Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • تجارت کے اسلامی اصول

    میں سب سے پہلے اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں جس کی توفیق سے یہ عظیم الشان اور تاریخی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، اس کے بعد میں آئی آئی سی کے تمام ذمہ داران کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہوں، خصوصاً فضیلۃ الشیخ کفایت اللہ سنابلی صاحب حفظہ اللہ، زید پٹیل بھائی اور آپ کی پوری ٹیم کو، کہ آپ لوگوں نے ایک ایسے موضوع پر اس تاریخی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جو دو وجوہات کی بنا پر بڑی اہمیت کا حامل ہے:
    پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ موضوع ’’اسلام کا نظامِ تجارت‘‘ہے۔ اس کا تعلق معاملات سے ہے، اور معاملات دین کا وہ حصہ ہیں جن پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے، حالانکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو عقائد اور عبادات کی طرح معاملات کا بھی دین میں بڑا مقام اور اہمیت ہے۔
    دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ موضوع اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پونزی اسکیم چلانے والے بعض دھوکے بازوں نے اپنے ناجائز کاروبار کو اسلام کا لیبل لگاکر حرام کو حلال کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے میں اسلام کے نام پر لوگوں کی زندگیاں اور سرمایہ لوٹا گیا، دین ِاسلام کی توہین ہوئی، اور بعض ایمان والے یا لبرل ذہنیت کے لوگ اسلام سے بدظن ہوگئے۔
    اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ہمیں واضح طور پر خبردار کیا ہے: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِی جَعَلَ اللّهُ لَكُمْ قِیَامًا﴾’’اپنے مال کو سفیہوں (بے وقوفوں) کے حوالے مت کرو‘‘۔
    یعنی وہ مال جس پر تمہاری زندگی کا انحصار ہے، تمہاری معیشت کا دارومدار ہے، تمہارے نظامِ اقتصاد کا سہارا ہے، اس مال کو بےوقوفوں کے حوالے مت کرو۔ مگر ہم نے اپنے اموال انہی کے حوالے کردیئے جن کے پاس نہ تجربہ تھا اور نہ بصیرت، نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پوری نسل کا سرمایہ لٹ گیا۔
    صورت حال یہاں تک پہنچی کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کہ کیا امتِ مسلمہ اسلام کے نظامِ تجارت کو نہیں جانتی؟ کیا مسلمان تاجر اسلامی تجارت کے اصولوں سے ناواقف ہیں؟ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پوری امت کو مذہب اور غیر سودی معاملات کے نام پر لوٹ لیا جائے؟
    محترم بھائیو! انہی وجوہات کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ اس موضوع پر یہ کانفرنس نہایت خوش آئند قدم ہے۔
    تجارت کی اہمیت:
    اسلامی نقطۂ نظر سے تجارت ایک پاکیزہ عمل ہے، جو پاکیزہ مقاصد کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ طرفین کی رضامندی سے نفع کا تبادلہ اس طرح ہوتا ہے کہ نہ ضمیر فروخت کیا جاتا ہے، نہ ایمان کا سودا کیا جاتا ہے، نہ انسانی اقدار پامال کی جاتی ہیں اور نہ ہی ذاتی فائدے کے لیے دوسروں کا نقصان کیا جاتا ہے۔
    انسانی زندگی میں کمائی کے چار بڑے ذرائع ہیں:
    ۱۔ تجارت ۲۔ زراعت ۳۔ صنعت و حرفت ۴۔ مزدوری
    ان سب میں تجارت کی فضیلت اور خصوصیت سب سے نمایاں ہے۔ قرآن مجید کی کئی آیات میں اللہ رب العزت نے تجارت کو عبادت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔
    سورۂ قریش میں ارشاد ہے:﴿لِإِیلَافِ قُرَیْشٍ، إِیلَافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّیْفِ، فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَیْتِ، الَّذِی أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ﴾’قریش کے ایلاف کے سبب، ان کے سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے سبب، چاہیے کہ وہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن دیا‘‘۔
    اسی طرح سورۂ جمعہ میں فرمایا: ﴿فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِی الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِیرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾’’جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔
    اسی طرح مناسکِ حج کے دوران بھی تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ قرآن میں آیا ہے: ﴿لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ﴾’’تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو‘‘۔
    سورۃ المزمل میں بھی عبادت کے ساتھ تجارت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
    اور غور طلب پہلو یہ ہے کہ ان سب آیتوں میں تجارت کو ’’فضل اللہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے لہٰذا جب تجارت اللہ کا فضل ہے تو اللہ کا فضل حاصل کرنے میں مسابقت ہونی چاہیے۔
    تجارت اور اخلاق:
    اسلام نے تجارت کے سلسلے میں بلند ترین اخلاقی تعلیمات دیں،اگر تاجر ایمان داری، دیانت داری اور سچائی کے ساتھ کاروبار کرے تو وہ ان مقامات کو حاصل کرتا ہے جو روزہ دار، تہجد گزار اور اللہ کے راستے میں قربانی کرنے والے بندے حاصل کرتے ہیں۔
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ‘‘.’’سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، شہداء اور صدیقین کے ساتھ ہوگا‘‘۔
    تجارت اور سچائی:
    سچ بولنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، اسی لیے اس کی فضیلت بھی بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر جب پورا بازار جھوٹ پر چل رہا ہو تو ایسے ماحول میں سچائی اختیار کرنا بہت بڑی عظمت ہے۔
    مثال اور ایک واقعہ: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ایک خاتون آئیں اور سوال کیا کہ میں کپڑا کبھی چراغ کی روشنی میں اور کبھی چاندنی میں بناتی ہوں، تو کیا خریدار کو یہ بتانا ضروری ہے؟ یہ سوال سن کر امام احمد بہت متاثر ہوئے اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ خاتون نے کہا: میں بشر الحافی کی بہن ہوں۔
    امام احمد نے فرمایا: یقیناً یہ تقویٰ تمہارے ہی گھرانے کا معیار ہوسکتا ہے۔
    تجارت اور خیر خواہی:
    اسی طرح تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ صحابۂ کرام تجارت کو محض دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ آخرت کی کامیابی کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
    مثال کے طور پر: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بھیجا کہ کوئی اچھا سا گھوڑا منڈی سے خرید لاؤ ، غلام ایک بہترین گھوڑا ۳۰۰ درہم میں خرید لایا اور ادئیگی کے لیے اس کے مالک کو بھی ساتھ لے آیا ، حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے جب گھوڑا دیکھا تو وہ گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا معلوم ہوا ، آپ نے مالک سے کہا کہ اس کی قیمت زیادہ کرو ،تمہارا گھوڑا اعلیٰ نسل کا ہے ، اس نے کہا کہ چار سو دے دیجئے ،، فرمایا :یہ بھی کم ہیں ،کہنے لگا :پانچ سو دے دیجئے ، فرمانے لگے : شاید تمہیں گھوڑوں کی نسل کی شد بد نہیں یا پھر تم بہت مجبور ہو اور میں تمہیں تمہاری مجبوری اور لاعلمی کا نقصان نہیں پہنچنے دوں گا ، اس کے بعد اس کو ۸۰۰ درہم دے کر گھوڑا خرید لیا ،گھوڑا بیچنے والا دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا تو غلام نے تعجب سے کہا کہ اچھا بھلا اپنی مرضی سے تو ۳۰۰ میں بیچ رہا تھا ، آپ نے خواہ مخواہ اسے اتنے پیسے دے دیئے۔
    حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خواہ مخواہ میں نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کی گئی بیعت کی وفا میں ، مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیعت لی تھی کہ میں اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کروں گا ـ اس لیے مجھے اپنے بھلے کی نسبت اپنے مسلمان بھائی کے بھلے کی زیادہ فکر رہتی ہے۔
    یہی ہے اسلامی تجارت کا اصل نمونہ کہ تاجر دوسرے کی بھلائی چاہے، نہ کہ اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھائے۔
    تجارت اور انصاف:
    صحیح بخاری کی روایت ہے کہ: ایک شخص نے کسی سے زمین خریدی۔ جب وہ زمین اس کے قبضے میں آئی تو اس میں ایک خزانہ (سونا) نکل آیا۔ خریدار نے کہا:یہ خزانہ تو میں نے نہیں خریدا، میں نے تو صرف زمین خریدی ہے، لہٰذا یہ خزانہ تمہارا ہے۔
    بیچنے والے نے جواب دیا:میں نے تمہیں زمین فروخت کر دی تھی، اس کے اندر جو کچھ ہے وہ سب تمہارا ہے۔
    دونوں نے ایک دوسرے پر ڈال دیا کہ خزانہ دوسرے کا ہے، معاملہ اتنا بڑھا کہ فیصلہ کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ خزانہ دونوں میں تقسیم کر لیا جائے۔
    یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی تجارت میں مقصد صرف نفع کمانا نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی اور انصاف کرنا اصل مقصد ہے۔
    تجارت اور دھوکہ دینے و ناپ تول میں کمی کرنے سے بچنا:
    حدیث میں آیا ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِﷺْ، مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ ، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ، فَلَيْسَ مِنِّي.
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺغلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے تو آپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا: غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: تو تم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔ (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے)۔
    [صحیح مسلم: ۱۰۲]
    یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے تجارت کو محض دنیاوی کام نہیں سمجھا بلکہ اس کو ایمان اور آخرت سے جوڑ دیا ہے۔
    تجارت اور صدقہ:
    تجارت کرنے والے کو اس کی تجارت میں جو فائدہ ہو رہا ہے اس کے شکر کے طور پر اور اپنی تجارت کو نقصان سے بچانے کے لیے صدقہ بھی کرتے رہنا چاہیے، ساتھ ہی ساتھ تجارت میں جو اونچ نیچ ہو جاتی ہے یا تاجر بعض دفعہ غلط بیانی کر لیتا ہے یا جھوٹ بول دیتا ہے یا اپنے مال کو بیچنے کے لیے جھوٹی قسم تک کا سہارا لے لیتا ہے تو اسے چاہیے کہ صدقہ کے ذریعہ ان سب گناہوں اور غلطیوں کو مٹانے کی بھی کوشش کرتا رہےجیسا کہ صحابیٔ رسول حضرت قیس بن ابو غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:
    كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺنُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ، وَالْحَلِفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
    ’’ہمیں رسول اللہ ﷺکے زمانہ میں ’’سماسرہ ‘‘کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو‘‘۔
    [سنن ابو داؤد: ۳۳۲۶، صحیح]
    تجارت اور ذخیرہ اندوزی سے بچنا:
    اسی طرح ایک اور اصول یہ ہے کہ اسلام نے فردی منفعت کے بجائے اجتماعی منفعت کو اور بازار کے بجائے سماج کے فائدے کو ترجیح دی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لَا یَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ.’ذخیرہ اندوزی صرف گناہ گار ہی کرتا ہے‘‘۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سامان خرید کر اس لیے چھپائے کہ بعد میں کمی کے وقت زیادہ داموں میں بیچے، تو یہ ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ اس سے پورے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے۔
    تجارت اور پارٹنر پر ظلم سے بچنا:
    تجارت اگر پارٹنر شپ میں ہو تو شریعت کہتی ہے کہ پارٹنر پر ظلم کرنے سے بچا جائے اور اس معاملے میں ظلم سے وہی بچ سکتا ہے جس کےپاس ایمان اور عمل صالح کی دولت ہو، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: ﴿وَ اِنَّ کَثِیرًا مِّنَ الخُلَطَآءِ لَیَبغِی بَعضُهُم عَلٰی بَعضٍ اِلَّا الَّذِینَ اٰمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیلٌ مَّا ھُمْ﴾
    ’’اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں‘‘۔
    [سورہ ص:۲۴]
    تجارت اور تقدیر پر ایمان:
    اسلامی اصولوں پر تجارت کرنے والا انسان جہاں فائدے کی امید رکھتا ہے وہیں اس کا ایمان تقدیر پر بھی ہوتا ہے اور وہ تجارت کے راستے میں کھونے کا بھی حوصلہ رکھتا ہے یعنی تاجر کے اندر صرف نفع کمانے کا حوصلہ نہ ہو بلکہ نقصان برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہو۔
    اللہ نے سورۃ البقرۃ میں فرمایا: ﴿وَ لَنَبلُوَنَّکُم بِشَیءٍ مِّنَ الخَوفِ وَ الجُوعِ وَ نَقصٍ مِّنَ الاَموَالِ وَ الاَنفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِینَ﴾
    ’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے‘‘۔
    [ البقرۃ: ۱۵۵]
    اس سلسلے میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔
    جب آپ ہجرت کے ارادے سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو قریش نے آپ کا راستہ روک لیا اور کہا:
    اے صہیب! تم ہمارے پاس غریب آئے تھے اور ہمارے مال کے ذریعے تم نے کمایا، یہاں تک کہ تم صاحبِ حیثیت ہوگئے۔ اب تم اپنا سارا مال چھوڑ کر محمد ﷺ کے پاس جانا چاہتے ہو؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔
    حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اگر میں اپنا سارا مال تمہیں دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے؟
    انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور خالی ہاتھ مدینہ پہنچے۔
    جب آپ ﷺ کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا:’’رَبِحَ صھیب، رَبِحَ صھیب‘‘.’’صہیب نے بڑی نفع بخش تجارت کی، صہیب نے بڑی نفع بخش تجارت کی‘‘۔
    یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اسلامی تجارت صرف دنیاوی نفع پر مبنی نہیں بلکہ آخرت کے نفع پر بھی مبنی ہے۔
    تجارت میں روحانی اسباب:
    تجارت کے مادی اور ظاہری اصولوں کے ساتھ ایک مسلمان تاجر اس کے معنوی اور روحانی اسباب پر بھی نظر رکھتا ہے۔
    تجارت اور توکل علی اللہ کا عقیدہ (اللہ پر بھروسہ کا عقیدہ)
    تاجر کو چاہیے کہ وہ اپنی تجارت میں اللہ پر بھروسہ کرے، اسی چیز کو نبی ﷺ نے اپنی حدیث میں اسی طرح بیان فرمایا: ’’لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا‘‘.
    ’’ اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں۔
    [سنن ترمذی: ۲۳۴۴، صحیح]
    صبح کے وقت تجارت اور اس کی برکت:
    نبی کریم ﷺ نے دعا دی:’’اللَّهُمَّ بَارِكْ لأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا”.’’اے اللہ! میری امت کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما‘‘۔
    اس لیے جو تاجر صبح سویرے اپنا کاروبار شروع کرتا ہے، اس کے رزق میں برکت دی جاتی ہے۔نبی ﷺ کی اس تعلیم پر حضرت صخر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا تو ان کوان کی تجارت میں بہت برکت حاصل ہوئی۔
    تجارت اور دوسروں کے مال سے بے نیازی:
    ان اسباب کے ساتھ ساتھ تجارت کرنے والے کے اندر استغناء اور بے نیازی کی خوبی بھی ہونی چاہیے۔
    مثال کے لیے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا واقعہ موجود ہے کہ جب وہ ہجرت کر کے مدینہ آئے اور آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کا رشتہ قائم کیا تو عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو مدینہ کے سب سے مال دار صحابی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا بھائی بنایا، انہوں نے اپنے گھر بار، زمین اور بیویوں میں انصاف کے ساتھ شریک ہونے کا آفر پیش کیا تو عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں اہل و عیال اور مال میں برکت کی دعا دی اور ان کے آفرسے بے نیازی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے مدینہ کے بازار کا راستہ بتا دیجیے، میں محنت اور کچھ تجارت کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بے نیازی کے اس فیصلے کے بعد گھی اور پنیر کا کاروبار شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں اللہ نے انہیں اتنا مال نوازا کہ مال دار صحابہ میں ان کا شمار ہونے لگا، اور جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی ایک ایک بیوی کے حصے میں اسی اسی ہزار درہم آئے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ تجارت میں مادی اسباب کے ساتھ ساتھ روحانی اسباب جیسے اللہ پر توکل، صبح سویرے کام شروع کرنا، صدقہ و خیرات، اور ذکر و دعا بھی برکت کا ذریعہ ہیں۔اوراصل کامیاب تاجر وہ ہے جو دنیاوی نفع کے ساتھ ساتھ آخرت کے نفع کو بھی سامنے رکھے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی تجارت کو شریعت کے اصولوں کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings