-
کرپٹو کرنسی(Cryptocurrency) کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسوله الأمين و على آله و صحبه أجمعين.
پیش گفتارمورخہ : ۱۳ ؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء بروز اتوار بمقام جامع مسجد اہل حدیث مومن پورہ بائیکلہ میں بحمد للہ اسلام کا نظام تجارت کے عنوان پر ایک روزہ عظیم الشان علمی اور شعور بیداری کا نفرس کامیاب طور پر منعقد ہوئی جس میں فقہ الواقع کے تئیں انتہائی عمدہ موضوعات اور بڑی ہی چنندہ شخصیات کا انتخاب کیا گیا ،زیر بحث موضوعات جیسے تجارت کے اسلامی اصول ،تجارت اور صحابۂ کرام، انشورنس کی قسمیں اور ان کی شرعی حیثیت ،مضاربت اور پارٹنر شب کے اسلامی اصول ،جوے کی جدید شکلیں ،زیورات کی خرید و فرخت سے متعلق غلطیاں ،آن لائن بزنس ڈراپ شپنگ اور افیلیٹ مارکیٹنگ، کمیشن کی جائز و نا جائز صورتیں، سود کی شکلیں اور ان سے بچنے کا طریقہ ،کیش بیک ،بونس، منی ٹرانسفر اور ڈسکاؤنٹ کا شرعی حکم، کرپٹو کرنسی کی تکنیکی حقیقت و شرعی حیثیت، نیٹ ور مارکیٹنگ کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم ،ہیوی ڈپازٹ کی شرعی حیثیت ،کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کا حکم، قسطوںEMI میں خرید و فروخت کے مسائل شیئر و کموڈیٹی مارکیٹ اور فوریکس کیا صحیح کیا غلط و دیگر موضوعات شرکائے اجلاس کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔
میں اس مناسبت پر رب کریم کا احسان عظیم بجالانے کے بعد فاضل ترین شخصیت فضیلۃ الشیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ الله، داعی و باحث اسلامک انفارمیشن سینٹر ممبئی و ڈائرکٹر آئی پلس ٹی وی اور ان کے جملہ انتظامی و علمی رفقائے کار کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اللہ کے فضل کے بعد جن کی شبانہ روز مخلصانہ کاوشوں سے یہ یادگارکا نفرنس اور سابقہ متعدد کا نفرنسیں منعقد ہوئیں۔
۲۶؍ جنوری ۲۰۱۸ء کو میں نے بحمداللہ کرپٹو کرنسی کی سب سے معروف قسم ’’بٹ کوائن‘‘ پر ایک مضمون لکھا تھا، لیکن اس کے بعد ان دنوں عمومی طور پر کرپٹو کرنسی کی بابت طلبہ و علما ءاور عوام و خواص کے سوالات زیادہ ہونے لگے، علاوہ ازیں منتظمین کانفرنس نے حسن اتفاق بلکہ حسن مقدر مجھے’’ کر پٹو کرنسی‘‘ کا موضوع دیا اور بفضلہ یہ موضوع ترتیب پایا ، ساتھ ہی ساتھ میں ہر دل عزیز ماہر اسلامی شریعت فضيلۃ الدکتور طارق صفی الرحمٰن مبارک پوری مدنی حفظ اللہ اور اپنے محسن و مشفق ماہر اسلامی تجارت فضيلۃ الشيخ الدکتور؍ حافظ ارشد بشیر عمری مدنی حفظ اللہ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ ان فضلائے مشائخ نے ہجوم مشاغل کے باوجود اس مضمون کی نظر ثانی فرمائی۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس جیسی ساری نگارشات کو شرف قبول سے نوازے، تمام محسنین و معاونین کو دونوں جہانوں میں جزائے خیر عطا فرمائے اور ساری علمی خدمات کو بے لوث ذخیرۂ آخرت اور نجات کا ذریعہ بنائے۔
خیر اندیش :دکتور سید حسین مدنی وفقہ الله وسلمہ
سکریٹری ادارۂ علمی تحقیقات کل ہند۱۴ ؍ ربيع الآخر ۱۴۴۶ہجری م ۱۸ ؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء
تمہید:
’’’کر پٹو کرنسی کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت ‘‘عصر حاضر کا ایک انتہائی پیچیدہ ،حساس ،گرم اور اہم موضوع ہے جس کی تکنیکی حقیقت و شرعی حیثیت کے افہام وتفہیم کے لیے ۲۰۰۹ ءءسے مسلسل متعدد کتابیں رسالے و مقالے لکھے گئے اور دنیا بھر میں مختلف اجلاس بھی منعقد کئے گئے ۔
زیر بحث موضوع کے دو عناصر ہیں :
ایک کر پٹوکرنسی کی تکنیکی حقیقت ۔
دوسرا کر پٹوکرنسی کی شرعی حیثیت۔
عنوان کی ترتیب در اصل امام ابن رشد اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہما کے بیان کردہ اصول فقہ کے متفقہ قاعدے : الْحُكْمُ عَلَى الشَّيْءِ فَرْعَ عَنْ تَصَوُّرِهِ کے تحت ہے یعنی کسی بھی شے پر حکم لگانے سے قبل مجتہد و مفتی کے پاس اس کا مکمل اور صحیح تصور ہونا چاہیے۔
حق اور حقیقت ہے کہ کر پٹو کرنسی کی تکنیکی حقیقت اور شرعی حیثیت کو کما حقہ طور پر بیان کرنے کے لیے ماہرین معیشت و ماہرین ٹکنالوجی کی خدمات اور با قاعدہ فتویٰ کمیٹی کا اجتماعی فتوی درکار ہے، لیکن مختصر دونوں امور پیش خدمت ہیں :
کرنسیوں کی تاریخ:
ابتدائے انسانیت کے وقت ایک انسان دوسرے انسان سے اپنی ضرورت کی چیز کسی دوسری چیز کے بدلے میں لیا کرتا تھا جس کو نظام المقايضہ ( Barter System)کہا جاتا ہے پھر جب اس طریقے سے کسی کی ضرورت اور کسی اور کی عدم ضرورت کے اعتبار سے دشواری ہونے لگی تو کثیر الاستعمال اشیاء جیسے چاول نمک لوہا وغیرہ بطور ثمن استعمال ہونے لگے اور اس طریقے کو’’ نظام النقود السلعیہ‘‘(Commodity Money System)کہا جانے لگا پھر جب اس طریقے سے بھی حمل و نقل کے اعتبار سے دشواری ہونے لگی تو نظر انتخاب سونے اور چاندی پر جم گئی اور انہیں بطور ثمن تسلیم کر لیا گیا اور اس نظام کو ’’نظام النقود المعد نیہ‘‘ (Metallic Money System) کہا جانے لگا ،پھر جب مالی تحفظ کے اعتبار سے اس طریقے سے بھی دشواری ہونے لگی تو لوگ سونا اور چاندی سناروں کے پاس بطور امانت محفوظ کرنے لگے اور ان سے اس کی رسید لینے لگےاور رفتہ رفتہ یہی رسیدیں کاغذی نوٹ کا کام کرنے لگیں اور ان رسیدوں کا چلن اس قدر زیادہ ہوا کہ تقریباً سترہویں صدی کے آغاز میں سویڈن کے اسٹاک ہوم بینک نے سب سے پہلے ان رسیدوں کو کاغذی نوٹ اور مال کا درجہ دیا لیکن دنیا دن بدن ترقی کرتی گئی اور دوسرے ملک میں اپنے ملک کی نوٹ قابل استعمال نہیں رہی تو بینکوں نے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ متعارف کرائے اور اس کے بعد فی الحال کر پٹو کرنسی کا موضوع زیر بحث ہے۔
کر پٹو کرنسی کی ماہیت و تکنیکی حقیقت :
محتاط اندازے کے مطابق چوں کہ کرپٹو کرنسی کی موجودہ شکلیں Bitcoin ،Litecoinاور Ripple جیسی تقریباً چھ ہزار سے زائد متنوع شکلیں ہیں چنانچہ مسلمہ قاعدے کے طور پر کوئی ایک بات بتانا بڑا مشکل کام ہے لیکن ان کے درمیان قدر اشتراک والی حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی Mining Process کے ذریعے وجود میں آنے والا برقی ، غیر محسوس اور غیر ٹھوس اثاثہAsset Intangible ،خفیہ الکٹرانک کرنسیCurrency Electronic، ای کامرس کرنسی currency E-Commerce ، ڈیجیٹل ٹوکن Digital Token، یا ڈیجیٹل منی Digital Money اور محض پروگرامنگ نظامProgramming کا نام، اورPeer (ہم کار) To Peerنظام ہے، جو فرضی رقم Virtual money اور کسی مرکزی قانونی نظام کی پابندی کے بغیر ایک ایسی آزاد Decentralized کرنسی ہے جس کا دار ومدارBlockchain Technology کہلانے والی Public Ledger عوامی ڈیجیٹل دفتر پر منحصر ہے۔
واضح رہے کہ The Hindu اخبار کے مطابق فی الحال 47 Million سے زیادہ کر پٹوکرنسی کے صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ Central Bank کی Digital Currency حقیقت میں:
Cash Form of نقد ہی کی شکل ہوتی ہے جب کہ کر پٹو کرنسی محض ایک فرضی کرنسی ہوتی ہے۔
کر پٹوکرنسی کی ابتدا ۲۰۰۸ءء میں Satoshi Nakamoto کہلانے والے غیر معروف جاپانی سائنس دان کے ذریعے Online Paymentsکے راز دارانہ انداز سے Digital Alternative متبادل کے طور پر کرپٹو کرنسی کی حیثیت سے ہوئی جسے عام کرنسی اور فرضی کرنسی دونوں اعتبار سے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی اس کی ایجاد کی وجوہات میں Quick Payments فوراً ادائیگی کی سہولت، ساتھ ہی ساتھ Transaction Fee اور Bank Charges سے اور مال کی چوری سے بچنا اور اپنی Anonymity شناخت کو صیغہ راز میں رکھنا بھی شامل ہے، لیکن اس کے اشتراک و استعمال کے لیے Cryptocurrency Wallet کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے لیے Traditional Brokers یا Cryptocurrency Exchangesکے ذریعے ایک Platform اختیار کرنا لازم ہے پھر اپنے Account میں Funds محفوظ کرنے کے بعد کر پٹو کرنسی خریدنی پڑتی ہے اور اس کے بعد اس کرنسی کے ذریعے ایک پیالی Coffee کی خریداری سے Real Estate تک میں سرمایہ کاری ممکن ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کر پٹو کرنسی مستقبل کی کرنسی ہے اور مستقبل مکمل ڈیجیٹل کرنسی کا ہو گا اسی لیے ان جیسے موضوعات پر ہر لحاظ سے تحقیقات جاری ہیں۔
کر پٹو کرنسی کی شرعی حیثیت:
چوں کہ زیر بحث مسئلہ قابل اجتہاد جدید فقہی مسائل میں سے ہے اس لیے اہل علم کے مابین اس کی فقہی تاصیل اصولی تکلیف اور تکنیکی تنظیر میں چار طرح سے اختلاف پایا جاتا ہے:
پہلا موقف: مجمع الفقہ الاسلامی الدولی اسلامی فقہ کی بین الاقوامی اکیڈمی نے مورخہ ۲۰ ؍ نومبر ۲۰۱۹ء ء میں اس مسئلے کو مزید تحقیق طلب جانا اور بعض علماءجیسے ڈاکٹر شیخ عبد العزیز الفوزان اور شیخ عبد الرحمٰن بن ناصر البراک حفظہما اللہ وغیرہ نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے معاملہ داری کے سلسلے میں توقف اختیار کیا، کیوں کہ اس کرنسی کا اصل ماخذ صحیح طور پر انہیں معلوم نہیں ہو سکا اور اس کے تئیں بہت سارے سوالات ،خطرات، خدشات اور پیچیدگیاں تادم تحریر ان کے یہاں قابل تصفیہ ہیں لیکن اس کے ذریعے معاملہ داری پر سال گزرنے کے بعد اس میں زکاۃ کی فرضیت بتائی ، کیوں کہ وہ مال کے دائرے میں شمار کی جانے لگی ہے۔
دوسرا موقف: کرپٹو کرنسی کے ذریعے معاملہ داری درست ہے ، کیوںکہ:
(۱) عموم آیت أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا سے استدلال کیا گیا کہ معاملات میں اصل صحت واباحت ہے۔
(۲) مال کے اعتبار سے کر پٹوکرنسی ایک قیمتی مال ہے۔
(۳) کرپٹو کرنسی کی پروگرامنگ کوئی خام خیال نہیں بلکہ با قاعدہ ایک حقیقت اور حقیقی مال یا اثاثہ ہے جس کا استعمال اور تبادلہ لوگوںنے شروع کیا اور جس کے ذریعے فی الحال آسٹریلیا کی سب سے بڑی Stock Exchange میں اور امریکا میں کرپٹو کرنسی کی شکل میں سرمایہ کاری ممکن ہے۔
(۴) امام مالک یہ نے فرمایا : لَوْ أَنَّ النَّاسَ أَجَازُوا بَيْنَهُمُ الْجُلُودَ حَتَّى تَكُونَ لَهَا سِكَةً وَعَيْنَ لَكَرِهْتُهَا أَنْ تُبَاعَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ نَظِرَةً. [المدونة للإمام مالك كتاب الصرف التأخير في صرف الفلوس: ج: ٣،ص:۵]
ترجمہ: لوگ اگر چمڑوں کو بطور سکہ اور متعین نقد و کرنسی کے طور پر استعمال کرنے لگیں تو میں اُن قوت خرید و فروخت کے حامل چمڑوں کو سونے اور چاندی کے ساتھ تاخیر سے بیچنے کو مکر وہ سمجھوں گا ( تاکہ تاخیر کے سبب سودی معاملہ ربا النسیئہ نہ ہو جائے ) لیکن واضح رہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرضی اور وہمی کرنسی کی نہیں بلکہ محسوس اورٹھوس نقد کی مثال دی ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
أَمَّا الدَّرْهَمُ وَالدِّينَارُ فَمَا يُعْرَفُ لَهُ حَدَّ طَبْعِيْ وَلَا شَرْعِيَّ بَلْ مَرْجِعُهُ إِلَى الْعَادَةِ وَالاصْطِلَاحِ وَذَلِكَ لِأَنَّهُ فِي الْأَصْلِ لَا يَتَعَلَقُ الْمَقْصُودُ بِهِ بَلْ الْغَرَضُ أَنْ يَكُونَ مِعْيَارًا لِمَا يَتَعَامَلُونَ بِهِ وَالدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ لَا تَقْصَدُ لِنَفْسِهَا بَلْ هِيَ وَسِيلَةً إِلَى التَّعَامُلِ بِهَا وَلِهَذَا كَانَتْ أَثْمَانًا بِخِلَافِ سَائِرِ الْأَمْوَالِ فَإِنَّ الْمَقْصُودَ الِانْتِفَاعُ بِهَا نَفْسِهَا فَلِهَذَا كَانَتْ مُقَدَّرَةً بِالْأُمُورِ الطَّبْعِيَةِ أَوْ الشَّرْعِيَّةِ وَالْوَسِيلَةُ الْمَحْضَةُ الَّتِي لَا يَتَعَلَّقُ بِهَا غَرَضْ لَا بِمَا دَتِهَا وَلَا بِصُورَتِهَا يَحْصُلُ بِهَا الْمَقْصُودُ كَيْفَمَا كَانَت.
[مجموع الفتاویٰ: ج:۱۹- ۲۵۱۔۲۵۲]
ترجمہ: درہم و دیناری کوئی فطری یا شرعی تعریف و ضابطہ نہیں بلکہ اس ضمن میں رائج عادات و اصطلاحات کی طرف رجوع کیا جائے گا ،اس کی بنیادی وجہ دراصل یہ ہے کہ معاملہ داری سے مقصود نقد کے ساتھ وابستہ نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ نقد لوگوں کے معاملات کا معیار و پیمانہ بن جائے جبکہ دینار و درہم بنفس نفیس اور بذات خود مقصود نہیں بلکہ وہ بعض ان کے ذریعے معاملہ داری کا وسیلہ ہیں اسی لیے وہ دینار و درہم ثمن ( قیمت ) قرار پائے، اس کے برعکس دینار و درہم کے علاوہ بقیہ سارے مال سے بنفس نفیس اور بذات خود استفادہ مقصود رہتا ہے اسی لیے فطری و شرعی امور کے ذریعے ان کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور جو محض معاملہ داری کا ایسا وسیلہ ہو کہ جس سے مضمون یا ظاہر سے کوئی مقصد وابستہ نہ ہو تو وہ جس شکل میں بھی رہے اس وسیلے کے ذریعے معاملہ داری کا مقصود پورا ہو گا۔
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے بھی بڑی وسعت پیدا کی اور کہا:
الثَمَنُ غَيْرُ مَقْصُودٍ بَلْ وَسِيلَةَ إِلَى الْمَقْصُودِ إِذًا لِانْتِفَاعُ بِالْأَعْيَانِ لَا بِالْأَثْمَانِ.
[حاشية ابن عابدين على الدر المختار كتاب البيوع: ج:۴، ص: ۵۰۱ ]
ترجمہ: معاملہ داری میں قیمت ؍کرنسی حقیقی طور پر مقصود نہیں رہتی بلکہ وہ وسیلۂ مقصود رہتی ہے کیوں کہ فائدہ اٹھانا سامان سے ہوتا ہے نہ کہ قیمتوں سے۔
اور اس سے ملتی جلتی بات امام سرخسی رحمہ اللہ نے بھی المبسوط :ج :۳ ، ص : ۲۰ میں فرمائی۔
امام زرکشی رحمہ اللہ نے فرمایا : المَالُ مَا كَانَ مُنْتَفَعَا بِهِ.
[المنثور في القواعد الفقهية للزركشي المال حقيقته:ج :٣، ص : ۲۲۲]
ترجمہ: جو بھی نفع بخش ہو وہ مال ہے۔
اور اس عموم کے لحاظ سے کر پٹوکرنسی کی معاملہ داری درست ہے۔
(۵) جرمنی چاپان اور ہالینڈ جیسی بعض حکومتوں نے اسے با قاعدہ کرنسی کے طورپر تسلیم کر لیا ہے، جب کہ کچھ ملکوں نے اسے بطور کرنسی قرار نہیں دیا، لیکن اسے ڈیجیٹل تجارتی اثاثہ واشیاء Digital Commodity کے طور پر تسلیم کیا اور ٹیکس بھی عائد کیا اور اس کے ذریعے مختلف شعبوں میں معاملات و تبادلہ اشیاء جاری بھی ہے، اور اس میں پائی جانے والی قوت خرید و فروخت کی وجہ سے ربا الفضل و ربا النسيئہ اس میں ہو سکتا ہے، لہٰذا اس کی ہم جنس کے ذریعے خرید و فروخت کی صورت میں تماثل و تقابض ضروری ہے، علاوہ از یں اس میں زکاۃ بھی فرض ہو گی ۔
(۶) آکسیجن ،بجلی اور گیس ٹھوس نہ رہنے کے باوجود جیسے اس کا وجود یقینی ہے اور کرپٹو کرنسی کا معاملہ بھی بالکل اسی طرح ہے۔
(۷) گزشتہ پانچ سالوں میں کرپٹو کرنسی میں بہتری کی شرح نمایاں ہے۔
(۸) جنوبی افریقہ کے قومی ادارے نے کر پٹو کرنسی کو بطور مال تسلیم کیا۔ اور ماہر اسلامی تجارت ڈاکٹر سعد بن ترکی الخثلان حفظہ اللہ نے ایک سال قبل شبکۃ المجد کے پروگرام الجواب الکافی میں فرمایا کہ کر پٹوکرنسی کے ذریعے معاملات جواز سے قریب ترین ہیں کیوں کہ وہ اب مقبول و متداول، ذریعۂ مبادلہ اور فروخت کی جانے والی شے کے لیے قیمت کی تعیین کا ایک معتبر پیمانہ اور حامل قیمت بن چکی ہے اور یہی خصوصیات کرنسی قرار دینے کے لیے اہم ہیں ،بالخصوص کچھ حکومتوں نے اسے بطور کرنسی تسلیم کر لیا اور لوگوں میں یہ رائج بھی ہو چکی، اب رہا سنگین خطرات و خدشات کا معاملہ تو وہ Stock Market میں بھی پا یا جاتا ہے لیکن اس سے کسی نے منع نہیں کیا اور بڑی احتیاط کے ساتھ کر پٹوکرنسی کے ذریعے معاملہ داری کے قائل ڈاکٹر عبد اللہ العقیل حفظہ اللہ وغیرہ ہیں۔
(۹) کر پٹوکرنسی کی تعدین Mining کو جعالہ پر قیاس کیا گیا اور اس کی اجازت دی گئی۔
تیسرا موقف: جمہور کی رائے یہ ہے کہ کر پٹوکرنسی کے ذریعے ۔ اس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ۔ معاملہ داری سے بچنا چاہیے، کیوں کہ:
(۱) مجمع الفقہ الاسلامی الدولی نے مورخہ ۲۰ ؍ نومبر ۲۰۱۹ء ءمیں قرارداد منظور کی کہ کر پٹو کرنسی محل نظر ہے کہ وہ منفعت ہے یا شے ؍سلعہ ؍مبیع ہے، یا کرنسی؍ مال ہے، یا ڈیجیٹل سرمایہ ہے؟ اور شرعی اعتبار سے کیا اس کی قدر و قیمت اور ثمنیت ہے؟
(۲) کر پٹو کرنسی کا محسوس ٹھوس وجود نہیں، بلکہ محض Programming Network ہے ،جو مال یا رائج کرنسی کی طرح سونے اور چاندی کے حکم میں نہیں۔
(۳) کرپٹو کرنسی اکثر حکومتوں کی جانب سے مسلمہ و تصدیق شدہ کرنسی نہیں اور نہ ہی حکومت کی جانب سے منظور شدہ مرکزی بنک سے جاری کردہ ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
لَا يَصْلُحُ ضَرَبُ الدَّرَاهِم إِلَّا فِي دَارِ الضَّرْبِ بِإِذْنِ السُّلْطَائِلَانَ النَّاسَ إِنْ رُخِصَ لَهُمْ رَكِبُوا الْعَظَائِمَ.
[الأحكام السلطانية لأبي يعلى الفراء فصل في وضع الخراج والجزية: ص: ۱۸۱]
ترجمہ: کرنسی کی صنعت صرف حاکم کی اجازت سے حکومتی ادارے ہی میں ہونی چاہیے کیوں کہ لوگوں کو اگر اس کی اجازت مل جائے تو وہ بڑی غلطیاں اور من مانیاں کرنے لگیں گے۔
اہل علم نے مزید کہا کہ:
يُكْرَهُ لِلرَّعِيَةِ ضُرْبُ الدَرَاهِم وَإِنْ كَانَتْ خَالِصَةً فَإِنَّهُ مِنْ شَأْنِ الْإِمَامِ.
[العزیز شرح الوجیز للعرافی:ص:۹۱]
ترجمہ: درہم خالص ہی کیوں نہ ہو تب بھی حکم کے اعتبار سے مکروہ ہے کہ رعایا اس کی صنعت کریں کیوں کہ کرنسی کی صنعت حاکم وقت کی خصوصیت اور امتیاز ہے۔
(۴) لاشے اور عدم سے کرپٹو کرنسی کی ایجاد کا طریقہ کا ر سود کا سبب بنتا ہے کیوں کہ اس شکل میں تقابض فوراً ممکن نہیں جب کہ سود سے بچنے کے لیے کرنسی میں مماثلت اور تقابض فور الازمی ہے علاوہ ازیں اس کے کچھ معاملات میں تو سود Usury/interest کا کھلا تصور پایا جاتا ہے۔
(۵) کرپٹو کرنسی ایسی فرضی اور وہمی کرنسی ہے جس کی ایجاد کا اختیار مخصوص افراد تک محدود ہے، نتیجتاً جہاں کچھ افراد بے انتہا مال دار بن سکتے ہیں وہاں کچھ لوگ بالکل مفلس و قلاش ہو سکتے ہیں اور شریعت نے جن حکمتوں کے پیش نظر سود سے منع کیا ان میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مال کچھ دولت مندوں کے ہاتھوں ہی میں گردش کرتا نہ رہ جائے ’’ کَیْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَينَ الأَغْنِيَاءِ مِنكُم. [الحشر:۷]
اور بسا اوقات کچھ لوگ وقت ضرورت خود اپنا مال واپس لینے سے قاصر و عاجز رہتے ہیں۔
(۶) حکومتوں کے بغیر افراد کے ذریعے اس کی صنعت احتکارMonopoly اور کاروباری اجارہ داری کا سبب بنتی ہے جس کے مرتکب کو نبی ﷺ نے خطا کار بتایا ہے۔ [صحیح مسلم کتاب المساقاة باب تحريم الاحتكار في الأقوات ح: ۱۶۰۵ بروایت معمر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ]
(۷) کر پٹو کرنسی کی موجد و نگران کار حکومتیں نہیں بلکہ کچھ ایسے افراد ہیں جو کسی بھی مرکزی قانونی نظام کے پابند نہیں جس کی وجہ سے اسے ایسا کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں جس کی مدد سے بوقت ضرورت مالی جرائم کی صورت میں قانونی چارہ جوئی کی جاسکے، واضح رہے کہ دوسری کرنسیاں کسی نہ کسی طرح Underlying Assests سے منسلک ہوتی ہیں جب کہ کر پٹو کرنسی کا سارا دارو مدار Demand Based پر ہوتا ہے۔
(۸) کرپٹو کرنسی کو ثمن ؍قیمت یا سلعہ؍ سامان کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے ان کا علم ہونا ضروری ہے ورنہ بیع فاسد ہو جاتی ہے ،جب کہ اس کرنسی کی ایسی ہزاروں اکائیاں بن جاتی ہیں جن کا علم تو کجا ان کا تلفظ بھی عقد کے وقت ممکن نہیں ہوتا۔
(۹) کرپٹو کرنسی کی Value صرف Market کے Fluctuation اتار چڑھاؤ پر مبنی ہے۔
(۱۰) کرپٹو کرنسی کی قیمت میں غرر Uncertainty یعنی دھوکہ اور جہل یعنی صحیح و دقیق معلومات کی کمی پائی جاتی ہے۔
( ۱۱) کر پٹو کرنسی کی مالیت کبھی ساری دنیا کی تمام کرنسیوں کی مالیت سے کئی گنا ز یادہ بتائی جاتی ہے، جس کی پابجائی کی ذمہ دار کوئی حکومت نہیں، لہٰذا ایسی صورت حال میں بعض ممالک کا اسے قانو نا کرنسی تسلیم کر لینا بھی کچھ معنیٰ نہیں رکھتا۔
(۱۲) کرپٹو کرنسی میں High Risk Investment خطرےکا تناسب اس قدر انتہائی زائد رہتا ہے کہ مختصر سی مدت میں Value کا اتار چڑھاؤ Speculation بے تحاشہ انداز میں پیش آتا ہے، جو جوے Gambling سے مشابہ لگتا ہے ۔[المائدہ:۹۰] اور اس کی Value ڈرامائی طور پر تبدیل ہوسکتی ہے۔
امام ابن ابی العز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
يَجِبْ أَنْ تَكُونَ مَحْدُودَةً لَا تَرْتَفِعُ قِيمَتَهَا وَلَا تَنْقُصُ وَقَدْ حُرِمَ فِيهِمَا رِبَاالنَسِيئَةِ لِمَا فِيهِ مِنَ الضَّرَرِ بِالمَحَاوِيجِ.
[التنبيه على مشكلات الھداية كتاب البيوع علة ما سوى الأصناف الربوية الستة: ص : ٤١٣ ]
ترجمہ: دینار و درہم جیسی ثمنیت کی حامل کرنسیوں کے لیے اس قدر استقرار کے ساتھ رہنا ضروری ہے کہ ان کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ بھی نہ ہو اور غیر معقول گراوٹ بھی نہ آئے اسی لیے ان میں تاخیر کی وجہ سے سودی سبب ربا النسیہ حرام کیا گیا کیوں کہ اس میں ضرورت مندوں کے لیے نقصان ہے۔
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:
يَجِبُ أَنْ يَكُونَ مَحْدُودًامَضْبُوطًا لَا يَرْتَفِعُ وَلَا يَنْخَفِضُ…
[ إعلام الموقعين عن رب العالمين فصل حكمة تحريم ربا النساءفي المطعوم: ج:۲، ص: ۱۰۵]
ترجمہ: کرنسیوں کی قیمت انتہائی دقیق انداز سے متعین رہنی چاہیے تا کہ اس میں بے تحاشہ اچھال بھی نہ آئے اور غیر معمولی گراوٹ بھی نہ آئے۔
شایداسی لیے کچھ اہل علم نے کرپٹوکرنسی معاملات کو فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل بتایا ہے۔
(۱۳) کرپٹو کرنسی Hackable ہے جس پر سائبر حملے ہوسکتے ہیں، کبھی بھی وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے، اورتکنیکی غلطیوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔
(۱۴) کرپٹو کرنسی کی خانگی وغیر حکومتی کمپنیاں غیرذمہ دارانہ انداز سے کبھی بھی بند ہوسکتی ہیں، اور ایسا معاملہ مقصد شریعت تحفظ مال Respect to wealthکے عین منافی ہے۔
(۱۵) کرپٹو کرنسی کے ذریعے منی لانڈرنگ Money Laundering جیسی غیر قانونی سرگرمیاں اور دہشت گردی جیسے جرائم انجام پاسکتے ہیں۔
(۱۶) کرپٹو کرنسی کی Electronic Wallets کبھی بھی قرق ہوسکتی ہیں ،اور ان کے مواد و مضمون کی چوری بھی ممکن ہے۔
(۱۷) کرپٹو کرنسی کا نظام معتبر بینکوں کے جاری نظام کودرہم برہم کرسکتا ہے۔
(۱۸) اگرBackup Strategy نہ ہو، اورComputer یا Mobile Device گُم یا چوری ہوجائے تو سارا سرمایہ نا قابل تلافی شکل میں ضائع ہوجائے گا۔
(۱۹)کرپٹو کرنسی Payments عام طور پر Reversible یعنی واپس نہیں کی جاسکتی ہیں۔
(۲۰)کرپٹو کرنسی کے ذریعے Transactions کی صورت میں نجی معلومات کاظاہربھی ممکن ہے۔
(۲۱) کرپٹو کرنسی کے ذریعےفراڈ ، ھوکے اور گھوٹالے کا تناسب زیادہ دیکھا گیا۔
(۲۲) کرپٹو کرنسی کے ذریعے Online Dating جیسی مخرب اخلاق حرکات عام طور پر زیادہ ہوتی نظر آئیں۔
(۲۳) دبئی کی الہیئۃ العامۃ للشؤون الإسلامیۃ والأوقافمورخہ ۳۰؍۱؍۲۰۱۸ءء ،مورخہ ۱۵؍ستمبر ۲۰۱۹ءء میں جامعہ قطر میں منعقدہ کانفرنس ،قومی علما ءکونسل انڈونیشیا ، دار الافتاء العراقیہ ،دار الافتاء اللیبیہ، فلسطین کی مجلس الافتاء الاعلی ،دار الافتاء المصریہ کے امین الفتوی شیخ محمد عبد السمیع ،مصر کے مفتی اعظم شوقی علام ،اوراستاذ محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ اورفقہ حنفی کے علما ءمیں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب و دیگر نے اس پر حرمت کا فتویٰ جاری کیا۔
چوتھا موقف : کرپٹو کرنسی ابھی بیع الثمار قبل بدو صلاحھا کی طرح ارتقائی مراحل سے ایک Vehicle سواری کی طرح گزر رہی ہے جو کرنسی کو نقل کرنے کا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے معاملہ داری کی صورت جس روز شرعی احکام کے عین مطابق ہوجائے گی تو اس وقت اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں ہوگا۔
تنبیہ :کچھ اہل علم نے کرپٹو کرنسی کو سلعہ؍ مبیع؍ قابل فروخت شے قرار دیا اور اس کے لیے جواز کا پہلو فراہم کیا ، جب کہ اس کے موجد اور منتظمین و صارفین سب نے اسے کرنسی کانام دیا ، اور اس کی معاملہ داری یا اس کے ذریعے معاملہ داری کرنسی کی نیت سے کی جاتی ہے ، واللہ اعلم۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی:
ذریعۂ مبادلہ کی جدید شکل ہے،جس کی مالیت فرضی ہے، کچھ اہل علم نے اس کے تئیں توقف اختیار کیا اور مزید تحقیق طلب مسئلہ بتایا ،تو کچھ اہل علم نے اس کو شرعاً معتبر مال اور کچھ نے سلعہ ومبیع جانا اور معاملہ داری کی اجازت دی، جب کہ جمہور علماء نے کرپٹو کرنسی کی ماہیت اور اس کے خارجی عوامل کے پیش نظر اس کی معاملہ داری حرام قرار دی اور بعض اہل علم نے مشروط ومحتاط انداز سے تفصیلی بات کہی کہ جب شرعی ممانعتیں ختم ہوں گی تواس وقت اس کی اجازت ہوگی لیکن سرسری وظاہری مصلحت ،اور فوائد وسہولیات پر نقصانات کے غالب پہلوئوں اور اکثر اہل علم کے موقف کے پیش نظر کرپٹو کرنسی کی خرید وفروخت یا اس کے ذریعے کسی بھی معاملہ داری سے بچنا بہتر ہے۔
واللہ اعلم ، وصلی اللہ علی النبی وسلم۔