Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • سود کی شکلیں اور ان سے بچنے کا طریقہ

    حقیقت یہ ہے کہ آج کے مالی معاملات، دنیا کی معیشتوں حکومتوں کی اپنی معیشتوں یا پرائیوٹ سیکٹر کی بات کریں تو سود اس قدر زیادہ عام ہے کہ اس کی تمام شکلوں کا احاطہ کرنا اور آپ کے سامنے ان میں سے ہر ایک شکل پر انفرادی طور پر الگ الگ سے بات کرنا بہت ہی مشکل ہے،میں کوشش کروں گا کہ میری اپنی اس تحریر میں تین بنیادی پہلووں پر آپ کے سامنے بات رکھ سکوں، سب سے پہلی چیز ہوگی کہ سود یا سود کے اسلامی شریعت میں بنیادی اصول کیا ہیں کہ جن کی روشنی میں کسی چیز کا سودی یا غیر سودی ہونا طے ہوتا ہے تاکہ ہمارے سامنے ایک اصول و ضوابط آ جائیں جن کی روشنی میں ہم سود کو پہچاننے کی کوشش کرسکیں، دوسرا حصہ میرے سامنے ہوگا کہ ہمارے سامنے عرف عام میں جو مروج شکلیں ہیں میں ان میں سے بعض اہم صورتوں کی طرف نشاندہی کروں گا اور گفتگو کا آخری اور تیسرا حصہ کچھ مشورے جن کو بطور علاج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
    محترم قارئین! اہل علم نے لکھا ہے کہ اسلامی شریعت کے مقاصد بنیادی طور پر انسان کی پانچ بنیادی چیزوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے: دین، جان، مال، عزت و آبرو اور عقل۔
    ان میں سے جہاں تک مال کے تحفظ کی بات ہے اسلامی شریعت نے ہر اس راستے اور طریقے کو حرام اور ناجائز قرار دیا ہے جس سے کسی کے بھی مال کا نقصان ہو سکتا ہو اور یہ چاہے فرد کا مال ہو یا نقصان انفرادی سطح پر پہنچتا ہو یا سماج کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہو، اجتماعی نقصان کا معاملہ ہو دونوں ہی صورتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا، اللہ نے چوری، ڈاکے، دھوکے، تجارت میں جھوٹ بولنے کو حرام قرار دیا، اس لیے کہ یہ سب وہ راستے ہیں جہاں سے کسی کے مال پر ناجائز دست درازی ہوتی ہے اور آدمی قبضہ کرتا ہے، ایسے ہی سود ایک ایسی شکل ہے جس میں لوگوں کے مال کو اجتماعی شکل میں نقصان پہنچتا ہے، کیسے؟ دیکھیے تجارت یا معیشت کی بات جب ہم کرتے ہیں تو آج کی دنیا بھی اس چیز کو مانتی ہے کہ مال جب تک لوگوں کے ہاتھ میں بدلتا رہتا ہےمعیشت اسی قدر زیادہ مستحکم اور مضبوط ہوتی ہے، سود اور تجارت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ تجارت سے مال ہاتھوں میں بدلتا رہتا ہے اور سماج کے کسی ایک طبقے کے ہاتھوں میں نہیں رہ جاتا ہے، اس کے مقابلے میں سود کا معاملہ یہ ہے کہ سود سماج کے ہاتھوں میں جاتا اور آتا تو ہے لیکن یہ مال رفتہ رفتہ سماج کے ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں اکٹھا ہونے لگتا ہے اور جب مال سماج میں ہاتھ نہ بدلتا ہو بلکہ کسی ایک طرف اکٹھا ہوتا ہو تو پھر وہ معیشت تباہ ہونے لگتی ہے سماج کا معاشی نظام درہم برہم ہونے لگتا ہے، اسلامی شریعت نے اسی لیے ایک بات کہی: کی لا یکون دولتم بین الاغنیائی منکم. اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت یا مال فے کو بھی غریبوں کو اندر بانٹنے کا حکم دیا تو کہا اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ یہ مال صرف مالداروں کے ہاتھ میں اکٹھا ہو کر نہ رہ جائے۔
    سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا اس لیے کہ دھیرے دھیرے یہ نظام مال کو سماج کے عام افراد سے ہٹا کر خاص افراد کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور نظام معیشت تباہ ہو جاتا ہے، اسی لیے آپ غور کریں کہ جب سود کی حرمت کا مسئلہ آیا تو لوگوں نے اعتراض کیا، یہودیوں نے خاص طور پر اعتراض کیا کیونکہ سودی معاملہ ان کا تھا، کہنے لگے: اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا .تجارت اور سود دونوں ایک جیسے ہیں، سود اگر حرام ہے تو تجارت کو بھی حرام ہونا چاہیے، اگر تجارت حلال ہے تو سود کو بھی حلال ہونا چاہیے اس میں بھی لوگوں کا فائدہ ہوتا ہے، اللہ نے فرمایا: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا. ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا‘‘ (اللہ نے حلال کیا ہے تو تجارت میں فائدہ ہے یا فائدہ غالب ہے) اور سود کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے (تو اس میں نقصان ہے یا نقصان غالب ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا) لہٰذا حلال اور حرام برابر نہیں ہو سکتے اور تجارت اور سود دونوں برابر نہیں ہو سکتے اس لیے کہ تجارت سے مال گھومتا رہتا ہے اور سود سے مال رفتہ رفتہ سماج کے کچھ ہاتھوں میں آ جاتا ہے اسلام نے اسی لیے اس کو حرام قرار دیا ہے۔
    یہیں سے یہ نکتہ ہم اور آپ سمجھ لیں کہ دنیا چاہے آج سود کے جتنے فائدے گنائے قرآن کی آیت کے اس ایک ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے سارے فائدوں کا جواب دے دیا اورکہا :سود سود ہے وہ تجارت کی جگہ نہیں لے سکتا اور سود سود ہے چاہے جتنے فائدے ہو ںلیکن بہرحال اس کا نقصان اس کے فائدے پر غالب ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے۔
    محترم قارئین! سود کن چیزوں میں اور کیسے ہوتا ہے بنیادی طور پر میں چار باتیں بتاؤں گا جن میں سے دو ایک ہیں باقی دو چیزیں الگ ہیں:
    مؤطا امام مالک کے اندر تابعی زید ابن اسلام رحمہ اللہ کا یہ اثر مروی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں سود کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی ایک مبلغ کسی آدمی کو ایک ہفتے کے لیے یا دس دن کے لیے قرضہ دیتا جو بھی مدت طے ہوتی، جب وہ مدت آتی تواس کے پاس پہنچتا اور کہتا :تقضی ام تربی. پیسہ دوگے یا پھر یہاں سے سود میں حساب کرنا شروع کروں؟ آدمی کے پاس پیسہ ہوتا پیسہ دے دیتا اور قرض قرض کی شکل میں ختم ہو جاتا اور اگر آدمی کے پاس دینے کے لیے پیسہ نہیں ہوتا تو وہ کہتا مان لو جیسے میں نے ہزار روپیہ آپ کو دیا ہے تو آج سے اس کا حساب گیارہ سو روپیہ کا پکڑ لو ،آج سے میرا گیارہ سو روپیہ تمہارے پاس ہے گویا قرض کے بدلے اس نے سو روپیہ لیا اور اس سے کہا کہ اسے راس المال شمار کر لو، یہ زمانہء جاہلیت کا سود تھا اور پھر اگلی مدت جو بھی طے ہوتی اگر وہ سود سمیت نہیں لوٹاتا تو پھر اس سے کہتا کہ اب پورے گیارہ سو روپیہ کا سود ملا کر راس المال بنا لو، یہاں سے میرا پیسہ تیرہ سو روپیہ ہو جائے گا اور تیرہ سو روپیہ کا سود تم مجھے دینا، اللہ نے پہلے والے سود کو بھی حرام قرار دیا کہ جس میں راس المال یعنی اصل پیسے پر سود تھا۔
    دوسری شکل میں راس المال اور اس کے ساتھ جو اضافی سود کا پیسہ جو راس المال بنا دیا گیا تھا اس کا بھی سود تھا اسے ’’سود مرکب‘‘ کہا جاتا ہے اللہ نے اس کو بھی حرام قرار دیتے ہوئے کہا: یا ایھا الذین آمنوا لا تأكلوا الربا اضعافا مضاعفۃ. اللہ تعالیٰ نے سود مرکب کو بھی حرام قرار دیا۔
    خلاصہ یہ ہوا کہ سود چاہے سود مفرد ہو یا سود مرکب ہو دونوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
    ہمارے زمانے میں سود کی جو سب سے نمایاں شکل ہے وہ یہ کہ قرض کے بدلے میں سود لیا جائے ،اسی لیے ایک حدیث ہے مرفوعا بھی روایت کی گئی ہے اور موقوفا بھی، شیخ البانی رحمہ اللہ نے موقوفا اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور اس معنی کے کچھ آثار نقل کیے ہیں: کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبَا. ہر وہ قرض جس کے بدلے میں بندہ کسی بھی قسم کی منفعت چاہتا ہے چاہے وہ پیسے کی شکل میں یا معنوی ہو، چاہے آپ مشروط لیں کہ پہلے سے آپ نے فکس کیا ہوا ہے یا آپ نے فکس نہیں کیا ہے لیکن شرط رکھ دی ہے جب لوٹاؤ تو کچھ ملا کے دے دینا۔ یہ اسلامی شریعت کی نظر میں سود ہے اور یہ منفعت حسی پیسے کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے اورمعنوی بھی، جیسے میں آپ کے سامنے ایک دو مثالوں سے بات واضح کروں کہ اسلامی شریعت کی نظر میں ایسا سود یا ایسی شکل سود قرار پاتی ہے اور یہ حرام ہے:
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس یہ ایک صاحب آئے کہنے لگے کہ مچھلی پکڑنے والے ایک آدمی نے مجھ سے بیس درہم قرضہ لیا ہے اور جب سے قرضہ لیا ہے روزانہ جب بھی ملتا ہے ایک آدھ مچھلی ہدیے میں دیتا ہے اور میرا طریقہ یہ کہ جب بھی وہ مچھلی دیتا ہے میں کھاتا نہیں ہوں بازار میں لے جا کر بیچ دیتا ہوں اور پیسہ لے لیتا ہوں، حضرت ابن عباس نے پوچھا: ایسے اس سے تحفے میں آئی ہوئی مچھلیاں لے جا کر بیچتے بیچتے اب تک کتنے درہم کمائے ہیں؟ کہا: تیرہ درہم، حضرت ابن عباس نے کہا: اگر ایسا ہے تو اب تمہیں صرف سات درہم اس سے لینے کا حق ہے کیونکہ اس نے ہدیہ قرض کے بدلے میں ہی دیا ہے، اس لیے یاد رکھئے کہ قرض کے بدلے میں اگر کوئی منفعت آپ کو ملتی ہے تووہ منفعت اسلامی شریعت کی نظر میں سود کے زمرے میں آتی ہے۔
    امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مناقب میں بعض اہل علم نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو قرضہ دیا اور جب قرض کی وصولی کا وقت آیا تو اس کے دروازے پر گئے اور دروازہ کھٹکھٹانے لگے، دھوپ میں امام ابو حنیفہ کھڑے ہوئے ہیں، وہ آدمی باہر نکلااور امام ابو حنیفہ کو دیکھا تو پریشان ہوا اور کہنے لگا کیا مسئلہ ہے؟ کہا: میں اپنی وصولی کے لیے آیا ہوں، تو اس نے کہا: کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ میرے مکان کا درخت ہے اس کے سائے میں کھڑے ہو جائیں، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: مجھے یہ ڈر ہے کہ جب تک میں تم سے قرض وصول نہ لوں تب تک اگر تمہارے گھر کے درخت کے سائے سے بھی فائدہ اٹھاؤں گا تو یہ سود ہو جائے گا۔
    اسلامی شریعت کی نظر میں یہ مسئلہ صاف ہے کہ اگر قرض کے بدلے آپ منفعت لینا چاہتے ہیں تو یہ سود شمار کی جاتی ہے۔
    محترم قارئین! سود کی ان دونوں شکلوں سے ہٹ کر پیارے نبی ﷺنے سود کی کچھ اور شکلیں بھی گنائی ہیں، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: الذھب بالذھب والفضۃ بالفضۃ والبر بالبر والشعیر بالشعیر والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء یدا بید. سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے، جو جو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے میں اگر بیچا جائے تو دو شرطوں کا خیال رکھنا پڑے گا ایک تو یہ کہ کوالٹی کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، اگر یہ چیزیں اپنی ہی جنس کے مقابلے میں بیچی جائیں تو برابر برابر ہوں گی، کمی زیادتی ہوگی تو یہ سود ہو جائے گا اور دوسرا یہ کہ ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے میں معاملہ طے ہونا چاہیے، آج میں دے رہا ہوں کل آپ اس کے بدلے میں برابر کا بھی دیں گے تو اسلامی شریعت کی نظر میں یہ سود ہوگا۔
    کمی زیادتی کریں تو اسے ’’ربا الفضل ‘‘کہتے ہیں اور اگر ادائیگی میں ایک ہاتھ دے دوسرے ہاتھ لے نہ ہو بلکہ تاخیر ہو تو اسے ’’ربا النسیئہ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے گیہوں کو جو کے بدلے میں بیچا یا آپ نے سونے کو چاندی کے بدلے میں بیچا تو آپ چاہیں تو کمی زیادتی کر سکتے ہیں، ایک کلو گیہوں کے بدلے میں دو کلو جَو لینا چاہیں کمی زیادتی ہو سکتی ہے لیکن ایک ہاتھ دے دوسرے ہاتھ لے ہی ہونا چاہیے۔
    محترم قارئین ! ایک اہم بات یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سونا سونے کے بدلے میں چاندی چاندی کے بدلے میں اور آج کے دور میں کسی بھی ملک کی کرنسی مستقل ایک جنس مانی جائے گی، روپیہ مستقل ایک جنس ہے، ریال مستقل جنس ہے، ڈالر مستقل جنس ہے، ان سب میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر آپ روپیہ کو روپیہ کے بدلے میں ریال کو ریال کے بدلے میں ڈالر کو ڈالر کے بدلے میں لین دین کریں گے تو آپ کو برابر برابر کرنا چاہیے اور ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے ہونا چاہیے، اگر آپ نے کمی زیادتی کی یا پھر آج دوں گا کل لے لو والی بات کی تو تبادلہ ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے ہونا چاہیے، اسلامی شریعت کی نظر میں سود اس طرح آتا ہے کہ جب سونا چاندی یا کوئی بھی کرنسی اپنی ہی جنس کے مقابلے میں اپنی ہی جیسی چیز کے مقابلے میں بیچی جائے تو برابر بھی ہونا چاہیے اور ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے بھی ہونا چاہیے کمی زیادتی ہو یا آگے پیچھے ہو تو یہ سود ہوتا ہے۔
    جہاں تک بقیہ چار قسم کی چیزیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا صرف انہی چار چیزوں میں یعنی جَو، گیہوں، کھجور اور نمک میں ہی سود ہوتا ہے ؟توفقہا ء کے قول اور راجح قول کے مطابق ہر وہ چیز جو غذا ہے ،جو ناپی جا سکتی ہے یا تولی جا سکتی ہے ان چیزوں میں یہی اصول رائج ہوگا کہ اگر وہ اپنی ہی جنس کے مقابلے میں بیچے جائیں تو پھر ایسی صورت میں برابر برابر ہونا چاہیے اورایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے کے اصول پر ہونا چاہیے۔
    محترم قارئین ! یہ سودی معاملات کے وہ بنیادی اصول ہیں جن پر معاملات طے کیے جاتے ہیں ، اب ان اصولوں سے ہٹ کر ہمارے سماج میں جو سود کی شکلیں رائج ہیں ، ان کا تذکرہ آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے:
    (۱) فائننس کروانا: پہلے صرف مہاجن کا سود ہوتا تھا اب بینکوں نے ان کی جگہ لی اور بینکوں سے آگے بڑھ کر اب تو بہت زیادہ فائننس کی کمپنیاں آگئی ہیں ، کسی بھی بینک سے ، فرد سے ،کمپنی سے یا کہیں سے بھی آپ لون لیں ، اگر یہ قرضہ آپ سودی قرضہ کی شکل میں لے رہے ہیں تو پھر اسلامی شریعت کی نظر میں یہ حرام ہے۔
    یہ کون کون سے ہیں ؟بزنس لون، ہوم لون، وہیکل لون ،ایجوکیشن لون یا کسی بھی اور نام سے لون اگر آپ لے رہے ہیں تویہ سود کی مروجہ شکل ہے جس سے آپ کو بچنا چاہیے۔
    بعض لوگ یہ فتویٰ نقل کرتے ہیں کہ یورپی ممالک میں چھوٹ دی گئی کہ اگر آدمی کے پاس گھر نہیں ہے تو گھر بنانے کے لیے ہوم لون لے سکتا ہے ، اسلامی شریعت آپ کو بتاتی ہے کہ اگر آپ ہوائے نفس کی بنیاد پر فتوے تلاش کرنا شروع کریں گےتو کہیں نہ کہیں حرام کو حلال کرنے والے فتوے بھی آپ کو مل جائیں گے، اور اگر اصول پر نظر رکھ کر بات کریں گے تو اسلامی شریعت کی نظر میں یہ شکلیں ہیں جہاں سود آپ کے لیے حلال نہیں ہوتا یہ حرام کا حرام ہی رہتا ہے۔
    (۲) ای ایم آئی پر کوئی سامان لینا: یعنی ماہانہ قسط وار ادائیگی پر چیزوں کو خریدنا ، یہاں ایک بنیادی مسئلہ سمجھ لیں کہ کسی چیز کو قسط وار پر خریدنا راجح قول کے مطابق جائز ہے، حتیٰ کہ اس کی قیمت نقد کے مقابلے میں تھوڑی بہت زیادہ بھی ہو تو راجح قول کے مطابق جائز ہے لیکن ہمارے ملک میں جو ای ام آئی رائج ہے اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری ای ام آئی سودی ہیں، کیونکہ قسط وار بیع دو لوگوں کے درمیان ہوتی ہے چیز آپ کی ہے اور پیسہ میرا ، میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں چیز آپ سے لے رہا ہوں ، میں آپ کو دس مہینے میں اس کی قیمت ادا کروں گا ، دو لوگوں کے درمیان معاملہ طے ہوتا ہے تو عام طور پہ وہ قسط وار ہی ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جتنی ای ام آئی کی شکلیں ہیں ان سب کے اندر ایک تیسرا آدمی یعنی فائنانسر (بینک) ضرور شامل ہوتا ہے، کئی بار وہ آپ کے سامنے موجود نہیں ہوتا اور دوکاندار ہی سے آپ معاملہ کرتے ہیں لیکن دوکاندار آپ سے باقاعدہ کاغذ پر دستخط لیتا ہے اور آپ بینک کے کاغذ پر یا فائنانس کمپنی کے کاغذ پر دستخط بھی کرتے ہیں، سیدھا سا اصول آپ یاد رکھیں کہ جب دو لوگوں کے معاملات میں تیسرا آ رہا ہے تو وہ بغیر فائدے کے چیریٹی (امداد یا صدقہ) کرنے کے لیے آپ کے پاس نہیں آرہا ہے، وہ اپنامفاد لے کر آرہا ہے، اسی لیے یہ بات بھی یاد رکھیں کہ نو کاسٹ ای ام آئی یعنی زائد قیمت کے بغیر زیرو پرسنٹ پر ای ام آئی جو آپ کو مل رہی ہے یہ بھی سودی شکل ہی ہے ، گرچہ آپ کو کہا جا رہا ہےکہ زیرو پرسنٹ آپ کو انٹرسٹ دینا پڑ رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ بھی سود ہی کی ایک شکل ہے ۔
    (۳) ایف ڈی کروانا: یعنی فکس ڈپوزٹ کر دینا ، مبلغ ایک پیسہ آپ کسی بینک میں ڈپوزٹ کر دیتے ہیں اور ماہانہ اس پر آپ کو ایک سود دیا جاتا ہے یہ حرام اور ناجائز ہے، اور اسی سے ملتی جلتی نئے زمانے میں یہ بھی شکلیں ہیں کہ مختلف کمپنیاں آپ سے یہ کہتی ہیں کہ اگر آپ اپنے والیٹ میں اتنا بیلنس رکھیںگے تو ہم کچھ سہولتیں یا پھر ڈسکاؤنٹ آپ کو دیں گے، یاد رکھیں کہ کیش بیک کی شکل میں والیٹ میں متعین پیسہ متعین دن تک رکھنے کے بدلے میں کوئی بھی منفعت آپ کو ملتی ہے یہ فکس ڈپوزٹ سے ملتی جلتی شکل ہے یعنی یہ قرض کے بدلے میں سود کمانے والی شکل ہے ۔
    (۴) بینک اکاؤنٹ کا سود: بینک کا کوئی بھی اکاؤنٹ ( کرنٹ اکاؤنٹ یا سیونگ اکاؤنٹ )ہو ان دونوں کا معاملہ سود سے جڑا ہوا ہے ، ہاں اتنی بات ہے کہ اہل علم میں سے کئی اہل علم نے یہ کہا ہے کہ اب یہ اُس مقام پہ پہنچ گیا جہاں اَلضرُورَةُ تُبِیحُ الْمَحْضُورَاتِ. تو اگر آدمی واقعی ضرورت مند ہو اوراس کے بغیر کام نہ چلتا ہو تو پھر آدمی کو اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت ہے، لیکن آدمی کو خیال رکھنا چاہیے کہ سودی منفعت کے جو پہلو اس میں نکلتے ہیں ان سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرے ۔
    کرنٹ اکاؤنٹ کے اندر بھی سودی منفعت ہے ،لوگ سمجھتے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ پہ ہم کو منفعت نہیں ملتی ہے، نہیں کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی آپ سے بینک چاہتا ہے کہ آپ ایک ماہ کے اندر متعین مبلغ کی ٹریڈنگ اور ٹرانزیکشن کریں اور وہ اسی کے بدلے میں یہ ساری سہولتیں (بینک ، چیک اور یہ ادائیگی کی سہولتیں ) آپ کو فراہم کر رہا ہے۔ یاد رکھیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہو یا پھر ڈیبٹ (سیونگ) اکاؤنٹ ہو دونوں ہی کے اندر سود کا معاملہ ہے لیکن یہ ان معاملات میں ہیں جن میں مجبوری کی صورت میں اختیار دیا گیا ہے لیکن اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو خیال رہے اوروہ حتی المقدور اس سے بچنے کی کوشش کریں کہ یہ بھی بقدر ضرورت ہی ہے۔
    (۵) کریڈٹ کارڈ کا سود: بینکوں کا کریڈٹ کارڈ ہو یا کسی دوسری کمپنی کا ، مختلف کمپنیاں کریڈٹ کارڈ دیتی ہیں ، یاد رکھئے گا کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنا بھی سودی معاملہ ہے، اسلامی شریعت کی نظر میں کریڈٹ کارڈ کا استعمال حرام ہے ۔
    ایک اہم نکتہ : بہت سارے بینکس یہ کہتے ہیں کہ کریڈٹ کارڈ میں ہم آپ کو یہ سہولت دے رہے ہیں کہ آج آپ کریڈٹ لے لیجئے (ایک لاکھ ، دولاکھ یا پانچ لاکھ روپیہ لے لیجئے ) اور آپ جو پیسہ لے رہے ہیں اگر تیس دن یا پینتالیس دن میں لوٹا دیں گے تو جتنا لیا ہے اتنا ہی لوٹانا پڑے گا ، اس پر کوئی انٹرسٹ آپ کو دینے کی ضرورت نہیں ہے،بہت سارے لوگ اس کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں جتنا لے رہے ہیں اتنا ہی جب ادا کرنا ہے تو پھر اس میں سود کا کوئی معاملہ نہیں ہے اس لیے کریڈٹ کارڈ جائز ہے، اگر آدمی اتنی ہی مدت میں لوٹا دے جتنی مدت متعین کی گئی ہے تو یہ غلط ہے اور بہت ہی غلط ہے۔
    بعض ذرائع سے یہ بات معلوم ہوئی کہ بعض شہروں میں کچھ علماء کرام نے اس قسم کا فتویٰ دیا ہے کہ کریڈٹ کارڈ سے اگر آپ خریداری کرتے ہیں اور اس کی متعین مدت کے اندر ادا بھی کر دیتے ہیں تو یہ جائز ہے۔ نہیں، یہ بالکل بھی جائز نہیں ہے، کیوں؟
    پہلی بات اس لیے کہ عام طور پر یہ کریڈٹ کارڈ وسیلہ ہوتے ہیں جس کے ذریعے سودی قرضے میں آپ کو پھانسا جاتا ہے ، کیونکہ بینک چیریٹی کرنے نہیں بلکہ کمانے بیٹھا ہے، کریڈٹ کارڈ دینے والے بینکوں کو پوری طرح معلوم ہے کہ اکثریت وقت پہ ادائیگی نہیں کرے گی پھر نتیجے میں سودی معاملے میں وہ مبتلا ہو کر رہے گی ۔
    شریعت اسلامیہ میں بہت ساری چیزیں فی نفسہٖ حرام نہ بھی ہوں تو سد ذریعہ کے طور پر بھی بہت ساری چیزیں حرام ہوتی ہیں اس بات سے تو کریڈٹ کارڈ کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔
    دوسری بات کریڈٹ کارڈ آپ خرید کر پیسہ وقت پہ ادا بھی کر دیتے ہیں تو بھی آپ کریڈٹ کارڈ جیسے ہی لیتے ہیں آپ کریڈٹ کارڈ استعمال نہ بھی کریں تو آپ سود کے معاملے سے اتفاق کر رہے ہیں ، کیونکہ کارڈ آپ کو اسی شرط پر ملتا ہے کہ آپ کریڈٹ کارڈ سے ٹریڈنگ کرتے ہیں اور آپ بینک یا کمپنی کی اس شرط کو مانتے ہیں کہ اگر آپ نے وقت پر پیسے ادا نہیں کیے تو آپ سود دیں گے، سود دینے کے اس وعدے سے اتفاق کرنا ایک مسلمان کے لیے حرام اور ناجائز ہے، اس لیے کریڈٹ کارڈ کو بھی آج کے زمانے کے سودی معاملات کی ایک نمایاں شکل بلکہ اس کو فروغ دینے کی بڑی اہم شکل کے طور پہ سمجھنا چاہیے۔
    (۶) امدادی اسکیم یا سبسڈی : بہت ساری ایسی امدادی اسکیمیں حکومتوں کی طرف سے سبسڈی کے طور پر دی جاتی ہیں، ہوتا یہ ہے کہ کسی کو بزنس شروع کرنا ہے تو مائنارٹی ڈپارٹمنٹ یا کسی اور ڈپارٹمنٹ سے کسانوں کو لون دیا جاتا ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ روپیہ دیا گیا ہے تو اب آپ کو ایک لاکھ پانچ ہزار روپیہ سود سمیت لوٹانا ہے، جب آپ ادائیگی شروع کرتے ہیں اورآپ نے ساٹھ فیصد ستر فیصد ادا کیا تو گورنمنٹ باقی پیسہ اصل مال میں سے معاف کر دیتی ہے،آپ اکثر سنتے ہیں کہ کسانوں کا قرضہ معاف کیا فلاں کا قرضہ معاف کیا یہ حکومتی اسکیمیں ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت جتنی بھی امدادی اسکیمیں جاری کرتی ہے اس میں ادائیگی جب شروع ہوتی ہے تو اصل سے پہلے سود کی وصولی ہوتی ہے ، آپ کی پہلی ادائیگی سود کیوں ہوتی ہے؟اس کے بعد راس المال میں سے ادا ہوتا ہے لہذا جب تک اس مسئلے کا حل معقول بنیادوں پہ نہ نکلے کہ ہمارے راس المال ہی میں سے ادائیگی ہو، نہ ہم سود دیں گے نہ کچھ لیکن ہمیں غیر سودی قرضہ دیا جائے پھر اسی میں سے معافی دی جانے والی شکل نکالنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
    (۷ )بیٹی اسکیم: مثال کے طور پر بچی پیدا ہوئی، آپ نے حکومت کے سسٹم میں اپنی بچی کا نام لکھوادیا ،دفتر میں فورا بچی کے نام پہ پانچ لاکھ روپیہ بسا اوقات دس لاکھ روپیہ ڈپوزٹ کر دیا جاتا ہے، اب یہ پیسہ بینک میں بچی کے نام پر ہی رہے گا لیکن ملے گا کب ؟جب بچی اٹھارہ سال کی ہو جائے گی، اس سے پہلے نہیں ملے گا ،حکومتی امداد حلال اور جائز ہے لیکن حکومت کے دینے کا جو طریقہ ہے وہ یہ کہ وہ بینک میں ڈپوزٹ کرتی ہےاور اٹھارہ سال کے بعد آپ کو جو پیسہ ملتا ہے وہ سود کے ساتھ ملتا ہے اور وہ سود والا پیسہ لینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے ۔
    (۸) گولڈ لون یا گولڈ اسکیم: یعنی گھر میں سونا رکھا ہے اور سونے کو ضمانت کے طور پہ رکھ کے لون ملتا ہے اور اس میں آپ کو انٹرسٹ دینا ہوتا ہے ،یہ جائز نہیں ہے لیکن گولڈ کے سلسلے میں ایک اور طریقہ ہے جس کا آج کل سونے کی مارکیٹ میں بہت زیادہ رواج ہے وہ ’’گولڈ اسکیم ‘‘کہلا تا ہے اور اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ آج اپ کے پاس ایک ہزار روپیہ ہے، آپ نے اس ایک ہزار سے دوکان دار کے پاس اپنا اکاؤنٹ کھلوا دیا اور اس کے پاس ایک ہزار جمع کر دیاپھر کل دو ہزار روپے جمع کر دیا ، اس طرح سال بھر کے بعد آپ کا جتنا پیسہ جمع ہوگا اتنے کا سونا دوکان دار ایک ساتھ آپ کو دے گااور بعض سونے کے دوکاندار ایک اورمعاملہ رکھتے ہیں اور وہ یہ کہ آج آپ ایک ہزار روپیہ دے کر جا رہے ہیں تو جتنے ملی گرام سونا اس ایک ہزار روپے کا ہوتا ہے وہ آپ کے حساب میں لکھ دیا جاتا ہے، ایسے ہی سال بھر آپ جتنا جمع کر پائے سال کے اخیر میں آپ سے لے لیا جاتا ہے اور اتنے کا سونا آپ کو دے دیا جاتا ہے، اس قسم کی اسکیموں کو ’’گولڈ اسکیم ‘‘کہا جاتا ہےاور اسلامی شریعت کی نظر میں یہ سود کی شکل ہے جو کہ حرام اور ناجائز ہے، پیسے یا سونے کو آپس میں ایک دوسرے کے بدلے میں خریدیں تو کمی زیادتی ہو سکتی ہے لیکن ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو ہونا چاہیے جبکہ یہاں ایسا کوئی معاملہ نہیں ہوتا ۔لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے اکاؤنٹ میں لکھ دیا جاتا ہےتو انہیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ شریعت مطہرہ کی نظر میں آپ کے اکاؤنٹ میں لکھنا یہ کافی نہیں بلکہ مال آپ کے حوالے کرنا ضروری ہے اس لیے یہ گولڈ کی اسکیم بھی سود کی مروجہ شکلوں میں سے ایک ہے۔
    (۹) ہیوی ڈپوزٹ لینا یا دینا: ایک شکل ہمارے سماج میں جو رائج ہے وہ ہے ہیوی ڈپوزٹ کی جسے آپ ’’لیز ‘‘بھی کہتے ہیں یہ خالص سودی معاملہ ہے ۔
    بعض اہل علم نے اسے ایک دوسرے نقطہء نظر سے حل کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ چونکہ منفعت کے بدلے میں منفعت کا تبادلہ ہو رہا ہے اس لیے جائز ہے لیکن ان کا یہ موقف مرجوح ہے کیونکہ ہیوی ڈپوزٹ خالص سودی شکل ہے۔
    (۱۰) پیسے سے پیسہ لینا اور کمی یا زیادتی کرنا: سود کی ایک اور شکل جو ہمارے سماج میں رائج ہے کہ مجھے سو روپیہ کے چلریا سکے چاہیے ، چنانچہ میں دوکان دار کے پاس جاتا ہوں اور اس کو سو روپیہ دیتا ہوں اور وہ مجھے ۹۵ یا ۹۸ روپے دیتا ہے یعنی کم کر کے دیتا ہے تو حرام اور ناجائزہے کیونکہ پیسے کو پیسے کے بدلے میں دیں تو برابر کا برابر لینا چاہیے۔
    ایک بنیادی قاعدہ : روپے کو روپے کے بدلے میں دیں گے تو برابر ، ریال کو ریال کے بدلے میں دیں گے تو برابر اور ڈالر کو ڈالر کے بدلے میں دیں گے تو برابرہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے والا معاملہ بھی ہونا چاہیے،اور اگر آپ روپے سے ڈالر خرید رہے ہیں تو کم زیادہ ہو سکتا ہے لیکن ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے والا معاملہ ہی ہونا چاہیے اور آ پ کا قبضہ بھی مکمل ہونا چاہیے، کرنسی کے تبادلے کا جو مسئلہ ہوتا ہے اس میں اکثر اس شرط کی پابندی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے معاملہ سودی ہو جاتا ہے۔
    علاج: اختصار کے ساتھ سود اور اس کی شکلوں سے بچنے کا حل اور علاج بھی پیش کیا جاتا ہے:
    (۱) سود کے لین دین کے بجائے حلال تجارت کو عام کرو، چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرو اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو ’’مضاربت‘‘ کا اصول اپناؤ یعنی پارٹنر شپ پر کاروبار شروع کرو یا کسی کی تجارت میں اپنا بھی حصہ شامل کر لو، اس پر عمل کر کے سودی معامالات سے بچا سکتا ہے کیونکہ تجارت میں اللہ نے برکت کا وعدہ کیا ہے۔
    (۲) مال کے معاملے میں حلال پر جم جاؤ، سمجھوتہ نہ کرو، کیونکہ دنیا کی بیس فیصدی آبادی والی قوم یعنی مسلمان اگر یہ ٹھان لیں کہ وہ سودی لین دین کے ہر معاملے اور ہر شکل سے دور رہیں گے تو دنیا ان کے سامنے جھکے گی اور سود سے پاک معاملات کا فروغ ہوگا اس لیے کہ دنیا مال کی پجاری ہے اور اتنا بڑا خسارہ اور نقصان وہ برداشت نہیں کر سکتی ہے، لیکن ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم سمجھوتہ کر لیتے ہیں اور آسانی کے ساتھ کسی بھی سودی معاملے کو قبول کر لیتے ہیں۔
    (۳) غیر سودی قرض کو عام کرنا: اس لیے کہ یہی اصل ہے، اگر سماج میں اس کو عام کر دیا جائے تو لوگ سودی معاملات میں پڑنے سے بچ جائیں گے اور ایسا قرض دینے والے کو نبی ﷺکی جانب سے بتائی گئی فضیلت بھی حاصل ہوگی کہ انسان کسی کو قرض دیتا ہے تب بھی گویا کہ وہ اپنے بھائی پر صدقہ کر رہا ہے اور صدقے کا ثواب اس کو ملتا رہتا ہے اور اگر قرض لینے والا قرض لوٹا نہیں پا رہا ہے اور قرض دینے والا اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتا ہے اور اس کو مہلت دے دیتا ہے تو اس کو اور زیادہ فضیلت ملتی ہے اور اللہ بھی اس کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرتا ہے۔
    (۴) اسلامی بیت المال کا قیام: چاہے چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کا قیام ہو جائے اور یہاں سے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے دس پندرہ ہزار روپے غیر سودی قرضے دئیے جائیں تو لوگ بہت حد تک سودی معاملات میں پڑنے سے بچ جائیں گے۔
    (۵) اپنی ضرورتوں کو محدود کرنا: بہت دفعہ انسان اپنی خواہش اور شوق کو پورا کرنے کے لیے بھی سودی قرضہ لے لیتا ہے جو کہ درست نہیں ہے، اگر بہت ضرورت ہے اور واقعی مجبوری کی کیفیت ہے تبھی قرض لے لیکن یہ قرضہ سودی نہ ہو یعنی اگر وہ اپنی ضرورت محدود کر لے تو آسانی سے سود میں پڑنے سے بچ سکتا ہے، اور اگر ضرورت پر اسے کوئی قرض دینے والا نہیں ہے اور وہ نہایت ضرورت مند ہو چکا ہے تو شریعت نے اس کے لیے زکوۃ کا دروازہ کھول رکھا ہے کہ زکوٰۃ لو اور اپنی ضرورت پوری کرو، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب زکوٰۃ لینا ہو تو انسان کے دل میں عزت نفس کی بات آتی ہے اور سود لینا ہو تو عزت نفس کا نہیں سوچتا یعنی وہ دین سے تو سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن عزت نفس سے سمجھوتہ کرنا اس کو گراں اور بھاری محسوس ہوتا ہے۔
    محترم قارئین! سود کی یہ چند شکلیں تھیں جو اس مضمون کے حوالے سے آپ کے سامنے پیش کی گئیں، ساتھ ہی سود سے بچنے کے ممکنہ حل اور علاج بھی پیش کر دئیے گئے، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں سود میں پڑنے سے بچائے اور غیر سودی قرض کے لین دین کو فروغ دینے کی توفیق بخشے۔ آمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings