[المثل السائر :ج:۱،ص:۳۳]
ابن الاثیر رحمہ اللہ اس جملے میں علم بیان یعنی علم بلاغت کو نظم و نثر کی تخلیق میں اصول فقہ سے تشبیہ دے رہے ہیں ، اس حیثیت سے کہ اصول فقہ علم فقہ کے لیے اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔
وجہ شبہ: جس طرح ایک شاعر یا نثر نگار اپنے کلام میں بلاغت کے قواعد کی جتنی زیادہ رعایت کرتا ہے، اتنا ہی اس کے کلام میں تاثیر اور بلندی پیدا ہوتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے فقہ کے جزئی احکام کی صحت میں اصولِ فقہ کا کردار ہوتا ہے ، چنانچہ یہ احکام ان اصول پر جاری ہونے کے بقدر درست ہوتے ہیں اور اسی کے بقدر نقض و فساد سے سالم رہتے ہیں ، اور یہ اس عالم کی فقہی مہارت پر دلیل بن جاتے ہیں جو شرعی مسائل کو ثابت کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ، اس وضاحت سے علم بلاغت کی تشبیہ اصول فقہ سے درست معلوم ہوتی ہے ۔
علم بلاغت کے فوائد کے مذکورہ مقاصد کے پیش نظر اس علم کی ترقی اور نشوونما میں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں ۔
اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ علم علماء اعجاز اور مفسرین کے ہاتھوں ترقی پاتا رہا ، جبکہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ علم نقاد کے یہاں نشوونما پایا اور ان لوگوں کے یہاں جو اشعار کا دراسہ اور تحقیق کرتے ہیں اور ادبی شہ پاروں کا موازنہ کرنا جن کا مشغلہ ہوتا ہے ، جبکہ صحیح اور متوازن رائے یہ ہے کہ اس علم کی نشوونما کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف اہلِ علم کے باہمی اشتراک کا نتیجہ ہے۔
بہر کیف معاملہ جو بھی ہو ، البتہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ علم بلاغت ایک عمدہ دریافت اور بہترین انکشاف ہے ، اور یہ فصیح عربی کلام سے مستنبط ہے ، جس طرح سے علم نحو ادباء کے نثر سے ماخوذ ہے اور علم عروض ان کے نظم سے ، جیسا کہ حازم القرطاجنی (۶۸۴ھ)اور دیگر اہل علم نے وضاحت کی ہے ، (منہاج البلغاء:۲۶)(مراجعات فی اصول الدرس البلاغی:۸۵)
چنانچہ ان عربی علوم کے سوتے ایسی طبیعتوں سے پھوٹے جن میں عربی علوم حد درجہ پختگی کے ساتھ پیوست تھے۔پھر اہل نظر نے ان سوتوں سے انہیں قواعد و ضوابط کی شکل میں پیش کیا ، لہذا ان علوم کی تاریخ نویسی میں ان چیزوں کا اعتبار ضروری ہے ۔
ابو اسحاق الشاطبی (۷۹۰ھ )اور ایک جماعت کا خیال ہے کہ سیبویہ (۱۸۰ھ) علم بلاغت کے موجد ومؤسس ہیں ، انہوں نے گرچہ اپنی گفتگو کا محور علم نحو کو بنایا ہے مگر انہوں نے اپنی کتاب میں اہل عرب کے مقاصد اور الفاظ ومعانی میں عربوں کے تصرفات پر تنبیہ کی ہے ، تراکیب کی پیچیدگیوں کو واضح کیا ہے اور ان کی علتوں کو بیان کیا ہے ، اور انہوں نے صرف اتنے ہی بیان پر اکتفا نہیں کیا ہے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے ، مفعول منصوب ہوتا ہے وغیرہ بلکہ اپنی کتاب میں اصول لغت کو بھی ذکر کیا ہے ، اور کلام عرب میں استعمال ہونے والی تعبیرات کی مخلتف قسموں کو بھی بیان کیا ہے ، اور عمومی انداز میں عربی قواعد کا استنباط کیا ہے ، اور عربی کے ان قوانین کو بھی شامل کتاب کیا ہے جو مکمل دراسہ اور غور و فکر کے بعد سامنے آئی ہیں ، چنانچہ ان کی مشہور زمانہ تصنیف’’ الکتاب ‘‘علم بیان اور علم معانی کے بنیادی مسائل پر مشتمل ایک گراں قدر تالیف ہے جیسے تقدیم و تاخیر ، حذف و ذکر ، تعریف و تنکیر ، وصل وفصل ، اسناد ، فصاحت کلام ، معانیٔ حروف ، معانیٔ استفہام ، حروف ندا اور جرس حروف (یعنی حروف کی نغمگی اور گنگناہٹ )وغیرہ[موافقات :ج:۵ص:۵۴]
چنانچہ امام سیبویہ کے نزدیک نحو کے معانی محض اعراب کے حدود تک موقوف نہیں ہیں ،جیسا کہ سمجھا جاتا ہے ۔
ابو سعید السیرافی (۳۶۸ھ)نے اس بات کی وضاحت اس انداز سے کی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نحو کے معانی مختلف حصوں میںبٹے ہوئے ہیں مثلاً الفاظ کے حروف اور اس کے سکنات، حروف کو مناسب جگہ رکھنا، تقدیم وتاخیر کا خیال کرتے ہوئے کلام کو ترتیب دینااور ترتیب کلام میں حسن و قبح کی رعایت کرنا وغیرہ ہیں۔[الامتاع والمؤانسۃ :ج:۱ ص:۱۲۱]
لہٰذا امام سیبویہ کا علم بلاغت کے ساتھ اس قدر اہتمام اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لغت عرب پر خصوصی توجہ دیتے تھے ، اور عبدالقاہر جرجانی کا بھی یہی نظریہ تھا کہ نحو کے وسیع تر مفہوم میں بلاغت بھی شامل ہے۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’دلائل الإعجاز‘کے ابتدائی حصے میں صراحت سے لکھتے ہیں:
’’جان لو کہ نظم درحقیقت یہی ہے کہ آپ اپنے کلام کو اس انداز میں ترتیب دیں جو علمِ نحو کے اصول و قواعد کے مطابق ہو، اس کے متعین راستوں پر چلیں اور ان نشانات کی پیروی کریں جو اس علم نے مقرر کیے ہیں، لہٰذا آپ اس سے نہ ہٹیں ، اور ان تحریروں کی حفاظت کریں جو آپ کے لئے لکھی گئی ہیں ، ان میں سے کچھ بھی کم نا کریں تاکہ کسی قسم کی خلل اندازی نہ ہو‘‘۔
مختصراً، دونوں علوم نحو اور بلاغت کا بنیادی مقصد جملے کی ساخت کا تجزیہ کرنا اور مختلف اسالیب کے معانی و اثرات کو واضح کرنا ہے۔ یہ دونوں اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ الفاظ درست طریقے سے چنے جائیں اور انہیں موزوں جگہ پر رکھا جائے تاکہ فہم آسان ہو اور غلطی کی گنجائش نہ رہے۔
یوں بلاغت کا علم درحقیقت ان پہلوؤں کی تکمیل کرتا ہے جنہیں علمِ نحو نے صرف قواعد کی حد تک چھوڑ دیا تھا۔ یہ علم ہمیں عربی زبان کے اصل اصول، فصیح و بلیغ اظہار کے طریقے، معانی کی ترسیل کے رموز، الفاظ کے باہمی ربط اور اسناد کے اصول سکھاتا ہے۔ یہ دراصل عربی زبان کے شیریں اور موثر اسلوب کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ کسی زبان کی بقا اس کے الفاظ کی زندگی اور درست اسالیب کے برقرار رہنے میں مضمر ہوتی ہے۔
امام سکّاکی نے نحو اور بلاغت کے مابین گہرے تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:’’میں نے علمِ نحو کو اس کی تکمیل کے ساتھ پیش کیا، اور اس کی تکمیل علومِ معانی و بیان کے ذریعے ہی ممکن ہے‘‘۔
اس کی شرح میں شریف جرجانی فرماتے ہیں کہ علومِ معانی و بیان کا علمِ نحو سے وہی تعلق ہے جو مغز کا چھلکے سے ہوتا ہے، کیونکہ یہی دونوں علوم کلام کی باریکیوں اور اس کی خوبیوں کو سمجھنے کا اصل ذریعہ ہیں، اور یہی وہ سیڑھی ہے جو فصاحت و بلاغت کے کمال اور اعجاز کے عروج تک پہنچاتی ہے۔شریف جرجانی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ علم معانی اور علم بیان علم نحو کا جزو لاینفک ہیں پس یہ دونوں علوم نحو کے لئے مغز کی مانند ہیں ، اور الفاظ مفردہ میں اعراب و بناء کے احکام چھلکے کی طرح ہیں چنانچہ ایسی صورت میں نحو لب بھی ہے اور قشر بھی ، مغز بھی ہے اور چھلکا بھی ۔
امام النحو سیبویہ کی مشہور تصنیف’’ الکتاب‘‘ ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے ، جو زبان کے مختلف علوم کو ایک مکمل فکری نظام اور زبانِ اعجاز کی حیثیت سے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ الکتاب علم نحو کے علاوہ علم الصرف کے اصول ، علم تجوید ، علم اصوات اور علم بلاغت پر مشتمل ہے ، بلکہ امام جرمی کہتے ہیں کہ میں سیبویہ کی کتاب سے تیس سالوں سے لوگوں کو فتویٰ دے رہا ہوں ۔
مبرد جرمی کے قول پر تعلیق لگائے ہوئے کہتے ہیں کہ جرمی صاحب حدیث تھے ، چنانچہ جب انہیں سیبویہ کی کتاب کا علم ہوا تو وہ فقہ الحدیث میں بھی ماہر ہو گئے ، کیونکہ سیبویہ کی کتاب پڑھنے سے غور وفکر کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔
البتہ یہاں پر دو امور ایسے ہیں جن کی طرف توجہ دینا مناسب ہے :
پہلا امر: عربی جملوں کی گہرائیوں سے سیبویہ کا مکمل واقف ہونا ، اس لئے کہ سیبویہ لغت عرب سے مکمل طور پر واقف تھے ، ادبائے عرب کے عالی اور نازل کلام پر ان کی بڑی دقیق نظر تھی ، خالص ادیبوں سے بالمشافہ ملاقات تھی اور ان کے مقاصد سے شناسائی بدرجہ اتم ان میں موجود تھی ۔
دوسرا امر: الکتاب کلام عرب کے دقیق استنباط اور کلام کے حسن ادائیگی پر مشتمل ہے ، اور عربی کلام کے ترکیبی نظام سے اور جملوں کے درمیان باہمی ربط کے تعلق سے بحث کرتی ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سیبویہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ سیبویہ عربی زبان کے حکیم تھے ، اور کتاب کے بارے میں کہتے ہیں کہ دنیا میں اس جیسی کوئی کتاب نہیں ، یہ لسانِ عرب کی حکمتوں سے لبریز ہے ۔
امام ذہبی سیبویہ کو’’ امام النحو‘‘ اور’’ حجۃ العرب ‘‘کے لقب سے یاد کرتے ہیں ۔ ابن خلکان کہتے ہیں کہ متقدمین اور متاخرین میں ان سے بڑھ کر کوئی دوسرا علم نحو کا جانکار نہیں گزرا اور نا ہی ان کے جیسا کوئی کتاب لکھ سکا۔ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے علماء ہیں جنہوں نے امام سیبویہ اور ان کی مشہور تصنیف’’الکتاب‘‘کے تئیں تعریفی کلمات کہے ہیں ۔
لہٰذا جب یہ بات ثابت ہو چکی کہ سیبویہ کی کتاب اپنی دونوں دفتیوں کے درمیان علم بلاغت کے اصول کو سموئے ہوئے ہے ، جیسا کہ شاطبی اور دیگر اہل علم کا خیال ہے تو پھر یہ دعویٰ سرے سے باطل قرار پاتا ہے کہ معتزلہ اور متکلمین علم بلاغت کے موجد اور اس کے مؤسس ہیں اور اس کے اصول و قواعد کے واضع ہیں ، اس دعویٰ کے ساتھ کہ یہ معتزلہ اور متکلمین اپنے مذہب کی طرف بلانے اور اس کی نشر واشاعت میں علم بلاغت کے محتاج ہیں ، اور اسی طرح اپنے مذہب کے صحیح ہونے پر دلائل پیش کرنے میں بھی علم بلاغت کے محتاج ہیں جیسا کہ اس بات کی صراحت کئی سارے متاخرین اہل علم نے کی ہے ، جبکہ یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے ، بلکہ اس میں اہل سنت والجماعت کے جہود و مساعی کا سرے سے انکار ہے، اس قول کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے ۔
یہ یقینی اور طے شدہ بات ہے کہ عربی زبان میں لکھی جانے والی سب سے پہلی کتاب امام سیبویہ کی’’ الکتاب‘‘ ہے اور علماء نے لکھا ہے کہ سیبویہ اہل السنہ کے طریق پر کاربند تھے ، اسی طرح انہوں نے کبار اہل سنت علماء سے علوم و فنون حاصل کیا ، جیسے خلیل بن احمد ، یونس بن حبیب ، ابو عمرو بن علاء ۔ یہ سب اس وقت کی بات ہے جب معتزلہ کی کوئی خاص قوت یا اثر و رسوخ نہیں تھا اور وہ صرف ایک معمولی گروہ تھے، سوائے واصل بن عطا کے، جو معتزلہ کے بانیوں میں سے تھا اور جس کو مناظرات کا شوق تھا، لیکن اس کا کوئی نمایاں کردار کسی بھی علم کی بنیاد رکھنے میں نہیں تھا۔