-
شیئر مارکیٹ :کیا صحیح کیا غلط؟ آج ہم ان شاء اللہ شیئر مارکیٹ، کموڈٹی مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ کے موضوع پر بات کریں گے، اس مضمون کے اندر آسان انداز میں، دلائل اور ثبوت کے ساتھ ان موضوعات کی شرعی حیثیت واضح کرنے کی کوشش کی جائےگی ۔
شیئر مارکیٹ کا تصور:
شیئر مارکیٹ کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بڑے کاروباروں کو بڑا سرمایہ درکار ہوتا ہے، جو ایک یا دو افراد اکیلے پورا نہیں کر سکتے۔ اس لیے کئی لوگ مل کر سرمایہ لگاتے ہیں اور کمپنی کے شیئرز کے مالک بنتے ہیں۔ شیئر ہولڈرز اپنے شیئرز خریدتے یا بیچتے ہیں، اور اس عمل کے لیے شیئر مارکیٹ موجود ہے۔ علمائے کرام کے مطابق دُنیاوی معاملات میں بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر چیز حلال ہے جب تک کہ اس کا حرام ہونا ثابت نہ ہو۔ اس لیے شیئر مارکیٹ کا بنیادی تصور شرعاً جائز ہے۔ لیکن مسائل کہاں ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
شیئرز میں سرمایہ کاری کے شرعی اصول:
(۱) حرام پروڈکٹس یا خدمات والی کمپنیاں:
اگر کوئی کمپنی حرام پروڈکٹس یا خدمات سے وابستہ ہو، جیسے: شراب، جوا، یا پورن گرافی سے متعلق کمپنیاں۔ حرام کھانوں سے متعلق پروڈکٹس – سود پر مبنی مالیاتی ادارے (مثلاً بینک) – تمباکو، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری (فلمیں، موسیقی، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز) ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری حرام ہے۔
اسی طرح، اگر کوئی کمپنی بظاہر حلال ہو لیکن اس کا کوئی بڑا ضمنی پروڈکٹ حرام ہو (مثلاً شوگر انڈسٹری کا مولاسیس، جو شراب بنانے میں استعمال ہوتا ہے)، تو وہ بھی حرام کی فہرست میں آتی ہے۔
(۲)غیر یقینی کاروبار :
ایسی کمپنیاں جن میں غیر یقینی حالات کا زیادہ خطرہ ہو، جیسے سٹہ بازی پر مبنی کاروبار یا وہ سٹارٹ اپس جن کا ریونیو ماڈل واضح نہ ہو، ان میں بھی سرمایہ کاری جائز نہیں۔
(۳)ڈیٹ ٹو مارکیٹ کیپٹلائزیشن ریشو :
کمپنی کا کل سرمایہ دو ذرائع سے آتا ہے: ایکوئٹی (شیئرز) اور قرض۔ اگر قرض سود پر مبنی ہو، تو شیئر ہولڈر اس سود پر مبنی قرض میں بھی شراکت دار بن جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔ سود کے بارے میں قرآن کی آیات میںبہت سخت وعیدیں ہیں۔
سوال: سود پر مبنی قرض کا تناسب کتنا ہونا چاہیے؟
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ۳۳ فیصد سے کم، کچھ کہتے ہیں ۳۰ فیصد یا۲۵ فیصد سے کم۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ ’’صفر فیصد‘‘ ہونا چاہیے۔ کیونکہ سود ایک سنگین گناہ ہے، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ سود کے ۷۳ درجے ہیں، جن میں سب سے کم درجہ اتنا سنگین ہے جیسے کوئی اپنی ماں کے ساتھ بدفعلی کرے۔ فتاویٰ لجنہ دائمہ (سعودی عرب)
اگر کمپنی سود پر قرض لیتی ہے، تو اس کے شیئرز بیچ ڈالو اور منافع غریبوں میں بانٹ دو، اس سے ثواب کی نیت نہ رکھو۔ اسلامی فقہ کونسل
ایسی کمپنیوں کے شیئرز رکھنا حرام ہے جو حرام سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔ کویت ہاؤس
سود پر مبنی کاروبار والی کمپنیوں کے شیئرز رکھنا حرام ہے۔
۳۳فیصد کی دلیل؟کچھ لوگ حدیث ’’والثلث کثیر‘‘ (ایک تہائی بہت ہے) کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ حدیث وصیت کے بارے میں ہے، نہ کہ سود پر قرض کے۔ اس لیے یہ دلیل یہاں قابلِ اطلاق نہیں۔ صحیح اصول یہ ہے کہ سود پر مبنی قرض صفر ہونا چاہیے۔
(۴) سود کی آمدنی:
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کمپنی کی سود سے آمدنی ۵ ؍فیصد سے کم ہو تو جائز ہے۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ بھی صفر ہونی چاہیے، کیونکہ سود سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً ناجائز ہے۔
کیا صفر فیصد ممکن ہے؟
اگر آپ سوچتے ہیں کہ صفر فیصد سود والی کمپنی کہاں سے ملے گی؟ تو یاد رکھیں کہ ہم ۲۰۰کروڑ مسلمان ہیں، دنیا کی ایک چوتھائی آبادی۔ اگر ہم مل کر مطالبہ کریں کہ ہمیں صفر فیصد سود والی کمپنی چاہیے، تو کیوں نہیں مل سکتی؟ مثالیں دیکھیں:
*ڈاؤ جونز شریعہ انڈیکس*: ہمارے لیے بنایا گیا ہے۔ *نِفٹی ۵۰ شریعہ* اور *بی ایس ای شریعہ ۵۰*: ہندوستان میں بھی شریعہ انڈیکسز موجود ہیں، لیکن یہ ۳۳ فیصد والے معیار پر ہیں۔ اگر ہم صفر فیصد کا مطالبہ کریں تو وہ بھی ممکن ہے۔
ریلائنس کی مثال: سعودی عرب کے ویلتھ فنڈ نے ریلائنس کے ۲فیصد شیئرز خریدے، اور ریلائنس نے خود کو شریعہ کمپلائنٹ کے طور پر پیش کیا، لیکن ہمارے معیار کے مطابق یہ کمپلائنٹ نہیں کیونکہ اس نے سود پر بڑا قرض لیا ہے۔
شیئرز کی جانچ کیسے کریں؟ دو مراحل میں :
(۱)پہلا مرحلہ : ایپس جیسے Islamicly یا Musaffa استعمال کریں۔ یہ ۳۳ فیصد والا فلٹریشن دیتی ہیں ۔
(۲)دوسرا مرحلہ: Islamic Stock Screener یا Screener.in جیسے ٹولز استعمال کریں۔ تقویٰ سیٹنگز میں سود پر قرض کو صفر پر سیٹ کریں۔ مثال کے طور پر، ہندوستان یونی لیور کا ڈیٹ ٹو ایکوئٹی ریشو 0.03 ہے، جو صفر کے قریب ہے۔
فیوچرز اینڈ آپشنز:
فیوچرز اینڈ آپشنز کو کہانی سے سمجھیں:
(۱)’’مسٹر اے‘‘: ایک لاکھ روپے سے ۱۰۰ روپے کے۱۰۰۰ شیئرز خریدتے ہیں۔ اگر قیمت۱۱۰ ہو جائے تو ۱۰۰۰۰کا منافع، اور اگر۹۰ ہو جائے تو ۱۰۰۰۰کا نقصان۔
’’مسٹر بی‘‘: ایک لاکھ روپے سے ۲۰۰۰۰ شیئرز کا آپشن خریدتے ہیں (۵ روپے فی شیئر)۔ اگر قیمت ۱۱۰ہو جائے تو ۲ لاکھ کا منافع (ایک لاکھ خرچہ نکال کرکے ایک لاکھ منافع)۔ لیکن اگر قیمت ۹۰ہو جائے تو پورا ایک لاکھ نقصان، کیونکہ آپشن کی ویلیو صفر ہو جاتی ہے۔فیوچرز میں خریدنا لازمی ہوتا ہے، اور نقصان اس سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ سیبی کے مطابق ہندوستان میں چھوٹے سرمایہ کار ایک سال میں۶۰۰۰۰ کروڑ کا نقصان کرتے ہیں، زیادہ تر فیوچرز اینڈ آپشنز کی وجہ سے۔ وارن بفٹ انہیں ’’فنانشل ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن‘‘ کہتے ہیں۔
’’شرعی رولنگ‘‘: اسلامی فقہ کونسل کے مطابق، قیمت خریدنا کوئی چیز نہیں، یہ واضح جوا ہے۔
شارٹ سیلنگ (پہلے بیچنا، پھر خریدنا) حرام ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو تمہارے پاس نہیں، اسے مت بیچو۔
انٹرا ڈے ٹریڈنگ اور مارجن ٹریڈنگ بھی حرام ہیں، کیونکہ اس میں بروکر سود پر قرض دیتا ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ قرض اور تجارت کو ملا کر حلال نہیں۔
’’نتیجہ‘‘: ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم شریعت کی رولنگ کو سمجھیں، حرام سے بچیں، حلال کمائی حاصل کریں، اور دنیا و آخرت دونوں کو بچائیں۔ اگر ہم میں بیداری بڑھے گی اور ہم مل کر کوشش کریں گے تو صفر فیصد سود والی کمپنیاں مل سکتی ہیں۔ یہ ناممکن نہیں۔ ہمیں اللہ سے مدد مانگنی ہے، صحیح قدم اٹھانے ہیں، اور حلال آپشنز کے لیے جدوجہد کرنی ہے۔ ان شاء اللہ حلال کمائی ہمارے سامنے آئے گی۔