-
ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈکا حکم ڈیبٹ کارڈ اورکریڈٹ کارڈ کا حکم‘‘ بڑا ہی اہم موضوع ہے اور زیادہ تر لوگوں سے تعلق رکھتا ہے آج کے وقت میں شاید ہی کوئی ایسا ہو کہ جس کا بینک میں کھاتا نہ ہو ،اکاؤنٹ نہ ہو اور اس کے پاس ڈیبٹ کارڈ نہ ہو اور کریڈٹ کارڈ کا اسے آپشن نہ دیا جاتا ہو۔
یہ نہایت ہی اہم موضوع ہے کیونکہ ایک مسلمان کو حلال و حرام میں تمیز کرنا چاہیے مسلمان کا معاملہ دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہے بلکہ مسلمان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ پابندیوں میں گھرا ہوا ہے، وہ آزاد نہیں ہے، اس کے لیے جوآزادی ہوگی وہ جنت میں آزادی ہے لیکن دنیا میں وہ آزاد نہیں ہے۔اللہ رب العالمین کے احکام کا وہ پابند ہے۔
ایک مسلمان کو حلال اور حرام ذرائع میں بھی تمیز کرنا چاہیے کہ وہ خرید و فروخت کے جو ذرائع استعمال کر رہا ہے، کمانے کے ،کھانے پینے کے جو ذرائع استعمال کر رہا ہے وہ حلال ہیں یا حرام، چونکہ جو شخص حلال و حرام میں تمیز نہ کرے وہ متقی و پرہیزگار نہیں ہو سکتا، حلال و حرام کے درمیان تمیز کرنا یہ تقوے کی نشانی ہے ،امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد بن حسن الشیبانی سے دریافت کیا گیا ،کسی نے کہا کہ آپ زہد کے بارے میں کوئی کتاب کیوں نہیں لکھتے زہدکے بارے میں کوئی کتاب لکھ دیں؟
تو انہوں نے کہا میں نے ’’کتاب البیوع‘‘ تصنیف کر دی ہے ،اس سے ان کی مراد یہ تھی میں نے ’’کتاب البیوع‘‘ میںحلال و حرام کو بیان کر دیا ہے اور زہد جو ہے وہ حرام سے بچنے کا نام ہے اور حلال چیزوں میں دلچسپی کا نام ہے۔
امام ابن شہاب زہری سے دریافت کیا گیا کہ زہد کی حقیقت کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ زہد کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ رب العالمین حلال عطا فرمائے تو اس میں اللہ رب العالمین کا شکر کرے اور حرام چیزوں میں واقع ہونے سے پرہیز کرے ۔
حلال و حرام یہ بڑی ہی اہم چیز ہے، اسی پر انسان کی عبادت اور دعاؤں کا دارومدار ہے، حرام کی وجہ سے انسان کی عبادت اور اس کی دعائیں ضائع ہو جاتی ہیں،اسی وجہ سے اللہ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:’’ کہ حرام سے بچو لوگوں میں تم عبادت گزار بن جاؤ گے‘‘۔
محترم قارئین! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بینک سے ملنے والے کارڈ کئی قسم کے ہوتے ہیں ،اے ٹی ایم کارڈ ہوتا ہے، ڈیبٹ کارڈ ہوتا ہے ،کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے۔ اے ٹی ایم کارڈ کا کیا استعمال ہے آپ جانتے ہیں کہ اے ٹی ایم کارڈ صرف جو مشین اے ٹی ایم مشین لے کے دیتی ہے وہاں سے پیسے نکالنے کا کام ہے پھر بینک نے ڈیولپ کیا اور اپنے کسٹمرز کو مزید سہولیات دیں اور بینک نے ڈیبٹ کارڈ جاری کیا،اب آپ کے پاس ڈیبٹ کارڈ آگیا ۔
ڈیبٹ کارڈ کا مطلب یہ ہے کہ بینک میںآپ کی جو رقم رکھی ہوئی ہےآپ اپنے اسی رقم کو استعمال کریں گے، بس فرق یہ ہے کہ جس طریقے سےآپ بینک جا کر پہلے پیسے نکالتے تھے رسید بھرتے تھے اب اس پریشانی سے آپ کو نجات مل گئی اور آپ کہیں بھی کسی بھی اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکال سکتے ہیں، ڈیبٹ کارڈ میںپلس یہ کر دیا گیا کہ آپ شاپنگ وغیرہ کرتے ہیں تو اس کے ذریعے شاپنگ بھی کی جا سکتی ہے لیکن پیسہ کہاں سے کٹے گا ؟بینک میں آپ کی جو رقم جمع ہے وہیں سے آپ کا پیسہ کٹے گا تو ظاہر ہے ڈیبٹ کارڈ کا شرعی حکم کیا ہے ؟
ڈیبٹ کارڈ کا حکم :
ڈیبٹ کارڈ کا شرعی حکم یہ ہے کہ یہ جائز ہے، ہماری معلومات میں کسی بھی عالم دین نے ڈیبٹ کارڈ کو حرام قرار نہیں دیا ہے کیونکہ اس میں آپ اپنا ہی پیسہ استعمال کر رہے ہیں دوسرا پیسہ استعمال نہیں کر رہے لہٰذا اس کو ہم زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کریں گے۔
اب آگے چلتے ہیں کریڈٹ کارڈ کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کریڈٹ کارڈ کیا ہے ؟کریڈٹ کارڈمیں کیا نقصانات ہیں؟ اور کریڈٹ کارڈ کا کیا شرعی حکم ہے ؟
کریڈٹ کارڈکیا ہے؟
کریڈٹ کارڈ یہ ہے کہ بینک نے ایک کارڈ آپ کو فراہم کیا اور اس میں آپ کو یہ سہولت دی کہ آپ کچھ شاپنگ کرنا یا کہیں بل ادا کرنا چاہتے ہیںاور آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں توکوئی بات نہیں، بینک یہ کہتی ہے ہم آپ کی طرف سے پیسے فی الحال ادا کر دے رہے ہیں، آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں پیسے ہم سے لو، بیوی کو شاپنگ کرواؤ ،بچوں کو شاپنگ کرواؤ ،اسکول فیس بھرو اور دوسرے کام جو آپ کو کرنے ہیں کرو ہم آپ کو پیسہ دے رہے ہیں پھر آپ ہمیں دیتے رہنا ۔
تو کریڈٹ کارڈ کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ بینک سے پیسہ اٹھاتے ہیں بینک سے پیسہ قرض لیتے اب بینک یہ کہتا ہے کہ آپ ہمیں یہ پیسہ دے دینا ۵۰دن میں یا۴۰دن میں ،الگ الگ طرح کے کارڈ پر الگ الگ بینک کا الگ الگ نظام ہوتا ہے، اچھا اگر اتنے دن میں آپ ہمیں پیسہ واپس نہیں کر سکے تو اس کے بعدآپ ہمیں سود سمیت پیسہ واپس کرنا ،اوراس میںاچھا خاصا سود ہوتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ کا شرعی حکم:
کریڈٹ کارڈ کی تفصیل ۔جیسا کہ کریڈٹ کا رڈ کی تفصیل ہی سےآپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ کریڈٹ کارڈ کا شرعی حکم جو ہے وہ یہ ہے کہ سود کی وجہ سے یہ جائز نہیں ہے ۔
کیونکہ سود میں یہی تو ہوتا ہےکہ ہم نے قرض لے لیا اور ہم قرض سود کے ساتھ لوٹائیں گے ،جو سود پر قرض دینے والے ہوتے ہیں وہ سود کے ساتھ اپنی رقم کو واپس لیتے ہیں تو اس میں سود پایا جاتا ہے ،سود پائے جانے کی وجہ سے کریڈٹ کارڈ حلال نہیں ہے بلکہ حرام ہے ۔
بعض علماء نے انتہائی مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دی ہے ،یہ بات اختلاف کی نوعیت یا بعض علماء کی رائے رکھنے کی حیثیت سے بیان کی جا رہی ہے یعنی کہ آپ عمل کریں اور علمائے دیوبند میں سے بھی بعض نے مجبوری کی قید لگا کر اجازت دی ہے ، دلیل یہ دیا کہ اس کے تعلق سے فتویٰ انسان اپنے دل سے پوچھے کہ وہ مجبور ہے یا نہیں ہے کہ بہت سارے کام ایسے ہوتے ہیں کہ بنا کریڈٹ کے آپ نہیں کر سکتے تو یہ بعض علماء کی رائے ہے۔
لیکن راجح اور بہتر یہی ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا انسان استعمال نہ کرےاور ایسی کیا کس کی مجبوری ہو سکتی ہے اگر کوئی چیز ایسی ہے جو وہ کریڈٹ کارڈ کے بغیر نہیں لے پا رہا تو نہ لے، اپنے ایمان کو بچا کر رکھے اور اللہ رب العالمین کی رضا کی جستجو کرکے اس چیز سے بچ جائے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ اس سے بچ جائے۔
کریڈٹ کارڈ کے نقصانات کیا ہیں ؟
کریڈٹ کارڈ آپ کواپنے چال میں پھنسا لیتا ہے، کریڈٹ کارڈ اگر آپ نے بینک سے لیا اور اس کی بنیاد پر آپ نے شاپنگ کر لی یا آپ نے بینک سے اماؤنٹ لے لیا تو سمجھیےکہ آپ اس سود کے بہت بڑے جال میں پھنس چکے ہیں۔
آئیے کریڈٹ کارڈ کے نقصانات آپ کے سامنے رکھ دیں:
(۱) سب سے پہلا اور سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ اس میں سود پایا جاتا ہے اور سود لینے والوں کے بارے میں اور سود دینے والوں کے بارے میں اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے۔
(۲) بعض لوگ کہیں گے کہ بینک نے جو ہمیں لمٹ دی ہے ۵۰دن کی تو ہم کیا کریں گے کہ اسی ۵۰دن کے اندر بینک کا قرض ہم ادا کر دیں گے تو اس میں ہم نے سود تو نہیں دیا۵۰ دن کےاندر ہم ادا کر دیں گے ،جیسا کہ جن علماء نے یہ بات کہی ہے کہ مجبوری کی حالت میں جائز ہے تو انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ جبکہ اس کو یقین ہو کہ اتنی مدت میں میں بینک کا قرض ادا کر دوں گا اوراس کو اپنے اوپر یقین ہو کہ میں اتنے دن میں بینک کا یہ قرض ادا کر دوں گا تو وہ بحالت مجبوری استعمال کر سکتا ہے تو یہ بہت سارے لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے کہ بھائی ہم ۵۰ دن میں ادا کر دیں گے ہم سود لیں گے ہی نہیں، لیکن اس میں ایک چیز یہ ہے کہ آپ متعینہ مدت میں رقم تو ادا کر دے رہے ہیں لیکن جب آپ کا معاہدہ ہوا بینک سے اورآپ کریڈٹ کارڈ لینے گئے یا کریڈٹ کارڈ وہ آپ کو دینے آئے تو جب آپ سائن کرتے ہیں تو اس میں جو شرائط ہوتے ہیں اس میں آپ معاہدہ اس چیز پر کرتے ہیں کہ۵۰ دن میں اگر میں رقم ادا نہیں کر سکا تو میں سود دوں گاتو سود پر آپ معاہدہ کرتے ہیں سود دینے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہیں تو یہ ڈیل ہی کینسل ہوگئی ،یہ ڈیل خراب ہو گئی جس ڈیل میں حرام شرط موجود ہو وہ انویلڈ ہے۔
تو آپ کا رضامند ہونا کہ میں سود ادا کروں گا یہ بھی حرام ہی کے درجے میںآتا ہے تو۵۰ دن میں اگر آپ نے ادا کر دیا تو سود دینے کا گناہ تو آپ کو نہیں ملے گا سود دینے کا وہ گناہ تو نہیں ملا لیکن آپ نے اس شرط پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اس کے مطابق گناہ آپ کو ضرور ملے گا ۔
(۳) کریڈٹ کارڈ میں فضول خرچی ہے،آپ کے پاس کیش ہوتا ہے یا آپ کے پاس ڈیبٹ کارڈ ہوتا ہے تو اس کے ذریعے جب آپ خریداری کرتے ہیں توآ پ کو پتہ چلتا ہے کہ میرے اکاؤنٹ میں اتنا پیسہ ہے یا میری جیب میں اتنا پیسہ ہے اور میں اتنی شاپنگ کروں یااتنا خرچ کروں ،پورا مہینہ مجھے چلانا ہے لہٰذا مجھے کس طریقے سے سمجھداری سے اپنے اس خرچ کو پورے مہینے تک لے جانا ہے ٹھیک ہے نا یہ تمام چیزیں ذہن میںآتی ہیں جب ہمارے پاس سے رقم جاتی ہے۔
کریڈٹ کارڈ میں یہ ہوتا ہے کہ ۵۰دن میں ادا کرنا ہے تو کوئی بات نہیں یہ بھی لے لو کیونکہ آپ کے دماغ میں کیا ہے کہ ۵۰ دن میںآرام سے ادا کر دوں گا تو کریڈٹ کارڈ جو ہے وہ فضول خرچی کا راستہ دکھاتا ہے اور اللہ رب العالمین نے قران مجید میں ارشاد فرمایا : ﴿ وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَحْسُورًا ﴾ ’’اور نہ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا کرلے اور نہ اسے کھول دے، پورا کھول دینا، ورنہ ملامت کیا ہوا، تھکا ہارا ہو کر بیٹھ رہے گا‘‘۔
[الاسراء:۲۹]
یعنی نہ تو اپنے ہاتھوں کو گردن سے باندھ لو یعنی بالکل بخیلی اور کنجوسی اختیار کرو خرچ ہی نہ کرو گھر والوں پر اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کو ایک دم کھول دو یعنی خوب فضول خرچی کرنے لگو ایسا بھی مت کرو کہ پھر تم قابل ملامت اور عاجز ہو کر بیٹھ جاؤ گے۔ لیکن کریڈٹ کی وجہ سے انسان فضول خرچی کرتا ہے۔
(۴)کریڈٹ کارڈ پر سے خرچ کی گئی رقم اگر متعینہ وقت میں آپ نہیں ادا کر پاتے تو سود دیتے ہیں ،کچھ بینک ڈھائی پرسنٹ ، کچھ تین پرسنٹ ،کچھ ساڑھے تین پرسنٹ ،کچھ چار پرسنٹ بھی لیتی ہیں بلکہ کچھ بینک میں تو اگر متعینہ مدت میں آپ ادا نہیں کر پائے تو ایک تو آپ سود دے رہے ہیں اور پھر جو سود بھرنا ہے نا اس پر بھی سود لگے گا اگر ادا نہیں کر پائے تو آگے جو سود آپ کا بڑھتا جا رہا ہے اس پر بھی پلس سود لگتا چلا جائے گا۔
(۵) کریڈٹ کارڈ اگر کھو گیا تو آپ کی گردن پر قرض کا بہت بڑا بوجھ پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کھوئے ہوئے کارڈ سے کوئی بھی شخص آپ کا کریڈٹ کارڈ استعمال کر کے لاکھوں کی شاپنگ کر لے گا اور وہ سارا آپ کو ادا کرنا پڑے گا کیونکہ بینک میں ایڈریس پروف سب کچھ آپ کا درج ہے۔
اب آپ کے ذہن میں ایک بات آ رہی ہوگی کہ بھائی او ٹی پی چاہیے اگر ہم کوئی شاپنگ کرتے ہیں کارڈ سے تو ہمارے پاس او ٹی پی بھی آتا ہے تو موبائل تو ہمارے پاس ہے۔
تو اصل بات یہ ہے کہ جب آپ اپنے ملک میں شاپنگ کرتے ہیں تو او ٹی پی آتا ہے لیکن جب آپ انٹرنیشنل سائٹس پر جا کر شاپنگ کرتے ہیں تو وہاں او ٹی پی کی ضرورت نہیں پڑتی وہاں پر کارڈ پر جو۱۶ نمبرات ہوتےہیں وہ اور سی وی نمبر دیتے ہیں اورایک جھٹکے میں کوئی بھی شخص آپ کے کریڈٹ کارڈ سے تقریباًتین لاکھ تک کی شاپنگ کر سکتا ہے تو ایسی صورت میں آپ کی گردن پر ایک بھاری قرض پڑ جائے گا ۔
(۶) اگر آپ کریڈٹ کارڈ کو کیش کہ۵۰ ہزار نکال لوں اوریہ معلوم ہے کہ انسان بڑا کمزور ہے اس کے پاس جب مجبوری ہوتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یار کوئی بات نہیں چلو نکال لیتے ہیں اگر اس کے پاس آپشن نہیں ہوگا تو وہ صبر کیے رہے گا اورپریشانیاں اٹھا لے گا لیکن آپشن ہےتو وہ کمزور ہے کہ چلو استعمال کر لیتے ہیں تواگرآپ کیش کر لیتے ہیں ایک لاکھ ڈیڑھ لاکھ دو لاکھ اتنا روپہ کریڈٹ کارڈ سے نکال لیتے ہیں تو اس پر سود کی شرح اور بڑھ جاتی ہے شاپنگ میں تھوڑی کم رہتی ہے لیکن اس پر سود کی شرح تھوڑی سی اور بڑھ جاتی ہے ،ایک اور بات کہ جب شاپنگ کرتے ہیں تو۵۰ دن کی جو مدت ملتی ہے کیش کرنے پر وہ مدت بھی ختم ہو جاتی ہے اور پہلے ہی دن سے آپ پر سود لگنا شروع ہو جاتا ہے۔
(۷) کریڈٹ کارڈ کا سالانہ چارج بھی کیا جاتا ہے کچھ بینک ۵۰۰ کچھ ہزار بعض بینک پانچ ہزار تک چارج کرتے ہیں ۔
(۸) بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تو کریڈٹ کارڈ فری میں ملا ہے تو دیکھیے بینک اپنے کسٹمر کو پھنسانے کے لیے بہت کچھ کرتی ہے کیش بیک والا جو سسٹم ہے اس میں بھی گراہک کو پھنسایا جاتا ہے ۵۰۰روپے کیش بیک ملے گا ۲۰۰۰ روپے کیش بیک ملے گا تو آپ کو وہ کیش بیک دیتے ہیں وہ رقم معمولی ہوتی ہے اس پر جو سود وصول کرتے ہیں وہ بھاری ہوتا ہے تو وہ اپنی طرف کھینچنے کا ایک ذریعہ ہوتا ہے کیش بیک ملے گا اور اس پہ بھی لمٹ لگا دیتے ہیں اتنے شاپنگ کرو آپ کےپوائنٹس جمع ہو رہے ہیں پھر آپ کو یہ فائدہ اس کو ان چیزوں میں استعمال کر سکتے ہو تو ایک طرف سے بڑھاتے ہیں کہ اور آگے اور آگے گناہ کی طرف تھوڑا اور بڑھو تھوڑا اور بڑھو، کچھ لوگ کہیں گے کہ ہمیں جو کارڈ ملا ہے وہ فری ملا ہے لیکن آپ دیکھ لیجیے ٹرمز اور کنڈیشن اس کی جو ہوتی ہیں کار جو فری ملتا ہے وہ صرف ایک سال کے لیے فری ہوتا ہے ایک سال کے بعد پھر اس پر چارج لگنا شروع ہو جاتا ہے تو یہ بھی بینک کا ایک مغالطہ دینے کا انداز ہے کہ بس فری کارڈ ہم دے رہے ہیں ایک سال کے بعد وہ چارج لیتے ہیں ۔
(۹) ایک بڑی اہم چیز اگر کریڈٹ کارڈ سے آپ اوور لیمٹ شاپنگ کر لیتے ہیں جو بینک نے آپ کو لمٹ دی ایک لاکھ کی ۵۰ہزار کی تین لاکھ کی جو بھی اس سے زیادہ کبھی ہوتا ہے کبھی ۵۰ ہزار کی شاپنگ کر رہے ہیں ۵۵کی بھی ہو جاتی ہے ایک لاکھ بینک نے لمٹ دی ہے آپ نے کہا یار ایک لاکھ ۱۰ ہزار کی کر لیں بینک کے اندر کوئی بات نہیں بھیا کر لو ایک لاکھد ہزار کی شاپنگ کر لو لیکن یہ اوور لیمٹ جو گیا نا اس پر اتنا سود لگتا ہے کہ آپ اس کا تصور نہیں کر سکتے، بھولے پن میں کبھی ان چیزوں میں پھنس نہیں جانااس پر ایک تو سود کی شرح بڑھ جاتی ہےاور۱۸پرسنٹ جی ایس ٹی بھی لگتی ہے۔
اسی وجہ سے کتنے نوجوان ایسے ہیں جو ملازمت صرف کریڈٹ کارڈ کا سود ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں ان کی زندگی اسی میں پھنس کر رہ گئی کیوں کر رہے ہیں کہ یارقسطیں بھریں گے ،کھانا پینا چلتا رہے اورقسطیں ہر مہینے وہ کریڈٹ کارڈ کی بھر رہے ہیں۔
محترم قارئین! اپنے آپ کو حرام سے بچائیے اللہ کے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے اہل ایمان کو حلال ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور حلال کھانے پینے کا حکم دیا ہے، مسلم شریف کی حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول گرامی ﷺنے ارشاد فرمایا :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون:۵۱] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة:۱۷۲] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟ “
[صحیح مسلم:۱۰۱۵]
اللہ کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم دیا: اے لوگو !اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو پسند کرتا ہے اور اللہ نے اہل ایمان کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، رسولوں کو بھی حکم دیا حلال کھاؤ ،اہل ایمان کو بھی حکم دیا حلال کھاؤ پھر اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک آدمی کا ذکر کیا وہ لمبا سفر کرتا ہے حالت اس کی یہ ہے کہ غبار آلود ہے پریشان ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے ہوئے ہوتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ: اے میرے رب !اے میرے رب !یعنی اس کے تمام اوصاف اس کی تمام کیفیات اور اس کی ہیئت ایسی ہے کہ اللہ کو اس کی دعا جلدی قبول کرنی چاہیے سفر میں ہے اور سفر میں اللہ جلدی دعا قبول کرتا ہے پریشان حال ہے پتہ چلتا ہے پریشان حال ہے۔
﴿ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ﴾
’’بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کرکے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو‘‘
[سورۃ النمل:۶۲]
پریشان حال کی اللہ دعا جلدی قبول کرتا ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں اور ہاتھ اٹھانا یہ دعا کی قبولیت کے چا نس ا س میں بڑھ جاتے ہیں اسی طریقے سے گریہ و زاری کر رہا ہے یعنی تمام چیزیں اس میں ایسی پائی جاتی ہیں کہ اللہ اس کی دعا کو جلدی قبول کرے لیکن ساتھ ہی اس کا کھانا حرام ہوتا ہے اس کا پینا حرام ہوتا ہے اس کا لباس حرام ہوتا ہے اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا پھر اللہ اس کی دعا کیسے قبول کر سکتا ہے۔
ایمان کو بچا کر رکھیے، اپنی عبادتوں کی حفاظت کیجیے ،اپنی دعاؤں کی حفاظت کیجئے ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رب العالمین ہمیں حلال ذرائع کا استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین