-
انشورنس کی قسمیں اور ان کے احکام قبل اس کے کہ میں موضوع کی تہہ میں داخل ہو جاؤں آپ کے لیے یہ بات واضح کر دوں کہ چار قاعدے یاد رکھیے۔ یہ باتیں میرے موضوع سے متعلق بھی ہیں اور تجارت کےجو مضامین گزر گئے ان سے بھی متعلق ہیں اور ان شاء اللہ آنے والے مضامین میں بھی آپ کو کام آئیں گی۔
پہلا نکتہ: اگر کسی معاملہ میں غرر پایا جا رہا ہے تو وہ معاملہ حرام ہے۔
غرر ایک ایسی بیماری ہے جو وائرس کی طرح ہے، غرر کثیر مراد ہے۔
دوسرا نکتہ: اگر کسی معاملہ میں سود پایا جا رہا ہے تو وہ بھی حرام ہے۔
سود کی دو قسمیں ہیں: ربا الفضل اور ربا النسیئہ۔
تیسرا نکتہ: اگر کسی معاملہ میں جوا پایا جا رہا ہے یا وہ معاملہ جوا پر مبنی ہے تو وہ معاملہ حرام ہے۔
لہٰذا چار باتیں یاد رکھیے: ۱۔ غرر (دھوکہ) ۲۔ ربا الفضل (ادھار کا سود) ۳۔ ربا النسیئہ (تاخیر کا سود) ۴۔ قمار (جوا)
جوں جوں دنیا ترقی کرتی گئی، بیع و شراء اور معاملات کی شکلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ دنیا کے اندر انسان مال سے محبت کرتا ہے اور کمانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر ہماری شریعت نے ہمیں واضح نظام دیا ہے کہ مال کمانے کا طریقہ جو حلال ہے اسے اختیار کرو اور جو حرام طریقہ ہے اسے چھوڑ دو،ایسی ہی صورت میں نجات ملے گی۔
چونکہ آج کا موضوع انشورنس ہے۔ اس لیےاس کا حکم بیان کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انشورنس ہے کیا؟کیونکہ جب تک آ پ انشورنس کو نہیں جانیں گے تب تک آپ اس کی شکلوں کو بھی نہیں سمجھ سکتے ہیں۔
انشورنس کی حقیقت: انشورنس ایک ’’نازلہ‘‘ یعنی جدید مسئلہ ہے۔ قدیم فقہاء کے یہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ سب سے پہلے ابنِ عابدین رحمہ اللہ (وفات ۱۲۵۲ھ) نے اس کا ذکر کیا۔ ان کے زمانے میں یہ’’سوکرا‘‘کے نام سے مشہور تھا۔
دستاویزی انشورنس سب سے پہلے اٹلی میں ۱۳۴۷ء میں شروع ہوا۔ پھر ۱۶۶۶ء میں لندن میں آگ لگی تو وہاں سے بری بیمہ یا بری انشورنس عام ہوا، جس کی مختلف شکلیں آج سماج میں موجود ہیں۔
انشورنس کیا ہے؟ یہ دراصل ایک معاہدہ ہے کہ:
بیمہ دار (انشورنس لینے والا) کمپنی کو کچھ رقم دیتا ہے۔
کمپنی وعدہ کرتی ہے کہ اگر فلاں حادثہ یا نقصان ہو گیا تو وہ اس کی بھرپائی کرے گی، اور اگر نقصان نہ ہوا تو وہ رقم کمپنی کی ہو جاتی ہے۔
انشورنس کے بنیادی ارکان (سات چیزیں): (۱) بیمہ دار( Insured)۔ (۲) کمپنی (Insurer) (۳) بیمہ دار کا پیسہ دینا (Premium) (۴) کمپنی کی طرف سے معاوضہ دینا (Claim) (۵) خطرہ (Risk) جو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ (۶) ایجاب (Offer) (۷) قبول (Acceptance)ان سات کے بغیر انشورنس وجود نہیں رکھتا۔
انشورنس کی قسمیں: انشورنس کی دو قسمیں ہیں: (۱) کمرشیل انشورنس (تجارتی بیمہ) مقصد صرف منافع کمانا۔ (۲) تعاونی انشورنس ، مقصد مدد اور تعاون
کمرشیل انشورنس کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں:
پہلا قول: بعض کہتے ہیں جائز ہے: (لیکن یہ قول کمزور ہے)
انشورنس کو جائز کہنے والے علماء کے دلائل:
پہلی دلیل: اصل میں ہر معاملہ حلال ہے۔
ان علماء کا کہنا ہے کہ شریعت کا اصول ہے:
’’الأصل في المعاملات الحل حتى يدل الدليل على التحريم‘‘۔
یعنی اصل میں تمام معاملات جائز ہیں جب تک کوئی واضح دلیل حرمت پر نہ آجائے۔
چونکہ انشورنس ایک مالی معاملہ ہے، لہٰذا اس کی اصل حلت ہے۔
دوسری دلیل: دیت کی مثال
وہ حدیث پیش کرتے ہیں جس میں آیا ہے کہ:
اگر کوئی شخص کسی کو خطا (غلطی)سے قتل کر دے تو قاتل پر دیت واجب ہو جاتی ہے۔
دیت سو اونٹ ہے، جو تین سال میں ادا کیے جاتے ہیں۔
لیکن یہ دیت صرف قاتل نہیں دیتا بلکہ اس کے عصبہ (قریبی رشتہ دار) سب مل کر ادا کرتے ہیں۔
ان علماء کا کہنا ہے کہ:
’’یہی انشورنس ہے کہ ایک فرد کے نقصان کو سب مل کر تقسیم کر لیتے ہیں تاکہ بوجھ ہلکا ہو جائے‘‘۔
تیسری دلیل: میثاق (معاہدہ) والی آیت:
قرآن مجید میں ہے: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾[النساء: ۳۳]
’’اور جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے، انہیں ان کا حق دے دو‘‘۔
قدیم زمانے میں لوگ یہ معاہدہ کرتے تھے کہ اگر تجھے نقصان پہنچے تو میں مدد کروں گا، اور اگر مجھے نقصان ہو تو تو میری مدد کرے گا۔
ان علماء کا کہنا ہے کہ انشورنس بھی اسی طرح کا معاہدہ ہے، لہٰذا یہ قرآن سے ثابت ہے۔
لیکن ان دلائل پر جمہور علماء نے اعتراض کیا ہے:
پہلی دلیل کا جواب: اصل میں ہر معاملہ حلال ہے یہ قاعدہ درست ہے، لیکن اگر اس میں غرر(دھوکہ)، جوا یا ربا (سود) آجائے تو وہ استثناء ہو جائے گا اور حرام ہو گا۔ انشورنس میں یہ سب موجود ہیں۔
دوسری دلیل کا جواب: دیت کی مثال ،یہ حکومت و شریعت کی طرف سے فرض کیا گیا نظام ہے، جبکہ انشورنس کمپنی منافع کمانے کے لیے کرتی ہے، نیت اور حقیقت دونوں مختلف ہیں۔
تیسری دلیل کا جواب : میثاق والی آیت ، جمہور علماء کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے (اب وارث صرف شریعت کے مطابق ہوں گے، معاہدے سے نہیں) اگر اسے برقرار بھی مان لیا جائے تو یہ تعاون ہے، نہ کہ پیسے کے بدلے خرید و فروخت۔
اس طرح جمہور کا موقف یہ ہے کہ کمرشل انشورنس ان دلائل سے ثابت نہیں ہوتا، اس لیے وہ حرام ہے۔
دوسرا قول: بعض کہتے ہیں کچھ انشورنس جائز ہیں جیسے موٹر، گاڑی، جہاز، پانی جہاز وغیرہ۔
اور کچھ انشورنس ناجائز ہیں جیسے ہیلتھ انشورنس اور لائف انشورنس وغیرہ۔
دلیل: اس میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔
شریعت میں مصالح کی تین قسمیں ہیں، مختصر یہ کہ وہ مصالح جن کے خلاف قرآن و سنت کے نصوص موجود ہوں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ہے لہٰذا انشورنس کرنا ایک موہوم مسئلہ ہے اور شریعت میں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
تیسرا قول : جمہور علماء: تمام کمرشیل انشورنس حرام ہیں۔
کمرشل انشورنس کو حرام کہنے والے جمہور علماء کے دلائل:
پہلی دلیل: غرر (غیر یقینی ؍ دھوکہ دہی) یعنی جس کے انجام سے سب بے خبر ہیں۔
انشورنس کے معاہدے میں انجام نامعلوم ہوتا ہے:
بیمہ دار کو معلوم نہیں کہ اسے کتنی رقم ملے گی۔
کمپنی کو معلوم نہیں کہ اسے کتنی رقم ادا کرنی پڑے گی۔
خطرہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔
نبی ﷺ نے ایسی بیع یا ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے:’’نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ‘‘.’’رسول اللہ ﷺ نے غرر والے سودے سے منع فرمایا‘‘۔ [صحیح مسلم]
اس بنا پر یہ معاہدہ غرر کی وجہ سے ناجائز ہے۔
دوسری دلیل: ربا (سود) کی موجودگی، اور اس میں سود کی دونوں قسمیں شامل ہیں۔
بیمہ دار تھوڑی رقم دیتا ہے۔
اگر حادثہ ہو جائے تو کمپنی زیادہ رقم دیتی ہے، اور اگر نہ ہو تو کچھ نہیں دیتی۔
مثال: کسی نے کمپنی کو پانچ ہزار روپے دیئے، اور جب حادثہ ہوا تو کمپنی نے پچاس ہزار روپے ادا کر دیئے۔
یہ واضح طور پر ربا الفضل ہے (کم دے کر زیادہ لینا)
ساتھ ہی یہ ادائیگی مو خربھی ہوتی ہے، اس لئے اس میں ربا النسیئہ بھی شامل ہے۔
تیسری دلیل : قمار (جوا ؍ شرط) یعنی ایسا معاملہ جس میں فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی، انشورنس میں بھی یہی معاملہ ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ یقینی نہیں ہے:
ہو سکتا ہے کہ بیمہ دار کا فائدہ ہو، یا ہو سکتا ہے کہ کمپنی کا فائدہ ہو، تو ایسی صورت میں یہ بالکل جوا ہے۔
’’أن تكون منفعة أحد الطرفين مرتبطة بحدوث أمر غير معلوم”.
’’یعنی دونوں فریقین میں سے کسی ایک کا نفع کسی غیر یقینی امر کے ساتھ جڑا ہوا ہے‘‘۔
اور ہماری شریعت نے جوا کو حرام قرار دیا ہے:
﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ … رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ ﴾ [المائدہ: ۹۰]
چوتھی دلیل : تعاون کے بجائے تجارتی مقصد
کمرشل انشورنس کمپنیوں کا مقصد صرف منافع کمانا ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں کی مدد۔
شریعت تعاون اور باہمی مدد کی اجازت دیتی ہے، لیکن تجارتی نفع کے ساتھ غرر، سود اور جوا کو ہرگز جائز نہیں کرتی۔
پانچویں دلیل : صحابہ و سلف صالحین کے دور میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے۔
انشورنس جدید ایجاد ہے۔
صحابہ اور سلف صالحین نے ہمیشہ غرر، جوا اور سود سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔
چونکہ اس میں یہ تینوں خرابیاں ہیں، لہٰذا یہ ان اصولوں کے خلاف ہے۔
خلاصہ: جمہور علماء کہتے ہیں کہ چونکہ تین بڑے ’’وائرس‘‘ (خرابیاں)کمرشیل انشورنس میں پائے جاتے ہیں:
غرر : انجام نامعلوم، دھوکہ دہی۔ ربا : کم دے کر زیادہ لینا، اور مؤخر لین دین۔ قمار : جوا، غیر یقینی نتیجہ پر شرط لگانا۔
لہٰذا کمرشیل انشورنس ناجائز و حرام ہے۔
کمرشل انشورنس کی قسمیں:
(۱) لائف انشورنس : بیمہ دار کمپنی کو کچھ پیسہ دیتا ہے اور کمپنی اس سے کہتی ہے کہ اگر آپ دس سال کے اندر مر گئے تو آپ کو اتنا اتنا پیسہ ملے گا اور اگر دس سال میں نہیں مرتے ہیں تو بھی آپ کو آپ کا پیسہ دے دیا جائے گا لیکن سود کے ساتھ۔
یہ حرام ہے کیونکہ اس میں ربا الفضل، ربا النسیئہ اور جوا تینوں موجود ہے۔
(۲) مال یعنی پراپرٹی ، گاڑی ، کارخانہ انشورنس : بیمہ دار کمپنی سے کہتا ہے کہ میری گاڑی، گھر یا کارخانہ ہے اور میں دس سال کے لیے اس کا انشورنس کرنا چاہتا ہوں اور وہ کمپنی کو پریمیئم کے طور پر ایک رقم ادا کرتا ہے اور کمپنی اس سے یہ معاہدہ کرتی ہے کہ اگر دس سال کے اندر تمہارے کار خانے میں کوئی نقصان ہو گیا یا جل گیا یا اور کچھ ہو گیا تو اس کی بھرپائی کی ذمہ داری ہماری ہوگی، لیکن اگر نقصان نہیں ہوا تو آپ نے جو پریمیئم مجھے دیا تھا اس میں سے آپ کو ایک روپیہ بھی نہیں ملےگا۔
یہ حرام ہے کیونکہ اس میں غرر (دھوکہ) ہے، جوا ہے ،اور سود کی دونوں قسمیں بھی اس میں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے کہ اگر واقعی نقصان ہو گیا تواس کو بہت زیادہ پیسہ ملے گا۔
(۳) تھرڈ پارٹی انشورنس: یہ بھی تجارتی قسم ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے پاس گاڑی ہے، آپ بیمہ کمپنی کے پاس جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ دیکھیے اگر میری گاڑی سے میں نے کسی کو ٹکر مار دیا اور اس گاڑی کا سامان مجھے بھرنا پڑا تو میں نہیں بھروں گا، آپ اتنا پیسہ لیجیے اور آپ بھر دیجیے گا تو کمپنی اس سے کہتی ہے کہ کوئی بات نہیں ہے اور وہ راضی ہو جاتی ہے۔
تو اب یہ بتائیے کہ اس کا گاڑی کو ٹھوکنا یقینی ہے؟ یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے ٹھوکے ہو سکتا ہے نہ ٹھوکے، ہو سکتا ہے وہ کسی کو نقصان پہنچائے اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے، تو اگر نقصان پہنچایا تو کتنے مقدار کا نقصان پہنچایا دس ہزار کا بیس ہزار کا تیس ہزار کا، میں نے دیا ہے پانچ سو روپیہ، پتہ چلا کہ میں نے بیس ہزار کا نقصان کر دیا کمپنی بیس ہزار دے گی تو ہم نے پانچ سو کے بدلے بیس ہزار لیا، یہ تو بالکل ربا الفضل بھی ہے اور ربا النسیئہ بھی، دوسری بات یہ کہ ٹھوکوں گا یا نہیں ٹھوکوں گا یا مجھ سے نقصان ہوگا یا نہیں ہوگا یہ پتہ نہیں ہے لہٰذا یہ غرر میں بھی آتا ہے اور جوا میں بھی آتا ہے۔
(۴) میڈیکل انشورنس: میڈیکل انشورنس میں ہوتا یہ ہے کہ بیمہ دار کمپنی سے کہتا ہے کہ اگر میں پانچ سال کے اندر بیمار ہوا تو آپ کو میرا علاج کرنا پڑے گا اور کمپنی اس پر حامی بھر لیتی ہے اور اس کے علاج کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔
یہ بھی غرر، ربا الفضل، ربا النسیئہ اور جوا چاروں قسم کے وائرس کی وجہ سے حرام ہے۔
انشورنس کی دوسری قسم : تعاونی یا غیر تجارتی انشورنس (جائز)
غیر تجارتی انشورنس: یہ جائز ہے۔
دس یا بیس لوگ مل کر ایک فنڈ میں رقم جمع کریں، ان کی نیت صدقہ اور تعاون ہو، نہ کہ منافع۔
نقصان والے کو اسی فنڈ سے مدد دی جائے۔
یہ جائز ہے، اور نبی ﷺ کے زمانے میں بھی صحابہ کے عمل سے اس کی اصل موجود ہے۔
دلیل : عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:’’إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ‘‘.
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اشعری لوگ جب جہاد میں رسد کی کمی کا شکار ہو جائیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جائے تو ان کے پاس جو کچھ بچا ہو اسے ایک کپڑے میں اکٹھا کر لیتے ہیں، پھر ایک ہی برتن سے اس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیتے ہیں۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں‘‘۔ (وہ میرے قریب ہیں اور میں ان سے قربت رکھتا ہوں)۔
[ صحیح مسلم: ۲۵۰۰]
ملک ہندوستان کے تناظر میں ایک اہم مسئلہ:
جب کسی جگہ یا کسی حکومت میں انشورنس لازمی کر دیا جائے جیسے گاڑی کا انشورنس وغیرہ تو ایسی صورت میں انشورنس کروانا جائز ہے۔
لیکن جب انشورنس کا پیسہ ملے تو صرف اپنی جمع کردہ رقم ہی لینا چاہیے، اور زائد رقم واپس کر دینا یا صدقہ کر دینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حرام انشورنس سے بچائے، حلال راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمارے رزق کو پاکیزہ بنائے۔ آمین۔