Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • جوا اور اس کی جدید شکلیں

    جوئے کی شرعی حیثیت اور اس کا تعارف:
    محترم قارئین! حرام کمائی کے مختلف ذرائع پہلے بھی رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں، ان میں سے ایک ذریعہ’’ جوا‘‘ ہے۔ اسلام جوئے کے تعلق سے کیا کہتا ہے؟ جوئے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ اور پھر جوئے کا معاشرے پر کیا نقصان پڑتا ہے؟ اور جوئے کی کون کون سی جدید شکلیں آج ہمارے معاشرے میں رائج ہیں؟ ان سب نکات پر زیر مضمون میں ہم ان شاء اللہ روشنی ڈالیں گے۔
    جوا کو عربی میں’’میسر’’ اور’’قمار‘‘کہتے ہیں، انگریزی میں اسے’’گیمبلنگ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جوا ایک ایسی ڈیلنگ یا معاملہ ہوتا ہے جس میں کسی غیر یقینی (uncertain) واقعہ کی بنیاد پر کوئی رقم داؤ پر لگائی جاتی ہے۔ اس میں یا تو رقم لگانے والا اپنی پوری لگائی ہوئی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا اسے اتنی ہی رقم یا اس سے زیادہ رقم بغیر کسی محنت کے مل جاتی ہے۔
    جوئے کی تعریف میں چار چیزیں شامل ہیں۔ اگر ان چار چیزوں میں سے کوئی ایک چیز نہ ہو تو وہ جوا نہیں کہلائے گا:
    (۱) دو یا دو سے زیادہ فریق شامل ہوں: اگر کوئی ڈیلنگ ہو رہی ہے اور اس میں دو یا دو سے زیادہ فریق شامل ہوں، تب ہی وہ جوا کہلائے گا۔ اگر ایک طرف سے کچھ دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ قمار یا جوئے میں شامل نہیں۔ مثلاً، اگر کوئی شخص کہے کہ آؤ میچ کھیلتے ہیں، اگر تم جیت گئے تو میں تمہیں اتنی رقم دوں گا، لیکن اگر میں جیت گیا تو تمہیں کچھ دینے کی ضرورت نہیں، تو یہ شرعی قمار میں شامل نہیں۔
    (۲)ہر فریق اپنا مال داؤ پر لگائے: اگر معاملہ کرنے والے فریق اپنا مال داؤ پر نہ لگائیں، بلکہ کوئی تیسری پارٹی اپنی رقم خرچ کرے، مثلاً ایک شخص عمر اور بکر سے کہے کہ تم دونوں کھیلو، جو جیتے گا میں اسے انعام دوں گا، تو یہ صورت بھی جوئے میں شامل نہیں۔
    (۳)غیر یقینی واقعہ کی بنیاد پر ہو: اگر جوا کسی یقینی چیز کی بنیاد پر ہو رہا ہو، تو وہ جوا نہیں ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ اگر آج سورج مغرب کی طرف غروب ہوا تو تم مجھے ۱۰۰۰دو گے، اور اگر مشرق کی طرف غروب ہوا تو میں تمہیں ۱۰۰۰ دوں گا، تو یہ قمار میں شامل نہیں کیونکہ یہ یقینی واقعہ پر منحصر ہے۔
    (۴) بغیر کسی معاوضے کے مال جائے یا ملے: اگر کوئی شخص اپنے مال کا حقیقی عوض حاصل کر لیتا ہے اور اس کے ساتھ انعام بھی ملتا ہے، تو وہ جوا نہیں ہے۔ مثلاً، اگر کوئی شخص صابن یا ٹوتھ پیسٹ خریدتا ہے اور کمپنی اسے کوئی اضافی چیز بطور آفر دیتی ہے، تو اسے ہم جوا نہیں کہیں گے کیونکہ اس نے اپنے مال کا حقیقی عوض حاصل کر لیا۔
    جوئے کی شرعی حیثیت:
    عرب میں جس طرح شراب کا رواج بہت زیادہ تھا اسی طرح جوئے کی مختلف شکلیں بھی رائج تھیں۔ چونکہ یہ اچانک مال کمانے اور غیر یقینی بنیاد پر مال کمانے کا ذریعہ تھا، اس لیے لوگ جوا کھیلتے تھے۔ شریعت نے جوئے کو ایک دم حرام نہیں کیا، بلکہ تدریجی طور پر حرام کیا۔
    اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۱۹ میں فرمایا:
    ﴿ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا ﴾
    ’’لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ شراب اور جوئے میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدوں سے زیادہ بڑا ہے‘‘۔
    [البقرہ:۲۱۹]
    یہ پہلا مرحلہ تھا کہ شراب اور جوئے کے نقصانات کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا۔ پھر آخری مرحلے کے طور پر سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۹۰اور ۹۱ نازل ہوئیں، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو شیطان کا کام قرار دیا اور اس سے بچنے کا حکم دیا۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو صحابۂ کرام نے شراب اور جوئے کو ترک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ سے مطالبہ کیا کہ “فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهوْنَ (کیا تم باز آؤ گے؟) اور صحابہ اس سے باز آ گئے۔
    حدیث میں بھی جوئے کی حرمت اور مذمت کے بارے میں وارد ہے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ.’جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو اسے صدقہ خیرات کرنا چاہیے‘‘۔
    [صحیح بخاری، کتاب الادب، ح:۶۱۳۸]
    اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جوئے کا محض ارادہ کرنا یا اسے کھیلنے کی دعوت دینا بھی گناہ ہے، اور اس کے کفارے کے طور پر صدقہ کرنا چاہیے۔
    جوئے کے معاشرتی نقصانات:
    جوا معاشرے پر کئی طرح کے نقصانات ڈالتا ہے:
    (۱) اللہ کی نافرمانی: سب سے پہلا نقصان یہ ہے کہ جوا کھیلنا حرام اور ناجائز کام ہے۔ اللہ نے اسے گناہ قرار دیا، اس لیے ہمیں اور آپ کو اس سے بچنا ہے۔
    (۲) نفرت اور دشمنی: جیسا کہ قرآن میں سورہ مائدہ میں بیان ہوا کہ جوئے کے ذریعے نفرت اور دشمنی پھیلتی ہے۔ جب ایک شخص جوئے کے ذریعے ڈھیر سارا پیسہ کما لیتا ہے اور دوسرا اپنا پیسہ گنوا دیتا ہے، تو اس معاملے کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔
    (۳) نماز اور ذکر سے غفلت: جوا ایک ایسی لت بن جاتا ہے کہ انسان اس میں مبتلا ہو کر اللہ کے ذکر اور نماز سے غافل ہو جاتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ممبئی ہو یا کوئی اور مسلم بستی، جو ہمارے نوجوان آن لائن گیمز، جوئے اور سٹے بازی کی لعنت میں گرفتار ہیں، ان کی زندگی میں نہ نماز ہے، نہ اللہ کا ذکر، اور نہ ہی اپنے ضروری فرائض کی فکر۔
    (۴) چوری اور جرائم: جب کوئی شخص جوا کھیلتا ہے اور اپنی رقم گنواتا ہے، تو وہ مزید پیسہ حاصل کرنے کے لیے چوری، ڈکیتی یا دیگر ناجائز طریقوں کا سہارا لیتا ہے تاکہ جوئے میں دوبارہ رقم لگا سکے۔
    (۵) سستی اور کاہلی: جوا معاشرے میں سستی اور کاہلی کو فروغ دیتا ہے۔ یہ بغیر محنت کے پیسہ کمانے کا جذبہ پیدا کرتا ہے، جس سے لوگ محنت اور کام سے دور ہوتے ہیں۔
    جوئے کی جدید شکلیں:
    (۱) آن لائن گیمز: ڈریم الیون، ایوی ایٹر جیسے پلیٹ فارمز جہاں غیر یقینی نتیجہ کی بنیاد پر پیسہ لگایا جاتا ہے۔ یہ ایپس چند منٹوں میں دس گنا پیسہ کمانے یا صفر کر دینے کا ذریعہ ہیں، جو ہمارے نوجوانوں کو دھوکے میں ڈالتی ہیں۔
    (۲) سٹے بازی: آئی پی ایل جیسے کھیلوں کے میچوں پر سٹہ لگانا، جو ہمارے نوجوانوں میں عام ہے۔ بڑی بڑی مشہور شخصیات اور بالی ووڈ اداکار ان ایپس کا پرچار کرتے ہیں، جس سے نوجوان راغب ہوتے ہیں اور اپنی محنت کی کمائی برباد کر دیتے ہیں۔
    (۳) لاٹری: لوگ کم رقم کے ٹکٹ خریدتے ہیں اور ڈر کی بنیاد پر انعام جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جوئے کی ایک کھلی شکل ہے اور شرعاً حرام ہے۔
    (۴) اخبارات کے کوپن: کچھ اخبارات میں پہیلیاں یا کوپن ہوتے ہیں جنہیں حل کر کے فیس کے ساتھ بھیجا جاتا ہے اور ڈرا کی بنیاد پر انعام دیا جاتا ہے۔ یہ بھی جوئے میں شامل ہے۔
    (۵) انشورنس (بیمہ): کچھ انشورنس پالیسیاں جو غیر یقینی بنیاد پر پریمیم کے بدلے رقم دیتی ہیں، جیسے کہ ماہانہ پریمیم ادا کرنا اور کسی حادثے یا موت کے وقت غیر یقینی رقم حاصل کرنا، یہ بھی جوئے کی ایک شکل ہے اور شرعاً حرام ہے۔
    (۶) آن لائن ٹاسک: کچھ آن لائن ٹاسک جیسے جھوٹے ریویوز دینا، غیر ضروری ویڈیوز یا حرام تصاویر دیکھ کر پیسہ کمانا، یہ بھی جوئے کی ایک شکل ہیں کیونکہ یہ غیر یقینی بنیاد پر مال حاصل کرنے کی کوشش ہے۔
    (۷) فیوچر اینڈ آپشن (F&O) ٹریڈنگ: یہ ایک ایسی ٹریڈنگ ہے جو غیر یقینی بنیاد پر ہوتی ہے، جہاں پریمیم ادا کیا جاتا ہے اور نتیجہ کے مطابق یا تو نقصان ہوتا ہے یا منافع ملتا ہے۔ یہ جوئے کی ایک جدید شکل ہے اور شرعاً حرام ہے۔
    (۸) کریپٹو کرنسی میں سٹے بازی: کچھ لوگ کریپٹو کرنسیز (جیسے بٹ کوائن) کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر سٹہ لگاتے ہیں، جو کہ غیر یقینی بنیاد پر مال کمانے کی کوشش ہے اور جوئے میں شامل ہے۔
    (۹)آن لائن بیٹنگ ایپس: کچھ ایپس جو کھیلوں، مقابلوں، یا دیگر غیر یقینی واقعات پر بیٹنگ کی سہولت دیتی ہیں، جیسے کہ سیاسی انتخابات یا رئیلٹی شوز پر شرط لگانا، یہ بھی جوئے کی ایک شکل ہے۔
    جوئے کی وجوہات:
    آج کے معاشرے میں جوا کیوں بڑھ رہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ حلال اور حرام کی تمیز بھولتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسی سوچ بنتی جا رہی ہے کہ بس پیسہ کمانا ہے، چاہے وہ کسی بھی طریقے سے آئے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اس دور کی پیش گوئی فرمائی:
    ’’یَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ‘‘.
    ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ اس بات کی پروا نہیں کریں گے کہ انہوں نے مال حلال سے لیا یا حرام سے‘‘۔
    [صحیح بخاری، کتاب البیوع،ح:۲۰۸۳]
    لیکن اللہ کا فضل و کرم ہے کہ آج اس کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے حضرات اس بات کی دلیل ہیں کہ اب بھی مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت میں یہ شعور موجود ہے کہ وہ اسلام کے نظام تجارت کو جاننا چاہتی ہے۔
    حلال کمائی کے طریقے:
    ہمارے کچھ نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ منفی تصور ہے کہ جوا حرام ہے، سود حرام ہے، تو حلال کیا ہے؟ میرے بھائیو! حلال کمائی کے لامحدود طریقے ہیں۔ حرام کی فہرست محدود ہے، جبکہ حلال کی کوئی فہرست نہیں۔ آپ مناسب چینلز سے پیسہ کمائیں، تجارت کے ذریعے کمائیں، حلال کاروبار کریں، جیسے:
    تجارت: حلال کاروبار جیسے کپڑوں، کھانے پینے کی اشیاء، یا دیگر جائز مصنوعات کی خرید و فروخت۔
    ملازمت: حلال پیشوں میں کام کرنا، جیسے تدریس، طب، یا ٹیکنالوجی۔
    زراعت: کھیتی باڑی یا دیگر حلال ذرائع سے روزی کمانا۔
    فری لانسنگ: جائز آن لائن کام جیسے گرافک ڈیزائننگ، رائٹنگ، یا پروگرامنگ۔
    جائز انعامات کی صورتیں:اگر کوئی انعام بغیر کسی وعدے یا معاہدے کے دیا جائے، جیسے کہ کوئی طالب علم امتحان میں کامیاب ہوتا ہے اور اس کے اساتذہ یا رشتے دار اسے انعام دیتے ہیں، تو یہ جوئے میں شامل نہیں، بلکہ تحفے کے حکم میں ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی انعام پہلے سے طے شدہ ہو، لیکن اس کے بدلے میں کوئی معاوضہ یا فیس نہ لی جائے، جیسے کہ کوئی مقابلہ ہو اور فاتح کو انعام دیا جائے، تو وہ بھی جائز ہے۔
    مثال کے طور پر، اگر کوئی کمپنی اپنے پراڈکٹس کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈر کے ذریعے انعامات دیتی ہے، لیکن اس انعام کی وجہ سے پراڈکٹ کی قیمت نہ بڑھائی گئی ہو، کوالٹی میں کمی نہ کی گئی ہو، اور خریدار کا مقصد پراڈکٹ سے فائدہ اٹھانا ہو نہ کہ انعام حاصل کرنا، تو یہ جائز ہو سکتا ہے۔
    اللہ کا اصول:اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک اصول دیا کہ ہم دوسروں کا مال ناجائز اور باطل طریقوں سے نہ کھائیں ۔
    ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِل…﴾
    ’’اے ایمان والو! اپنے اموال آپس میں ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ‘‘۔
    [ النساء:۲۹]
    اگر ہمیں لگتا ہے کہ جوئے، سود یا سٹے بازی کے ذریعے ہم کچھ پیسہ کما رہے ہیں، تو آخرت کے اعتبار سے وہ مال ہمیں بربادی کی طرف لے جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:جو پیسہ حرام اور ناجائز طریقے سے آئے گا، وہ دنیاوی حساب سے کما بھی لیا جائے، لیکن آخرت کے اعتبار سے وہ ہمیں تباہی کی طرف لے جائے گا۔

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings