Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • ’’آن لائن بزنس ڈراپ شپنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ کاشرعی حکم کیا ہے‘‘؟

    اللہ رب العالمین سورۃ النساء میں فرماتا ہے: ﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﴾ ’’اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ‘‘۔[النساء:۵۹]
    یہ اطاعت و فرمانبرداری زندگی کے ہر گوشے میں ہم پر لازم اور ضروری ہے، اللہ رب العالمین سورۃ البقرہ میں فرماتا ہے:﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ﴾’اے ایمان والو!تم پورے کے پورے طور پر اسلام میں داخل ہو جاؤ‘‘۔[البقرۃ:۲۰۸]
    ایک اور مقام پر اللہ فرماتا ہے: ﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ﴾ ’’ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں پکاریں‘‘۔[الانفال:۲۴]
    ہماری زندگی کا ایک اہم ترین حصہ کسب معاش ہے اس میں بھی ہم اللہ رب العالمین اور اس کے رسول کی پابند ہیں۔
    اللہ رب العالمین نے قرآن میں ایمان والوں کومخاطب کرتے ہوئےفرمایا:﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ﴾’’اے ایمان والو !تمہیں جو ہم نے پاکیزہ روزی عطا کی ہے اس میں سے کھاؤ ‘‘۔ [البقرۃ:۱۷۲]
    اس قدر حساس مسئلہ ہے کہ رزق اور روزی کی تلاش کو عمل صالح کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اللہ رب العالمین نے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ﴾’’ اے رسولو !پاکیزہ روزی کھاؤ اور نیک عمل کرو‘‘۔[المومنون:۵۱]
    تقریبا ًاسی مفہوم کی ایک اور آیت ہے جس کے اندر اللہ رب العالمین نے کسب حلال کو واضح انداز میں ذکر کیا ہے، اللہ رب العالمین نے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :﴿ يَاأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ﴾’’اے لوگو !زمین میں جو حلال اور پاکیزہ روزی ہے وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو‘‘۔[البقرۃ:۱۶۸]
    مجھے جس موضوع پر اپنی بات پیش کرنی ہے وہ ہے: ’’آن لائن بزنس اور ایفلیٹ مارکیٹنگ کاشرعی حکم کیا ہے‘‘؟
    تو سب سے پہلے ہم یہ جو تین چیزیں ہیں اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور اس کے متعلق شریعت کا حکم کیا ہے یہ حلال ہے کہ حرام ہے یا کنڈیشن کیا ہے اس کو جاننے کی کوشش کریں گے ۔
    آن لائن بزنس کیا ہوتا ہے؟ آن لائن کاروبار وہ کاروبار جو الیکٹرانک ذریعے سے انجام پاتا ہے دوسرے الفاظ میں انٹرنیٹ کے ذریعے سے جو بھی کاروبار انجام پاتا ہے یا اس میں سے زیادہ تر حصہ انجام پاتا ہے اس کو’’ آن لائن بزنس ‘‘کہا جاتا ہے۔
    آن لائن بزنس کی بہت ساری شکلیں ہیں وہ شکلیں جاننے کے لیے کئی ایسے دروس درکار ہیں اور باقاعدہ لوگوں کو اہتمام کرنا چاہیے اور مساجد کے اندر بھی اہتمام ہونا چاہیے کہ مستقل طور پر یہ جو موجودہ دور کے آن لائن بزنس ہیں یا مختلف بزنس کے جو طریقے ہیں ان طریقوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں لوگوں کو سمجھایا جائے۔ تاکہ لوگوں کو کم سے کم اتنا پتہ چلے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے اس لیےکہ حلال اور حرام کی تمیز کرنا یہ ہمارا دینی فریضہ ہے، اگر ہم حلال اور حرام کے درمیان تمیز نہیں کرتے ہیں تو ایسی شکل میں ہمارے اعمال برباد ہو سکتے ہیں، اسی طرح سے آخرت بھی برباد ہوگی ،اس لیے ضروری یہ ہے کہ اس مسئلے میں ہم شریعت کی مکمل طور پر جانکاری حاصل کریں اور پھر آگے کاروبار کرنے کی کوشش کریں ،جو بھی خرید و فروخت ہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ شریعت کے مطابق ہو ۔
    کچھ اصولی باتیں ہیں کہ انہیں اگر آپ سمجھ لیں تو اس کی تمام شکلوں کو سمجھنےمیں آپ کےلیے بڑی آسانی ہوگی اور یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کیاکرنا چاہیے اور کیا نہیں، پانچ باتیں یہاں ذکر کی جارہی ہیں:
    (۱) پہلی بات یہ کہ ایک تو خریدنے والا ہوتا ہے اور دوسرا بیچنے والا ہوتا ہے تودونوں کے درمیان آپسی رضامندی ہونی چاہیے اور یہ کاروبار کی شرطوں میں سے ہے،اللہ رب العالمین نے فرمایا: ﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ﴾’’اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ الا یہ کہ وہ تجارت کی شکل میں ہو آپس کی رضامندی سے ‘‘۔[النساء:۲۹]
    تجارت کے ساتھ ساتھ اللہ رب العالمین نے عَنْ تَرَاضٍ کہا کہ آپس کی رضامندی ہونی چاہیے۔
    اور اللہ کے نبی ﷺ کی ایک حدیث بھی ابن ماجہ کی ہےاوروہ یہ حدیث ہے: آپ ﷺ فرماتے ہیں:( إِنَّمَا البَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ ) کہ خرید و فروخت رضامندی سے ہی ہوتی ہے،اس لیے کہ اگر کسی کو بیچنے یا خریدنے پر مجبور کیا جائے تو پھر ایسی شکل میں وہ خرید و فروخت واقعی نہیں ہوگی ،اس وجہ سے یہ رضامندی کی بات کہی جاتی ہے۔
    (۱) تو پہلی چیز یہ ہے کہ بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان رضامندی ہونی چاہیے ۔
    (۲) دوسری بات جو سامان بیچا جا رہا ہو بیچنے والے کی ملکیت میں موجود ہو یہ بھی تجارت کی شرطوں میں سے ہے ، آن لائن میں بہت ساری شکلیں ایسی ہوتی ہیں کہ بیچنے والے کے پاس سامان نہیں ہوتا ہےبلکہ وہ سامان اسٹور والے کے پاس ہے یاکمپنی کے پاس ہے یادوکانوں پر سامان رکھا ہوا ہے اور یہ بندہ خریدنے والے سے خرید و فروخت کا عقد کر لیتا ہے تو ہوتا یہ ہے کہ اس کے پاس کوئی سامان ہوتا ہی نہیں ہے اور وہ بیچ دیتا ہے تویہ شکل جائز ہی نہیںہے۔
    اللہ کے نبی ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا:جو سامان تمہارے پاس نہ ہو اس کو تم نہ بیچو یعنی تمہاری ملکیت میں اور ملکیت کے اندر قبضہ بھی ہے کہ باقاعدہ آپ اس پر مکمل طور پر قبضہ رکھتے ہوں۔
    وہ آپ کے پاس باقاعدہ موجود ہو یا تو حقیقی اعتبار سے قبضہ ہو یا پھر حکمی اعتبار سے قبضہ ہو لیکن وہ سامان آپ کی ملکیت میں ہونا چاہیے تب جا کر کےآپ وہ سامان بیچ سکتے ہیں ۔
    (۳) تیسری بات جو سامان آپ بیچ رہے ہوں وہ حرام نہ ہو اس لیے کہ حرام چیز نہیں بیچی جا سکتی۔ ﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾’’اے ایمان والو! تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ‘‘۔[النساء:۲۹]
    تو یہ حرام سامان اگر بیچا جائے گا تو یہ بھی باطل طریقے سے کھانا ہوا اور یہ جائز نہیں ہے۔
    ابو داؤد کی ایک روایت ہے ، اللہ کے نبی ﷺفرماتے ہیں کہ اللہ رب العالمین جب کسی قوم پر کسی چیز کا کھانا حرام قرار دیتا ہے تو اس چیز کی قیمت بھی حرام ہے۔
    مثلاً خنزیر کا گوشت حرام ہے تو خنزیر کی قیمت بھی حرام ہے ،شراب پینا حرام ہے تو شراب بیچنے کے ذریعے سے جو قیمت آئے گی وہ قیمت بھی حرام ہے ،تو یہاں پر ضروری یہ ہے کہ جو سامان بیچا جا رہا ہو وہ حلال ہو حرام نہ ہو ۔
    (۴) چوتھی بات یہ کہ جو خرید و فروخت ہو رہا ہو اس کے اندر دھوکہ نہ پایا جائے اور آن لائن بزنس میں دھوکے کے بہت سارے امکانات رہتے ہیں،اسی وجہ سے علماء کہتے ہیں کہ: آن لائن بزنس کے اندر بہت زیادہ حساسیت کے ساتھ اور مکمل جانکاری کے ساتھ ہی انسان کو خرید و فروخت کرنا چاہیے کیونکہ اس کے اندر زیادہ تر جو معاملہ ہوتا ہے وہ دھوکے والا ہی ہوتا ہے۔صحیح مسلم کی روایت ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےکنکریوں کے ذریعے سے خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح سے دھوکے کےخرید و فروخت کوحرام قرار دیا ۔
    مثال کے طور پر سامان رکھا ہوا ہے، اب کوئی کہے کہ ایسے سامان پہ کنکری مارو تو تمہارا یہ سامان ہو جائے گا اس کی اتنی قیمت ہے کبھی لگا تو ٹھیک ہے نہیں لگا تو سامان اس کا ہے ہی نہیں، تو یہ جو شکلیں جو ایک شکل ہے اس لیے اللہ کے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
    کسی بھی قسم کا دھوکا ہو تو نبی ﷺ نے اس کے تعلق سے فرمایا :جو ہمیں دھوکہ دے ہم میں سے نہیں ہے ۔
    مطلب یہ ہے کہ آپ سامان بیچتے وقت دھوکہ نہیں دے سکتے تو آن لائن بزنس میں بھی یہ چیز ہے کہ سامان کے حوالے سے ذرہ برابر بھی دھوکے کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے ۔
    (۵) پانچویں چیز اور بہت اہم ترین چیز ہے وہ یہ ہے کہ خرید و فروخت کے اندر سود کا دخل نہ ہو ذرہ برابر نہیں ،ابھی سود کی اتنی ساری شکلیں آگئی ہیں کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ سود کی کون کون سی شکلیں اس کے اندر موجود ہیں، خرید و فروخت کرنے میں، پیسہ کا لین دین کرنے میں، اسی طرح سے ٹرانزیکشن کرنے میں اور اسی طرح سے ادھاری پر لینے میں بھی بہت ساری سود کی شکلیں شامل ہو جاتی ہیں ،اس لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ جو بھی خرید و فروخت کا معاملہ ہوتا ہے سود سے مکمل طور پر وہ پاک ہو۔
    یہ پانچ بنیادی باتیںآپ یاد رکھیں، موجودہ زمانے میں بہت ساری کمپنیاں ہیں جو آن لائن بزنس کرتی ہیں اور اس کی مختلف شکلیں ہیں ،عام طور پر جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ یہ ہےکہ:
    کمپنی ڈائریکٹ بیچنے والے کے طور پر ہوتی ہے اور ایک کسٹمر ہوتا ہے جو خریدتاہے۔
    جو کچھ تفصیل بتائی گئی اگر اس کے مطابق یہ بیع وشرا ءکا عقد منعقد ہوتا ہے تب تو جائز ہے ورنہ پھر جائز نہیں ہے، البتہ اس کے اندر کچھ تفصیل ایسی ہے ،مثال کے طور پر کہ سامان ابھی آپ کو ملا نہیں ہے آپ نے پہلے ہی پیسہ دے دیا تو یہ جائز شکل ہے کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔جبکہ دھوکہ والی بات نہ پائی جائے آپ کو پورا یقین ہو تو ایسی بہت ساری کمپنیاں ہیں جو بہت معروف اور مشہور ہیں اور جس کے بارے میں لوگوں کو باقاعدہ ٹرسٹ ہے اس کمپنی سے یہ سامان خریدا جائے تو یقینی طور پر وہ سامان آتا ہی ہے پہلے آپ قیمت طے کر دیتے ہیں یہ آپ پے کر دیتے ہیں تو بھی آپ کا سامان آ جاتا ہے اور کمپنی کے اندر یہ شکل بھی رکھی جاتی ہے کہ: سامان آپ کے پاس باقاعدہ ا ٓجائے اور ہاتھوں ہاتھ پھرآپ پیسہ دے کر کے وہ سامان لے لیں تو یہ تو اور بھی بہت اچھی شکل ہے، اس کے اندر دھوکے والی کوئی بات ہی نہیں ہوتی ہے کہ جو سامان اس کیفیت کے ساتھ جس کیفیت کے ساتھ آپ کو مطلوب ہےآپ کے پاس پہنچا ہے تو آپ پیسہ دے کر کے وہ سامان لے لیں، ورنہ واپس کرنے کا آپ کے اختیار میںبھی ہو تو پھر ایسی صورت میں یہ جائز شکل ہوگی ۔
    ڈراپ شپنگ کیا ہے ؟ مثال کے ذریعے سے تین لوگ ہوتے ہیں ایک خریدنے والا، ایک بیچنے والا اور بیچ میں ایک وسیلے کے طور پر ہوتا ہے یہ جو بیچ میں ڈراپر کے طور پر ہوتا ہے یہ کرتا کیا ہے کہ کمپنی والے سے بات ہو جاتی ہے اس کا سامان کمپنی کا سامان اور سامان جو پروڈکٹ ہے اس کی صفات کو اپنے کسی نیٹ ورک یا ایپ کے ذریعے سے یا مختلف سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کےذریعہ لوگوں کے سامنے اس کی تشہیر کرتا ہے، بیچنے والے سے وہ 200 روپے میں خریدتا ہے حالانکہ ابھی خریدا نہیں ہے وہ یہ ہے کہ صرف ایڈورٹائزمنٹ کے طور پر وہ لگاتا ہے کہ یہ تین سو روپے قیمت ہے 100 روپے اپنے پاس رکھتا ہے 200 روپے کمپنی کو دے دیتا ہے تو اس کے اندر یہ جو شکل ہے کہ ایک بیچنے والا ہے، دوسرا خریدنے والا ہے اور تیسرا یہ بیچنے والے کی حیثیت سے موجود ہوتا ہے کمیشن کھانے والے کی حیثیت سے نہیں بلکہ بیچنے والے کے اعتبار سے موجود ہوتا ہے تو شریعت کے اندر یہ شکل جائز نہیں ہے اور جائز نہ ہونے کی جو دلیل ہے وہ جو پانچ باتیں میں نے ذکر کی ہیں ان میں سے ایک بات تو یہ پائی جاتی ہے کہ اس کے پاس اس سامان کی ملکیت ہی نہیں ہے جیسا کہ کہا گیا کہ اس کا مالک ہونا چاہیےاور یہاں وہ مالک ہی نہیں ہے بلکہ وہ بیچ رہا ہے بیچنے والے کو اور بیچنے والا جو سامان کا مالک ہے وہ کمپنی ہے یہ خود نہیں ہے تو جب کمپنی مالک ہے یہ خود مالک نہیں ہے تو یہ بیچ نہیں سکتا کیونکہ شریعت کے اندر تجارت کی ایک شرط یہ ہے کہ سامان اس کے پاس موجود ہو تو یہ جو ڈراپ شپنگ ہے یہ جائز اور درست نہیں ہے ۔
    ایفلیٹ مارکیٹنگ کیا ہے؟ ایفلیٹ مارکیٹنگ بھی تقریباً ایسے ہی ہے، اس میں بھی تین لوگ ہوتے ہیں ،لیکن یہ جو تیسرا وسیلے کے طور پر ہوتا ہے یہ بائر(بیچنے والے) کے طور پر نہیں رہتا بلکہ یہ کمیشن کے طور پر کمپنی کے سامان کو پروموٹ کرتا ہے اور جو بھی اس کے جانکار ہیں ان لوگوں تک وہ سامان کی ایڈورٹائزمنٹ کرتا ہے اور اس کے بعد پھر لوگ جب خریدتے ہیں تو یہ باقاعدہ کمپنی سے سامان لے کر خریدنے والے تک پہنچا دیتا ہے اور کمپنی سے اس کی ڈیل ہوئی رہتی ہے کہ میں اگرآپ کا ہزار روپیہ کا سامان بیچ دوں تو مجھے اتنا پرسنٹ کمیشن ملنا چاہیے۔
    تو اب اس کوجو کمیشن ملتا ہے تو یہ شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں ؟ تو شریعت کے اندر اس طرح سے کمیشن لینا بالکل جائز اور درست ہے ،شرط یہ ہے کہ وہ بائر(بیچنے والے) کے طور پر اپنے اپ کو متعارف نہ کرائے بلکہ وہ کمیشن لینے والے کے اعتبار سے لوگوں کو متعارف کرائے کہ میں کمیشن لینے والا ہوں،بائر نہیں ہوں اس لیے جب وہ سامان کو کمپنی سے لے کر کے اس کے پاس پہنچاتا ہے یا بیچتا ہے تو وہ ایک کمیشن کھانے والے کے اعتبار سے ہوتا ہے بیچنے والے کے اعتبار سے نہیں ہوتا ہے۔ اور شریعت کے اندر چونکہ یہ شکل جائز ہے اس وجہ سے اگر آن لائن کے ذریعہ یہ چیز کی جا رہی ہے تو یہ بالکل جائز اور درست ہے ۔
    اور ایک اہم ترین مسئلہ یہ بتاتا چلوں کہ یہ جو ہمارا دین ہے تو یہ دین ہر چیز کو شامل ہے،اگرہم دین کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریں گے تبھی جا کر کے دنیا اور آخرت کے اندر ہمیں کامیابی ملے گی ،ورنہ اگر ہم صرف نماز پڑھنےاور قرآن کی تلاوت کرنے کو ہی دین سمجھ لیں اور دنیا اپنی مرضی کے مطابق گزاریں تو یقینی طور پر یہ ہمارے لیے خسارہ کا باعث ہوگا۔
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمیں حلال روزی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائےاورہر قسم کی حرام کمائی سے ہماری حفاظت فرمائے ۔امین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings