-
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتابوں کا تعارفی سلسلہ قسط :(۱۴) اس مرتبہ ابن تیمیہ کی کتاب ’’الرسالة القبرصية‘‘کاتعارف پیش خدمت ہے :
رسالہ کے موضوعات:
۱۔ توحید اور شرک کے درمیان ٹکراؤ کی طرف اشارہ موجود ہے ۲۔ عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق سے بنی اسرائیل کے موقف کا تذکرہ۳۔ نصاریٰ کے اپنے نبی کی تعلیمات سے دوری اختیارکرنا اور ان کا عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق سے غلو کرنا یہاں تک کہ انہیں معبود کا درجہ دے دینا۴۔ یہود و نصاریٰ کاآپس میں اپنے دین کے سلسلہ میں اختلاف کرنا ۵۔ یہود کے عناد اور نصاریٰ کی ضلالت کے درمیان مقارنہ کرکے بیان کرنا۶۔ نصاریٰ کے انحرافات کابیان ۷۔ نصاریٰ کے بعض عبادت کی نئی نئی شکلوں کو بیان کرنا۸۔ یہودیت اور نصرانیت کے مابین مقارنہ
کتاب کا نام :
بعض جگہوں پر اس رسالہ کا نام اس طرح ملے گا۔’’رسالۃ کتبہا إلی صاحب قبرص فی مصالح تتعلق بالمسلمین‘‘اور بعض جگہوں پر اس طرح لکھا ہوا ملے گا۔
الرسالة القبرصية خطاب لسرجواس ملك قبرص
وجہ تسمیہ:
یہ رسالہ شیخ الاسلام نے قبر ص کے نصرانی بادشاہ کے لیے لکھاتھا ،اس وجہ سے اسے ’’الرسالۃ القبرصیۃ‘‘کے نام سے جانا جاتاہے ۔ جس کے اندر انہوں نے مسلم قیدیوں کے ساتھ احسان کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہیں آزاد کرنے کی بھی بات کی ہے ،اسی طرح نصرانیت کے حوالہ سے کئی ایک باتیں اور بھی شیخ الاسلام نے ذکر کی ہیں ۔
فوائد علمیہ :
۱۔ تخلیق انسانی کے حوالہ سے یہ بات بھی اللہ رب العزت کی کمال قدرت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا، حواکو بغیر عورت کے پیدا کیا، عیسیٰ ابن مریم کو بغیر باپ کے پیدا کیا، اور عام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا۔
۲۔ مسیح علیہ السلام کے سلسلہ میں لوگ کئی ایک جماعتوں میں تقسیم ہوگئے ، ان میں سے ایک جماعت ایسی بھی تھی جس نے ان کی والدہ پر الزام لگایا اور یوسف النجار سے ان کی والدہ کے غلط تعلقات قائم ہونے کی نسبت کی ۔ حالانکہ ان کی یہ تمام باتیں مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں ۔
۳۔ رسول اللہ ﷺ نے شام میں موجود نصاریٰ کے بادشاہ قیصر کو بھی خطوط روانہ کئے تھے تاکہ وہ اپنے عقیدہ کی اصلاح کرلے ۔
۴۔ نصاریٰ میں سے جو رسول اللہ ﷺکی رسالت پر ایمان لے آیا وہ آپ کا امتی ہوگیا اور اس کے لیے دوہرا اجر ہے،ایک عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کا اجر اور ایک محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کا۔
۵۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دیگر رسولوں کی طرح ایک رسول بناکرکے اس دنیا میں بھیجا تھا اور ان کی والدہ کو لوگوں کے لیے نشانی بنایا وہ اس طور پر کہ عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا کیا تاکہ اللہ رب العالمین اپنے کمال قدرت کا اظہار کرسکے ، اسی طرح اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو کئی معجزات سے بھی نواز رکھا تھا ، جیسے مردہ کو اللہ کے حکم سے زندہ کردینا، مادر زاداندھے کو صحیح کردینا اوربرص زدہ کو شفایاب کردینا۔
۶۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے :
عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللّٰهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَي مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَي رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ‘‘۔
[سنن الترمذی:۱۶۶۳] شیخ البانی نے صحیح کہا ہے۔
ترجمہ: مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں: (۱) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے (۲)وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے (۳)عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے (۴)الفزع الاکبر (عظیم گھبراہٹ والے دن)سے مامون رہے گا (۵)اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے(۶)بہتر (۷۲)جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
۷۔ نصاریٰ نے جو کچھ غلط عقائد عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق سے گڈھے اور ان کی نسبت ان کی جانب کی ،اصلاً عیسیٰ علیہ السلام ان تمام فاسد عقائد سے بری ہیں اور انہوں نے توحید خالص کی طرف لوگوں کو دعوت دی ، اس کی وضاحت اللہ نے قرآن میں کی ہے ۔
{وَإِذْ قَالَ اللّٰهُ يَا عِيسَي ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ اللّٰهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوب۔ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنتَ عَلَيٰ كُلِّ شَيْء ٍ شَهِيدٌ}
ترجمہ : ’’ اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ اللہ کے معبود قرار دے لو؟(۱) عیسیٰ(علیہ السلام) عرض کریں گے کہ میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں، مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کو کہنے کا مجھے کو کوئی حق نہیں، اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا، تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا (۲) تمام غیبوں کا جاننے والا تو ہی ہے۔میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (۱)میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا (۲)۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے‘‘۔
[المائدۃ:۱۶۶۔۱۱۷]
۸۔ عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت خالص توحید پر مبنی تھی ، اللہ رب العزت سے مانگنے کے لیے کسی وسیلہ کی بالکل بھی گنجائش ان کی بھی شریعت میں نہیں تھی ۔
۹۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے جو معجزات دیئے تھے ،انہیں پانچ امو ر کے اندر بطور خلاصہ کے ذکر کیا جاسکتاہے : جن میں سے چار کا ذکر سورہ المائدہ(۱۱۰۔۱۱۵)میں ہے اور پانچویں کا ذکر سورہ آل عمران(۱۴۹)میں ہے ۔
۱۰۔ اہل کتاب کے قدیم و جدید علماء میں سے کئی ایک نے اسلام قبو ل کیا ، انہوں نے ہجرت کیا ، نبی اکرم ﷺکی نبوت کے اثبات کے لیے کتابیں بھی تصنیف کیں ۔
تحقیقات و حواشی :
۱۔ الرسالۃ القبرصیۃ حققہ و علق علیہ أبو حفص بن العربی الأثری۔
۲۔ الرسالۃ القبرصیۃ خطاب من شیخ الإسلام ابن تیمیۃ الی سرجواس ملک قبرص۔إعتنی بہا وعلق علیہا: علاء الدین دمج۔
۳۔ الرسالۃ القبرصیۃ لشیخ الإسلام إبن تیمیۃ، تحقیق علی السید صبح المدنی
اردو میں ترجمہ : مورخ اہل حدیث اسحاق بھٹی رحمہ اللہ نے اس رسالہ کا اردو میں ترجمہ کیاہے ۔
جاری…