-
مضاربت اور پارٹنرشپ کے اسلامی اصول مضاربت ایک شرعی اصطلاح ہے اور یہ دراصل شراکت کی ایک شکل ہے۔ شراکت کا مطلب ہوتا ہے کہ دو فریق آپس میں مل کر کوئی مالی کاروبار کریں تو اسے شراکت کہا جاتا ہے۔ شراکت کی کئی قسمیں ہیں، بنیادی طور پر اس کی پانچ قسمیں ہیں، اگرچہ نئے زمانے میں کچھ نئی شکلیں بھی سامنے آ سکتی ہیں، لیکن اصلاً اس کی پانچ شکلیں ہیں۔ ان پانچ شراکتوں میں سے ایک شکل ہے مضاربت۔
مضاربت کی تعریف: مضاربت کا مطلب یہ ہے کہ دو فریق ہیں:
ایک فریق اپنی طرف سے مال پیش کرتا ہے کہ یہ لو مال۔
دوسرا فریق اس مال کو لے کر اس میں کاروبار کرتا ہے۔
یعنی ایک طرف سے مال ہوتا ہے اور دوسری طرف سے کام اور کاروبار ہوتا ہے۔ اس کے بعد جو فائدہ ہوگاوہ دونوں کے درمیان حسب ِاتفاق تقسیم ہوگا۔ ضروری نہیں کہ آدھا آدھا ہو، بلکہ جس چیز پر دونوں کا اتفاق ہو، اس حساب سے کاروبار کا نفع دونوں میں تقسیم ہوگا۔ گویا کہ ایک طرف سے مال ہوتا ہے اور دوسری طرف سے عمل اور تجارت ہوتی ہے، اور جو فائدہ ہوگا وہ دونوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسے مضاربت کہا جاتا ہے۔
مضاربت کا شرعی حکم: مضاربت کے جواز پر اجماع ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے جواز کی حکمت یہ ہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس پیسہ تو بہت ہوتا ہے لیکن وقت نہیں ہوتا، یاپیسہ تو ہوتا ہے لیکن کاروبار کرنے کا طریقہ نہیں معلوم، تجربہ نہیں ہوتا،اگر وہ خود کاروبار کریں گے تو ڈوب جائیں گے۔
دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس پیسہ نہیں ہوتا، لیکن تجربہ بہت ہوتا ہے، علم بہت ہوتا ہے، محنت کر سکتے ہیں، سب کچھ جانتے ہیں لیکن پیسہ نہیں ہوتا کہ کاروبار کیسے کریں۔
آپ جانتے ہیں کہ ہماری شریعت میں تعاونِ اسلامی کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے۔ ایک دوسرے کا تعاون کرو، جہاں پر نقص ہو اسے مکمل کرو۔ اسی لیے ہماری شریعت نے شراکت اور مضاربت کو جائز قرار دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کا تعاون کریں۔
مضاربت کی شکلیں: مضاربت کا مطلب آسان الفاظ میں یہ ہے کہ ایک طرف سے مال ہوتا ہے اور دوسری طرف سے تجارت اور عمل ہوتا ہے۔ اگر ہم اس پر تفصیل سے غور کریں تو اس کی چار شکلیں بن سکتی ہیں:
(۱) پہلی شکل: مال لگانے والا ایک شخص ہے اور تجارت کرنے والا بھی ایک شخص ہے۔ ایک نے مال لگایا، ایک نے تجارت کی۔
(۲) دوسری شکل: مال لگانے والا ایک شخص ہے اور تجارت کرنے والے کئی لوگ ہیں، جیسے کوئی گروپ یا کمپنی۔ مال لگانے والا ایک اور کام کرنے والے کئی ہیں۔
(۳) تیسری شکل: مال لگانے والے کئی ہیں اور کام کرنے والا ایک ہے۔ دس لوگ مل کر ایک تجربہ کار شخص کو اختیار دیتے ہیں اور اس کے پاس اپنا مال لگاتے ہیں، وہ اکیلا دسوں کا مال لے کر تجارت کرتا ہے۔
(۴) چوتھی شکل: مال لگانے والے کئی ہیں اور کام کرنے والے بھی کئی لوگ ہیں۔ دس لوگ مل کر کچھ تجربہ کار شخص کو اختیار دیتے ہیں اور ان کے پاس اپنا مال لگاتے ہیں، وہ لوگ ان دسوں کا مال لے کر تجارت کرتے ہیں۔
مضاربت کا فقہی اور تکنیکی پہلو: یہ موضوع خالصتاً فقہی اور تکنیکی ہے، بہت پیچیدہ سمجھا جاتا ہے۔ جب عام لوگوں کے سامنے بات کرنی ہو تو بہت دشواری کا سامنا ہوتا ہے کہ ان اصطلاحات کو کس طرح آسان الفاظ میں پیش کیا جائے کہ لوگ آسانی سے سمجھ جائیں۔ اس لیے میں یہ کوشش کروں گا کہ اس موضوع سے متعلق جو بنیادی باتیں ہیں، جو ہر خاص و عام کو ضرورت پڑتی ہیں، صرف انہی کا ذکر کروں گا اور تفصیلی مسائل سے صرفِ نظر کروں گا۔
مضاربت کی شرعی صحت کے لیے دس شرائط: سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ آج کل جو مضاربت یا سرمایہ کاری کی شکل اختیار کی جا رہی ہے، کیا وہ جائز ہے یا نہیں؟ اس کو پرکھنے کے لیے میں دس نکات میں بات کروں گا، جنہیں شریعت کی اصطلاح میں ’’شرائطِ صحتِ مضاربت ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی مضاربت یا سرمایہ کاری کے صحیح ہونے کے لیے بنیادی طور پر دس شرائط ہیں۔ لہٰذا میں اپنی گفتگو کو انہی دس نکات تک محدود رکھوں گا، درمیان میں کچھ چیزیں تفصیل کے طور پر بھی ذکر کروں گا۔مضاربت کے صحیح ہونے کے لیے، جیسا کہ میں نے ذکرکیا کہ دو فریق ہوتے ہیں، ایک فریق سے مال ہوتا ہے، دوسرے سے عمل ہوتا ہے، اور فائدہ دونوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔
(۱) پہلی شرط : راس المال کا نقد ہونا۔جو راس المال ہے، جسے ہم سرمایہ کہتے ہیں، وہ نقد ہونا چاہیے۔ نقد کا مطلب چاہے سونا چاندی ہو، آج کل سونے چاندی کو نقد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا، ہم کرنسی استعمال کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری کا جو راس المال ہے وہ نقد کی شکل میں ہونا ضروری ہے۔ کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ جب یہ معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان ختم کیا جائے گا، ایک نہ ایک دن دونوں الگ ہوں گے، تو جو سرمایہ ہے وہ سرمایہ کاری کرنے والے کو واپس کیا جائے گا، اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ نقد ہو۔ اگر وہ سامان کی شکل میں ہو، جیسے آپ کہیں کہ میں دس گاڑیاں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں، تو سامنے والا ان گاڑیوں کو بیچے گا، کیونکہ بیچے گا نہیں تو پیسہ کہاں سے آئے گا؟ پیسوں سے ہی تو کاروبار کرے گا۔ وہ گاڑیاں بیچ کر پیسہ حاصل کرے گا، پھر کاروبار کرے گا۔ اب جب کل کو شراکت ختم ہوگی تو گاڑیاں کہاں سے واپس کریں گے؟ گاڑیاں تو چلی گئیں۔ لہٰذا سرمایہ کاری میں ضروری ہے کہ سرمایہ نقد کی شکل میں ہو، نہ کہ سامان کی شکل میں۔
اس کا ایک حل ہےاور متبادل ہے۔ جیسے فرض کریں کہ کسی کے پاس نقد نہیں ہے، سامان ہے اور وہ سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ تو جس وقت سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس وقت اس کی قیمت طے کر لے کہ مارکیٹ میں اس کار کی قیمت کیا ہے۔ اگر کار کی قیمت دس لاکھ ہے، تو گویا وہ دس لاکھ سرمایہ کاری کر رہا ہے، کار نہیں۔ اگرچہ کئی علماء نے اسے بھی جائز نہیں مانا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اصل میں جو حرمت کی وجہ تھی، یعنی نقد راس المال کو آخر میں واپس کرنا ہے، اگر ہم اس پر عمل کریں تو اس حرمت سے بچ سکتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اسے بہت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ لہٰذا اگر ہم سامان کو سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو اس کی قیمت اسی دن طے کر لیں کہ یہ اتنے کا سامان ہے، گویا ہم نقد سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
(۲) دوسری شرط : راس المال کا معلوم ہونا۔جو راس المال ہے وہ معلوم ہونا چاہیے، نامعلوم نہیں ہونا چاہیے۔ جیسے فرض کریں آپ نے کسی کو ایک تھیلا پیسوں سے بھر کر دیا کہ یہ لو میں سرمایہ کاری کر رہا ہوں، لیکن معلوم نہیں کہ اس تھیلے میں کتنے پیسے ہیں۔ راس المال معلوم ہونا چاہیے۔ اس میں تین چیزوں کا علم ہونا چاہیے: جنس، مقدار، اور صفت۔ اگر کرنسی لگا رہا ہوں تو کیا ڈالر لگا رہا ہوں، ریال لگا رہا ہوں، یا روپیہ لگا رہا ہوں؟ جنس معلوم ہونی چاہیے، مقدار معلوم ہونی چاہیے کہ کتنا لگا رہا ہوں، دس ہزار، بیس ہزار، یا پچاس ہزار؟ صفت بھی معلوم ہونی چاہیے کہ جو لگا رہا ہوں وہ کیش دے رہا ہوں یا کسی اور کے پاس ہے کہ وہاں جا کر لیں۔ مکمل طور پر اس کا علم ہونا چاہیے، اس میں جہالت نہیں ہونی چاہیے۔
(۳) تیسری شرط : راس المال کا بطور امانت ہونا ۔جو سرمایہ ہے، وہ سرمایہ کاری کرنے والے کے پاس امانت کے طور پر ہے۔ یہ اصول یاد رکھیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی چیز امانت ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہو گیا اور وہ سارا سامان ضائع ہو گیا، جیسے کہ تجارت میں کئی بار ہو سکتا ہے کہ سارا سامان یا پیسہ چوری ہو گیا، تو جو تجارت کر رہا ہے وہ اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ وہ صرف اس صورت میں ذمہ دار ہوگا جب اس نے اپنی طرف سے کوتاہی یا غفلت کی ہو۔ اگر اس نے غفلت یا کوتاہی کی، جسے فقہی اصطلاح میں تقصیر یا تفریط کہتے ہیں، تو وہ ذمہ دار ہوگا۔ ورنہ اگر اس نے کوئی کمی نہیں کی اور مال ضائع ہو گیا، تو سرمایہ کار اسے برداشت کرے گا، نہ کہ تجارت کرنے والا یا کمپنی۔
(۴) چوتھی شرط : نقصان کا ذمہ دار صرف سرمایہ کار ہوگا َ۔ہم سب جانتے ہیں کہ تجارت میں کبھی فائدہ ہوتا ہے، کبھی نقصان ہوتا ہے۔ اگر آپ نے کسی کے پاس یا کسی کمپنی میں سرمایہ کاری کی اور کچھ دنوں تک فائدہ ہوا، لیکن پھر تجارت ڈوب گئی اور نقصان ہو گیا، جیسے کہ ایک لاکھ لگایا تھا اور پچاس ہزار بچا، یعنی سرمایہ کا بھی نقصان ہو گیا، تو یہ نقصان کون برداشت کرے گا؟ یہ نقصان سرمایہ کار برداشت کرے گا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام طور پر یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ اگر آپ نے کسی کے پاس پیسہ لگایا، اس نے پوری کوشش کی لیکن تجارت ڈوب گئی، آپ کا سرمایہ بھی ڈوب گیا، تو اس کا ذمہ دار تجارت کرنے والا نہیں ہوگا، بلکہ آپ اس نقصان کو برداشت کریں گے۔
کوئی یہ اشکال کر سکتا ہے کہ جب فائدہ ہو رہا تھا تو دونوں لے رہے تھے، اب نقصان ہو رہا ہے تو اکیلا کیوں نقصان اٹھائے؟ اگر فائدے میں شریک تھا تو نقصان میں بھی شریک ہو، یہی تو انصاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کا یہ حکم مکمل طور پر عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ فرق ہمارے سمجھنے میں ہے۔ اگر سرمایہ ڈوب گیا، تو تجارت کرنے والے کو کیا ملے گا؟ فائدہ تو آیا ہی نہیں۔ ہو سکتا ہے اس نے چھ ماہ یا سال بھر محنت کی ہو اور آخر میں ایک روپیہ بھی نہ ملا ہو۔ اس کی محنت ڈوب گئی، آپ کا پیسہ ڈوبا، دونوں کا نقصان ہوا۔ یہی عدل ہے۔ اگر کہا جائے کہ نقصان بھی وہی اٹھائے گا، تو اس کی محنت بھی گئی اور پیسہ بھی الٹا دینا پڑے گا۔ لہٰذا عدل یہی ہے کہ نقصان سرمایہ کار اٹھائے گا۔
(۵) پانچویں شرط : متعدد سرمایہ کاروں میں نقصان کی تقسیم۔اگر سرمایہ کار کئی ہیں، جیسے کہ کئی لوگوں نے مل کر ایک شخص یا کمپنی میں پیسہ لگایا اور کاروبار میں نقصان ہو گیا، تو یہ نقصان ہر سرمایہ کار اپنے اپنے حصے کے تناسب سے اٹھائے گا۔ جتنا فیصد اس کا پیسہ لگا ہے، اتنا فیصد نقصان میں شریک ہوگا۔
(۶) چھٹی شرط : نفع میں دونوں فریقوں کی شراکت ہوگی۔دونوں پارٹنر نفع میں شریک ہوں گے، نفع کسی ایک کا نہیں ہوگا۔ اگر ہم کہیں کہ سارا نفع سرمایہ کار لے گا اور تجارت کرنے والے کو کچھ نہیں ملے گا، تو یہ مضاربت نہیں، بلکہ وہ محض کام کر رہا ہے اور آپ کو پیسہ دیتا رہتا ہے۔ یہ مضاربت نہیں ہوگی۔ اور اگر سارا نفع تجارت کرنے والے کے لیے رکھ دیا اور سرمایہ کار کو کچھ نہ دینے کی شرط لگائی، تو یہ قرض ہے، نہ کہ مضاربت۔ لہٰذا نفع دونوں کو ملنا چاہیے۔
(۷) ساتویں شرط : نفع کا معلوم ہونا۔نفع معلوم ہونا چاہیے، نامعلوم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر بغیر کسی معاہدے کے پیسہ لگا دیا کہ کچھ تم لے لینا، کچھ میں لے لوں گا، تو یہ مضاربت فاسد ہے۔
(۸) آٹھویں شرط : نفع کا فیصد میں ہوناضروری ہے۔دونوں فریقوں کا نفع فکس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فیصد میں ہونا چاہیے۔ جیسے اگر سرمایہ کار کہے کہ ایک لاکھ لو، تجارت کرو، ہر ماہ ایک ہزار مجھے دیتے رہنا، تو یہ فکس ہو گیا۔ یا کہے کہ ہر ماہ ایک ہزار تم لیتے رہنا، باقی مجھے دیتے رہنا، یہ بھی فکس ہو گیا۔ نفع فیصد میں ہونا چاہیے، جیسے کہ۵۰ فیصد تمہارا، ۵۰ فیصد میرا۔ اگر نفع فکس کر دیا تو یہ سود ہے، کیونکہ گویا آپ نے قرض دیا اور اس سے فائدہ لے رہے ہیں۔
(۹) نویں شرط : تاجر کا حصہ نفع سے ہوگا۔تجارت کرنے والے کا حصہ نفع سے ہونا چاہیے، الگ سے نہیں۔ اگر کہا کہ ایک لاکھ لو، تجارت کرو، میں الگ سے ہر ماہ ایک ہزار دیتا رہوں گا، تو یہ مضاربت نہیں، اجرت ہے، اور یہ جائز نہیں کیونکہ اجرت یقینی ہونی چاہیے، جبکہ یہاں نفع یقینی نہیں۔
(۱۰) دسویں شرط : نفع کا حساب کتاب۔نفع کا شمار اس وقت ہوگا جب تجارت ختم کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ پہلے سرمایہ الگ کیا جائے گا، اس کے بعد جو باقی بچے گا وہ نفع ہوگا اور اس میں دونوں شریک ہوں گے۔
اگر ان دس شرائط پر عمل کیا جائے تو مضاربت صحیح ہوگی۔
مضاربت کتنے اسباب کی بناپر ختم ہوگی ؟
(۱) وفات: دونوں میں سے کوئی ایک مر جائے۔
(۲) فسخ: کوئی ایک فریق شراکت ختم کر دے۔
(۳) شرعی عذر: کوئی شرعی عذر آ جائے، جیسے قرض وغیرہ۔
(۴) مال کا ہلاک ہونا: مال ہلاک ہو جائے یا سرمایہ ڈوب جائے۔
(۵) وقت کا خاتمہ: وقت مقررہ پر اتفاق ہو اور وہ وقت ختم ہو جائے۔
(۶) حساب کتاب: تجارت کا سامان بیچ کر حساب کتاب کر لیا جائے۔
اختتامی کلمات: یہ بعض اہم باتیں ہیں مضاربت سے متعلق۔ ان شاء اللہ اگر مزید تفصیلی طور پر یہ موضوع کسی مجلے میں شائع ہوا تو اس میں تفصیلی مسائل بھی ذکر کیے جائیں گے۔ اللہ رب العالمین ہمیں حلال کی توفیق دے اور حرام سے بچائے۔ آمین