-
رسول اللہ ﷺنے اپنی شان میں غلو سے منع کیاہے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رضي اللّٰه عَنْهُ يَقُولُ عَلَي الْمِنْبَر: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: لَا تُطْرُوْنِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَي ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّما أَنا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللّٰهِ وَرَسُوْلُهُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ میں نے نبی کریم ﷺسے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا :’’مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق)کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔
[صحیح البخاری:۳۴۴۵]
حدیث سے مستنبط مسائل:
۱۔ اس حدیث کے اندر رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعریف میں مبالغہ آرائی سے منع فرمایا ہے۔
۲۔ نصاریٰ نے ابن مریم کی شان میں غلو کیا اور انہیں ان کے حقیقی مقام سے اٹھاکرکے مقام الوہیت پر رکھ دیا۔
۳۔ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث کے اندر اپنی امت کو اپنی شان میں وسطیت اور اعتدال کی طرف رہنمائی کی ہے ۔
۴۔ اس حدیث کے اندر گمراہ لوگوں کی گمراہی کا سبب بیان کرکے اس سے دو ر رہنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
۵۔ کسی کی تعظیم اور تعریف میں غلو یہ انسان کو شرک کی طرف لے جاتاہے ،جیسا کہ نصاریٰ کے ساتھ ہوا ،اسی وجہ سے غلو سے منع کیا گیا ہے ۔
۶۔ رسول اللہ ﷺنے اپنا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بھی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ،لہٰذا مجھے عبدیت کی صفت سے ہی متصف کرو اور الٰہی اوصاف سے دور رکھو ۔
۷۔ نبی ﷺ کی شان میں غلو کرنے والے نبی ﷺ کے متبع نہیں بلکہ نافرمان ہیں ۔
٭٭ ٭
٭