-
ہیوی ڈپوزٹ کا شرعی حکم ہیوی ڈپوزٹ ہے ؟
ہیوی ڈپوزٹ ہندستان بھر میں مکان کے کرائے پر لین دین کا ایک معروف طریقہ ہے ۔ ہیوی ڈپوزٹ کا طریقہ یہ ہے کہ مالک مکان کسی مکان کا ڈپوزٹ رائج ڈپوزٹ کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ لیتا ہے۔ اور اس’’ہیوی ڈپوزٹ ‘‘ کے بدلہ میں کرایہ یا تو مکمّل معاف کردیتاہے یا انتہائی کم کردیتاہے ۔
مثلااگر کسی علاقہ میں گھر کا کرایہ پانچ ہزار اور ڈپوزٹ پچاس ہزار رائج ہے تو مالک مکان پچاس ہزار کے بجائے تین لاکھ ڈپوزٹ لیتا ہے ۔ اور ڈپوزٹ واپس کرنے تک یا تو اس کا کرایہ سرے سے لیتا نہیں یا پھر انتہائی کم مثلا تین سو یا پانچ سو روپیہ وصول کرتاہے ۔
ہیوی ڈپوزٹ کا شرعی حکم
ہیوی ڈپوزٹ سود کی ایک واضح شکل ہے ۔ اس میں کرایہ دار سود لینے والا ہے اور مالک مکان سود دینے والا۔ اس حکم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے کچھ ابتدائی باتیں آپ سمجھ لیں ۔
(۱) سود کسے کہتے ہیں؟ : کسی قرض پر شرطیہ حاصل کیا جانے والا نفع سود کہلاتا ہے ۔ جو بلا کسی اختلاف کے حرام ہے ۔ کل قرض شرط فیہ أن یزیدہ فہو حرام بغیر خلاف.[المغنی:۶/۴۳۶]
(۲) قرض کے بدلہ میں قرضدار سے کسی بھی طرح کا نفع شرطیہ حاصل کرنا سودہے ۔ خواہ یہ نفع رقم کی صورت میں ہو ہے یا خدمت (service) کی صورت میں:مثلا آپ کسی کو پانچ ہزار روپیے قرض دیں اس شرط پر کہ وہ ان پانچ ہزار روپیوں کے بدلہ چھ ہزار روپیے واپس لوٹائے۔ اس صورت میں یہ ایک ہزار روپیے جو آپ نے زائد لیے سود ہیں ۔
اسی طرح آپ کسی کو پانچ ہزارروپیے قرض دیں اور یہ شرط لگا دیں کہ جب تک وہ پانچ ہزار نہ لوٹا دے تب تک بنا کسی معاوضہ کے آپ کے بچّوں کو تعلیم دے ۔ ایسی صورت میں یہ مفت تعلیم وہ نفع ہے جو آپ قرض کے بدلہ شرطیہ حاصل کررہے ہیں ۔ یہ بھی سود ہے ۔
(۳) ڈپوزٹ کیاہے ؟:ڈپوزٹ اصل میں کرایہ دار کی طرف سے’’ ضمانت ‘‘کی ایک مخصوص رقم ہے ۔ اس رقم کا مقصد سکیوریٹی ہوتا ہے۔جو مالک مکان ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے لیتا ہے ۔ مثلاً اگر کسی گھر کا کرایہ دس ہزار ہے ۔ مالک مکان کو خدشہ ہے کہ کرایہ دار دو تین مہینے کا کرایہ ادا کیے بغیر مکان چھوڑ کر جاسکتا ہے ، یا گھر میں کچھ فرنیچر ہو جس کو نقصان پہنچا کر بھاگ جائے گا یا لائٹ بل کچھ مہینے کی ادا کیے بغیر چلا جائےگا ۔ ان سارے خدشات کو سامنے رکھ کر زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ تک نقصان کا اندیشہ ہے ۔ لہٰذا ایک لاکھ روپیہ مالک مکان گھر کرائے پر دیتے وقت ہی کرایہ دار سے لے کر اپنے پاس رکھ لیتا ہے ۔ تاکہ کسی نقصان کی صورت میں وہ اپنی رقم اس ڈپوزٹ میں سے کاٹ لے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ رقم ممکنہ نقصان سے بچنے کے لے اندیشے کے تحت لے کر رکھی ہے ۔ کرایہ دار نے یہ رقم ضمانت کے طور پر جمع کی ہے تاکہ مالک مکان اس کی طرف سے بے فکر ر ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ رقم ایک طرح کی امانت ہے ۔ یہ استعمال کے لیے نہیں دی گئی ۔
(۴)ڈپوزٹ یا قرض؟: یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ڈپوزٹ کی رقم اصلا ضمانت ہوتی ہے ۔ سیکیوریٹی کے مقصد سے لی جاتی ہے ۔ یہ رقم استعمال کے لیے نہیں لی جاتی ۔ لیکن ہیوی ڈپوزٹ میں یہ بات دونوں طرف سے طے شدہ اور معہود فی الذہن ((understood ہوتی ہے کہ ڈپوزٹ کے نام پر جو رقم لی جارہی ہے استعمال کے لیے لی جارہی ہے ۔اور اس کے استعمال سے ملنے والے فائدے ہی کی وجہ سےمالک مکان کرایہ معاف کررہا ہے یا اس میں تخفیف کررہا ہے ۔لہٰذاگرچہ اس رقم کوڈپوزٹ کہاجاتا ہے ۔ لیکن یہ اپنے اصل کے اعتبار سے ڈپوزٹ نہیں قرض ہے ۔ کسی چیز کا نام تبدیل کرنے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہوجاتی ۔ اور اسلام کسی بھی چیز کی حقیقت کے اعتبار سے اس پر حکم لگاتاہے نا کہ اس کے مروّج نام کی بنیاد پر۔
(۵) ان سارے مقدّمات کے ثابت ہوجانے کے بعد یہ بات آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہیوی ڈپوزٹ کی رائج شکل بھی بالکل واضح سودہے ۔ ہیوی ڈپوزٹ کے معاملہ میں کرایہ دار سود لینے والا ہے اور مالک مکان سود دینے والا ۔ جس طرح ’’دھنی‘‘ سے یا بینک سے لیے جانے والے سودی قرض میں سود دینے والا ایک’’ رقم‘‘’’ قرض‘‘ لیتا ہے اسی طرح ہیوی ڈپوزٹ کی صورت میں مالک مکان ایک’’ رقم‘‘ کرایہ دار سے ’’ قرض‘‘ لیتا ہے ۔ دھنی سے یا بینک سے لیے جانے والے سودی قرض میں قرض لینے والا جب تک قرض نہیں لوٹاتا اور ہر مہینے ایک متعین رقم سود کے نام پر دھنی کو یا بینک کوچکاتاہے ۔ ہیوی ڈپوزٹ میں بھی مالک مکان جب تک کرایہ دار کا ڈپوزٹ نہیں لوٹاتا ہر مہینے کرائے کی رقم جو اس کو کرایہ دار سے حاصل کرنی تھی وہ وصول نہ کرکے سود چکاتاہے ۔
دو شبہات: دینی معاملات کا علم نہ رکھنے والے بعض لوگ ہیوی ڈپوزٹ کے حلال ہونے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہیوی ڈپوزٹ کا معاملہ دونوں ( کرایہ دار اور گھر مالک ) کی رضامندی سے طے ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان کی رضامندی کی وجہ سے اس معاملے کو حلال ہونا چاہیے ۔ حالانکہ بینک سے اور دھنی لیے جانے والے سود میں بھی دونوں کی رضامندی شامل ہوتی ہے ۔ لیکن کسی معاملہ پر فریقین کے رضامند ہوجانے سے بیع جائز نہیں ہوجاتی ۔
بعض حضرات اس کے جواز کے لیے دلیل دیتے ہیں کہ اس معاملہ میں دونوں کا فائدہ ہے اس لیے اس کوحلال ہونا چاہے ۔ یہ دلیل بھی انتہائی بودی ہے ۔ پہلی بات تو یہ کہ کسی چیز میں فائدہ ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہوتی ۔ ورنہ بینک اور دھنی سے لیے جانے والے سود میں بھی کئی مرتبہ دونوں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ کہ ہیوی ڈپوزٹ کے بہت سارے معاملات میں مالک مکان ہیوی ڈپوزٹ پر روم دے کر ہیوی ڈپوزٹ کسی کاروبارمیں لگاتا ہے اور کاروبار فیل ہوجانے کی صورت میں کئی سالوں تک گھر کے کرایہ سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے ۔ اور نقصان اٹھاتا ہے ۔ ہم ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو ہیوی ڈپوزٹ پر گھر اٹھا کر پھنس چکے ہیں۔ پانچ دس سال سے روم کا ہیوی ڈپوزٹ چکا نہیں پارہے اور ہر مہینے کرائے کے لیے آنے والے رقم کا نقصان برداشت کررہے ہیں ۔
ایک حیلہ
بعض حضرات ایک حیلہ کے ذریعہ ہیوی ڈپوزٹ کی اس رقم کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس حیلہ کی تشریح کریں ۔ اس بات کی وضاحت کردیں کہ اللہ رب العزّت دل کی نیّتوں کو دیکھتے ہیں ۔ کسی حرام چیز کو حلال نام دے لینے سے چیز حلال نہیں ہوجائی گی ۔ اللہ کی عدالت کوئی ہمارے ملکوں کی عدالت جیسی نہیں ہے جہاں حیلے سازیاں کرکے صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دے دیا جائے ۔ لہٰذا ایک بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں نہ آئے ۔ اور سچّائی اور خلوص کے ساتھ معاملہ پر غور کرے ۔
بعض حضرات ہیوی ڈپوزٹ میں جواز کی شکل پیدا کرنے کے لیے ایک حیلہ یہ تراشتے ہیں کہ اگر کرایہ بالکل معاف کردیا ہے تو ہیوی ڈپوزٹ حرام ہے لیکن اگر کرایہ کے نام پرچھوٹی سی رقم ہر مہینے دے دیا کرے تو ہیوی ڈپوزٹ حلال ہے ۔
حیلے کا جواب:کرایہ بالکل معاف کردینے اور کرایہ میں تخفیف کردینے میں صرف اتنا فرق ہے کہ پہلی صورت میں سود زیادہ وصول کیا جائے گا اور تخفیف کی صورت میں کم وصول کیا جائے گا۔ کرایہ بالکل معاف کردینے کی صورت میں جو علّت حرمت کی پائی جاتی ہےوہی علّت (سبب) کرایہ کی تخفیف میں بھی پائی جاتی ہے ۔ لہٰذا ان میں سے ایک صورت کو حرام اور دوسری کو حلال کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی ۔
ظاہر سی بات ہے کہ ایک گھر جس کا کرایہ پانچ ہزار ہے اگر مالک مکان ہیوی ڈپوزٹ وصول کرنے کے بعد اس کا کرایہ محض ایک ہزار لے رہا ہے تو بقیہ چار ہزار کسی خیر خواہی اور بھلائی کرنے کے مقصد سے تو معاف نہیں کررہا ہے۔کرائے کے بقیہ چار ہزار روپیے جو وہ وصول نہیں کررہا ہےاس کی وجہ ہیوی ڈپوزٹ کی وہ رقم ہے جو اس نے کرایہ دار سے قرض لی ہوئی ہے ۔اور جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ قرض کے بدلہ میں دیا جانے والا یہ نفع ہی سود ہے ۔
لہٰذا دونوں صورتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ کرایہ بالکل نہ لینے کی صورت میں مالک مکان پانچ ہزار سود بھر رہاہے اور ایک ہزار کرایہ لینے کی صورت میں چار ہزار سود بھر رہاہے ۔دونوں صورتوں میں اس فرق کے علاوہ کوئی ایسا فرق نہیں جس کی بنیاد پر کرایہ بالکل معاف کردینے پر حرام اور کچھ نہ کچھ لے لینے پر حلال کا حکم لگایا جائے ۔ لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ ڈپوزٹ کے زیادہ یا کم ہونے کا کوئی اثر کرایہ کے کم یا زیادہ ہونے پر نہیں ہونا چاہیے ۔
دوسرا حیلہ
بعض حضرت ہیوی ڈپوزٹ حلال کرنے کے لیے ایک دوسرا حیلہ اختیار کرتے ۔ اس حیلے کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ ڈپوزٹ کی رقم اصلا قرض ہے اور اس قرض کے بدلہ میں رقم لینے والے نے کرایہ دار کے پاس گھر گروی رکھا ہوا ہے ۔ اس صورت میں قرض دینے والا کرایہ دار نہیں ہے ۔ وہ بس اپنے پاس رکھے رہن (گروی ) رکھے ہوئے سامان کو استعمال کررہاہے ۔اس کے لیے یہ فائدہ اٹھانا جائز ہے ۔اس اشکال کے دو جواب ہمارے پاس ہیں ۔
پہلا یہ کہ ہیوی ڈپوزٹ کے معاملہ میں گھر کی حیثیت ’’رہن‘‘ کی نہیں ہوتی ۔ کیونکہ
(۱)اسلامی شریعت میںقرض اصلاََ احسان کی ایک شکل ہے ۔ جس میں قرض دینے والے کی خالص نیّت قرض لینے والے کے ساتھ بھلائی کرنے کی ہوتی ہے ۔ قرض لینے والے سے وہ کسی طرح کے دنیاوی مفاد کا خواہش مند نہیں ہوتا۔ جبکہ ہیوی ڈپوزٹ کی شکل میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ قرض دینے والا (کرایہ دار ) ضرورت مند ہے ۔ اور قرض (ہیوی ڈپوزٹ ) دینے کا مقصد بھی اس ضرورت کو پورا کرنا ہے۔
(۲) اسلامی نظام قرض کے حساب سے قرض پرگروی (رہن)رکھا گیا سامان استعمال کے لیے نہیں ہوتا۔ نہ قرض دینے والے کا مقصد اس سے فائدہ اٹھانا ہوتاہے ۔ سامان صرف اس خدشہ کے تحت گروی رکھا جاتا ہے کہ اگر قرض دار نے قرض واپس نہ لوٹایا تو اس کا گروی رکھا ہوا سامان ضبط کرلیا جائے گا۔ لیکن ہیوی ڈپوزٹ کی شکل میں ’’گھر‘‘ کی حیثیت محض ’’رہن‘‘ کی نہیں ہوتی ۔ بلکہ گھر قرض دینے والے کی ضرورت ہوتا ہے جو کہ استعمال کرنے کی شرط پر اس نے قرض دیا ہے ۔
(۳) ہیوی ڈپوزٹ عام قرض کی طرح ’’احسان‘‘ نہیں ’’معاوضہ ‘‘ کی بنیاد پر ہوتاہے ۔ یہاں قرض دینے والا کرایہ دار قرض لینے والے مالک مکان سے شرطیہ نفع کا خواہش مند ہوتاہے ۔
(۴) عام قرض کی صورت میں صرف قرض لینے والا ضرورت مند ہوتا ہے ۔ قرض دینے والا ضرورت مند نہیں ہوتا۔ قرض دینے والا سامان صرف اپنی تسکین اور اطمینان کے لیے گروی رکھتا ہے ۔ وہ گروی رکھی ہوئی چیز کا خواہش مند اور ضرورت مند نہیں ہوتا۔ جبکہ ہیوی ڈپوزٹ کی شکل میں قرض لینے والے کے ساتھ قرض دینے والا بھی ضرورت مند ہوتا ہے ۔ قرض لینے والے کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو وہ ہیوی ڈپوزٹ کی شکل میں وصول کرتا ہے اور قرض دینے والے کو مفت یا کم کرائے میں گھر کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ قرض لینے والے سے حاصل کرتاہے ۔
دوسرا جواب اس حیلے کایہ ہے کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ہیوی ڈپوزٹ میں گھر کی حیثیت ’’ رہن‘‘ کی ہے تو بھی :
(۱)قرض کے بدلہ میں گروی(رہن) رکھے گئے سامان سے فائدہ اٹھانے کوبھی سود ہی کہا جاتا ہے ۔ ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ :
فإن أذن الراهن للمرتهن فى الانتفاع بغير عوض ، وكان دين الرهن من قرض ،لم يجز ، لأنه يحصل قرضا يجر منفعة ، وذلك حرام.
یعنی اگر گروی رکھے ہوئے سامان سے قرض دار نے قرض دینے والے کو استعمال کرنے کی اجازت دے بھی دی ہو تو بھی اس کا استعمال کرنا اس پر حرام ہے کیونکہ یہ قرض کے بدلہ میں حاصل ہونے والا نفع ہے ۔ جو کہ حرام ہے ۔
[المغنی:۴/۴۳۱]
(۲) رسول اللہ ﷺ نے گروی رکھی ہوئی چیز کے استعمال کی اجازت صرف اسی صورت میں دی ہے جب گروی رکھی ہوئی چیز پر قرض دینے والا خرچ کررہا ہو۔ لہذا جتنا وہ گروی رکھی ہوئی چیز پر خرچ کررہا ہے اتنا خرچ نکالنے کے لیے وہ گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھا سکتاہے ۔لیکن اگرفائدہ خرچ سے زیادہ اٹھا رہا ہے تو زائد استعمال سود شمار ہوگا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّهْنُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَي الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ النَّفَقَةُ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا ’’ رہن کے جانور پر اس کے خرچ کے عوض سواری کی جائے اور دودھ دینے والا جانور دوہا جائے اگر وہ گروی ہو‘‘۔
[صحیح البخاری ، کتاب الرہن، باب الرھن مرکوب ومحلوب]
حماد بن سلمہ کی روایت اس سے بھی زیادہ صریح ہے ۔جس کے الفاظ ہیں:
إِذَا ارْتَهَنَ شَاةً شَرِبَ الْمُرْتَهِنُ مِنْ لَبَنِهَا بِقَدْرِ ثَمَنِ عَلَفِهَا فَإِنِ اسْتَفْضَلَ مِنَ اللَّبَنِ بَعْدَ ثَمَنِ الْعَلَفِ فَهُوَ رَبًّا ۔’
’ یعنی اگر کسی کے پاس کوئی بکری گروی رکھی گئی ہو تو وہ جنتا بکری کے چارے پر خرچ کررہا ہے اتنا ہی اس کا دودھ پی سکتاہے ۔ لیکن اگر چارے پر جنتا خرچ کیا ہے اس سے زیادہ کا دودھ پیا تو یہ دودھ’’ سود‘‘ ہوگا۔‘‘
[فتح الباری لابن حجر، دار المعرفۃ – بیروت:۱۴۴/۵]
شیخ ابن عثیمین کا فتویٰ:اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی’’الشرح الممتع‘‘ میں کہتے ہیں:
قرض میں شروط کی مثال جو نفع لائے یہ ہے کہ: ایک آدمی کسی شخص کے پاس آیا اور کہنے لگا’’میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک لاکھ بطور قرض دو‘‘ تو اس نے کہا’’ لیکن میں تیرے مکان میں ایک ماہ رہوں گا ‘‘ تو یہاں قرض نے قرض دینے والے کو نفع دیا ہے اور یہ حرام ہے اور جائز نہیں کیونکہ قرض میں اصل تو قرض لینے والے پر احسان اور نرمی ہے، لہٰذا جب اس میں شرط آجائے تو یہ معاوضہ میں شامل ہو جائے گا، اور جب بطور معاوضہ ہو تو یہ نقد اور ادھار سود پر مشتمل ہے۔
مثلاً:جب مجھ سے کسی نے ایک لاکھ قرض لیا تو میں نے اس پر یہ شرط لگا دی کہ میں اس کے مکان میں ایک ماہ رہائش کروں گا، توگویا کہ میں نے ایک لاکھ کو ’’مکان میں ایک ماہ کی رہائش کے زیادہ میں‘‘ فروخت کیا، اور یہ مدت کا (ادھار )سود ہے، کیونکہ اس میں عوض کی سپردگی میں تاخیر ہے، اور رباالفضل ہے کیونکہ اس میں زیادہ ہے۔لہٰذا اسی لیے علماء کرام کا کہنا ہے کہ ’’جو قرض بھی نفع لائے وہ حرام ہے‘‘[الشرح الممتع:۴/۶۴]
ایک جائز متبادل :مالک مکان کو ایک ساتھ خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہی ضرورت اس کو گھر ہیوی ڈپوزٹ پر اٹھانے پر مجبور کرتا ہے ۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک جائز متبادل شریعت میں یہ ہے کہ آپ کئی سالوں کا کرایہ ایک ساتھ بڑی رقم کی صورت میں وصول کرکے وہ رقم اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں ۔ اور اس طرح بڑی رقم وصول کرنا اور اس کا استعمال میں لانا آپ کے لیے جائز ہے ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ رقم ڈپوزٹ کی نہیں کرائے کی ہے ۔ مثلاً اگر آپ کے گھر کا کرایہ دس ہزار ہے تو آپ تین سال کے حساب سے تین لاکھ ، ساٹھ ہزار کرایہ ایک ساتھ وصول کرلیں ۔
ایسی صورت میں آپ کرائے میں تخفیف بھی کرسکتے ہیں ۔ تاکہ کرایہ دار بھی بڑی رقم دینے کے لیے تیار ہوجائے ۔ مثلاً کسی گھر کا کرایہ ماہانہ دس ہزار ہے ۔ لیکن مالک مکان کو فوری طور پر بڑی رقم کی ضرورت ہے تو وہ تین سال کا کرایہ بیک وقت لینے کے لیے ساٹھ ہزار کم کرکے تین لاکھ روپئے وصول کرسکتا ہے۔
اللہ رب العزّت سے دعا ہے کہ اللہ حلال سے ہماری ضرورتوں کو پورا کردے اور حرام سے نفرت ہمارے دلوں میں ڈال دے ۔ آمین