-
تجارت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم موضوع کا پہلا حصہ: تجارت:
محترم قارئین ! اسلامی شریعت نے مال کمانے پر اکسایا اور ابھارا ہے، اللہ نے مال کمانے اور جمع کرنے سے بھی منع نہیں کیا ہے اور اسی لیے رسول اکرم ﷺ کی بہترین اور جامع دعاؤں میں سے یہ دعا بھی ہے: ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہماری دنیا بھی اچھی بنا، اور آخرت بھی اچھی بنا، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے‘‘۔ [ البقرۃ: ۲۰۱]
اللہ اور اس کے رسول ﷺنے مال کمانے کے مختلف ذرائع اور طریقے بھی بتا دئیے ہیں: تجارت، زراعت، ملازمت اور مزدوری ۔
مال کمانے کے ذرائع میں سے ایک بنیادی ذریعہ تجارت بھی ہے جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾ ’’اللہ نے بیع (لین دین، خریدو فروخت، تجارت) کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے‘‘۔ [البقرۃ: ۲۷۵]
ایسے ہی سورۃ الجمعہ کی مشہور آیت ہے، اللہ نے فرمایا: ﴿ فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللّهِ ﴾’’جب نماز مکمل ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کی روزی تلاش کرو ‘‘۔ [الجمعۃ: ۱۰]
اسی طرح اللہ نے سورۃ النساء کی ایک آیت میں بیان فرمایا:﴿ یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالبَاطِلِ ﴾ ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل اور حرام طریقے سے مت کھاؤ، ہاں تجارت جسے اللہ نے حلال قرار دیا ہے اس کے ذریعے سے تمہیں مال کمانا چاہیے اور مال حاصل کرنا چاہیے‘‘۔[النساء: ۲۹]
تو ہماری شریعت نے ہمیں تجارت کی اجازت دی ہے لیکن یہ تجارت اسلامی قوانین اور اسلامی اصول کی روشنی میں ہونا چاہیے اور اگر اسلامی قوانین سے ہٹ کر کے کوئی انسان تجارت کرتا ہے تو ایسی تجارت شریعت کی نظر میں معتبر نہیں ہے، اللہ نے اسی لیے آگے کہا:﴿ وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ﴾ کہ تجارت کرو لیکن یاد رہے کہ اس کے لیے اگر حرام طریقہ اختیار کرتے ہو تو گویا کہ تم اپنے آپ کو قتل، ہلاک اور برباد کر رہے ہو۔
تجارت کی اہمیت:
(۱) قرآن و حدیث میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کی جانب خصوصی توجہ دلائی ہے اور اس تعلق سے خصوصی تعلیمات شریعت میں موجود ہیں۔
(۲) آپ احادیث کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں گے تو باقاعدہ ’’کتاب البیوع‘‘ کے نام سے چیپٹر ہے اور اس کے اندر نبی ﷺ کی مختلف احادیث ہیں۔
(۳) آپ ﷺ نے تجارت کی باریکیوں سے ایک ایک مسئلے کے تعلق سے ہم اور آپ کو آگاہ کر دیا ہے کہ فلاں قسم کی آپ تجارت کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں یا نہیں؟
تجارت کی فضیلت:
(۱) اللہ نے سورۃ المزمل میں تجارت کو جہاد کے ساتھ جوڑا ہے:﴿ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ﴾[المزمل: ۲۰]
آیت کے اس ٹکڑے میں وہ بندے جو تجارت کر کے اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں اللہ نے ایسے لوگوں کی بھی تعریف کی ہے اور وہ لوگ جو اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے میدان جنگ میں ہوتے ہیں اللہ نے ایسے لوگوں کی بھی تعریف کی اور دونوں کا ایک ساتھ تذکرہ کیا ہے۔
(۲) نبی ﷺتجارت کے میدان میں آئے، آپ نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال تجارت کی غرض سے لے کر آپ ملک شام گئے اور آپ کی اس تجارت سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو اتنا منافع حاصل ہوا کہ اس سے پہلے اتنا منافع کبھی حاصل نہیں ہوا۔
(۳) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی تعداد نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا۔
(۴) وہ لوگ جو تجارت کے پیشے سے جڑے ہوئے ہیں اگر وہ سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرتے ہیں، کسی کو دھوکہ نہیں دیتے، کوئی غبن نہیں کرتے، دو نمبر مال ایک نمبر کہہ کر نہیں بیچتے ہیں، بالکل سچائی، امانت داری اور راست بازی کے ساتھ اگر وہ تجارت کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کا مقام اور فضیلت بتاتے ہوئے نبی کریم ﷺارشاد فرماتے ہیں:’’التاجر الصدوق الأمین مع النبیین والصدیقین والشهداء‘‘. ’’ایسا تاجر جو سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرتا ہے تو وہ (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا‘‘۔
موضوع کا دوسرا حصہ: تجارت اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین:
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تجارت کی یہ اہمیت، فضیلت اور اس کی باریکیاں نبی ﷺنے جن لوگوں کے درمیان بیان فرمائیں ان لوگوں نے کیسی تجارت کی اور ان کو کہاں تک کامیابیاں میسر آئیں؟ تو اصل جواب پیش کرنے سے پہلے یہ جانتے چلیں کہ جب نبیﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو مدینہ میں آپ کے آنے سے پہلے مکہ میں بھی صحابہ تجارت کیا کرتے تھے لیکن آپ ﷺجب مدینہ پہنچے تو مدینہ کی پوری مارکیٹ پر یہودیوں کا قبضہ تھا، مال کمانے کے جتنے ذرائع تھے سارے ذرائع پر تقریباً یہودیوں کا قبضہ اور ہولڈ تھا، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع یہودیوں کے یہ تین قبیلے مدینہ کے اندر تھے، نبی ﷺنے تجارت کے اصول و قوانین وضع کیے، صحابۂ کرام کو تعلیم دی اور پھر صحابہ نے تجارت کرنا شروع کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تجارت کے قوانین اور نظام پر عمل کرتے ہوئے صرف پانچ سال کا عرصہ گزرا کہ ان پانچ سالوں میں یہودیوں کے وہ قبیلے جو مدینہ کی پوری مارکیٹ پر قبضہ جما کر بیٹھے تھے صرف پانچ سال کے عرصے میں مدینہ کو یہودیوں سے خالی کروایا گیا اور مدینہ کی پوری مارکیٹ پر مسلمانوں کا اور صحابۂ کرام کا قبضہ ہو گیا، سوال یہ ہے کہ انہوں نے یہ کیسے اور کس طریقے سے کیا؟ جواب یہ ہے کہ اسلامی تجارت کے قوانین یعنی امانت داری کے ساتھ تجارت کر کے، سچائی کے ساتھ تجارت کر کے، کسی کو دھوکہ نہ دے کر اور اگر کسی نے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو نبی ﷺبحیثیت لیڈر اور قائد فورا ان کی گرفت کر لیا کرتے تھے اور ان کے سامنے دوبارہ سے اسلامی نظام کی وضاحت پیش کرتے تھے، بطور نمونہ ایک واقعہ دیکھیں کہ نبی ﷺمدینہ کی مارکیٹ میں چل رہے ہیں، ایک تاجر اور اس کے سامان کے تعلق سے کوئی بات آپ کو محسوس ہوئی، آپ اس کے پاس پہنچے اور اس کے سامان میں ہاتھ ڈالا تو آپ کو اندر کچھ تری محسوس ہوئی، آپ نے پوچھا: غلے والے بھائی! یہ کیا ہے؟ تاجر نے کہا: اے اللہ کےنبی ﷺ! بارش کے پانی نے اس کو بھگا دیا تھا تو میں نے سوکھا اور تر دونوں مال اکٹھا کر دیا، تو نبی ﷺنے فرمایا: تم نے اس بھیگے ہوئے غلے کو اوپر کر کے کیوں نہیں رکھا؟ من غشنا فلیس منا جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
یہ ہوتی ہے تجارت جس کے تعلق سے نبی ﷺنے صحابہ کی قدم قدم پر رہنمائی کی اور اسی رہنمائی کے نتیجے میں صرف پانچ سال میں مدینہ کی مارکیٹ اور بازار پر صحابۂ کرام کا قبضہ ہو گیا۔
(۱) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ : سب سے عظیم اور بڑے صحابی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کپڑوں کا کاروبار اور تجارت کرتے تھے اور بہت مال دار تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مدینہ میں آ کر نہیں بلکہ مکہ ہی سے مالدار تھے، کپڑوں کا کاروبار تھا اور مدینہ میں ’’سخ ‘‘نام کا ایک علاقہ تھا اس علاقے میں ان کا باقاعدہ ایک گودام اور کارخانہ تھا جس میں وہ کپڑوں کی تجارت کیا کرتے تھے اور کام ہوا کرتا تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو ایک طرف نبی ﷺکی جدائی برداشت نہیں ہوتی تھی لیکن دوسری طرف تجارت کرنا ہے تو اپنی تجارت کا مال لے جا کر تجارت کرتے تھے اور نبی ﷺسے تھوڑی دیر کے لیے دور ہو جایا کرتے تھے،ادھر دوسری طرف نبی ﷺبھی نہیں چاہتے تھے کہ میرا یہ ساتھی اور رفیق مجھ سے جدا ہو لیکن تجارت کی وجہ سے آپ ﷺان کو منع نہیں کرتے تھے اور وہ تجارت کے لیے چلے جایا کرتے تھے۔
(۲) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: یہ بھی کاروبار اور تجارت کیا کرتے تھے اور جب بھی ضرورت پڑی انہوں نے اپنے مال سے اسلام اور مسلمانوں کی مدد کی۔
(۳) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ : ان کے بارے میں کون نہیں جانتا ہے کہ وہ مدینہ کے مال دار صحابہ اور بڑے تاجروں میں سے ایک ہیں کہ باہر سے ان کا مال ہزاروں کی تعداد میں اونٹوں پر لد کر آیا کرتا تھا۔
(۴) حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ: نبی ﷺکے صحابہ جب ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ ﷺنے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کا رشتہ قائم کیا، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف مہاجر صحابی تھے اور مدینہ کے اندر ایک صحابی تھے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی ﷺنے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیع کا بھائی بنا دیا، سعد بن ربیع کون ہیں؟ انصار اور مدینہ کے مسلمان صحابہ میں سب سے مال دار صحابی ، اور عبد الرحمٰن بن عوف کون ہیں؟ مکہ سے ہجرت کر کے آئے ہیں، نہ مال ہے، نہ پیسہ ہے، نہ درہم و دینار ہے، محتاج اور ضرورت مند ہیں، نبی ﷺنے بھائی چارہ کا رشتہ قائم کروا دیا تو سعد بن ربیع نے کہا: عبد الرحمٰن! یہ میرا گھر ہے، یہ میری کھیتیاں ہیں، یہ میری دو بیویاں ہیں، آدھا آدھا سب تمہارا ہے، جو بیوی پسند آئے طلاق دے دیتا ہوں اور عدت گزرنے کے بعد تم اس سے نکاح کر لینا، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، میرے بھائی مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، اللہ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے، بس مجھے بازار کا راستہ بتا دو، میں کچھ کرنا چاہتا ہوں، حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ نے بازار کا راستہ دکھایا اور عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گھی اور پنیر کا کاروبار جو شروع کیا تو کچھ عرصے میں ان کی تجارت میں اللہ نے ایسی برکت دی کہ اگر پتھر بھی اٹھائیں تو اس کے نیچے سے سونا نظر آ جائے اور یہ بات جاننے کی ہے کہ صحابہ کی فہرست میں سب سے مال دار صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کا تجارتی قافلہ اتنی بڑی تعداد میں آیا کرتا تھا کہ جب مدینہ میں ان کا تجارتی قافلہ پہنچتا تھا تو مدینہ والے شور مچایا کرتے تھے اور لوگوں کے شور سے مدینہ گونج جایا کرتا تھا، لوگ سمجھ جاتے تھے کہ آج عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تجارتی قافلہ مدینہ کے اندر آیا ہوا ہے۔
(۵) حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ: عشرۂ مبشرہ میں سے ایک ہیں، یہ بھی کپڑوں کے تاجر تھے اور جب جنگ بدر ہوئی تو اس وقت حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کپڑوں کی تجارت کے حوالے سے شام گئے ہوئے تھے، مدینہ کے اندر وہ موجود نہیں تھے اسی لیے جنگ بدر میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ شرکت نہ کر سکے تھے۔
(۶) حضرت عباس رضی اللہ عنہ: مدینہ کے اندر صحابہ کپڑوں کے علاوہ خوشبو کا بھی کاروبار کرتے تھے چنانچہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ جو نبی ﷺ کے چچا ہیں وہ تجارت کا مال لینے یمن جاتے تھے اور یمن سے عطر اور خوشبو لایا کرتے تھے اور خاص طور سے حج کے موسم میں اسے بیچا کرتے تھے کیونکہ حج کے موسم میں باہر سے لوگ آتے تھے، پوری بھیڑ ہوتی تھی تو وہ مکہ کے اندر جا کر کے اس کا کاروبار کیا کرتے تھے۔
(۷) حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ: آپ تیل اور چمڑے کا کاروبار کیا کرتے تھے۔
محترم قارئین! یہ آپ کو میں نے نمونے کے طور پر چند مثالیں ذکر کی ہیں جن کے ذریعہ آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ تجارت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا کس قدر گہرا تعلق تھا۔
خلاصہ:
میرے موضوع کا خلاصہ یہ ہے کہ تجارت ایک مبارک عمل ہے، اسلام حلال مال کمانے کا حکم دیتا ہے، مال کمانے کے مختلف حلال ذرائع بھی اس نے بتائے ہیں جن میں سے ایک تجارت ہے جس کو نبی ﷺکے صحابہ نے اپنایا اور مالی اعتبار سے وہ مضبوط سے مضبوط ہو گئے، ساتھ ہی دنیا والوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ حلال راستے سے مال کمانے میں ہی برکت ہے اور حلال راستے پر باقی رہنے سے بھی انسان مال دار اور بے نیاز ہو سکتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حلال کمانے، اسلامی اصولوں پر تجارت کرنے اور ہر قسم کی حرام کمائی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین