Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین

    صحابۂ کرام اس روئے زمین پر انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل تھے، انہیں نبیﷺ کی صحبت و رفاقت کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے منتخب فرمایا، صحابی کا افتخار ہی یہ ہے کہ اس نے ایمان کی آنکھ سے چہرۂ محمدﷺ کے دیدار کا شرف حاصل کیا، حالت ِایمان میں ہی صحبت و مجالستِ نبوی اختیار کی، ایمان کی حالت میں ہی زندگی بسر کی اور ایمان کی حالت میں ہی دار فانی کو چھوڑ کر دار بقا کی سمت رختِ سفر باندھا، صحابہ کے فضائل کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ عرشِ بریں سے اللہ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں ان کے شان و مقام کو بیان فرمایا اور ان کے مربی واستاد خود سرور کائنات آخری نبی جناب محمدﷺ ہیں، صحابہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کی ایک آواز پر اپنی جان، مال اور خواہشات کو قربان کر ڈالا، یہی وہ صحابہ ہیں جو اِشاعت اسلام، دفاعِ اسلام اور ترویجِ اسلام کی خاطر مختلف قسم کی آزمائشوں اور مصیبتوں کی چکیوں میں پستے رہے، اشاعتِ اسلام کی سربلندی کے لیے ہر طرح کی تکلیف کو مسکرا کر سہتے رہے، یہی وہ صحابہ ہیں جو اسلام کی خاطر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے، یہی وہ صحابہ ہیں جنہیں کبھی قرآن مجید میں اُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ. اُولٰٓئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوۡنَ . اُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ. اُولٰٓئِکَ ھُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا قرار دیا گیا۔
    یہی وہ عظیم صحابہ ہیں جن کی حیاتِ طیبہ میں ہی انہیں رضی اللہ عنہم و رضوعنہ کا مژدۂ جاں فزا سنایا گیا، اللہ تعالیٰ صرف ان کے ظاہر اور ان کے موجودہ کارناموں کو دیکھ کر راضی نہیں ہوا بلکہ ان کے ظاہر و باطن، حال اور مستقبل کو دیکھ کر راضی ہوا، گویا یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اب ان سے رضائے الٰہی کے خلاف تادمِ زیست کچھ بھی صادر نہیں ہوگا، کسی کے بارے میں تو ظن و تخمین سے ہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا یا نہیں لیکن صحابۂ کرام کے بارے میں نص صریح موجود ہے، اس کے باوجود جو لوگ ان سے راضی نہیں ہوتے تو گویا وہ اللہ رب العالمین سے اختلاف کرتے ہیں ،ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کس سے اختلاف کر رہے ہیں۔
    صحابۂ کرام کا دفاع کیوں ضروری ہے؟
    صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دفاع اس لیے ضروری ہے کہ خود رب العالمین نے ان عظیم ہستیوں کا بے شمار مرتبہ قرآن مجید میں دفاع کیا۔
    صحابۂ کرام کا دفاع اس لیے ضروری ہے کہ خود ہمارے نبی ﷺ نے ان کا دفاع کیا۔
    صحابہ کا دفاع اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کا دفاع قرآن وحدیث کا دفاع ہے، صحابہ کا دفاع عقیدہ ومنہج کا دفاع ہے، صحابہ کا دفاع دین کے ارکان کا دفاع ہے۔
    جب دشمنانِ اسلام تمام تر کوششیں کرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے عقیدہ اور ان کے صحیح دین میں شک پیدا کرنے سے عاجز رہے تو انہوں نے رسول اللہﷺ کے صحابہ  پرطعنہ زنی کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
    امام مالک رحمہ اللہ ان جیسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں:’’یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کی ذات میں عیب جوئی کرنا چاہا مگر ممکن نہ ہوسکا تو آپ کے صحابہ کی عیب جوئی کی، تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا برا آدمی تھا، ورنہ اگر وہ نیک ہوتا تو اس کے ساتھی بھی نیک ہوتے‘‘۔
    [الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول،از شیخ الاسلام ابن تیمیہ: ص: ۵۸۰]
    امام ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب تم کسی شخص کو رسول اللہﷺ کے کسی صحابی کی تنقیص کرتے دیکھو تو جان لوکہ وہ زندیق (کافر) ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ ہمارے یہاں برحق ہیں، قرآن برحق ہے اور اسی قرآن کریم اور رسول اللہﷺ کی سنتوں کو ہم تک رسول اللہﷺ کے صحابہ نے پہنچایا ہے، در حقیقت یہ لوگ ہمارے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کتاب و سنت کو ضائع کر دیں، جرح انہی کو سزاوار ہے، یہ لوگ زندیق ہیں‘‘۔
    [منہاج السنہ از شیخ الاسلام ابن تیمیہ:۱۸/۱]
    آج کے پُرفتن دور میں جب ایمان کمزور اور فتنوں کی یلغار شدید ہوچکی ہے، دشمنانِ اسلام مختلف طریقوں سے دین کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کبھی قرآن پر اعتراض، کبھی سنت پر شک، اور کبھی صحابۂ کرام ؇ کے مقام و کردار کو نشانہ بنایا جاتا ہے، یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں دفاعِ صحابہ کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ اگر صحابہ پر اعتماد ختم ہو جائے تو دین کی زنجیر ٹوٹ جاتی ہے، اور امت کا تعلق براہِ راست وحی سے منقطع ہوجاتا ہے، دشمن جانتا ہے کہ جب امت کے دلوں سے صحابہ کی عظمت مٹ جائے گی تو دین پر عمل کا جوش بھی سرد پڑ جائے گا، اس لیے آج کے حالات میں ان پاک ہستیوں کا دفاع صرف ایک علمی فریضہ نہیں بلکہ ایمان کی حفاظت اور فتنوں کے مقابلے کا ہتھیار ہے۔
    صحابہ کے خلاف زبان وقلم کا استعمال کرنا منع ہے:
    رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے:’’مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘۔’’جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو‘‘۔
    [سلسلۃ الاحاديث الصحيحہ: ۲۳۴۰]
    اس حدیث کی روشنی میں وہ تمام افراد جو اصحابِ محمدﷺ پر تبراء اور طعن و تشنیع کرتے ہیں، ملعون ہیں اور ہر قسم کی خیر و بھلائی اور انسانی ہمدردی سے محروم و مستثنیٰ ہیں، وہ لوگ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت کے مستحق ہیں۔
    ایک دوسری حدیث میں رسول اللہﷺ نے امت کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ تم میں سے اعلیٰ سے اعلیٰ فرد کی بڑی سے بڑی نیکی ادنیٰ صحابی کی چھوٹی سی چھوٹی نیکی کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لیے ان پر زبان درازی کرنے کا حق امت کے کسی فرد کو حاصل نہیں۔
    رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ‘‘۔’’میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر‘‘۔
    [صحيح بخاری: ۳۶۷۳]
    کیا صحابہ کا دفاع کرنا مشاجرات صحابہ میں پڑنا ہے؟
    ہرگز نہیں اس چیز کو مشاجرات صحابہ میں پڑنا شمار نہیں کیا جائے گا جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے بلکہ یہ اس حقیقت سے لوگوں کو روشناس کرانا ہوگا جو ان مقدس شخصیتوں سے وابستہ بے جا الزامات کا دفاع کرتی ہے۔
    جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب کوئی بدعتی نمودار ہو جو صحابہ کی شان میں ناحق طعنہ زنی کرے تو ایسی صورت میں ان کے ناموس کا دفاع کرنا اور علم و انصاف کے ذریعہ ان کی حجت کو باطل ٹھہرانے والے دلائل و براہین ذکر کرنا ضروری ہے‘‘۔
    [منھاج السنتہ، از شیخ الاسلام ابن تیمیہ:۲۵۴/۶]
    کیا صحابۂ کرام گناہوں سے مبرا اور تنقید سے بالاتر ہیں؟
    صحابہ سے متعلق ہمارا عقیدہ بھی وہی ہونا چاہیے جو محدثین و فقہا اور علمائے امت کا عقیدہ ہے کہ’’الصحابۃ کلھم عدول‘‘، ظاہر ہے ہم تک دین پہنچنے کا ذریعہ وہی ہیں، اگر ان کی عدالت میں ذرہ برابر بھی شک پیدا ہو جائے تو پورا دین مخدوش و مشکوک ہو جائے گا، لیکن صحابہ راست باز ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ صحابہ انبیاء کرام کی طرح معصوم عن الخطا ءاور گناہوں سے مبرا ہیں، بشری کمزوریوں سے بالاتر ہیں، مگر ان پر تنقید کرنا ان کی کسی لغزش، بشری تقاضے کے سبب ان سے سرزد ہونے والے گناہ کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنانا ان پر لعن طعن کرنا شرعا جرم ہے اور یہ کئی مفاسد کا سبب ہے :
    (الف) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان مقدس ہستیوں کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کا حکم دیا ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَالَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِھِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴾
    ’’اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنہوں نے ایمان لانے میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں ان لوگوں کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! یقیناً تو بے حد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے‘‘۔
    [الحشر:۱۰]
    مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے کیا ہی خوبصورت استنباط کیا ہے کہ رافضی جو صحابہ کو گالی دیتا ہو، اس کا مال فے میں کوئی حصہ نہیں، کیونکہ اس میں وہ اوصاف نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ذکر فرمایا ہیں۔ (تفسیر القرآن الکریم)
    (ب) رسول کی نافرمانی ہوتی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ہمیں صحابہ کی تعظیم و توقیر کرنے کی تاکید کی ہے، ان پر تنقید کرنا اور ان کی کسی بھی خطا کو اپنی زبان و قلم سے عام کرنا اور پھیلانا، ان کی تعظیم کے خلاف ہے اور بڑی توہین و تذلیل ہے، جس کی کتاب و سنت میں سخت ممانعت ہے اور شرعا جرم عظیم ہے۔
    گستاخانِ صحابہ کا عبرت ناک انجام:
    صحابۂ کرام کی گستاخی کرنا بہت بڑا جرم ہے، ایسا شخص دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوگا اور آخرت میں بھی رسوا و نامراد ہوگا، ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنادیتا ہے، گستاخانِ صحابہ کا انجام جو ہوا اس کی ایک طویل فہرست ہے، یہاں چند گستاخِ صحابہ کا واقعہ قابل ذکر ہے تاکہ جو لوگ صحابہ کے بارے میں دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں، ان پر لعن وطعن کرتے ہیں ان کے خلاف اپنی زبان اور قلم کا بے جااستعمال کرتے ہیں، وہ ان واقعات سے نصیحت حاصل کریں اور ہوش کے ناخن لیں!
    (۱) سیدنا سعید بن زید کی گستاخ عورت کا انجام:
    ایک عورت نے (جس کا نام ارویٰ تھا) اس نے سعید بن زید کے خلاف دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس کی کچھ زمین پر قبضہ کر لیا ہے اور مروان بن حکم کے پاس مقدمہ لے کر گئی تو حضرت سعید نے کہا: کیا میں اس بات کے بعد بھی اس کی زمین کے کسی حصے پر قبضہ کر سکتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی؟ اس (مروان) نے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے:’’جس نے (عام یا کسی کی) زمین میں سے ایک بالشت بھی ظلم سے حاصل کی اسے سات زمینوں تک کا طوق پہنایا جائے گا‘‘۔تو مروان نے ان سے کہا: اس کے بعد میں آپ سے کسی شہادت کا مطالبہ نہیں کروں گا، اس کے بعد انہوں (سعید) نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اسے اس کی زمین ہی میں ہلاک کر دے، (عروہ نے) کہا: وہ (اس وقت تک) نہ مری یہاں تک کہ اس کی بینائی ختم ہو گئی، پھر ایک مرتبہ وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے میں جا گری اور مر گئی‘‘۔[صحیح مسلم: ١٦١٠]
    (۲) سیدنا سعد بن ابی وقاص کے گستاخ کا انجام :
    ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے سعد بن ابی وقاص کی عمر سے شکایت کی۔ اس لیے عمرنے ان کو معزول کرکے عمار کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو کوفہ والوں نے سعد کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ: وہ تو اچھی طرح نماز بھی نہیں پڑھا سکتے، چنانچہ عمر نے ان کو بلابھیجا، آپ نے ان سے پوچھا: اے ابواسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تم اچھی طرح نماز نہیں پڑھا سکتے ہو؟ اس پر آپ نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں تو انہیں رسول اللہﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا، اس میں کوتاہی نہیں کرتا ،عشاء کی نماز پڑھاتا ہوں تو اس کی پہلی دو رکعات میں قرأت لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا، عمر ؄ نے فرمایا: اے ابواسحاق! مجھ کو تم سے امید بھی یہی تھی، پھر آپ نے سعد کے ساتھ ایک یا کئی آدمیوں کو کوفہ بھیجا، قاصد نے ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا سب نے آپ کی تعریف کی لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابوسعدہ تھی کھڑا ہوا اس نے کہا: جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے تو سنیے ،سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مال غنیمت کی تقسیم صحیح کرتے تھے اور نہ ہی فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے، یہ سن کر سعد ؄ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہاری اس بات پر تین دعائیں کرتا ہوں، اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمردراز کر اور اسے خوب محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر، اس کے بعد وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ جب اس سے پوچھا جاتا تو کہتا: ایک بوڑھا اور پریشان حال ہوں مجھے سعد کی بد دعا لگ گئی ہے، عبدالملک نے بیان کیا: ’’میں نے اسے دیکھا اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آگئی تھیں، لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا تھا‘‘۔
    [صحیح بخاری: ۷۵۵]
    (۳) ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے گستاخ کا انجام :
    معروف عالم دین شیخ سبطین شاہ نقوی جو پہلے شیعہ تھے، بعد میں انہوں نے توبہ کرلی اور تشیع کو ترک کر دیا، وہ اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ’’ہمارے گھر میں میرا حقیقی ماموں جب فوت ہوا تو اس سے اس طرح کی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے کوئی کتا بھونک رہا ہو، چہرے کا رنگ بدل گیا کیونکہ اس کا وطیرہ تھا کہ جب گھر میں کوئی کتا داخل ہوتا تو کہتا (معاذ اللہ) ابو بکر آگیا عمر آ گیا، اتنی گندی زبان استعمال کرتا تھا، اس لیے جب وہ مرا تو اس سے کتے کی آوازیں آتیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے اسے عبرت کا نشان بنادیا‘‘۔ (خطبات اہل حدیث،ص: ۲۲۶)
    (۴)حسین کے گستاخ کا انجام:
    ابو رجاء عطاردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تم علی و برا بھلا نہ کہو اور نہ ہی ان کے گھر والوں کو، ہمارا ایک پڑوسی جو کوفہ سے آیا تھا سیدنا حسین کے متعلق کہنے لگا: ’’تم اس فاسق ابن فاسق کو نہیں دیکھتے جسے اللہ نے ہلاک کر دیا ہے، پس اس گستاخی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ میں دو کیل (میخ) پھینکے اور اسے اندھا کر دیا‘‘۔ [فضائل الصحابۃ لاحمد:۹۷۴]
    صحابۂ کرام کا دفاع کرنے والے کی حوصلہ افزائی :
    محمد بن عبد اللہ مخزومی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے شعیب بن حرب رحمہ اللہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کیا پھر بوسہ لیا پھر فرمایا: تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے بیٹے محمد کا بوسہ کیوں لیا ہے؟ اس لیے کہ اس نے اپنی جان کو سیدنا ابوبکر ؄ اور سیدنا عمر ؄ کی حمایت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔[فضائل الصحابۃ لاحمد:۱۱۵]
    قارئین کرام! ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کا ساتھ دیں جو صحابۂ کرام کا دفاع کرتے ہیں، انہیں سراہیں، حوصلہ افزائی کریں، ان کے لیے دعائے خیر کریں، اور جو لوگ صحابہ کی تنقید کرتے ہیں ان پر لعن طعن کرتے ہیں، ان سے سرزد ہونے والی غلطیوں کو عوام الناس کے سامنے عیاں کرتے ہیں ان کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
    اللہ رب العالمین! ہمیں جملہ صحابہ سے بلا تفریق محبت کرنے کی توفیق عطا فرما، ان کے کردار وعمل کو ہماری زندگی کا نمونہ بنا اور بروز قیامت’’ المرء مع من احب ‘‘کے تحت ہمارا حشر ان کے ساتھ فرما۔ (آمین)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings