Vbet Online Cassino Brasil

O Vbet Brasil é um dos sites de apostas mais procurados da América do Sul. Totalmente hospedado pelo respeitado arcoirisdh.com, o Vbet Brasil se dedica a fornecer aos seus membros experiências de jogo seguras e protegidas. A Vbet Brasil apresenta algumas das melhores e mais recentes máquinas caça-níqueis e jogos de mesa para os jogadores, dando-lhes a oportunidade de experimentar uma atmosfera de cassino da vida real em sua própria casa. A Vbet Brasil também vem com um forte sistema de bônus, permitindo aos jogadores desbloquear bônus e recompensas especiais que podem ser usados para ganhos em potencial. Em suma, a Vbet Brasil tem muito a oferecer a quem procura ação emocionante em um cassino online!

  • نمازِ وتر کے احکام و مسائل (قسط :ثانی)

    پہلی قسط میں نمازِ وتر کی حقیقت، اہمیت اور اس کے شرعی حکم پر گفتگو کی گئی تھی، وضاحت کی گئی تھی کہ وتر عشاء کے بعد سے فجر تک ادا کی جانے والی طاق رکعتوں والی نماز ہے، جو سنتِ مؤکدہ اور نبی ﷺ کی ہمیشہ کی عادت تھی، جمہور کے نزدیک یہ واجب نہیں بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے، اور افضل یہ ہے کہ اسے رات کے آخری حصے میں ادا کیا جائے۔
    چنانچہ اب اسی کی دوسری قسط قارئین کرام کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے جس میں نمازِ وتر کی صفت اور اس کی رکعتیں، وتر میں پڑھی جانے والی مسنون سورتیں اور دعائیں مذکور ہیں، اس موضوع سے متعلق بقیہ مسائل ان شاء اللہ اگلی قسطوں میں ذکر کی جائیں گی۔
    (۶) نمازِ وتر کی صفات اور رکعتیں:نمازِ وتر ادا کرنے کی کئی صفات (طریقے) سنت سے وارد ہیں:
    (۱) پہلی صفت: صرف ایک رکعت نمازِ وتر پڑھنا، اور یہ جائز ہے، سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ‘‘۔’’وتر رات کے آخری حصے کی ایک رکعت ہے‘‘ ۔ [صحيح مسلم: ٧٥٢]
    (۲) دوسری صفت: تین رکعتیں وتر پڑھنا، اور تین وتر دو طریقے سے ادا کئے جاسکتے ہیں:
    (۱) پہلا طریقہ: یہ ہے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر لیا جائے اور پھر تیسری رکعت پڑھی جائے؛ جیسا کہ صحیح ابن حبان میں سیدنا ابن عمر؆سے مروی ہے کہ:’’كان النَّبيُّ ﷺ يفصِلُ بينَ الشَّفعِ والوِتْرِ بتسليمٍ يُسمِعُناه‘‘.’’نبی ﷺ دو رکعتوں اور وتر کے درمیان سلام کے ذریعے فصل فرماتے تھے اور سلام کی آواز ہمیں سنائی دیتی تھی‘‘۔[صحيح ابن حبان: ٢٤٣٤]
    اسی طرح بخاری میں نافع سے روایت ہے کہ :’’أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الْوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ‘‘. ’’عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما وتر کی جب تین رکعتیں پڑھتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ ضرورت سے بات بھی کرتے‘‘۔[صحيح البخاري:٩٩١]
    (۲) دوسرا طریقہ: یہ ہے کہ تین رکعتیں اکٹھی ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھی جائیں، یعنی دوسری رکعت میں بغیر تشہد وسلام کے تینوں رکعتیں ادا کی جائیں اور صرف آخر میں تشہد پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔
    اس کی دلیل سیدنا ابی بن کعب ؄ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ:”كانَ رسولُ اللَّهِ يقرأُ في الوترِ بــ سبِّحِ اسمَ ربِّكَ الأعلى وفي الرَّكعةِ الثّانيةِ بــ قل يا أيُّها الكافرونَ وفي الثّالثةِ بــ قل هوَ اللَّهُ أحدٌ ولا يسلِّمُ إلّا في آخرِهنَّ ويقولُ يعني بعدَ التَّسليمِ سبحانَ الملِك القدُّوسِ ثلاثًا“.
    ’’رسول اللہ ﷺ نمازِ وتر کی پہلی رکعت میں”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“، دوسری رکعت میں”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ” اور تیسری رکعت میں”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” پڑھتے تھے، اور آپ ﷺ صرف آخری رکعت میں ہی سلام پھیرتے تھے (یعنی تین رکعتوں کو ملانے کے بعد ایک ہی تشہد سے) اور سلام کے بعد تین مرتبہ”سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ” پڑھتے تھے‘‘۔ [صحیح النسائی: (١٧٠٠)، صححه الألباني]
    احناف کے نزدیک تین رکعات وتر ادا کرنے کا ایک تیسرا طریقہ بھی ہے اور یہی طریقہ ان کے نزدیک صحیح و درست ہے، وہ یہ ہے کہ وتر تین رکعتوں کو ملا کر پڑھا جائے، دوسری رکعت کے بعد بیٹھ کر تشہد پڑھا جائے لیکن سلام نہ پھیرا جائے، بلکہ تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو جائیں اور اس کے بعد سلام پھیریں، گویا کہ یہ صورت مغرب کی نماز کی طرح ہو جائے گی۔
    علماء کرام نے اس طریقے کو نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کی بناء پر ناپسند قرار دیا ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ:’’لا توتِروا بثلاثٍ تَشبَّهوا بصلاةِ المغربِ‘‘۔’’تین رکعات وتر کو اس طرح مت پڑھو کہ اس کی نمازِ مغرب کے ساتھ مشابہت ہوجائے‘‘۔[المستدرك على الصحيحين: ١١٣٧]
    امام البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تین رکعات وتر کو دو تشہد کے ساتھ مغرب کی نماز کی طرح پڑھنے کے بارے میں کوئی صحیح اور واضح حدیث نہیں آئی ہے، بلکہ اس طریقے میں کراہت کا پہلو ضرور ہے، اسی لیے ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ (وتر کی) جفت اور طاق رکعتوں کے درمیان تشہد کے لیے نہ بیٹھا جائے، اور اگر بیٹھ جائے تو سلام پھیر لے، اور یہی طریقہ (یعنی دو رکعات پر سلام پھیر کر ایک رکعت علیحدہ پڑھنا) افضل ہے‘‘۔[صلاة التراويح للألباني:ص: ١١٢]
    (۳) تیسری صفت: پانچ رکعتیں وتر پڑھنا، اور انہیں ملا کر پڑھی جائے، یعنی صرف ایک تشہد کے ساتھ سلام پھیرا جائے،جیسا کہ سیدہ عائشہ ؅ سے روایت ہے کہ:”كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا“. ’’رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں سے پانچ رکعتوں کے ذریعے وتر (ادا) کرتے تھے، ان میں آخری رکعت سے پہلے کسی میں بھی تشہد کے لیے نہ بیٹھتے تھے‘‘۔ [صحيح مسلم: ٧٣٧]
    (۴) چوتھی صفت: سات رکعتیں وتر پڑھنا، اور انہیں ملا کر پڑھی جائے یعنی صرف آخری رکعت میں ایک تشہد کے ساتھ سلام پھیرا جائے، اس سلسلہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ؅ سے مروی ہے، کہتی ہیں کہ:’’لَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ , فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ‘‘۔’’جب رسول اللہ ﷺ بزرگ ہونے لگے، اور بدن پر گوشت چڑھ گیا، تو آپ سات رکعت پڑھنے لگے، اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت اور پڑھتے تو میرے بیٹے! یہ نو رکعتیں ہوئیں‘‘۔ [سنن النسائي: ١٧١٩، صححه الألباني]
    (۵) پانچویں صفت: نو رکعتیں وتر پڑھنا، اس میں آٹھویں رکعت کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے مگر سلام نہ پھیرے، پھر نویں رکعت مکمل کرنے کے بعد تشہد پڑھ کر سلام پھیرے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ایک لمبی حدیث سیدہ عائشہ؅ سے مروی ہے، جس میں ہے کہ: “كُنَّا نُعِدُّ لَهُ، سِوَاكَهُ، وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ، وَيَتَوَضَّأُ، وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ، وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا“. ’’ہم آپ ﷺ کے لیے مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کرکے رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا، آپ کو بیدار کر دیتا تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے اور پھر (وتر کی) نو رکعتیں پڑھتے، ان میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، پھر اللہ کا ذکر کرتے، اس کی حمد بیان کرتے اور دعا فرماتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوجاتے، پھر کھڑے ہوکر نویں رکعت پڑھتے، پھر تشہد کے لیے بیٹھتے، اللہ کا ذکر اور حمد کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے اور ہمیں یہ سلام سناتے‘‘۔ [صحيح مسلم: ٧٤٦]
    (۶) چھٹی صفت: وتر کی گیارہ رکعتیں پڑھنا، اس میں ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھے، جیسا کہ سیدہ عائشہ؅ کی حدیث ہے، فرماتی ہیں کہ:’’انَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، وَهِيَ الَّتِي يَدْعُو النَّاسُ الْعَتَمَةَ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ‘‘.’’رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے، جس کو لوگ عتمہ کہتے ہیں، فراغت کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک کے ذریعے وتر ادا فرماتے‘‘۔ [صحيح مسلم: ٧٣٦]
    اہل الحدیث علماء کے نزدیک وتر میں ایک سے لے کر گیارہ رکعتوں تک پڑھی جاسکتی ہے، البتہ جن روایات میں تیرہ رکعتوں کا تذکرہ ہے، جیسا کہ ام سلمہ؅ سے روایت ہے کہ:’’أنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ“.’’نبی کریم ﷺ وتر تیرہ رکعت پڑھتے تھے لیکن جب آپ عمر رسیدہ اور کمزور ہو گئے تو سات رکعت پڑھنے لگے‘‘۔ [سنن ترمذي : ٤٥٧، صحيح]
    ان روایات کے سلسلہ میں اہلِ علم کا کہنا ہے کہ گیارہ رکعت قیام اللیل (آٹھ رکعت قیام اللیل + تین رکعت وتر) کے ساتھ یا تو ان میں سنت فجر شامل ہوتی تھی، یا پھر آٹھ رکعت قیام اللیل کے ساتھ پانچ رکعت وتر ہوتی، اس طرح مکمل تیرہ رکعت ہوتے۔ واللہ اعلم
    (۷) نمازِ وتر میں پڑھی جانے والی مسنون سورتیں:
    وتر ایک سے لے کر گیارہ رکعات تک پڑھی جاسکتی ہے، اور ان رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد نمازی جو سورت چاہے پڑھ سکتا ہے، وتر ہوجائے گی اور اس میں کوئی خلل نہیں ہوگا، لیکن افضل یہ ہے کہ آخری تین رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورہ اعلیٰ، دوسری رکعت میں سورہ کافرون اور تیسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھی جائے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے سلسلہ میں وارد ہے کہ جب آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تو پہلی رکعت میں”سبح اسم ربك الأعلٰى“، دوسری میں”قل يا أيها الكافرون” اور تیسری میں”قل هو الله أحد” پڑھتے تھے، چنانچہ عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ ؅سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ پہلی رکعت میں: “سبح اسم ربك الأعلٰى” دوسری میں “قل يا أيها الكافرون“اور تیسری میں”قل هو الله أحد” اور معوذتین پڑھتے تھے‘‘۔ [سنن ابن ماجة:١١٧٣، صححه الألباني]
    اسی طرح ایک دوسری روایت میں ابی بن کعب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں:”سبح اسم ربك الأعلٰى“،”قل يا أيها الكافرون” ،اور”قل هو الله أحد” پڑھتے تھے‘‘۔ [سنن ابن ماجة: ١١٧١، صححه الألباني]
    شیخ ابن باز رحمہ اللہ (۱۴۲۰ھ) فرماتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ جب آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تو پہلی رکعت میں سبح اسم ربك الأعلٰى، دوسری میں “قل يا أيها الكافرون” اور تیسری میں”قل هو الله أحد” پڑھتے تھے اور یہی طریقہ سب سے بہتر ہے، البتہ اگر کوئی ان کے علاوہ دیگر سورتیں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں، معاملہ وسیع ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ﴾ [المزمل: ٢٠]
    ’’پس جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو پڑھو‘‘۔ [من موقعه رحمه الله]
    (۸) وتر کے قنوت میں پڑھی جانے والی مسنون دعائیں:
    صحیح حدیث میں حسن بن علی ؆سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں، وہ کلمات یہ ہیں:’’اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ“.
    ’’اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں (داخل کر کے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے‘‘۔
    [سنن ابي داؤد: ١٤٢٥، صحيح]
    اسی طرح ایک اور روایت میں علی؄ سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر میں یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے، یعنی وتر کی دعا میں یہ الفاظ بھی بڑھاتے تھے:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ‘‘.
    ’’اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے‘‘۔
    [سنن الترمذي: ٣٥٦٦،صحيح]
    لہٰذا یہ دعائیں وتر کے قنوت میں پڑھنا مستحب ہے۔
    (جاری……….)

نیا شمارہ

مصنفین

Website Design By: Decode Wings