-
نیٹ ورک مارکیٹنگ کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم آج کے ترقی یافتہ دور میں ہر میدان میں حیرت انگیز ترقیاںاورنت نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، چنانچہ بین الاقوامی سطح پر جاری تجارت و معیشت کے میدان میں جہاں ایک طرف بے شمار محیر العقول تجارتیں وجود میں آگئی ہیں تو دوسری طرف گلوبلائزیشن اور اوپن مارکیٹ کے نتیجے میں اونچی آمدنی ہر آدمی کی ضرورت بن چکی ہے علاوہ ازیں آسان، پرکشش اوربھاری بھرکم منافع کی چاہت نیز سرکاری وپرائیوٹ سیکٹر میں عصری تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیےملازمت کے مواقع کی حددرجہ کمیابی کی وجہ سے ملٹی لیول مارکیٹنگ بڑی تیزی سے ساری دنیا میں مقبول ہورہی ہے اور نیٹ ورک مارکیٹنگ لاکھوں نوجوانوں کی امیدوں کا مرکز بن چکی ہے جو ہمہ وقت شرق وغرب میں ہرایک کے لیے بآسانی دستیاب ہے، ایسے میں ایک عام مسلم تاجر اس کے جواز اور عدمِ جواز کو لے کر ورطۂ حیرت میں پڑا ہواہے اور المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے پیش آمدہ دقیق نوازل ومستجدات تک ہر مفتی کی رسائی بھی نہیں ہوتی ہے، کیونکہ حلت و حرمت کی تعیین کا دارومدار مسئلہ کے مالہ وما علیہ کا صحیح تصور وادراک کے بعد مصادرِ شریعت پر گہری نظر،مقاصدِ شریعت،اصولِ فقہ،قواعدِ فقہیہ اور نظائرِ فقہیہ کو دیکھ کر علتِ مشترکہ کی بنیاد پر حکم لگانے کی قدرت ضروری ہوتی ہے ہے جو کہ ماہرین ِفقہ وفتاویٰ کے لیے ایک طرح سے نازک ترین مرحلہ ہوا کرتاہے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کا تعارف:
”نیٹ ورک مارکیٹنگ“جسے اردو میں ”بچھے ہوئے جال نما تجارت“ سے تعبیر کرسکتے ہیں، یہ عام تجارتی طریقوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ عام تجارتی منڈیوں میں تاجر خواہ کمپنی کا مالک ہو،ڈیلر ہو، تھوک بیوپاری ہویا عام تاجر اسے براہ راست فروخت شدہ مال پر منافع حاصل ہوتا ہے لیکن اس میں کمپنیاں عام مارکیٹ ریٹ سے کافی مہنگی اپنی مصنوعات کا سودا صرف اپنے ممبران ہی کے ذریعہ مارکیٹ میں اتارتی ہیں جنہیں کھلی مارکیٹ کسی شوروم اور دکان میں دستیاب نہیں کرسکتے اور یہ مصنوعات ازقبیل حیلہ ہوتی ہیں، اصل مقصد نچلے سطح کی ممبر سازی کے تئیں محنت سے مخصوص طبقہ کو کمیشن کے نام پر فائدہ پہنچانا مقصود ہوتا ہے اس میں ایک آدمی کمپنی کا ممبر بنتا ہے جو up liner کہلاتا ہے اور اس کے نیچے مرحلہ در مرحلہ جڑنے والے ممبران ڈاؤن لائنر کہلاتے ہیں،کمپنی زیادہ سے زیادہ کمیشن کا جھانسا دلاکر بھاری تعداد میں ناعاقبت اندیش ڈاؤن لائنرکے ذریعہ سرمایہ جمع کرنے کی کوشش ہوتی ہے کیونکہ انہی کے ذریعہ اوپر کے لوگوں کو کمیشن حاصل ہوں گے چنانچہ ہر ممبر اسی فراق میں رہتے ہوئے اپنے متعلقین کو اپنے تحت ممبر بناتا ہے اور اس طرح سلسلہ وار ملی ہوئی تجارت کی یہ صورت ”جال“ کے مشابہ ہوجاتی ہے،اسے ملٹی لیول مارکیٹنگ (Multi Level Marketing) بھی کہتے ہیں، اس کو اردو میں ”مختلف السطح تجارت“ کہہ سکتے ہیں؛ اس لیے کہ اس میں ہر ممبر کی سطح اور اس کی حیثیت برابر نہیں ہوتی؛ بلکہ جو پہلے شامل ہوتے ہیں، ان کی اونچی، زیادہ نفع بخش اور بعد والے کی اس سے نیچی اور کم نفع والی سطح ہوتی ہے،اس میں پیرامیڈ اسکیم (Pyramid scheme) کے نظریہ کے مطابق کام ہوتا ہے، پیرامیڈ ”مخروطی“ اور ”اہرامی“ شکل کو کہتے ہیں، یعنی گاجر و مولی کو اُلٹ کر جو صورت بنتی ہے، وہی شکل اس کی ہوتی ہے،اگر کوئی آدمی براہ راست ممبر بننا چاہے تو بعض کمپنیوں میں اس کی اجازت نہیں ہوتی ہے جتنے مراحل اور اس میں ممبران ہوں گے اسی طرح نیچے کے ممبروں کی خریداری کاکميشن اوپر والے کو ملتا رہے گا، کمپنی کی ماہانہ خریداری جس طرح بڑھتی ہے، اسی طرح ممبروں کو دیئے جانے والے کمیشن میں بھی ضابطہ کے مطابق فی صدی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔بعض کمپنیوں میں اضافہ کی حد متعین ہوتی ہے، مثلاً ایموے (Amway) میں اکیس فی صد (%21) تک ہی کمیشن پہنچتی ہے؛ البتہ غیرمعمولی کارکردگی ظاہر ہونے اور خریداری کی ایک مخصوص اونچی سطح پر پہنچنے کی صورت میں کمپنی متعینہ کمیشن پرکچھ رقم اعزازی طورپررائلٹی(Royalty) کےنام سےدیتی ہے۔
سسٹم کے تحت مطلق ممبر بنانا ہی کمیشن پانے کے لیے کافی نہیں؛ بلکہ مخصوص تعداد کی شرط ہوتی ہے، مثلاً افراد کی مجموعی تعداد کم از کم نو اس طور پر ہونا کہ ہر مرحلہ میں کم از کم تین ممبر ہوں تب ہی کمپنی کمیشن جاری کرے گی، ایک بار کمیشن پالینے کے بعد پھر نو ممبران کی زیادتی شرط ہوتی ہے۔
بعض کمپنیاں بغیر ممبر بنے بھی اپنی مصنوعات کے خریدے جانے کی سہولت دیتی ہیں، مگر رعایت ممبر ہی کے ساتھ خاص ہوتی ہے، ان کے یہاں بھی اوپر والے ممبران کو نیچے اور کافی نیچے والے ممبران کا کمیشن دینا اصول میں داخل ہوتا ہے۔
ممبر بننے کے وقت کمپنی کچھ سامان (ان کے بقول) رعایتی قیمت پر دیتی ہے، اور کچھ متعین روپے ممبری فیس، اور لٹریچر وغیرہ کا معاوضہ بتاکر لے لیتی ہے، رعایت کے نام پر جن پیسوں کو واپس کرنا چاہیے، درحقیقت انہی کو فیس وغیرہ کے نام سے وصول کرلیتی ہے، گویا ضابطہ میں کمپنی کے پاس ممبر کا ایک روپیہ بھی نہیں رہتا جس کا وہ مطالبہ کرسکے۔
کمپنی میں ممبر شپ (Membership) کی برقراری کے لیے سالانہ کچھ متعین رقم تجدیدی فیس کے طور پر ادا کرنی پڑتی ہے، اور بعض میں ہر مہینہ کم از کم سورپے کا مال خریدناشرط ہے؛ مثلاً R.C.M کمپنی۔
مصنوعات محض بطورِ حیلہ:
حقیقت میں نیٹ ورکنگ سسٹم میں کمیشن کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے،اور مصنوعات ثانوی درجہ رکھتی ہیں، نئے ممبر کو شمولیت پر راضی کرنے کے لیے خیالی کمیشن کا ذکر ہی کافی سمجھاجاتا ہے، اس کے بغیرمصنوعات کی مارکیٹنگ ناممکن ہےکیونکہ اپنی ممبرشپ باقی رکھنے کے لیے سالانہ متعین رقم جمع کرنی پڑتی ہے اور بعض میں ماہانہ متعین خریداری شرط ہے، یہ اس طرح کی کمپنیوں کے شرائط میں داخل ہے، کمپنیاں ممبرسازی کے لیے پورا تعاون فراہم کرتی ہیں، لیکن مصنوعات کی فروخت میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا، بلکہ کھلی مارکیٹ میں لاکر فروخت کرنا ضابطہ کے خلاف بتاتی ہیں، کیونکہ کھلی مارکیٹ میں مصنوعات آئیں گی تو سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا،علاوہ ازیں ملٹی لیول کی بعض کمپنیاں خواہش مند حضرات کو مصنوعات خریدے بغیر بھی شرکت کی اجازت دیتی ہے،اگر مصنوعات کی فروخت ہی مقصود ہوتی تو ایسی اجازت ہرگز نہ دیتیں۔
نیٹ ورک کمپنیاں ایک جائزہ:
”ملٹی لیول کمپنیاں“ ہندوستان میں تو بیسویں صدی کی آخری دہائی میں متعارف ہوئی ہیں سب سے پہلے ایموے انڈیا (Amway India) ”ایموے انڈیا“ کے علاوہ آرسی، سی، ایم (R.C.M) وغیرہ لیکن فی زمانہ کئی ناموں سے کافی تعداد میں کمپنیاں میدانِ عمل میں اتری ہوئی ہیں، اور جلد مالدار ہونے کا جھانسا دے کر ناعاقبت اندیش افراد سے سرمایہ جمع کررہی ہیں، اسی وجہ سے گزشتہ سالوں میں ہندوستان کے شعبۂ اقتصادیات کی طرف سے ایسی کمپنیوں کے دھوکے اور ضرر سے بچے رہنے کی تلقین و تاکید کی گئی تھی۔
چونکہ اس کے بنیادی ساخت (System) میں دھوکہ اور تجارتی چال بازی (Business fraud) ہے، اس لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اور حکومتوں نے ان کے ضرر سے بچنے کی تلقین کی ہے، ان کے نعرے ضرور دلکش ہیں لیکن حقیقت میں پرفریب ہیں، انجام کار ساری رقمیں ان کمپنیوں اور اداروں کے مالکان کی جھولی میں چلی جاتی ہیں، ممبران کو سوائے سراب اور دھوکہ کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
