-
زیورات کی خرید و فروخت میں غلطیاں اور شرعی احکام اسلام میں حلال و حرام کا مسئلہ نیت سے جڑا ہوا ہے۔ سب سے پہلے ہر شخص کو یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ ’’حلال بھی کچھ ہوتا ہے‘‘ اور’’حرام بھی کچھ ہوتا ہے‘‘۔ اور ہمارا فرض ہے کہ ہم حرام سے بچیں اور حلال راستے پر چلیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی شعور کمزور ہے۔ جب اس کانفرنس کا اشتہار نکلا تو کچھ لوگ سوال کرنے لگے کہ اس میں کتنے ’’بزنس ایکسپرٹ‘‘ہیں؟ انہیں تو یہ شعور ہی نہیں کہ کسی کام میں حلال بھی ہو سکتا ہے اور حرام بھی!
یاد رکھیں! معاملات میں اصل اہمیت شریعت کے اصول و ضوابط کو جاننے کی ہے۔ جو شریعت کے نصوص کو جانے گا، فقہاء کے کلام کو سمجھے گا، اسی کے ذریعے مسائل حل ہوں گے۔
اب آئیے اصل موضوع کی طرف:
زیورات (سونا چاندی) کی خرید و فروخت میں کون سی غلطیاں ہوتی ہیں؟
زیورات کی خرید و فروخت میں سب سے بڑا مسئلہ سود کا ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں:
(۱) ربا الفضل: ایک ہی جنس کی دو چیزوں کے لین دین میں کمی بیشی کرنا، جیسے سونے کے بدلے سونا یا چاندی کے بدلے چاندی، لیکن وزن یا مقدار میں فرق ہو۔
(۲) ربا النسیئہ: لین دین میں ادھار (قرض) کی وجہ سے سود، یعنی ادھار پر لین دین۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت میں ایک اہم اصول:
حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، اور نمک نمک کے بدلے برابر اور نقد ہونا چاہیے۔ اگر یہ چیزیں مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں۔
لین دین کی چار بنیادی صورتیں ہیں:
(۱) جنس اور قدر ایک ہو: جیسے سونا سونے کے بدلے، برابر اور نقد ہونا ضروری ہے۔
(۲) قدر ایک، جنس مختلف: کمی بیشی جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں۔
(۳) جنس ایک، قدر مختلف:کمی بیشی جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں۔
(۴) جنس اور قدر دونوں مختلف: کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں۔
زیورات کی خرید و فروخت کی تین اہم صورتیں:
(۱) سونے یا چاندی کا لین دین کرنسی سے: اس میں کمی بیشی جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں کیونکہ کرنسی، سونا، اور چاندی کو فقہاء نے’’ثمنی‘‘(قیمت رکھنے والی چیز) قرار دیا ہے۔
(۲) سونے کا لین دین سونے سے یا چاندی کا چاندی سے: اس میں نہ کمی بیشی جائز ہے اور نہ ادھار۔ مثال کے طور پر، اگر آپ سونار کے پاس سونا لے کر جاتے ہیں تو وزن برابر ہونا چاہیے اور لین دین نقد ہونا چاہیے۔
(۳) سونے کا لین دین چاندی سے یا چاندی کا سونے سے: اس میں کمی بیشی جائز ہے، لیکن ادھار جائز نہیں۔ مثال کے طور پر، ایک تولہ چاندی کے بدلے آدھا تولہ سونا لینا جائز ہے، بشرطیکہ لین دین فوری اور نقد ہو۔
عام غلطیاں اور ان کا حل:
زیورات کی خرید و فروخت میں اکثر غلطیاں انہی تین صورتوں میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:
ادھار پر زیورات خریدنا:
اگر کوئی زیور پسند آ جائے لیکن پوری رقم موجود نہ ہو، اور خریدار دکاندار کو جزوی رقم دے کر زیور محفوظ کرنے کو کہے اور باقی رقم بعد میں ادا کرے، تو یہ حرام ہے کیونکہ یہ ادھار کا لین دین ہے ۔ (جنس الگ الگ ہے اور معاملہ ادھار کا ہے (
حل: دکاندار سے کہیں کہ زیور محفوظ رکھے، لیکن اسے خریدنے کا معاہدہ نہ کریں۔ جب پوری رقم جمع ہو جائے، اس وقت کے موجودہ ریٹ پر زیور خریدیں۔ اس طرح ادھار سے بچا جا سکتا ہے۔( پیسہ ہوجانے پر نہ خریدار پرانی قیمت کا مطالبہ کرسکتا ہے نہ بیچنے والا کرسکتا ہے)
پرانا زیور دے کر نیا زیور لینا:
اگر پرانے زیور کا وزن مختلف ہو اور نئے زیور کا وزن مختلف ہو، تو یہ بھی حرام ہے کیونکہ سونے کا سونے سے یا چاندی کا چاندی سے لین دین برابر وزن کے ساتھ اور نقد ہونا چاہیے۔
حل: پرانا زیور دکاندار کو بیچ کر رقم لیں، پھر اس رقم سے نیا زیور خریدیں۔ اس طرح شرعی طور پر درست لین دین ہوگا۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
اس مسئلے کی تائید میں دیگر احادیث اور دلائل بھی موجود ہیں۔
مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں ایک شعور پیدا ہو، خاص طور پر تجارت اور خرید و فروخت کے معاملات میں، حلال و حرام کی پہچان میںاس شعور کی بیداری ہی اصل مقصد ہے، تاکہ ہر شخص یہ سوچے:جو میں کر رہا ہوں، کیا یہ حلال ہے یا حرام؟
علم کے بغیر فتویٰ دینے کی خرابی:
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کو صرف دنیاوی تجربے یا چند کتابیں پڑھ کر فتویٰ دینے کا حق حاصل ہے، تو یہ بالکل غلط ہے۔
مسائل کا حل شریعت کے اصولوں میں ہے، نہ کہ صرف تجربات میں۔اس کے لیے ضروری ہے:
قرآن کا علم۔حدیث کی معرفت۔فقہ اور اصولِ فقہ کی سمجھ
الحمدللہ!ہمارے علماء اتنے بے بصیرت نہیں کہ وہ یہ نہ جان سکیں کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم عام لوگ بہت سے اکابر علماء کو نہیں جانتے، جو ان معاملات کے ماہر ہیں۔
ماہر علماء کی طرف رجوع:فقہی مسائل میں ماہر علماء موجود ہیں۔ ان میں سے ڈاکٹر نوح صاحب مدنی اور ڈاکٹر نسیم صاحب مدنی خاص طور پر مشہور ہیں۔
ڈاکٹر نسیم صاحب کی ریسرچ ٹیم بھی ان مسائل پر کام کرتی ہے۔
ہم خود بھی ان علماء سے رجوع کرتے ہیں جب وضاحت درکار ہو۔
لہٰذا، آپ کو بھی معتبر علماء سے رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ اور عمل کی توفیق دے۔ آمین