-
قسطوں میں خرید و فروخت کے مسائل ’’قسطوں میں خرید و فروخت کے مسائل‘‘، جسے آج کل عام زبان میں ’’ای ایم آئی (EMI) ‘‘پر خریداری کہا جاتا ہے۔
’’ای ایم آئی‘‘ کا مطلب ہے:Equated Monthly Installments، یعنی کسی سامان کو قسطوں میں خرید کر ایک طے شدہ مدت تک ہر ماہ ایک متعین رقم ادا کرنا۔ اسے فقہی اصطلاح میں ’’بیعِ تقسیط‘‘ کہا جاتا ہے۔
بیعِ تقسیط کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں، اور ہر صورت کا حکم اور شرطیں مختلف ہیں۔
پہلی صورت: نقد اور قسطوں کی قیمت میں کوئی فرق نہ ہو۔ مثال :ایک موبائل کی قیمت ۲۰ ہزار روپئے ہے۔اگر نقد خریدا جائے تو بھی۲۰ ہزار۔ اگر قسطوں میں خریدا جائےاور ہر ماہ دو ہزار ادا کئے جائیں تو ایسے بھی ۲۰ ہزار۔
حکم: یہ صورت’’جائز ہے‘‘، بشرطیکہ چند شرائط پوری کی جائیں۔
دلائل: (۱) اصولی قاعدہ: شریعت میں ہر بیع اصلا ًحلال ہے، جب تک اس کے حرام ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو۔
جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾ ’’اللہ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا‘‘۔
(۲) نصوص سے ثبوت: نبی ﷺ نے سامان قسطوں پر خریدا اور قیمت بعد میں ادا کی۔
ایک واقعہ میں آپ ﷺ نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور اپنی زرہ گروی رکھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو قسطوں پر خرید کر آزاد کیا۔
شرطیں: (۱) سونا، چاندی اور کرنسی قسطوں پر نہ خریدی جائے۔ان اشیاء میں صرف ہاتھوں ہاتھ لین دین جائز ہے۔
(۲) تاخیر پر اضافہ نہ ہو۔ اگر قسط وقت پر ادا نہ کی گئی تو جرمانہ، لیٹ فیس یا اضافی رقم لینا’’سود‘‘ہے، جو حرام ہے۔
(۳) ڈیل براہِ راست خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان ہو۔ اگر بینک یا فائنینس کمپنی قرض دے کر سامان دلاتی ہے اور زیادہ رقم لیتی ہے تو یہ سودی معاملہ ہے۔
دوسری صورت: نقد اور قسطوں کی قیمت میں فرق ہو۔مثال: نقد قیمت :۴۰ ہزار۔ قسطوں پر قیمت:۴۴ ہزار۔
حکم: یہ صورت بھی جائز ہے۔ بشرطیکہ ڈیل کے وقت ایک قیمت فائنل ہو جائے۔
دلائل: (۱) ائمہ اربعہ (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے نزدیک یہ بیع جائز ہے۔ (۲) شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔
شبہات اور جوابات :
(۱)سود کا شبہ: یہ سود نہیں، کیونکہ یہاں قرض نہیں دیا جا رہا بلکہ سامان بیچا جا رہا ہے۔ جتنا طے ہوا ہے اتنا ہی ادا کیا جا رہا ہے۔
(۲)ایک بیع میں دو بیع کا شبہ: اگر عقد کے وقت واضح نہ ہو کہ سامان نقد لیا جا رہا ہے یا قسطوں پر، تو معاملہ باطل ہوگا کیونکہ قیمت مجہول ہے۔ لیکن اگر عقد کے وقت ہی فائنل کر دیا جائے تو یہ جائز ہے۔
شرطیں :
(۱) سونا، چاندی اور کرنسی قسطوں میں نہ خریدی جائیں۔
(۲) ایک بار جو قیمت طے ہو جائے، اس پر کوئی اضافہ نہ ہو۔
(۳)تاخیر پر جرمانہ یا لیٹ فیس نہ ہو۔
(۴)عقد کے وقت واضح ہو کہ خریداری نقد ہے یا قسطوں پر۔
ہندوستان کے تناظر میں :
ہندوستان میں تقریباً تمام فائنینس کمپنیاں (جیسے بجاج فائننس وغیرہ) یہ شرط لگاتی ہیں کہ اگر قسط وقت پر نہ دی گئی تو اضافی رقم (پینلٹی؍لیٹ فیس) ادا کرنی ہوگی۔
نتیجہ: چونکہ یہ شرط سودی ہے، اس لیے ہندوستان میں ’’زیرو کاسٹ ای ایم آئی‘‘ یا دیگر اقساطی اسکیمیں شرعاً ناجائز ہیں۔
اگرچہ خریدار وقت پر قسط ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو، لیکن چونکہ ڈیل کے وقت سودی شرط قبول کی گئی ہے، اس لیے یہ معاہدہ باطل اور حرام ہے۔
خلاصہ:
(۱) قسطوں پر خرید و فروخت اصلًا جائز ہے۔
(۲) اس کے جواز کے لیے چار شرطیں لازمی ہیں:
* سونا، چاندی اور کرنسی قسطوں پر نہ خریدی جائے۔
* قیمت طے ہونے کے بعد اضافہ نہ کیا جائے۔
* تاخیر پر جرمانہ یا لیٹ فیس نہ ہو۔
* عقد کے وقت نقد یا ادھار کی صورت واضح ہو۔
(۳) ہندوستان میں رائج زیادہ تر ای ایم آئی اسکیمیں ان شرائط کے خلاف ہیں، لہٰذا ناجائز ہیں۔