پڑوسی ملک میں بھی ملٹی لیول مارکیٹنگ کی دھوکہ بازی، غیراخلاقی اور ناجائز لین دین پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرکت سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی ہے، تفصیل (SECP) کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (بحوالہ سہ ماہی بحث ونظر ص:۳۶۱)
امریکہ میں اسی طرز کی ایک کمپنی اسکائی بز.کوم (Skybiz.com) ہے،اس کمپنی کی شاخیں متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر خود امریکی حکومت نے مذکورہ کمپنی پر عوام کے ساتھ دھوکہ دہی اور چال بازی (Fraud) کا الزام عائد کیا ہے، اسی کے پیش نظر ”اوکلاہومااسٹیٹ“ کی عدالت نے کمپنی کی سرگرمیاں روک دینے،اور کمپنی کے کارکنوں اورایجنٹ حضرات کا سرمایہ اور اجرت انہیں واپس کیے جانے کے پیش نظر اس کمپنی کے اثاثے منجمد کردینے کا فیصلہ کیاہے۔ (دیکھئے امریکی وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ:
http://www.Ftc.gov/opa/2001/06sky.htm بحوالہ بحث ونظر شمارہ ۶۸، ۶۹ جنوری، جون ۲۰۰۵؍ص:۱۶۳)
جاپان اور چین میں ۱۹۹۸؍ میں ایموے (Amway) اوراس طرز کی کمپنیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ (اخبار منصف: مینارئہ نور ۲۴؍۳؍۱۴۲۸ھ)
بنیادی خرابیاں:
عالمی پیمانے پر اس کمپنی کو جس بنیاد پر مسترد کیا جارہا ہے، وہ اس نظام میں دوام و استمرار کی صلاحیت کا نا پایا جانا ہے، اس کے ابتدائی مراحل میں تو ممکن ہے کہ آسانی سے کچھ ممبر بن جائیں، لیکن چند مرحلوں کے بعد ممبربنانا دشوار ہوجائے گا، اور ایک ایسا مرحلہ آئے گاکہ اس کے بعد مزید ممبربنانے کی گنجائش نہ رہے گی۔
اس طرح کی کمپنیوں میں کمیشن پانے کے لیے ممبروں کی تعداد اور مراحل کا آگے بڑھانا شرط ہوتا ہے، اس لیے جن کمپنیوں میں مثلاً تین مراحل میں نوممبران کی شرط ہے، ان میں نیچے سے تین مرحلوں کے لوگ بلاکمیشن رہ جائیں گے، اور یہ خرابی ایسی ہے کہ جس وقت بھی کمپنی موقوف ہوگی، اس سے نیچے کے چند مراحل کے لوگ محروم رہ جائیں گے اور چونکہ نیچے کے مراحل میں ممبروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ہر لمحہ اکثر ممبران گھاٹے میں رہتے ہیں۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کادارومدار ہی ”پھنسنے پھنسانے“ پر ہے،کیونکہ ایک آدمی ممبر بنتا ہے اور ممبری فیس کی ادئیگی کے ساتھ کچھ اور روپے سامان کی خریداری کے نام پر اس کے ہاتھ سے چلے جاتے ہیں، بس اُسے اپنے پیسے کی بازیابی اور مزید کی ہوس سوار ہوجاتی ہے، چونکہ کمپنی سے محض سامان حاصل کرنا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ منافع اور کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے، اس لیے دوسروں کو مختلف انداز میں سچ اور جھوٹ بول کر پھانسنے کی کوشش کرنے لگتاہے، پھر اگلا آدمی بھی اسی مرض کا شکار ہوجاتا ہے، کمپنی کی خرابیاں سامنے آنے کے باوجود منافع کے لالچ میں اپنی زبان مہر بند رکھتا ہے، تنقید کا ایک لفظ نہ تو بولتا ہے اور نہ ہی بولنے دیتا ہے، اگر مصنوعات کی خریداری ہی مقصود ہوتی تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔
بہت سے لوگ ممبر بن تو جاتے ہیں مگر چرب زبان نہیں ہوتے، یا جھوٹ سچ ملاکر بولنے کی عادت نہیں ہوتی، وہ ممبر بنانے سے یا تو بالکل عاجز رہتے ہیں یا ممبر کی مطلوبہ تعداد مہیا نہ کرنے کی صورت میں وہ کمیشن اور منافع سے محروم رہتے ہیں۔
چونکہ یہ نظام ”سودی نظام“ سے بھی بدتر ہے، اس لیے کہ سودی نظام میں مخصوص محتاجوں اور سودی قرض لینے اور سودی معاملہ کرنے والوں کی دولت ساہوکاروں اور سودخوروں کے پاس آتی ہے، نیٹ ورک سسٹم کی طرح اتنے مرتب اور وسیع پیمانے پر سود اکٹھا نہیں ہوتا۔ نیٹ ورکنگ کے اس نظام میں کافی بڑے پیمانے پر دولت سمٹتی ہوئی، چند اوپر کے ممبران کے پاس مربوط انداز اور مخروطی (Pyramid) شکل میں جمع ہوتی رہتی ہے، نیچے کے ممبران منافع سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ دولت کی ترکیز دونوں میں ہے مگر نیٹ ورک مارکیٹنگ میں سودی نظام کی بہ نسبت زیادہ ہے، اس لیے عالمی پیمانے پر نیٹ ورک مارکیٹنگ کو مسترد کیا جارہاہے۔
ماہرینِ اقتصادیات ومعاشیات نے نیٹ ورکنگ سسٹم کو ”کینسر کی سوجن“ سے تشبیہ دی ہے کہ جس طرح کینسر آلود خلیہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پورے جسم کو مسموم کرکے جان لیوا ثابت ہوجاتا ہے، اسی طرح نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ممبرسازی کے ذریعہ پورا معاشرہ لپیٹ میں آکر اقتصادی بحران کا شکار ہوجاتا ہے۔
”سودی نظام“ میں چونکہ بنیادی خرابی ترکیزِ دولت (Collection of wealth) ہے، اس میں مال دار زیادہ مال دار اور غریب زیادہ غریب ہوجاتا ہے، اس لیے اسلام نے اسے مسترد کردیا، تو ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نظام یا ایسی معاشری صورت جس میں ترکیزِ دولت سودی نظام سے بھی زیادہ مہلک ہو، تو اس کی تائید اسلام کیسے کرسکتا ہے؟ اور جب خود سودی نظام نے ”نیٹ ورکنگ“کو مسترد کردیا ہے، تو ”اسلامی نظامِ دولت“ اسے سینے سے لگالے، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کی شرعی حیثیت:
اسلام نے ہر اس معاملہ کومسترد کردیا ہے، جس میں دغا فریب اور دھوکہ دھڑی پائی جاتی ہو، جس میں ملکی بدانتظامی اور لوگوں کی ضرر رسانی کا عنصر پایا جائے، یا جس میں مفادِ عامہ کی چیزوں پر چند افراد کے قبضہ کی صورت پائی جائے، یا جس میں خرید وفروخت کے ساتھ کوئی شرط لگادی جائے، یا وہ معاملہ ایسا ہو کہ جس میں بیع کے ساتھ کسی دوسرے معاملہ کا قصد کیا جاتا ہو اور بیع کا صرف بہانہ ہو، اسی طرح وہ معاملہ بھی شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں، جس میں نزاع اور لڑائی کا احتمال ہو، جس میں دو معاملہ کو ایک کردیاگیا ہو ۔
علاوہ ازیں تمام تجارتی معاہدے فریقین کے مابین واضح ہوں، کسی ایک کو پردہ میں نہ رکھاجائے ،نہ کسی قسم کی غیر یقینی کیفیت کا اندیشہ ہو اور نہ ہی کسی کے لئے ناانصافی اورجانبداری کامعاملہ ہو،اسی طرح تاجر اور صارفین کے مابین غیرضروری واسطے نہ ہوں، ذیل میں مزید تفصیل سے عدم جواز کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
(۱) نفع حاصل کرنے کے لیے شریعت نے جو اصول بتائے ہیں، ان میں یا تو سرمایہ اور محنت دونوں ہوتی ہیں، جیسے بیع وشراء یا صرف محنت ہوتی ہے اور سرمایہ دوسرے کا ہوتا ہے، جیسے مضاربت وغیرہ، لیکن ایسی کوئی صورت شرعاً جائز نہیں ہے، جس میں نہ تو محنت ہو اور نہ ہی سرمایہ لگے۔
نیٹ ورٹ مارکیٹنگ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں آدمی ممبر بنتا ہے تو کمپنی ممبری فیس لے لیتی ہے،اور اپنی مصنوعات دے کر ان کی قیمت الگ سے لیتی ہے، قانونی لحاظ سے کمپنی کے پاس ممبر کا کوئی رقمی مطالبہ نہیں رہ جاتا، گویا کمپنی میں رقم اور سرمایہ لگاہوا نہیں ہے۔
پھر جب ممبرسازی ہوتی ہے، تو پہلے مرحلہ میں مان لیا جائے کہ اپنے تحت ممبربنانے میں محنت ہوئی، صرف انہی ممبران کی تشکیل کا معاوضہ اگر ملے تو اسے کسی درجہ میں جائز کہا جاسکتا ہے، اس لیے کہ سرمایہ نہیں لیکن محنت تو پائی گئی، لیکن دوسرے تیسرے اور بعد کے مراحل میں ممبرسازی میں اس کی کوئی محنت نہیں ہوئی تو بعد کے ممبران کا تشکیلی معاوضہ کس طرح جائز ہوگا، جب کہ وہاں نہ تو محنت ہے اور نہ ہی سرمایہ!
اس تجارت سے منسلک حضرات یہ کہتے ہیں کہ ”آئندہ مراحل میں بھی کارکنوں کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے، جیسے لوگوں کو سمجھانا، مال کی اہمیت بتانا، ان کے شکوک و شبہات کو دور کرنا وغیرہ“ لیکن پہلا ممبر براہِ راست ممبر بنانے کے بعد اگر آئندہ مرحلوں میں کوئی تعاون نہ کرے تب بھی وہ کمپنی کے اصول کے مطابق کمیشن کا مستحق قرار پاتا ہے، حاصل یہ کہ آئندہ مراحل میں بلا سرمایہ اور بلا محنت کمیشن آنا اس طرزِ تجارت کی سب سے بڑی خرابی ہے۔
اور پہلے مرحلہ کی ممبرسازی کا معاوضہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ کمپنیوں میں ہر مرحلہ کی ممبرسازی کامعاوضہ الگ الگ نہیں دیا جاتا، بلکہ اپنے تحت چند مراحل میں مخصوص تعداد پورا ہونے کی صورت میں ہوتا ہے، مثلاً بعض کمپنیوں میں یہ شرط ہے کہ جب ممبران کی تعداد ”نو“ ہوجائے اور وہ بھی تین مراحل میں ہوں تب ان سب کی خریداری کا متعین کمیشن اوپر کے ممبر کو دی جائے گی، ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اپنے ہی نہیں دوسروں کے بنائے ہوئے ممبران کا معاوضہ بھی ساتھ ہوکر ملے گا، اس لیے حلال و حرام میں اجتماع کی وجہ سے یہ معاوضہ لینا بھی حرام ہوگا۔
اصول فقہ کا قاعدہ ہے: اذَا اجْتَمَعَ الْحَلاَلُ وَالْحَرَامُ غُلِّبَ الْحَرَامُ . [الاشباہ والنظائر:۳۳۵/۱]’’جب حلال وحرام جمع ہوجائیں تو حرام کو غالب مانا جاتا ہے‘‘۔
(۲) شریعت میں ”سود“ اس لیے حرام ہے کہ اس میں مال سے مال حاصل کرنے کا ذریعہ اور بہانہ بنایا جاتا ہے، اس میں نہ تو کوئی پیداوار سامنے آتی ہے اور نہ ہی محنت پائی جاتی ہے، اس طرح جب مال سے مال پیدا کرنے کی ریت چل پڑتی ہے، تو لوگ بنیادی ذرائع معاش مثلاً کھیتیاں اور دیگر کاروبار چھوڑ دیتے ہیں ۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بھی ممبری فیس کے طور پر تھوڑا سرمایہ لگاکر پیسوں سے پیسے حاصل کرنے کا حیلہ اختیار کیاجاتا ہے، ہر ممبر کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اپنے نیچے زیادہ سے زیادہ ممبران آجائیں تاکہ اچھی خاصی رقم کسی محنت ومشقت کے بغیر کمیشن کے طور پر ان کے پاس جمع ہوجائے حالانکہ مال سے مال کشید کرنا سود ہے، اس طرز کی تجارت کو ربا یعنی سود سے کافی مشابہت ہے، جسے قرآنِ پاک میں حرام فرمایاگیاہے:
﴿أَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ [بقرہ:۵۷۲] ”اللہ تعالیٰ نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قراردیا ہے‘‘۔
(۳) اس کمپنی میں شرکت کا مقصد کمپنی کا سامان خریدنا نہیں ہوتا، بلکہ کمیشن اور نفع کمانا ہی مدِنظر رہتا ہے، گویا مقصود کمیشن ہے سامان نہیں، سامان کو ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے،اس لیے شرعی حکم معلوم کرتے وقت مقصود اور غلبہ کا ہی اعتبار ہوگا، جیسا کہ فقہی قواعد اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں ہیں:
(الف) العِبْرَةُ فِیْ الْعُقُوْدِ لِلْمَقَاصِدِ وَالْمَعَانِیْ لاَ لِلْألْفَاظِ وَالْمَبَانِیْ . [قواعد الفقہ: ص:۹۱] ”معاملات میں مقاصد ومعانی ہی کا اعتبار ہوتا ہے، الفاظ و عبارت کا نہیں“ ۔
(ب) اَلْعِبْرَةَ لِلْغَالِبِ الشَّائِعِ لاَ لِلنَّادِرِ.(ایضاً) ”رائج وغالب حیثیت کا ہی اعتبار ہوتا ہے، نادر و کم یاب کا نہیں“۔
(ج) اَلتابِعُ لا یَتَقَدَّمُ عَلَی الْمَتْبُوْعِ. [الاشباہ والنظائر:ج:۳۶۵/۱]’’تابع کو متبوع پر مقدم نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
نیٹ ورک سسٹم میں شمولیت کا اصلی مقصد چونکہ کمیشن اور نفع حاصل کرنا ہی ہے، یہی پہلو شریک ہونے والوں کے لیے باعثِ کشش ہے، اس لیے اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ آدمی ممبر بننے کی فیس دے کر امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتاہے، ہوسکتاہے کہ اس بہانے کافی منافع ہاتھ آجائے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لگایا تھا وہ بھی ڈوب جائے یہی حقیقت ہے جوئے اور قمار کی۔
اور قمار کی تعریف سے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انَّہ تَعْلِیقُ الْمِلْکِ عَلَی الْخَطَرِ وَالْمَالُ فِی الْجَانِبَیْنِ. [فتاویٰ ابن تیمیہ:۲۸۴/۱۹] ترجمہ: ملکیت کو جوکھم (رِسک)پر معلق کرنا، جب کہ دونوں جانب مال ہو۔
حاصل یہ کہ قمار (جوا) میں معاملہ نفع وضرر کے درمیان گھومتارہتا ہے، احتمال یہ بھی ہوتا ہے کہ بہت سا مال مل جائے گا، اور یہ بھی کہ کچھ نہ ملے،اسی کو ”مخاطرہ“ اور قرآن کی اصطلاح میں ”میسِر“ کہتے ہیں۔
جوئے کا مدار لالچ، جھوٹی آرزو اور فریب خوردگی کی پیروی پر ہے،جوا کمزوروں کے خون کا آخری قطرہ بھی چوس لیتا ہے، ہارنے والااگر خاموش رہتاہے تو محرومی اور غصہ میں خون کا گھونٹ پی کر خاموش رہتا ہے،اور اگر دوسرے فریق سے لڑتا ہے، تو اس کی کوئی نہیں سنتا کیوں کہ ”خود کردہ را علاجے نیست“ جوئے کا تمدن اور باہمی تعاون میں کچھ حصہ نہیں۔
علامہ آلوسی میسر کی تشریح لکھتے ہیں: المَیْسِرُ… امَّا من الیُسْرِ لأنہ أخذُ المال بِیُسْرٍ وَسُہُوْلَةٍ. [روح المعانی: ۱۱۳/۲] یعنی ”میسر“ یا تو یُسر سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں، کسی کا مال آسانی اور سہولت سے مارلینا، میسر (جوا) کے ذریعہ لوگوں کے اموال آسانی سے جھپٹ لیے جاتے ہیں۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کی موجودہ شکل میں جوئے کی حقیقت پائی جارہی ہے، جیساکہ غور کرنے والوں پر مخفی نہیں،اور جوئے کی حرمت بھی سود کی طرح نص قطعی سے ثابت ہے۔
(۴) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں وہی آدمی کامیاب و بامراد ہوتا ہے، جو تیز طرار، باتونی اور چرب لسان ہو، سامنے والوں کو متاثر کرکے ممبر بنالیتا ہو، جو لوگ اس طرح کی شاطرانہ چال نہیں چلتے، یا یہ صلاحیت ان میں نہیں ہوتی، وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں، ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے اور وہ دھوکہ کھاکر مایوس ہوجاتے ہیں۔
ایسے دھوکہ کی بیع و شراء سے متعلق ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نَھَی رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الغَرَرِ. [صحيح مسلم:۱۵۱۳] ’’اللہ کے رسول ﷺ نے دھوکہ والی بیع سے منع کیا ہے‘‘۔
مبسوط میں علامہ سرخسی رحمہ اللهنے غرر کی تعریف اس طرح کی ہے۔ الغَرَرُ مَا یَکُوْنُ مَسْتُوْرَ الْعَاقِبَةِ. [المبسوط:۱۹۴/۱۲] ’’دھوکہ وہ ہے جس کا انجام پوشیدہ ہو‘‘۔
جس کاحاصل یہ ہے کہ غرر میں انجام معلوم نہیں ہوتا، مذکورہ طرزِ تجارت میں نفع ملنے اور نہ ملنے کا پتا نہیں ہوتا، گویا قمار (جوا) ہی کی دوسری تعبیر ”بیع غرر“ ہے۔ بعض لوگوں نے اس طرزِ تجارت کو لاٹری (Lottery) سے بھی بدتر بتایا ہے؛ اس لیے کہ لاٹری میں ٹکٹ خرید کر آدمی سکون سے انتظار کرتا ہے، لیکن اس میں ممبرشپ حاصل کرنے کے بعد ممبرسازی کے لیے خوب دوڑ دھوپ کرتا ہے، پیسے خرچ کرتا ہے پھر بھی ممبر نہ بنانے کی صورت میں اصل سرمایہ سے بھی ہاتھ دھولیتا ہے، اور کمپنی رُک جانے کے وقت نیچے کے تین درجوں کے لوگ یقینا محروم رہ جاتے ہیں، اس لیے اس میں نفع کا چانس لاٹری سے بھی کم ہے، اگر یہ معلوم ہوجائے کہ وہی سلسلہ کا آخری آدمی ہوگا، تو ہرگز سامان خرید کردہ ممبر نہیں بنے گا۔
(۵) اسلام نے اپنے تجارتی اصول میں ملکی مصلحت کا خیال رکھا ہے، مصنوعی رکاوٹ ملکی مصلحت کے لیے نہایت ہی مضر ثابت ہوتی ہے، اس سے اشیاء کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے، تجارت کا مال تمام شہریوں تک پہنچنے کے بجائے چند لوگوں کے پاس ہی سمٹ کر رہ جاتا ہے۔فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ كیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْؕ ﴾ [سورة الحشر:٧]’’تاکہ وہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان (ہی) گردش کرنے والی نہ ہوجائے‘‘۔
زمانہٴ جاہلیت میں جب کوئی تاجر دیہات سے شہر میں آتا تھا تو شہر کے بعض تجار شہر سے باہر نکل کر ان سے پہلے ہی ملتے،اور سارا مال خرید لیتے تھے تاکہ یہ مال شہر میں نہ آسکے اور سارے لوگ ان سے خریدنے پر مجبور ہوں، اس کو اصطلاح میں ”تلقیِ جلب“ کہا جاتاہے،رسول ﷺ نے اس سے منع فرمایاہے۔[صحيح سنن ابی داؤد:۳۴۳۷ ] اس لیے کہ اس میں اشیاء چند آدمیوں کے ہاتھوں میں جاکر عوام کے لیے مہنگی ہوجاتی ہیں۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں بھی یہ خرابی ہے کہ ہر آدمی ان کمپنیوں کے سامان نہیں خرید سکتا، صرف ممبران ہی خریدسکتے ہیں، اس لیے بھی اشیاء نہایت ہی گراں ہوتی ہیں۔
(۶) اس طرح کی کمپنیوں میں اشیاء کی قیمت عام مارکیٹ ریٹ (Market rate) کے مقابلہ میں تین گنا بلکہ چھ گنا زیادہ ہوتی ہے، اشیاء کی جودت و عمدگی کا دعویٰ بھی فضول معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ اگر وہی اشیاء عام مارکیٹ میں رکھی جائیں، تو لوگ ہرگز اتنی قیمت میں نہیں خریدیں گے، دوسری کمپنیوں کی مصنوعات ہی کو ترجیح دیں گے۔
اسے فقہاء کی اصطلاح میں ”غبن فاحش“ کہتے ہیں، جو مکروہ ہے، حتیٰ کہ شریعت مشتری یعنی خریدنے والے کو غبنِ فاحش کی وجہ سے مبیع (خریدی ہوئی چیز) کے واپس کرنے کا حکم دیتی ہے۔
(۷) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کمپنی کا مال خریدنے کے ساتھ کچھ ناجائز شرائط ہوتی ہیں، رسول اکرم ﷺنے فرمایا : ما كانَ مِن شَرْطٍ ليسَ في كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهو بَاطِلٌ، وإنْ كانَ مِئَةَ شَرْطٍ. [صحیح بخاری:۲۱۶۸ باختلاف يسير]’’قرآن کے معارض جو بھی شرط ہے تو وہ باطل ہے اگر چہ سو شرطیں ہوں‘‘۔
منجملہ شرائط حسب ذیل ہیں:
(الف) کمپنی کا مال بازار میں رکھ کر بیچ نہیں سکتے۔
(ب) کمپنی کے مال یا اس کے طریقۂ کار کی خامیاں بیان نہیں کرسکتے۔
(ج) کمپنی کا سامان لینےکے لیے ایجنٹ اور ممبر بننا شرط ہے، ممبری فیس ضرور وصولی جائے گی۔
(د) بعض کمپنیوں میں رعایتی قیمت پر سامان لینے کے لیے ممبر ہونا اور ممبری فیس ادا کرنا ضروری ہے، بغیر ممبر بنے سامان خریدنے پر سامان مہنگا ملے گا۔
چونکہ مارکیٹ میں لانے سے اشیاء کے پر کشش نہ ہونے کی صورت میں کسادبازاری کے شکار ہوں گے اسی طرح خامیوں کو اجاگر نہ کرنے کی اجازت گویا عیب چھپانا اور کسٹمر کو پردے میں رکھنا ہے جو شرعاً منع ہے، علاوہ ازیں صرف ممبر ہی خرید سکتاہے اس کے پس پردہ کمیشن کی لالچ اور ممبر شپ چارج ہڑپ کرنے کی سازش ہے جو سرے سے مسترد ہے۔
(۹) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں خرید و فروخت کے معاملہ کے ساتھ اجارہ (یعنی ایجنٹ بننے کی ملازمت) مشروط ہے اس لیے ایسے عقدِ بیع اور عقدِ اجارہ کو دومعاملوں کا مجموعہ کہہ سکتے ہیں، اور یہ حدیث کی رو سے ممنوع ہے ابوہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ سےروایت ہے: نَہٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْبَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَةٍ. [صحيح نسائي: ۴۶۴۶]”آپ ﷺنے ایک معاملہ میں دو معاملہ کرنے سے منع فرمایاہے“۔
(۱۰) نیٹ ورک مارکیٹنگ میں موہوم کمیشن کا لالچ دلاکر باطل اور ناجائز طریقے سے مال کھانے کا طرز اپنایا گیا ہے، اس طرزِ معاملہ کو ماہرینِ اقتصادیات ”تعاملِ صغریِ“ (Zero sum game) کہتے ہیں، جس میں بعض افراد نفع پاتے ہیں اور اکثر خسارہ میں رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے باطل طریقۂ کسب کو سختی سے منع فرمایا ہے: ﴿ یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَأکُلُوْا أمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ الاَّ أنْ تَکُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ ﴾ [نساء:۲۹]’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، لیکن کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے واقع ہو‘‘۔
چند اشکالات اور ان کے جوابات:
(۱) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ممبر بنانے پر کمپنی کا کمیشن دینا انعام ہے، راست ممبر بنانے پر تو دیا ہی جاتا ہے، نیچے کے ممبران کے بنائے ہوئے ممبران،چونکہ پہلے ممبر کے واسطے سے ہیں،اس لیے کمپنی اگر بعد میں بھی انعام کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، تو اس میں کیا حرج ہے؟
جواب: نیچے کے افراد سے لے کر اوپر کے لوگوں کو فی صدی کمیشن (Commission) دیناارتکازِ دولت اور مال ہتھیانے کا حیلہ ہے، یہ میسر کے مشابہ تو ہوسکتا ہے، انعام سے اس کا کوئی واسطہ نہیں، اس لیے کہ انعام صلبِ بیع میں کبھی داخل اور مشروط نہیں ہوتا۔
(۲) جس طرح ایک کارِ خیر کے ثواب کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، ایک آدمی نے کسی کو کسی نیک کام کی تلقین کی، دوسرے نے عمل کرنے کے ساتھ تیسرے کو تلقین کی، تو ظاہر ہے کہ بعد والے کا ثواب پہلے والے کو ضرور ملے گا، اسی طرح ”نیٹ ورک مارکیٹنگ“ میں بھی کمپنی کمیشن کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، تو اس میں کیا حرج ہے؟
جواب: ثواب دینا اللہ تعالیٰ کا فضل اوراحسان ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہے، اللہ کا فضل کسی ضابطہ کامحتاج نہیں، مذکورہ کمپنی کو ثوابِ آخرت پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے،اس لیے کہ یہ دنیا کا معاملہ ہے اور بندوں کے ذریعہ تکمیل کو پہنچتا ہے، بندوں کو اللہ تعالیٰ نے قانون کا پابند بنایا ہے، اسی کے لیے شریعت نازل فرمائی ہے، اللہ تعالیٰ کسی قانون کے پابند نہیں، وہاں عدل کے ساتھ فضل کا ظہور ہوگا، بندوں کے معاملے اللہ تعالیٰ کے قانون سے سرِمو تجاوز نہیں کرسکتے، ثواب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ہمیں ہمارے اساتذہ نے پڑھایا، ہم طلبہ کو پڑھاتے ہیں، وہ طلبہ دوسرے طلبہ کو پڑھاتے ہیں، ثواب تو نیچے والوں کا اوپر والوں کو ضرور ملتا ہے، لیکن نیچے والوں کی تنخواہ کا کوئی حصہ اُوپر والوں کو نہیں ملتا، آخر کیوں؟
(۳) ممبرسازی کی اُجرت دلالی کی طرح ہے، جس طرح دلال کو سامان خریدوانے اور بیچوانے کی اجرت ملتی ہے، اسی طرح یہاں بھی نئے ممبر بنانے پر اُجرت ملتی ہے، تواس میں کیا خرابی رہ گئی؟
جواب: مذکورہ طرزِ تجارت اور دلالی میں کافی فرق ہے اس لیے کہ:
(الف) دلال کو سامان کی فروختگی پر اُجرت ملتی ہے، یہاں تو ایجنٹ بننے کے لیے خود ایجنٹ ہی اجرت ادا کرتا ہے، معلوم ہوا کہ یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے، مذکورہ تجارت میں سامان فروخت کرنا، اصل مقصد نہیں ہوتا بلکہ نئے ایجنٹ تیار کرنا ہی اہمیت رکھتا ہے۔
(ب) دلال کو کوئی گھاٹا نہیں ہوتا، وہ مال فروخت کرتا اور اجرت و کمیشن پاتا رہتا ہے، لیکن یہاں ہر آخری مرحلہ کا ایجنٹ یقینی طورپر گھاٹے میں رہتا ہے، ظاہر ہے کہ کمپنی کبھی نہ کبھی رُکے گی، جب بھی رکے گی، آخری مرحلہ کے ایجنٹ کو کچھ نہیں ملے گا، پھر ظلم یہ کہ ممبری فیس بھی سوخت ہوجائے گی، ”یک نہ شد دو شد“، اس لیے ان کمپنیوں کی ممبرسازی کی مہم کو دلالی سے تعبیر کرنا غلط ہے۔
خلاصۂ بحث:
نیٹ ورٹ مارکیٹنگ دولت اِکٹھا کرنے کی ایک اَہرامی اور مخروطی اسکیم ہے، اس میں مصنوعات بطورِ حیلہ فروخت کی جاتی ہیں، اصل مقصد ممبر سازی کے ذریعہ نفع کمانا ہوتا ہے، اس میں سود سے بھی زیادہ ارتکازِ دولت کی تدبیر موجود ہے، لاٹری (Lottery) اور جوے سے مشابہت ہے، دھوکہ اور غرر اتنا زیادہ ہے کہ دولت مندی کے لالچ میں پوری کی پوری آبادی کو مالی بحران کا شکار بناسکتی ہے، اس میں چند لوگوں کو منافع پہنچانے کے لیے ایک کثیر تعداد زنجیر میں بندھی رہتی ہے، اخیر کے لواحقین وممبران ہمیشہ دھوکے اور گھاٹے میں رہتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں نیچے کے کئی مراحل بلاکمیشن منہ تکتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ”سودی نظام“ کے ماہرین نے بھی اس طرزِ تجارت کو مسترد کردیا ہے،متعدد ممالک میں اس پر پابندی عائد کی گئی ہے، ساتھ ہی عوام کو اس میں پھنسنے سے متنبہ بھی کیاگیا ہے، یہ اخلاقی اور اقتصادی لحاظ سے بھی قابلِ قبول نہیں ہے، شرعی اور فقہی نقطۂ نظر سے اس میں سود و قمار سے مشابہت،باطل شرطوں کا وجودہے، دو معاملوں کو ایک میں جمع کرنا، خرید و فروخت کے بہانے دوسری چیز یعنی کمیشن کا ارادہ، باطل طریقے سے مال جمع کرنا، ملکی مصلحت کا فقدان اور بعض صورتوں میں ”غبن فاحش“ وغیرہ خرابیاں پائی جاتی ہیں، اس لیے اس میں شرکت جائز نہیں ہے، ہندوعرب کے مشاہیر علماء اور مفتیانِ کرام نے اس کے عدمِ جواز کے فتوے صادر فرمائے ہیں۔
جس شخص کو راست ممبربنایا جائے اس کی خریداری پر ملنے والا کمیشن اگرچہ فی نفسہ جائز ہوسکتا ہے، مگر وہ بھی چونکہ الگ کرکے نہیں دیا جاتا، بلکہ چند ممبران اور چند مرحلے گزرنے ضروری ہوتے ہیں، اور سب کا کمیشن ملاکر دیا جاتاہے، اس لیے حرام وحلال کے ملنے کی وجہ سے پہلے مرحلہ کے ممبران کی وجہ سے آنے والا کمیشن بھی حرام ہوگا، محض مصنوعات خریدنے کے لیے ایسی کمپنیوں کا ممبر بننا بیع مع شرط کی وجہ سے ناجائز ہے، بلا ممبر بنے سامان خریدنا جائز تو ہے، مگر ایسی کمپنیوں کا تعاون ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں، ایسی کمپنیاں نہ تو معاشی اور اقتصادی لحاظ سے فائدہ مند ہیں، نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابل شرکت اور نہ ہی اسلامی اصول کے تحت جائز ہیں، اس لیے ان کا ممبر بننا اور کمیشن حاصل کرنا، ناجائز اورحرام ہے۔