Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • معیار الحق: مشمولات واثرات (قسط ثانی)

    معیار الحق کے مشمولات:
    کتاب معیار الحق مؤلفہ شیخ الکل محدث دہلوی؍رحمہ اللہ= دراصل تنویر الحق نامی کتاب کے جواب میں لکھی گئی، تنویر الحق شاہ محمد اسماعیل شہید دہلوی کی دو کتابوں:’’ایضاح الحق الصریح فی أحکام ا لمیت والضریح ‘‘(فارسی)اور ’’تنویر العینین فی إثبات رفع الیدین ‘‘(عربی) کے جواب میں لکھی گئی تھی، تنویر میاں صاحب کے ایک حنفی شاگردمحمد پٹنی نے لکھی تھی، یہ درسگاہ نذیریہ کے ایک معمولی اور گمنام طالب علم تھے، اس لیے کتاب کی اہمیت بڑھانے کے لیے میاں صاحب کے معاصر وہم درس جناب نواب قطب الدین مرحوم کے نام سے شائع کی ۔(شیخ الکل محدث دہلوی مرحوم بذات خود اس کی تفصیل فرماتے ہیں(جس کا خلاصہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے): اعلم أن ما ادعيناه من كون تلك الرسالة فى الحقيقة لحمد شاه الفنجاتي يقتضي تفصيلا، وهوأنه اعيرل عتي كان ساعيا من عدة سنن فى جمع ما أورده فمنها من المزخرف لرد ما فى الرسالتين الم : ايضاح الحق و تنوير العيني، لمقتدابا المولوي اسماعيل الشهيد۔۔۔۔فوجه موافقا لمدعاه مجمع الحياء والكرم المولوي قطب الدين صيانه الله تعالي عن مكر الالد الخصام فى الدين، فالتجأ اليه بهذا السؤال بهاره وليله۔۔۔۔فاستجاب دعوته۔ [معیار الحق:ص:۶۸]
    تنویر کا بنیادی موضوع ’’بیان وجوب تقلید مذہب معین‘‘ہے، اور حضرت شاہ شہید کے خیالات پر رد ہے، شیخ الکل خود فرماتے ہیں:
    ’’اور پوشیدہ نہ رہے کہ شیخ محمد شاہ نے ظاہر بزعم اپنے اس رسالہ میں تائید مذہب حنفی کی ہے، مگر بباعث کج فہمی اور ناواقفیت کہ ہنوز نو آموز ہے، بیان وجوب تقلید مذہب معین میں خلاف مسلک ورائے صاحب اور صاحبین وغیرہم کے چلا، خصوصاً درپے رد کرنے رسالہ إیضاح الحق وغیرہ کہ جو منجملہ مصنفات مبارکات جناب فیض مآب قامع شرک وبدعت، مجاہد فی سبیل اللہ، مولانا وبالفضل أولنا محمد إسماعیل عمری رحمہ اللہ سے ہے، بہمہ تن متوجہ ہوا، چنانچہ ناظرین واقفین رسالہ مذکورہ پر خوب روشن اور ہویدا ہے۔
    بہر رنگے کہ می آید شناسم
    مقام افسوس کا ہے کہ مشارالیہ ہمارے پاس کئی برس رہ کر شب وروز مستفید ہوتا رہا،مگر مذاق تحقیق علمائے ربانی سے بے بہرہ رہا۔
    تہ دستان قسمت راچہ سود از رہبر کامل
    بنا بر اس کے اس عاجز نے واسطے اظہار حق اور خیر خواہی عوام مؤمنین کے کہ افراط وتفریط میں نہ پڑیں، درباب اعتقاد رکھنے حقیقت تقلید مذاہب ائمہ اربعہ وغیرہم رحمہم اللہ تعالی کے مطابق تحقیق جناب شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور موافق تقریر دل پذیر مولانا محمد اسماعیل شہید علیہ الرحمۃ والرضوان اور جس طرح سے کتب اصولی حنفیہ اور مالکیہ اور شافعیہ وغیرہ میں دلیل شرعی کے ساتھ معمول بہ نزدیک علمائے محققین کے چلا آتا ہے، بے کم وکاست لکھ دیا، اور اپنی رائے کو اس میں دخل نہ دیا، اور نام اس کا معیار الحق رکھا۔ (معیار الحق :ص:۸۸،طبعہ دار الکتب)
    شیخ الکل نے حق کے اظہار میں تلمیذ کے جواب میں کسی ندامت کا احساس نہ کیا، بلکہ حق کے اظہار کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے، بڑی عمدگی سے اصل موضوع پر ترکیز کرتے ہوئے، علمی بنیادوں پر انتہائی سنجیدہ اور مثالی جواب لکھا، اس میں صرف تقلید کو موضوع نہیں بنایا گیا، بلکہ اس وقت کے دیگر مختلف فیہ مسائل بھی گہرائی اور تفصیل سے زیربحث آئے ہیں۔ مثلاً:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مناقب یا مذمت میں روایات کی حقیقت، تقلید ائمہ اربعہ، اجماع پر بحث، تقلید کا تعارف، حقیقت، اقسام اور ممانعت کی بابت ائمہ اربعہ کے دلائل، منع تقلید پر متعدد دلائل،تتبع رخص، بحث تلفیق، جواز انتقال مذہب، حدیث قلتین پر تحقیقی گفتگو، عشر فی عشر (دہ در دہ)، وقت فجرغلس یا اسفار پر علمی گفتگو، وقت ظہر،جمع بین الصلاۃ… وغیرہ جیسے مسائل پر انتہائی محققانہ ومحدثانہ انداز کی گفتگو کی گئی ہے۔
    کتاب کے عناوین شیخ الکل نے باقاعدہ نہیں بنائے، بعد کے لوگوں نے اپنے لحاظ سے تیار کئے،سردست ہمارے سامنے تین نسخے ہیں:
    ۱۔ قدیم واولین نسخہ جو مطبع فاروقی دہلی سے شائع ہوا۔
    ۲۔ تعلیم القرآن والسنہ سیالکوٹ والا نسخہ
    ۳۔ دار الکتب الإسلامیہ دہلی والا نسخہ
    ان نسخوں کے موضوعات وعناوین قدرے الگ الگ ہیں۔مطبع فاروقی دہلی والے قدیم ترین نسخہ میں کوئی عنوان جلی نہیں، بلکہ (قال المؤلف) اوراس کے جواب میں(أقول) کے ذریعہ بحث کی گئی ہے۔ دار الکتب دہلی والے نسخے میں عناوین باختصار اور الأہم فالأہم کے لحاظ سے مرتب ہیں۔ جبکہ نسخہ سیالکوٹ میں تفصیلی عناوین ہیں۔ تقریب فہم کی خاطر ہم یہاں دہلی والے نسخے سے موضوعات پیش کرررہے ہیں، تاکہ اس کی روشنی میں بقیہ گفتگو آسان ہو۔
    – سبب تالیف۔
    – امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ تبع تابعی ہیں۔
    – امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول تین روایتوں کی حقیقت۔
    – امام صاحب کی ملاقات کسی صحابی سے ثابت نہیں۔
    – امام صاحب کی ملاقات حضرت عبد اللہ بن جزء سے ثابت نہیں۔
    – مناقب یامذمت ائمہ کی روایات کی حقیقت۔
    – تقلید ائمہ اربعہ کا بیان۔
    – اجتہاد مطلق ائمہ اربعہ میں منحصر نہیں۔
    – ائمہ اربعہ کے علاوہ کوئی مجتہد نہیں!!
    – اجماع بسیط ومرکب
    – تقلید کے معانی
    – قرآن وحدیث پر عمل دشوار نہیں
    – تقلید کی اقسام
    – تقلید کی ممانعت میں ائمہ اربعہ کے اقوال
    – تقلید کی ممانعت میں
    – حدیث پانے کے بعد اپنے مذہب سے انتقال جائز ہے
    – روایات اکابرین در عدم التزام مذہب معین
    – متقدمین کسی ایک کی تقلید نہیں کرتے تھے
    – منع تقلید کے دلائل
    – منع تقلید میں پہلی دلیل:آیت قرآن
    – منع تقلید میں دوسری دلیل:حدیث ابن مسعود
    – منع تقلید میں تیسری دلیل:اجماع صحابہ
    – منع تقلید میں چوتھی دلیل:قیاس
    – وجوب تقلید معین کے دلائل کا ابطال
    – رجوع بعد العمل
    – تتبع رخص
    – تقلید بطریق تعین
    – بحث تلفیق
    – جواز انتقال کا مذہب
    – وجوب شرعی اور اجماع شرعی
    – بحث قلتین
    – تمام حدیثیں قلتین کے معارض نہیں ہیں
    – عشر فی عشر کی بحث (دہ در دہ کی بحث)
    – امام صاحب دہ در دہ کے قائل نہ تھے
    – مستحب وقت فجر:غلس
    – حدیث غلس پر اعتراض اور اس کا جواب
    – وقت ظہر اول اور آخر
    – جمع بین الصلاتین
    – مؤلف تنویر کے عذرات جمع بین الصلاتین کا جواب
    بنیادی طور سے کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
    حصہ اول: امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے فضائل ومناقب اور ان کا مقام ومرتبہ، نیز غلط فہمیوں کا علمی ازالہ۔
    حصہ دوم: تقلید کا مفہوم، اقسام، حکم وغیرہ۔ گویا تقلید کے عدم وجوب وعدم لزوم وصحت سے متعلق جملہ اہم کتب حنفیہ سے اقتباسات اور جملہ دلائل کتاب وسنت کا احصاء ۔
    تیسرا حصہ: اہل الحدیث اور اہل الرائے کے مابین مابہ النزاع امتیازی مسائل پر تفصیلی گفتگو، جیسے حدیث قلتین، وقت فجر اور وقت ظہر کے اول اور آخر وقت میں اختلاف، جمع بین الصلاتین وغیرہ۔
    آغاز کتاب یوں ہے:
    قال المؤلف (صاحب تنویر): باب اول بیچ فضائل امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ۔
    أقول (شیخ الکل محدث دہلوی): ہر چند کہ فضائل سے امام صاحب کے ہم کوعین عزت اور فخر ہے، اس کے لئے کہ وہ ہمارے پیشوا ہیں اور ہم انکے امر حق میں پیرو ہیں، لیکن ان فضائل سے جو فی الواقع بھی ہوں اور ساتھ اسناد صحیح کے ثابت ہوں، نہیں تو جھوٹی تعریف شبہ رفض کا ہے، کیونکہ وہ لوگ اسی مرض سے ہلاک ہوگئے ہیں اور رافضی ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس لیے ہم پر ضرور ہوا کہ اس بات کی بھی تحقیق لکھیں، کیونکہ کچی کچی باتیں کہ جو پایہ تحقیق سے نزدیک علمائے محققین ثقات کے دور ہیں، گردش کر رہی ہیں، اور اس میں امام صاحب کے تابعی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اور واسطے اثبات اس دعوی کے احادیث موضوعہ اور معلقہ اور قصے واہیات وارد کئے گئے ہیں۔ اورا س میں کچھ امام صاحب کی کسر شان اور مذمت نہیں ہے۔ اس لئے ان کی فضیلت تابعی ہونے پر موقوف نہیں۔ ان کامجتہد ہونا، اور متبع سنت اور پرہیزگار ہونا کافی ہے ان کے فضائل میں۔ اور آیت کریمہ إنّ أكرمكم عند اللّٰه أتقاكم زینت بخش مراتب ان کے ہے، اور اکثر ائمہ امام صاحب کے تابعی ہونے کے قائل نہیں۔ (معیار :ص:۸۹)
    شیخ الکل کا خیال ہے کہ امام صاحب کی منقبت وفضیلت کے لیے اقوال وآثار گھڑنا علمی رویہ نہیں، نہ انہیں بے دلیل تابعی ثابت کرنا مناسب رویہ ہے، امام صاحب کا امام اور مجتہد ہونا ان کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ کہتے ہیں کہ امام صاحب تابعی نہیں بلکہ تبع تابعی تھے، ساتھ ہی امامت واجتہاد کے منصب عظیم پر فائز تھے۔
    مؤلف تنویر کے قول – کہ امام صاحب نے چار صحابہ سے حدیثیں روایت کی ہیں – کے جواب میں فرماتے ہیں:
    ’’أقول وباللّٰہ التوفیق ومنہ الوصول إلی التحقیق:یہ چاروں صحابی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں موجود تھے، لیکن ملاقات امام صاحب کی ان میں سے کسی سے، یا روایت کرنی ان سے، نزدیک اکثر ائمہ نقل کے ثابت نہیں ہوتی ‘‘۔ (معیار:ص:۹۰۔۹۱)
    پھر امام صاحب نے خود علماء احناف اور ان کے علاوہ متعدد اہل علم کے اقوال بطور دلیل کے پیش کئے ہیں، جن میں صراحت ہے کہ امام صاحب کی ملاقات کسی صحابی سے نہیں۔ ان اہل علم میں:شیخ ابن طاہر حنفی صاحب مجمع البحار (تذکرہ الموضوعات: ص:۱۱)، ملا علی قاری حنفی (شرح نخبہ الفکر:۳ ؍۱۱) بحوالہ امام سخاوی، اسی طرح علامہ محمد اکرم حنفی نے حاشیہ نخبہ الفکر میں، امام ابن خلکان (وفیات الأعیان :ص:۱۶۳)، امام نووی شارح صحیح مسلم (تہذیب الأسماء: ۲؍۲۱۶)، حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہم خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں، آگے مزید فرماتے ہیں:
    تو دیکھو علمائے محققین معتبرین کے کلام سے ظاہر ہوا کہ لقاء امام کا ان چاروں میں سے کسی صحابی سے ثابت نہیں۔ سو مانع کو اسی قدر سندمنع کافی ہے، اور مدعی کو اثبات دعویٰ کا ساتھ دلیل قوی کے لازم ہے، حالانکہ جناب مؤلف (صاحب تنویر الحق)نے دعوی لقاء ان چاروں صحابہ کو کسی دلیل اور بینہ سے ثابت نہیں کیا، یعنی کوئی قول ائمہ نقل سے مثبت اس دعویٰ کا نقل نہیں کیا، سو نہ نقل کرنا جناب مؤلف کا قول کسی امام کا ائمہ نقل سے واسطے اثبات ملاقات امام کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اور ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے تو ظاہر ہی ہے، لیکن ملاقات انس رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی جس پر قول طحطاوی کا نقل کیا ہے وہ بھی حقیقت میں مجرد از شاہد وبینہ ہے، اس لیے طحطاوی اور مثل اس کے، ائمہ نقل سے نہیں ہیں، اور قول ان کا ایسے دعاوی کو مثبت نہیں ہوسکتا، جب تک ائمہ نقل سے روایت متصل نہ ہو، کیونکہ فقہائے مقلدین اپنے ائمہ کی تعریف میں کیا کچھ نہیں لکھ گئے۔ چنانچہ صاحب الدر نے درمختار میں امام اعظم کی مدح میں کیا کچھ غلو کیا ہے اور کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی آخر زمانہ میں امام ہی کے مذہب پر عمل کریں گے۔ (معیار :ص:۹۴)
    آگے مزید فرماتے ہیں:
    ’’یہ بات کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے وقت میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ وغیرہما موجود تھے اور امام صاحب نے ان سے روایت بھی کی ہے، امام نووی رحمہ اللہ کی طرف اس کی نسبت کرنا جیسا کہ مؤلف نے دعویٰ کیا ہے کذب صریح اور بہتان قبیح ہے، نعوذ باللہ منہ۔ اس لیے کہ امام نووی رحمہ اللہ نے تہذیب الأسماء میں ہرگز نہیں کہا کہ یہ لوگ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے وقت موجود تھے، جس کو شک ہو وہ تہذیب الأسماء کو ملاحظہ کرے۔ بلکہ امام نووی رحمہ اللہ کے کلام سے جو عنقریب منقول ہوگا صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کئی برس پہلے انتقال کرچکے تھے، اور جناب مؤلف نے بہ سبب حوالہ کرنے طرف امام نووی رحمہ اللہ کے غلطی صریح کھائی تو اسی قیاس پر امام یافعی رحمہ اللہ کی طرف نسبت کرنا اس قول کا بھی محض غلط ہے۔ حاشا کہ امام یافعی رحمہ اللہ نے کہا ہو کہ یہ لوگ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں تھے اور امام کو ان سے لقاء ہوا ہے اور روایت کی ہے ان سے…‘‘۔ (معیار :ص:۱۰۱)
    یہ پوری بحث دلچسپ ہے، شیخ الکل نے نہ صرف اپنے موقف کا پر زور دلائل کے ذریعہ اثبات کیا ہے، بلکہ مؤلف تنویر کی تاریخی اور علمی غلطیوں سے پردہ اٹھایاہے، اور جہاں جہاں شعوری یا غیر شعوی طور پر ان کی طرف سے غلط نسبت یا غلط احالے تھے، انہیں واشگاف کیا ہے، نیز دیگر اہل علم کے اقتباسات سے اپنے لیے دلائل فراہم کئے ہیں، ان مقامات سے گزرتے ہوئے شیخ الکل کی علمی گہرائی، متانت ، سنجیدگی، مصادر ومراجع پر گہری نگاہ، استحضار، حاضر جوابی اور تیزی ذہانت کا بار بار ادراک ہوتا ہے، یہ سب کچھ اس دور کی بات ہے جب مصادر ومراجع کی قلت بھی تھی اور دستیابی کی صورتیں بھی ناپید تھیں، بلکہ شیخ الکل کے مکتبہ میں بہت سی عام کتابیں منقول ہوتی تھیں، مخطوطے کی صورت میں موجود ہوتی تھیں، ان سب مشکلات کے علی الرغم اس کمال بصیرت وشعور کے ساتھ اس پیچیدہ عمل سے بہ آسانی گزرنا اہل تجدید واصلاح اور عظائم امور سے وابستہ اہل جنوں کا شیوہ ہے۔
    کتاب کا پہلا حصہ ۱۱۹؍صفحات پر تمام ہوتا ہے، دوسرا حصہ مسائل ومباحث تقلید پر مشتمل ہے، جیسا کہ گزرا، پہلے آیت کریمہ ( فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون ) پر گفتگو ہے۔
    ’’قال (مؤلف تنویر الحق):فرماتا ہے اللہ تعالیٰ:(فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون) = پس پوچھو ان سے جو اہلیت ذکرکی رکھتے ہیں، اگر نہیں جانتے ہو تم۔
    پس یہ آیت کریمہ ساتھ اجماع امت کے مخصِّص اور ظنی ہے، اس لیے ہرگز اہل سنت اجازت نہیں دیتے کہ پیروی کی جائے روافض وخوارج کی، اور اسی طرح روافض وغیرہ نہیں اجازت دیتے کہ پیروی کی جائے اہل سنت کی۔ پس اجماع ہوا امت کا اوپر تخصیص اس آیت کے، پس ہوئی یہ آیت مخصص اور ظنی الدلالۃ۔
    أقول: (شیخ الکل): اصل غرض مؤلف (تنویر الحق)کی عقد ثانی سے اثبات وجوب تقلید مجتہد معین ہے، لیکن دعویٰ تخصیص مذاہب اربعہ کو محض واسطہ بنایا ہے۔ تو سنو کہ مقصود مؤلف کا اس دعویٰ سے آیت مخصص ہے بالإجماع اور ظنی الدلالۃ ہے، یہ ہے کہ جب ایک دفعہ ظنی ہوچکی تو اب جتنی (بار)تخصیص چاہیں گے کیا کریں گے، تو (حتیٰ)کہ تخصیص ایک مذہب خاص کی ثابت ہوجاوے۔ تو سنو!کہ دعوی تخصیص کا اور ظنی الدلالۃ ہونے اس آیت کا غلط اور بے اصل ہے، اس لیے کہ لفظ اہل کا اس آیت میں اپنے عموم پر ہے اور اس کی تخصیص پر کوئی دلیل شرعی نہیں ہے۔ نہ تو کتاب اللہ، اور نہ حدیث متواتر یا مشہور یا خبر واحد اور نہ قیاس صحیح کسی مجتہد کا، اور نہ کوئی قرینہ عقلی جس سے عموم آیت میں استحالہ معلوم ہو۔ سو پھر اگر تخصیص کی جائے تو تخصیص اس کی بلا مخصص ہوگی اورتخصیص بلا مخصص نسخ کرنا ہے کتاب اللہ کو، جیسا کہ شرح ابن الحاجب کی عبارت سے معلوم ہوگا، اور ایسا کرنا ممنوع ہے باتفاق امت محمدیہ کے، کیونکہ رافع ہے امان کو لغت اور شرع سے۔ یعنی جو لفظ باعتبار لغت یا شرع کے عام ہونے پر دلالت کرتا ہو اور کوئی دلیل شرعی اس کے خاص ہونے پر قائم نہیں، پھر جو کوئی اپنے فہم مجرد سے بلادلیل اس کو خاص کر ڈالے تو اعتبار لغت عموم کا از روئے لغت اور شرع کے جاتا رہے اور احکام شرعی درہم برہم ہوجاویں۔ اور یہ بات مخالف اہل زبان اور اہل شرع کے ہے، تو بلا قرینہ لفظ عام ، خاص نہیں ہوسکتا، اور مؤلف (تنویر) لفظ اہل کو کہ عام ہے بلا دلیل خاص کرتا ہے، تو اس میں مخالفت اہل لغت اور شرع کی لازم آئے گی، اور یہ مخالفت ممنوع ہے‘‘۔ (معیار :ص:۱۱۹۔۱۲۰)
    اس کے بعد شیخ الکل نے کتب اصول کی روشنی میں دلائل واقتباسات کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ خطابات شرع عام ہوتے ہیں، تاآنکہ کوئی دلیل شرعی آکر اسے خاص کردے، کسی شرعی دلیل کو اپنی طرف سے بلا ثبوت ودلیل کے خاص کرنا غیر شرعی رویہ ہے، اور اس کے غیر شرعی ہونے پر بعض نصوص قرآن و احادیث ذکر کئے ہیں اور عقلاً بھی ثابت کیا ہے۔ خاص کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ سوال صرف کسی خاص اہل علم سے پوچھا جاسکتا ہے، بالفاظ دیگر تقلید کسی خاص کی ہی واجب ہے، جبکہ عام کا مفہوم یہ ہوا کہ کسی بھی کتاب وسنت کے عالم سے استفسار کیا جاسکتا ہے اور کسی کو خاص کرنا درست نہیں۔ شیخ الکل نے اسی آیت کو رد تقلید کے لیے دلیل بنایا ہے، کہ آیت عام ہے، شرعی مسائل میں کسی سے بھی استفسار واستفادہ کیا جاسکتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ عالمِ کتاب وسنت ہو۔
    ایک جگہ فرماتے ہیں: بالیقین معلوم ہوا کہ اس آیت میں مراد ذکر سے ذکر حق ہے، سو جو کوئی اہل ایسے ذکر کا ہوگا عموماً، خواہ کوئی بھی ہو، اس کا اتباع لا علمی کے وقت واجب ہوگا۔ (ص:۱۲۴)
    اس کے بعد صاحب تنویر نے ذکر کیا ہے کہ اہل الذکر سے مراد ائمہ اربعہ ہیں، شیخ الکل نے اس پررد کیا کہ یہ بات تو آج تک کسی نے نہیں کہی، قطعی طور پر خود ساختہ ہے، کہتے ہیں کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ مراد ائمہ اربعہ ہیں جبکہ انتہائی لغو بات ہے تب بھی اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کسی ایک امام کی تقلید واجب ہوگئی!!اس کے بعد اس دعویٰ پر دلائل ونقول کی روشنی میں رد کیا ہے کہ اجتہاد ائمہ اربعہ میں منحصر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اجتہاد ہر دور میں رہا ہے اور رہے گا، یہ کبھی ختم نہیں ہوا، اس میں بہت سے علماء کے مجتہد ہونے کی بابت شواہد فراہم کئے ہیں، اس ضمن میں خصوصا امام ابوثور، امام بخاری، امام داؤد ظاہری، امام ابو جعفر ابن جریر طبری، امام عز بن عبد السلام حنفی اور امام ابن دقیق العید وغیرہم کو بطور مثال بسلسلہ مجتہدین ذکر کیا ہے۔
    شیخ الکل رقم طراز ہیں:
    مشتے نمونہ از خروارے یہ ان مجتہدوں کا ذکر ہے جو ائمہ اربعہ کے بعد ہوئے ہیں، اب طالب شائق کو لازم ہے کہ کتب تواریخ اور طبقات فقہاء کو ملاحظہ کرے، ہماری غرض یعنی ابطال حصر مذاہب اربعہ بنظر اول اسی قدر میں حاصل ہوگئی ہے۔
    اور اگر بنظر ثانی ہو، یعنی اس نظر سے ہو کہ مجتہد ائمہ اربعہ کے سوا کتنے ہی ہوئے ہیں، قبل ان کے صحابہ اور تابعین، اور بعد ان کے مجتہدین آخرین، لیکن اتباع کسی کا سوائے ان چاروں کے درست نہیں، تو بھی اس حصر کا باطل ہونا ظاہر ہے۔ (ص:۱۳۵)
    اس کے بعد تقلید کے معانی ومفاہیم اہل اصول اور دیگر دلائل کی روشنی میں طے کیا ہے، وہ یہ کہ تقلید کی حقیقت ایسے شخص کے قول پر بلا دلیل طلب کئے عمل کرنا ہے جس کا قول شرعی حجتوں میں سے نہ ہو، سو آنحضرت ﷺ اور اجماع کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے، کیونکہ یہ دونوں شرعی حجتوں میں سے ہیں۔ (ص:۱۵۱) اس بابت اصول کی مختلف کتابوں کے حوالے ہیں، جن میں:العقد الفرید از ملا حسن شرنبلانی، التقریر والتحریر، فواتح الرحموت، تیسیر التحریر، مسلم الثبوت، التوضیح، عقد الجید، کتاب الیواقیت والجواہر، سفر السعادہ مع شرح از عبد الحق دہلوی، المختصر المنتہی الأصولی از ابن حاجب مالکی، صراط مستقیم از شاہ شہید وغیرہ جیسی کتابوں کے حوالے قابل ذکر ہیں۔ پھر آگے نصیحت کرتے ہیں کہ عالم بالحدیث کو نصوص سے مسئلہ کا علم ہو تو اسے کسی مجتہد کی تقلید نہ کرنا چاہیے(ص:۱۵۵)۔ کہ آج حدیث کا فہم اوراس پر عمل دشوار ہرگز نہیں، اس بابت قرآن کریم کی متعدد آیات اور اہل علم کے اقوال ذکر کئے ہیں۔ اس کے بعد تقلید کی چار اقسام کا ذکر کیا ہے اور اولین دو قسموں کو درست کہا اور آخری دو قسموں کو محط انظار ومعرکہ آرا کہا ہے۔ اسی ضمن میں منع تقلید کے لئے ائمہ اربعہ اور دیگر اہل علم کے اقوال مختلف کتابوں کی روشنی میں نقل کئے ہیں، مثلا: عقد الجید، تفسیر مظہری، مدخل امام بیہقی، کتاب الیواقیت والجواہر، مرقاۃ شرح المشکاۃ، فتوح الغیب، تاریخ بغداد، سیر أعلام النبلاء ، وفیات الأعیان، قواعد الأحکام از عز بن عبد السلام حنفی، فتاوی عالمگیری، التحریر مع التحبیر وغیرہ۔ اس سلسلے میں کل پینتیس (۳۵) اقوال نقل کئے ہیں، یہ مبحث (ص:۲۳۶)پر تمام ہوتا ہے، شاید اتنا بڑا ذخیرہ ان اقوال کاکہیں اورنہ ملے، کہا جاسکتا ہے کہ یہ اس بابت بیک نوع دائرہ معارف ہے۔
    اس کے بعد منع تقلید کے سلسلہ میں چار نوع کے دلائل مع توضیح مسکت نقل کئے ہیں، (۱) آیت قرآن سے(۲) حدیث رسول ﷺ سے (۳) اجماع صحابہ سے (۴) قیاس صحیح سے۔ پہلی دلیل کے ساتھ چھ مقدمات قائم کئے ہیں، یہ مقدمات ذہن کے دریچے وا کرتے ہیں، اگر صاف دلی سے اہل تقلید انہیں پڑھ لیں، کئی مسائل وابستہ بجائے خود حل ہوجائیں گے، یہ بحث (ص:۲۴۷) پر تمام ہوتی ہے۔ پھر وجوب تقلید معین کے دلائل کا ابطال کیا ہے۔ اس کے بعد مؤلف تنویر کی ایک فضول کی بحث کسی مقلد کاکسی مسئلہ پر عمل کرلینے کے بعد اس سے رجوع جائز نہیں ہے۔ جن دلائل کی روشنی میں مؤلف نے باتیں کی ہیں، شیخ الکل نے اس کا مختلف حوالوں سے کاٹ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان اقوال پر اس سے قبل اہل علم رد کرچکے ہیں، یہ بحث (ص:۳۱۵) پر تمام ہوتی ہے۔
    اس کے بعد کتاب کا تیسرا اور آخری حصہ شروع ہوتا ہے اور وہ ہے:اہل الحدیث اور اہل الرائے کے مابین بعض مابہ النزاع مسائل کی تحقیق اور تجزیہ…
    جاری……

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings